توحید کی حقیقت
Al-Risala, February 1999, pp. 7–9
By Maulana Wahiduddin Khan
توحید کا مطلب یہ ہے کہ خدا کو ایک مانا جائے ۔ یہ یقین کیا جائے کہ تمام طاقتیں اور ہر قسم کے اختیارات صرف ایک خدا کو حاصل ہیں۔ وہی تنہا عبادت کا مستحق ہے۔ عبادت کی قسم کا کوئی بھی فعل خدا کے سوا کسی اور کے لئے جائز نہیں۔ خدا ہی انسان کی مرادیں اور حاجتیں پوری خدا ہی کائنات کا نظام چلا رہا ہے۔ برتری صرف ایک خدا کا حق ہے ، کسی اور کو اس دنیا میں حقیقی برتری حاصل نہیں۔ ایسا ہر عقیدہ باطل ہے جس میں ان تمام پہلوؤں میں خدا کے سوا کسی اور کو شریک کیا جائے۔
قرآن میں توحید کے عقیدہ کو ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے ۔ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ ہے، سب کا تھامنے والا۔ اس کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش
وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے، مگر جو وہ چاہے۔ اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے۔ وہ تھکتا نہیں ان کے تھامنے سے اور وہی ہے بلند مرتبہ والا اور بڑا (آل عمران ۲۵۵) خدا کی پرستش کرنا اپنے خالق و مالک کی پرستش کرنا ہے جو واقعی طور پر انسان کی پرستش کا حق دار ہے۔ اس کے برعکس کوئی آدمی جب غیر خدا کے آگے سر جھکاتا ہے تو وہ اپنے جیسی ایک مخلوق کے آگے سر جھکاتا ہے جو اس کا حقدار نہیں کہ اس کے آگے سر جھکایا جائے۔ پرستش انسان کو عظمت عطا کرتی ہے اور غیر خدا کی پرستش اس کو پستی میں گرا دیتی ہے۔ پرستش انسان کو حقیقت پسند بناتی ہے اور غیر خدا کی پرستش اس کو توہمات میں مبتلا کر دیتی ہے۔ خدا کی پرستش سے معرفت حق کے دروازے کھلتے ہیں اس کے برعکس آدمی جب غیر خدا کی پرستش کرتا ہے تو وہ حق کی معرفت کے دروازوں کو اپنے اوپر بند کر لیتا ہے۔ توحید صرف ایک ہے، مگر شرک کی ہزاروں قسمیں ہیں۔ موحد انسان کا مرکز توجہ اور مرکز عبودیت صرف ایک خدا ہوتا ہے۔ وہ ہر حال میں اور اپنی پوری زندگی میں اسی ایک خدا کو اپنا سب کچھ بنائے ہوئے رہتا ہے۔ مگر مشرک انسان کا کوئی ایک مرکزی نقطہ نہیں ہو تا۔ ہے کہ شرک کی بے شمار قسمیں بن جاتی ہیں۔ ستارہ پرستی، زمین پرستی، بت پرستی، ارباب پرستی، قبر پرستی سے لے کر نفس پرستی، دولت پرستی، اقتدار پرستی، مفاد پرستی، اولاد پرستی وغیرہ یہ تمام چیزیں درجہ بدرجہ غیر اللہ کی پرستش میں شامل ہیں۔ اور قرآن میں ان کی کھلی مذمت کی گئی ہے۔ موحد انسان وہ ہے جو ہر قسم کی بر تر حیثیت صرف ایک خدا کو دے۔ اپنی مراد مانگے۔ اسی کے سامنے مراسم پرستش بجالائے، اسی پر سب سے زیادہ بھروسہ کرے، اسی کو ہر اعتبار سے بر تر حیثیت دے۔ پرستش کسی سے تعلق کے اظہار کا آخری درجہ ہے۔ ہے کہ پرستش کی تمام صورتیں صرف ایک خدا کا حق ہیں ہر پرستش کی نوعیت کی کوئی چیز کسی غیر
خدا کے لئے جائز نہیں۔
آدمی جب خدا کو اپنا معبود بناتا ہے تو وہ ایک ایسی ہستی کو اپنا معبود بناتا ہے جو حقیقی طور پر اس کے برعکس جب کوئی آدمی غیر خدا کو اپنا معبود بنائے تو اس نے ایک ایسی چیز کو اپنا معبود بنایا جس کا واقعات کی دنیا میں سرے سے کوئی وجود ہی نہیں، خواہ بظاہر اس نے اس مفروضہ معبود کی ایک صورت بنا کر اپنے سامنے رکھ لی ہو۔ جو آدمی خدا کو اپنا معبود بنائے اس نے طاقت کے حقیقی سر چشمہ کو پالیا۔ اس کے برعکس جو آدمی غیر خدا کو اپنا معبود بناتا ہے وہ ایک ایسے تو ہماتی مفروضہ سے اپنا رشتہ جوڑتا ہے جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں۔ خدا کا عبادت گزار ابدی سعادت سے ہمکنار ہوتا ہے۔ اس کے برعکس غیر خدا کے عبادت گزار کے لئے ابدی محرومی کے سوا کوئی اور چیز نہیں۔