Al-Risala · November 1999

No defence is higher then education

Al-Risala, November 1999, pp. 37–570

By Maulana Wahiduddin Khan

بدقسمتی سے زندگی کی اس حقیقت کا علم نہ ہندوستان کے لیڈروں کو ہے اور نہ پاکستان کے لیڈروں کو۔ ۲۸ مئی ۱۹۹۸ کو پاکستان نے اپنے اعلان کے مطابق، ایک ہی دن پانچ ایٹم ٹسٹ کئے

۳۰ مئی ۱۹۹۸ء کو حکومت پاکستان نے اعلان کیا کہ آج اس نے بلوچستان کے ریگستان میں ایک اور ایٹمی ٹیسٹ کیا ہے۔ اس کے آخری دھماکہ کی طاقت ہیر و شیما میں گرائے جانے والے ایٹم بم (۱۹۴۵) کے مقابلہ میں دو گنا تھی۔ اس طرح پاکستان نے انڈیا کے پانچ ایٹمی دھماکہ کے مقابلہ میں چھ ایٹمی دھماکہ کئے ۔

۳۰ مئی کے اس دھماکہ کے بعد پاکستانی حکومت نے اعلان کیا کہ اب ہم نے دوبارہ اس علاقہ میں طاقت کا وہ توازن قائم کر لیا ہے جو ہندستان کے ایٹمی دھماکہ کے بعد ٹوٹ گیا تھا۔ ایٹمی دھماکہ اس مسئلہ کا حل ہے۔ تاریخ کا جواب یہ ہے کہ ہر گز نہیں۔

ٹھیک اسی قسم کی صورت حال امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان پیش آچکی دوسری عالمی جنگ کے دوران ۱۹۴۵ میں جب امریکہ نے ہیرو شیما اور ناگاساکی پر اپنے ایٹم بم کا تجربہ کیا تو اس کے بعد سوویت یونین کے لیڈروں نے کہا کہ اب فوجی طاقت کا توازن امریکہ کے حق میں چلا گیا ہے۔ اس لئے ہم کو بھی ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم بنانا چاہئے۔ جس کا رقبہ اس وقت ہندستان اور پاکستان سے زیادہ تھا اس نے اپنے تمام اقتصادی وسائل اب شٹک ریسرچ اور ایٹم بم کی تیاری میں لگادیئے یہاں تک کہ اس کے وسیع اسلحہ خانہ میں ۲۹ ہزار چھوٹے بڑے ایٹم بم بن کر اکٹھا ہو گئے۔

اب سوویت یونین اس پوزیشن میں تھا کہ امریکہ سمیت اپنے تمام دشمنوں کو اسی طرح تباہ کر دے جس طرح ہیر و شیما تباہ ہوا تھا۔ مگر انتہائی نازک حالات کے باوجود سوویت یونین اپنا ایک بم بھی اپنے دشمنوں کے خلاف استعمال نہ کر سکا۔ یہاں تک کہ ۱۹۹۱ میں سوویت یونین ٹوٹ ایٹم بموں کا ذخیرہ اس کے لئے اپنی سپر پاور حیثیت کو بچانے میں کامیاب نہیں ہوا۔ اس کھلی ہوئی قریبی مثال سے انڈیا اور پاکستان کے سیاسی لیڈروں نے کوئی سبق نہیں لیا۔ دونوں میں سے ہر ایک یہ اعلان کر رہا ہے کہ ہم سیلف ڈیفنس کے لئے ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم بنا رہے ہیں۔ حالانکہ حقیقی واقعات یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ایٹم بم کا کوئی بھی تعلق سیلف ڈیفنس

سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق صرف سیلف ڈسٹرکشن (خود تخریبی) سے ہے۔ ایٹم بم اگر استعمال ہوں تب بھی وہ ہلاکت ہیں اور اگر وہ استعمال نہ ہوں تب بھی ہلاکت۔

انڈیا اور پاکستان کے لیڈروں کو یہ خبر نہیں کہ ایٹم بم اگر بالفرض استعمال ہوں تب بھی ان کی زد میں صرف حریف قوم نہیں آتی بلکہ خود استعمال کرنے والا بھی ان کے غیر معمولی نقصانات کے زد میں آجاتا ہے۔ ایٹمی جنگ بلاشبہ ایک بوم رینگ (boomerang) کھیل ہوگا۔ کیوں کہ اس کے نتیجہ میں نہ صرف زیر نشانہ پڑوسی ملک تباہ ہوگا بلکہ خود ایٹم بم مارنے والا ملک بھی یقینی طور پر اس کے زد میں آجائے گا۔ ایٹم بم گرانے کے بعد جو تابکاری (tadiactivity) پھیلے گی، فضائی کثافت میں جو اضافہ ہوگا، سمندروں کا پانی جس طرح زہر آلود ہوگا اور ان سب کے نتیجہ میں جو بیماریاں پھیلیں گی، دونوں ملک یکساں طور پر اس کی لپیٹ میں

تاہم ایٹم بم اگر استعمال نہ ہوں وہ بنا بنا کر صرف رکھے جاتے رہیں تب بھی وہ ناقابل بیان حد تک ہلاکت خیز ہیں۔ اس کے نتیجہ میں جو طرح طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ اتنی مہنگی قیمت پر تیار ہوتے ہیں کہ پورے ملک کی اقتصادی حالت تباہ و برباد ہو جائے، چیزوں کی قیمت میں بے پناہ اضافہ، ضروری اشیا کی شدید قلت، چیزوں میں ملاوٹ کا طوفان، حتیٰ کہ تازہ پانی اور صاف ہوا جیسی چیزوں کے حصول کا بھی مشکل ہو جانا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی قوم کے لئے ایٹمی طاقت بننا ہولناک حد تک اس کی اقتصادی کمزوری پر منتج ہوتا ہے۔ اس کا کھلا ہوا نمونہ سوویت یونین (موجودہ روس) کو اس صورت میں دیکھا جو ملک 1990 تک سپر پاور سمجھا جاتا تھا۔ وہ آج اقتصادی اعتبار سے ایک تباہ شدہ ملک بن میں نے خود اپنے ایک سفر کے دوران سوویت یونین کی یہ تباہ حالت دیکھی ہے۔ کو میں اپنے سفر نامہ میں لکھ چکا ہوں۔ (سفر نامہ روس، مطبوعہ الرسالہ فروری۔ کہا جاتا ہے کہ ایٹمی ہتھیار مانع جنگ کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس طرح وہ امن کی

ضمانت (پیش گارنٹر) ہیں۔ مگر یہ ایک شدید مغالطہ ہے۔ امریکہ اور سوویت یونین کا تجربہ بتاتا ہے کہ جب دونوں ملکوں نے ایٹمی مانع کی صلاحیت حاصل کرلی تو صرف یہ ہوا کہ دونوں میں براہ راست فوجی ٹکراؤ کا امکان ختم ہوگیا۔ اور اس کے بجائے وہ ٹکراؤ شروع ہو گیا جس کو مخفی جنگ (covert war) کہا جاتا ہے۔ کولڈ وار اور پراکسی وار اس کی صورتیں ہیں۔ دوسری قسم کی جنگ جو امریکہ میں اور سوویت یونین کے درمیان جاری ہوئی، 1991 تک اس کے تحت دنیا کے مختلف حصوں میں تقریباً دو کروڑ انسان ہلاک ہو گئے۔ گویا ایٹمی ہتھیار جنگ کو روکے والا نہیں بلکہ وہ صرف یہ کرتا ہے کہ جنگ کے میدان کو بدل دیتا ہے۔

جنگ کیوں ہوتی ہے۔ جنگ کا اصل سبب دو گرہوں کے درمیان دشمنی کی نفسیات ہے۔ جب دلوں میں دشمنی کے جذبات موجود ہوں تو کوئی ہتھیار جنگ کو بند نہیں کرتا، وہ صرف جنگ کی صورت کو بدل دیتا ہے، اس طرح اکثر حالات میں جنگی ٹکراؤ اور زیادہ شدید ہو جاتا ہے۔ نمونہ ہمیں انڈیا اور پاکستان کے درمیان بھی نظر آتا ہے۔ مئی 1998 میں جب دونوں ملکوں نے اس بات کا مظاہرہ کیا کہ انھوں نے ایٹمی ہتھیار بنا لئے ہیں تو اس کے بعد ہی سرحد پر پرتشددانہ سرگرمیاں بڑھ گئیں۔ بم اور گن کے استعمال میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہو گیا۔ پاکستان نے نواز شریف حکومت کے تحت 28 مئی اور 30 مئی کو مجموعی طور پر چھ ایٹمی دھماکے کئے ۔ بالفاظ دیگر، یہ ثابت کیا کہ وہ ایٹم بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ایٹمی دھما کے ہندوستان کے جواب میں کئے گئے جو 11 مئی اور 13 مئی 1998 کو پانچ کی تعداد میں کئے گئے تھے۔ اس کے بعد ایران کے وزیر خارجہ مسٹر کمال خرازی پاکستان آئے۔ 2 جون 1998 کو انھوں نے اس کے بارے میں کہا کہ پاکستان کے کامیاب ایٹمی دھماکہ نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو نیا اعتماد عطا کیا ہے۔ ملیشیا کے مسلم لیڈر انور ابراہیم کا تاثر اس سے مختلف تھا۔ انھوں نے انڈیا اور - پاکستان دونوں ملکوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھما کے دونوں ملکوں کے غریب لوگوں کی

قیمت پر کئے گئے ہیں:

میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ میں انور ابراہیم کا تبصرہ ہی زیادہ درست ہے۔ قوم کے اعتماد اور طاقت کا راز یہ نہیں ہے کہ اس کے پاس ایٹم بموں کا ذخیرہ ہو، اگر ایسا ہوتا تو سوویت یونین کبھی نہ ٹوٹتا۔ جس کے پاس ہندوستان اور پاکستان کے مقابلہ میں ہزاروں گنا زیادہ ایٹم حقیقت یہ ہے کہ قومی اعتماد اور قومی طاقت کا راز یہ ہے کہ ملک میں سماجی امن ضرورت کی چیزیں مناسب قیمت پر مل رہی ہوں۔ شہری سہولتیں ہر ایک کو بخوبی طور پر پہنچ تعلیم اور علاج کا عمدہ انتظام ہو، دفتروں میں رشوت کے بغیر کام ہوتا ہو۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان دونوں انتہائی غریب ملک ہیں۔ لے کر بھٹ شٹار چار تک ہر قسم کی برائیوں نے عام انسان کی زندگی کو مصیبت بنا رکھا ہے۔ ایسی حالت میں ان ملکوں میں ایٹم بم بنانا در اصل لوگوں کو غریب اور بد حال رکھ کر قومی دولت کو ایٹمی دھماکوں میں تباہ کرنا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ عمل اتنا زیادہ تباہ کن ہے کہ کسی ملک کے عوام بھی اس کو برداشت نہیں کر سکتے۔ مگر سطحی قسم کے لیڈر عوام کو نفرت اور جوش کی شراب پلا کر اس طرح بد ہوش کر دیتے ہیں کہ وہ اپنے فائدہ اور نقصان کو بھی سمجھ نہیں پاتے۔ ان کا نشہ صرف اسی وقت اترتا ہے جب کہ بربادی اپنی آخری حد تک پہنچ چکی ہو اور سرے سے واپس لوٹنے کا امکان ہی باقی نہ

دونوں ملک دفاع کے نام پر ایٹمی دھماکہ کر رہے ہیں۔ مگر دفاع کا کوئی تعلق ایٹم بم سے اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایٹم بم جیسی ہلاکت خیز چیز تاریخ میں صرف ایک بار استعمال ہوتی ہے۔ پھر جب ایک بار استعمال کئے جانے کے بعد ایٹم بم کے مزید استعمال کے خلاف عالمی سطح پر ایک طاقتور مانع (Deterrent) قائم ہو چکا ہو، تو اس پر نہ ہونے والے حملہ

سے دفاع کی آخر کیا ضرورت۔

مئی ۱۹۹۸ء سے پہلے تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ دنیا میں مبینہ طور پر پانچ ایسی قو میں ہیں جن کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں۔ مگر اب انڈیا اور پاکستان کی طرف سے ایٹمی دھماکہ کے بعد ایسی طاقتوں کی تعداد سات ہو چکی ہے۔ حتی کہ فرانس نے تجویز کیا ہے کہ ان کو شامل کرتے ہوئے سات نیو کلیر قوموں (7-N) کا اجتماع بلایا جائے۔ عجیب بات ہے کہ انڈیا اور پاکستان دونوں ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں مگر دونوں نے مئی میں جو ایٹمی دھماکے کئے ہیں ان کے پیچھے اصل دماغ دونوں جگہ دو مسلم سائنس دانوں کا ہے۔ انڈیا میں ڈاکٹر عبد الکلام، اور پاکستان میں ڈاکٹر عبد القدیر۔ بی بی سی لندن نے یکم جون ۱۹۹۸ کو پاکستانی سائنس داں ڈاکٹر عبد القدیر کا ایک انٹرویو نشر ان سے پوچھا گیا کہ ایسے خونیں اور امن شکن ہتھیار آپ کیوں بنا رہے ہیں۔ ان کا جواب یہ تھا کہ: ایٹم بم کو میں سب سے بڑا ضامن امن (peace granter) سمجھتا ہوں اب جب کہ انڈیا اور پاکستان دونوں کے پاس ایٹم بم ہیں تو مجھے یقین ہے کہ اب ان کے درمیان کبھی جنگ نہیں

مگر ایک غیر جانب دار مبصر کے لئے اس سے اتفاق کرنا مشکل ہے۔ پاکستان کا کہنا کہ انڈیا نے جارحیت کر کے کشمیر پر قبضہ کر رکھا ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس کے لئے ہمیں ایٹم بم کی تیاری تک جانا پڑا اگر صرف ایٹم بم بنانے سے پاکستان کو کشمیر نہیں مل سکتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ انڈیا کو پاکستان کے خلاف کسی آئندہ جارحیت سے روک سکے مگر تمام واقعات بتاتے ہیں کہ انڈیا کا ایسا کوئی جارحانہ ارادہ نہیں۔

پھر پاکستان نے ایٹم بم کیوں بنایا اگر پاکستان اپنے ایٹم بم کو استعمال کرے تو خود ڈاکٹر عبد القدیر کے اعتراف کے مطابق یہ اس کے لئے ایک خود کشی کا فعل ہو گا جس میں کشمیر اور پاکستان دونوں تباہ ہو جائیں گے۔ گویا کہ ایٹم بم کو استعمال کرنا یا اس کو استعمال نہ کرنا دونوں ہی

پاکستان کے لئے غیر مفید ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حالت میں پاکستان کے لئے دوسرا زیادہ بہتر انتخاب (choice) موجود تھا اور وہ تصورٹ موجودہ (status quo) کو مان لینا۔ نہایت مہنگی قیمت پر ایٹم بم بنانے کے باوجود پاکستان کے لئے یہی مقدر ہے کہ وہ کشمیر کے معاملہ میں صورت موجودہ (لائن آف ایکچول کنٹرول) پر نہ چاہتے ہوئے بھی راضی رہے۔ کیوں کہ اس کا دوسرا بدل صرف قومی خود کشی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ وہ اس معاملہ میں امریکہ اور دوسری مغربی قوموں کی پیشکش کو مان لے۔ اس پیشکش میں اس کو دو قیمتی چیزیں مل رہی تھیں ۔ ایک نہایت فیاضانہ اقتصادی امداد۔ دوسرے امریکہ کی طرف سے قابل اعتماد نیو کلیئر تحفظ۔

حقیقت یہ ہے کہ ایٹم بم نہ انڈیا کے لئے مفید ہے اور نہ پاکستان کے لئے۔ دونوں ہی کے لئے وہ سفید ہاتھی پالنے کے ہم معنی ہے۔ دونوں ہی نے اس کو اپنے قومی فخر (pride) کے لئے بنایا ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں قومی دفاع کے لئے جب متفقہ طور پر ایٹم بم قابل استعمال ہی نہ ہو تو کوئی فوجی مقصد اس سے کس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں فوجی یا غیر فوجی مقاصد کے لئے پر امن ڈائیلاگ ہی ایک ممکن تدبیر ہے۔ متشردانہ تدبیر اب سرے سے قابل عمل ہی نہیں پر تشدد عمل میں یقینی خطرہ ہے کہ آج جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ بھی آپ کے پاس باقی نہ رہے۔ یہاں میں اضافہ کروں گا کہ پچھلے کچھ سالوں سے برازیل اور ارجنٹینا کے درمیان ایٹمی اسلحہ کی وہی دوڑ جاری تھی جو آج انڈیا اور پاکستان میں دکھائی دے رہی ہے۔ مگر اس کے برے اقتصادی نتائج کو دیکھ کر دونوں ملکوں کے سنجیدہ لوگ تڑپ اٹھے۔ دونوں نے آپس میں گفت شنید شروع کر دی یہاں تک کہ 1997 میں دونوں ملکوں میں ایک مشترکہ فیصلہ کے ذریعہ ایٹمی اسلحہ کی تیاری مکمل طور پر بند کر دی گئی اور اپنے وسائل کو پوری طرح اقتصادی ترقی کی طرف موڑ دیا گیا۔ برازیل اور ارجنٹینا کا یہ فیصلہ بلاشبہ نہایت درست ہے۔ انڈیا اور پاکستان دونوں کو اسی فیصلہ کی پیروی کرنا چاہیے۔ ایٹمی ہتھیاروں کا راستہ بلاشبہ دونوں کے لئے تباہ کن ہے، خواہ یہ ہتھیار استعمال ہوں یا استعمال نہ ہوں۔

۲۰ویں صدی کے نصف اول کا زمانہ برصغیر ہند کے لئے نازک زمانہ تھا۔ اس زمانہ کے لوگ ایک قسم کے رومانی تصورات میں جی رہے تھے۔ وہ ذہنی طور پر اس کے لئے تیار تھے کہ کوئی شخص خوبصورت نظریہ پیش کرے تو وہ دوڑ کر اسے قبول کرلیں۔ اس زمانہ کے ہندوؤں اور مسلمانوں میں مختلف قسم کے اہل فکر اٹھے۔ انھی میں سے ایک گروہ وہ تھا جو نظریاتی انتہا پسندی میں مبتلا تھا اور طلسماتی الفاظ کے ذریعہ اپنی قوم کو اس کی طرف بلا رہا تھا۔ ان میں سے ایک کو میں ہندوانتہا پسند اور دوسرے کو مسلم انتہا پسند کا نام دونگا۔ چونکہ اس وقت دونوں فرقوں میں رومانی جوش خروش پایا جارہا تھا۔ اس لئے جوانوں کی بڑی تعداد دونوں طرف اکٹھا ہو گئی۔ اس طرح تقریباً ایک ہی زمانہ میں دو مختلف گروہ وجود میں آئے۔ ایک ہندو انتہا پسندوں کا گروہ اور دوسرا مسلم انتہا پسندوں کا گروہ۔ ۲۰ویں صدی میں برصغیر ہند میں جو تباہ کن حالات پیش آئے اس کے سب سے بڑے ذمہ دار یہی دونوں انتہا پسند گروہ ہیں۔

نظریاتی انتہا پسندی ایک قسم کا جنون ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ تاریخ کو اپنے خود ساختہ نظریات میں ڈھالنے پر اصرار کرتے ہیں۔ وہ تاریخ کے پہیہ کو الٹی طرف چلانے کی کوشش اس کے نتیجہ میں تاریخ کا سفر تو الٹی طرف جاری نہیں ہوتا البتہ ترقی اور تعمیر کے کے امکانات تباہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔

ہندو انتہا پسند گروہ کے پچھلے پچاس سال کے ریکارڈ کو دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ انھوں نے اس مدت میں صرف تین بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں۔ اول، ۱۹۴۸ میں مہاتما گاندھی کو گولی مار کر ہلاک کرنا۔ دوم، ۱۹۹۲ میں ایودھیا کی تاریخی مسجد کو ڈھادینا جب کہ اس کا کیس ابھی عدالت میں زیر سماعت تھا۔ سوم، ۱۹۹۸ میں پانچ ایٹمی دھماکے کر کے اس پورے علاقے میں ایٹمی ہتھیار کی دوڑ شروع کردینا۔

یہ بات میں نے دہلی کی ایک مجلس میں آر ایس ایس اور اس کی پولیٹیکل ونگ بھارتیہ

جنتا پارٹی کے بارے میں ان الفاظ میں کی:

مسلم انتہا پسندوں کا ریکارڈ بھی اس معاملہ میں کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ جنون کے تحت انھوں نے ۱۹۴۷ میں بر صغیر ہند کا بٹوارہ کرایا۔ اور اس پورے علاقہ میں ابدی طور پر نفرت کی فصل اگائی۔ اس کے بعد اسی نظریاتی جنون کے تحت انھوں نے نام نہاد اسلامی جنگ جوئی کا طوفان برپا کیا جس کے نتیجہ میں نہ صرف لیاقت علی خاں (وفات ۱۹۵۱) اور ذوالفقار علی بھٹو (وفات ۱۹۷۹) جیسے بہت سے لوگوں کو قتل کیا گیا بلکہ کشمیر میں اور خود پاکستان میں تشدد کا ایک آتشیں جنگ آگ آیا جس کا بظاہر کوئی خاتمہ نظر نہیں آتا۔ اور پھر یہی مسلم انتہا پسند ہیں جنھوں نے وہ حالات پیدا کئے جس کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ انڈیا اور پاکستان ہلاکت خیز انجام کے کنارہ کھڑے ہو گئے۔

انتہا پسندی کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ سمجھوتہ اور مصالحت (conciliation) کو نہیں جانتی ایسے لوگ صرف ایک بات کو جانتے ہیں۔ اور وہ ہے ساری دنیا کو اپنے خیالات کے سانچے میں ڈھالنا۔ یہی وجہ ہے کہ نظریاتی انتہا پسندی ہمیشہ نفرت اور تشدد تک پہنچتی بد قسمتی سے بر صغیر ہند میں ہند و انتہا پسندی اور مسلم انتہا پسندی دونوں نے ہمارے سماج میں یہی غیر مطلوب فصل اگائی ہے۔

کسی لیڈر کی سب سے زیادہ تباہ کن چیز نظریاتی جنون ہے۔ لیڈر کے دماغ میں جب ایک نظریہ بس جائے تو بقیہ تمام چیزیں اس کے لئے ثانوی بن جاتی ہیں۔ وہ اپنے خود ساختہ نظریہ کو قائم کرنے کے لئے تمام دوسری چیزوں کو بلڈوز کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اخلاق اور انسانیت جیسی اعلیٰ قدروں کو بھی۔ اسٹالن نے اپنے اسی نظریاتی جنون کی بنا پر ۲۵ بلین انسانوں کو ہلاک کر دیا۔ ہٹلر نے اپنے اسی نظریاتی جنون کی بنا پر تاریخ کی وہ ہولناک جنگ چھیڑ دی

جس کو دوسری عالمی جنگ کہا جاتا ہے، وغیرہ۔

بدقسمتی سے برصغیر ہند بھی آزادی کے بعد اس قسم کے نظریاتی جنون کا شکار ہو رہا پاکستان میں وہاں کے نام نہاد اسلام پسندوں نے اپنے نظریاتی جنون کے تحت پاکستان کے تمام بہترین امکانات کو ملیا میٹ کر دیا۔ انڈیا میں پہلے ہمارا ملک نہرو کے سوشلسٹ جنون کا شکار اب وہ بھا پچا کے ہند تو جنون کا شکار ہو رہا ہے۔ یہ صرف خدا کو معلوم ہے کہ اس قسم کی جنونی سیاست برصغیر ہند میں مزید کب تک جاری رہے گی۔

ہر سماج میں ایسے افراد ہو سکتے ہیں جو اپنے نظریہ کے حق میں مجنونانہ یقین رکھتے دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سماج میں ہمیشہ مختلف سوچ اور مختلف نظریہ رکھنے والے پائے جاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ مختلف اور متضاد ذہن رکھنے والوں کے درمیان حکومتی نظام کس طرح بنایا جائے یہ ضروری ہے کہ ہمارے پاس اس مقصد کے لئے پرامن اور قابل عمل فارمولا موجود ہو۔ بصورت دیگر ، ہر سماج ابدی طور پر تشدد کا سماج بنارہے گا۔ یہ فارمولا دریافت ہو چکا ہے اور اس فارمولے کا نام ڈیموکریسی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سماج کے مختلف گروہ اس پر راضی ہو جائیں کہ حکومت سازی کا معاملہ الیکشن پر اس کے حوالے کر دیا جائے۔ ہر پانچ سال پر آزادانہ اور منصفانہ (free and fair) الیکشن منعقد کیا جائے اس الیکشن میں جو گروہ بھی جائز طور پر اکثریت لائے اس کو محدود مدت کے لئے حکومت (صحیح تر لفظ میں ، ایڈمنسٹریشن) کا کام چلانے کا موقع دیا جائے۔ یہ فاتح گروہ دل سے راضی رہے کہ اگلے الیکشن میں اگر وہ ہار جاتا ہے تو وہ اسی طرح معتدل طور پر اپنی ہار کو قبول کر لے گا جس طرح اس سے پہلے اس نے اپنی جیت کو قبول کیا تھا۔

اس کے بعد وہ لوگ ہیں جو اپنے دماغوں میں کوئی اصلاحی نظریہ رکھتے ہیں مگر عوامی رائے بر وقت ان کے ساتھ نہیں ہے ایسے لوگوں کے لئے واحد صحیح اور قابل عمل بات یہ ہے کہ وہ انتظار کی ۔ پالیسی اختیار کریں۔ یعنی وہ جائز حدود میں اپنے نظریہ کی پر امن تبلیغ کریں وہ لوگوں کو ایجو کیٹ

وقت ان کے ساتھ نہیں ہے ایسے لوگوں کے لئے واحد صحیح اور قابلِ عمل بات یہ ہے کہ وہ انتظار کی پالیسی اختیار کریں۔ یعنی وہ جائز حدود میں اپنے نظریہ کی پر امن تبلیغ کریں وہ لوگوں کو ایجوکیٹ کر کے ان کے ذہن کو اپنے موافق بنانے کی کوشش کریں۔ اس عمل میں وہ نہ کوئی متشددانہ طریقہ اختیار کریں اور نہ غیر اخلاقی طریقہ۔ وہ اسی طرح پرچار کے دائرہ میں اپنی تعمیری مہم جاری یہاں تک کہ وہ وقت آجائے جب کہ خود انتخابی عمل ان کے حق میں فیصلہ دے دے۔ ۱۹۴۷ میں جب ایک طرف انڈیا اور دوسری طرف پاکستان بنا تو اول دن ہی سے دونوں میں حریفانہ تعلق قائم ہو گیا۔ حریفانہ تعلق ہونا کوئی بری چیز نہیں۔ وہ ترقی کا زینہ ہے۔ جاتا ہے کہ امریکہ کی ترقی کا راز روس کی صورت میں اس کے ایک حریف کا وجود میں آنا چنانچہ جب 1991 میں سوویت یونین ٹوٹ گیا تو امریکی ماہرین یہ کہنے لگے کہ ہمیں اب کوئی دوسرا حریف تلاش کرنا چاہیے ورنہ ہمارے یہاں ترقی کا عمل رک جائے گا۔

واقعہ یہ ہے کہ حریفانہ کشاکش اپنی ذات میں کوئی بری چیز نہیں۔ یہ خود فطرت کا بنایا ہوا کورس ہے۔ فطرت نے انسانی ترقی کے لئے یہی کورس مقرر کیا ہے کہ لوگوں میں مقابلے ہوں اور ان مقابلوں کے دوران ہر ایک اپنے کو اونچا دکھانے کی کوشش کرے اور اس طرح انسانیت کی مجموعی ترقی جاری رہے۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان حریفانہ کشمکش پیش آئی وہ اپنی ذات میں اس قسم کی ایک چیز مگر یہ حریفانہ کشمکش دونوں ہی ملکوں کے لئے تباہی کا ذریعہ بن گئی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہمارے یہاں اس حریفانہ کشمکش نے منفی رخ اختیار کر لیا ہمارے یہاں یہ حریفانہ کشاکش منفی کشاکش بن گئی وہ مثبت رخ اختیار نہ کر سکی۔

ابتدا میں دونوں ملکوں کا میڈیا ایک دوسرے کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے لئے وقف

تجربہ ہوتا ہے۔ وہ انڈیا واپس آکر کہتا ہے کہ پاکستان کے لوگ تو ہم سے انسانیت اور پیار کے ساتھ ملتے ہیں پھر دونوں ملکوں میں قومی سطح پر دشمنی کیوں۔

یہی معاملہ ان پاکستانی مسلمانوں کے ساتھ پیش آتا ہے جو پاکستان سے انڈیا آتے ہیں۔ اور یہاں کے ہندوؤں سے انفرادی طور پر ملتے ہیں وہ بھی پاکستان واپس جا کر یہی بات کہتے ہیں کہ ۔ انڈیا کا ہندو تو ہم سے انتہائی پیار کے ساتھ ملا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ قومی سطح پر دونوں ملکوں کے درمیان مسلسل دشمنی قائم ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ دونوں ملکوں میں جب ہندو اور مسلمان آپس میں ملتے ہیں تو یہ ایک انسان کی دوسرے انسان سے ملاقات ہوتی ہے۔ جب بھی ایک انسان دوسرے انسان سے انفرادی طور پر ملے تو یہ ملاقات فطرت کے دو پیکروں کے درمیان ہوگی، اور جہاں تک فطرت کا سوال ہے وہ ایک ہندو کے اندر بھی وہی ہے جو ایک مسلمان کے اندر ہے۔ مگر قومی تعارف کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انفرادی ملاقات میں دونوں کی رہنمایان کی فطرت ہوتی ہے مگر ایک پاکستانی مسلمان جب ہندوستانی قوم کے بارے میں جاننا چاہے تو وہ اپنی اس واقفیت کو اخبارات کے ذریعہ حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح جب ایک ہندوستانی ہندو پاکستانی قوم سے آگاہ ہونا چاہے تو وہ بھی اخبارات کے ذریعہ یہ آگہی حاصل کرتا ہے۔ اور جب کہ معلوم ہے اخبارات صرف نفرت و عداوت کے باتیں چھاپتے ہیں وہ حریف قوم کو ایک قابل نفرت دشمن کے روپ میں پیش کرتے ہیں۔

انفرادی اور قومی تصویر کا یہ فرق اس مطالعہ کے فرق کا نتیجہ ہے۔ اگر دونوں ملکوں کے اخبارات میڈیا کو ہٹا دیا جائے اور دونوں ملکوں کے لوگ ایک دوسرے کے بارے میں قومی تعارف بھی اس طرح براہ راست حاصل کریں جس طرح وہ انفرادی تعارف براہ راست حاصل کرتے ہیں تو یہ تضاد ختم ہو جائے گا۔

ہیں تو یہ تضاد ختم ہو جائے گا۔

قرآن کی سورہ نمبر ۱۰ میں فطرت کا ایک قانون ان الفاظ میں بتایا گیا ہے۔ پھر ہم نے ان کے بعد تم کو زمین میں با اقتدار بنایا تا کہ ہم دیکھیں کہ تم کیسا عمل کرتے ہو (یونس ۱۴) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین میں جب کسی فرد یا گروہ کو سیاسی اقتدار ملتا ہے تو وہ اس کا ذاتی حق نہیں ہوتا۔ زمین خدا کی ہے اور وہی جس کو چاہتا ہے اس کو یہاں اقتدار عطا کرتا ہے، یہ اقتدار ہر ایک کے لئے صرف محدود مدت کے لئے ہوتا ہے، اور اس کا مقصد یہ ہوتا کہ سیاسی مواقع دے کر اس کو جانچا جائے کہ اس نے اپنے اختیار کو کس طرح استعمال کیا۔ پھر اس کی اس کارکردگی کی بنیاد پر آخرت میں اس کے لئے انعام یا سزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس اعتبار سے بر صغیر ہند کو دیکھئے۔ پانچ سو سال پہلے یہاں مختلف راجاؤں کی حکومت اس کے بعد مغلوں کا سیاسی دور آیا جو انیسویں صدی کے وسط تک جاری رہا۔ اس کے بعد انگریزوں کو اس ملک میں سیاسی اقتدار ملا۔ یہ اقتدار ۱۹۴۷ میں ختم ہو گیا۔ اس کے بعد ملک کے دو حصے ہو گئے۔ ایک حصے میں ہندو اکثریت کو سیاسی بالاتری حاصل ہوئی اور دوسرے حصے میں مسلم اکثریت کو سیاسی بالاتری کی حیثیت حاصل ہوئی۔

پچھلے تمام سیاسی دور صرف وقتی تھے۔ ان میں سے کوئی بھی مستقل نہ تھا اسی طرح موجودہ سیاسی دور بھی صرف وقتی ہے۔ دونوں میں سے کسی فرقہ کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس کو مستقل طور پر زمین کے اس حصے کا سیاسی الاٹ مینٹ مل گیا ہے۔ دونوں ہی گروہ، قرآن کے مطابق مالک کائنات کی براہ راست نگرانی میں ہیں۔ وہ جب تک چاہے گا ان کا اقتدار رہے گا، اور جب وہ چاہے گا دونوں کا اقتدار ختم کر کے کسی اور گروہ کو یہ سیاسی مواقع دے دے گا۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو ہندو اور مسلمان دونوں ہی گویا سیاسی امتحان ہال میں بیٹھے ہوئے دونوں ہی کو ایک مشترک پرچہ حل کرنا ہے، وہ پرچہ کیا ہے، وہ پرچہ یہ ہے کہ دونوں ہی

لئے ایک ذمہ داری سمجھیں نہ کہ کوئی ذاتی حق کا معاملہ۔ وہ اس بارے میں آخری حد تک سنجیدہ ہوں کہ انھیں اپنے اختیار کو ذاتی خواہش کے تحت استعمال نہیں کرنا ہے بلکہ اس کو خدا کی مرضی کے تحت استعمال کرنا ہے۔ وہ پورے شعور کے ساتھ اس حقیقت کو اپنے ذہن میں تازہ رکھیں کہ انھیں اپنے ہر قول و عمل کے لئے خدا کی عدالت میں اپنا حساب دینا ہے جہاں انصاف کے سوا کسی بھی دوسری چیز کی کوئی قیمت نہ ہوگی۔

دونوں فرقوں کو یہ جاننا چاہیے کہ انھیں یہ سیاسی موقع اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ خدا کی زمین کو سنواریں نہ کہ اس کو بگاڑیں۔ وہ خدا کے بندوں کو انصاف دیں نہ کہ انھیں اپنے ظلم کا نشانہ وہ تمام انسانوں کو راحت پہنچائیں نہ کہ انھیں نئے نئے مسائل میں الجھا دیں ، وہ ملک کے وسائل کو ملک کی مثبت تعمیر میں لگائیں، نہ کہ اس کو اپنے ذاتی عیش یا ذاتی برتری کے لئے استعمال وہ ان مواقع کو خدا کی امانت سمجھیں نہ کہ ذاتی ملکیت۔

صبح کو جب سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ اس بات کا پیغام دیتا ہے کہ مالک کائنات تمہاری نگرانی کر رہا ہے۔ ہر روز جب رات آتی ہے تو وہ یہ پیغام لاتی ہے کہ تمہارا عروج بھی لازماً زوال کا زمین کی مسلسل گردش بتا رہی ہے کہ اس دنیا میں نہ کسی کی زندگی کے لئے ٹھہراؤ ہے اور نہ کسی کی سیاسی اقتدار کے لئے۔ یہ گویا دونوں گروہوں کے لئے ، اور اس طرح تمام انسانوں کے لئے فطرت کی زبان میں خدا کی ایک چیتاؤنی ہے۔ دانش مند وہ ہے جس کے لئے یہ چیتاؤنی اس کی اصلاحِ حال کا ذریعہ بن جائے اور نادان وہ ہے جو اس چیتاؤنی کو نظر انداز کر دے ، اس کے لئے ذلت اور ناکامی کے سوا کوئی دوسرا انجام نہیں۔

December 1999 • No. 277 • Rs. 9 کسی قوم کی ترقی کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ اس کے افراد کے اندر ماننے کا مزاج پایا جاتا ہو۔

Printed page