Al-Risala · December 1999

فقہ فی الدین

Al-Risala, December 1999, pp. 6–7

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام میں فقہ فی الدین کی بے حد اہمیت ہے۔ قرآن میں اس کا ذکر فرض کفایہ کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ اگر امت کے تمام لوگ نہیں تو کچھ لوگوں کو ایسا کرنا چاہئے کہ وہ اپنے اندر اعلیٰ درجہ میں فقہ فی الدین کی صلاحیت پیدا کریں (التوبہ ۱۲۲) حدیث سے بھی اس کی اہمیت ثابت ہوتی ہے۔ حضرت معاویہ بن سفیان کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين (فتح الباری ۳۰۶/۱۳) یعنی اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو وہ فقہ فی الدین عطا کر دیتا ہے۔ فقہ کے معنی فہم وبصیرت کے ہیں۔ یہاں فقہ کا لفظ معروف فقہی معنی میں نہیں ہے۔ موجودہ زمانہ میں فقہ کا لفظ بولا جائے تو اس کا مطلب ان احکام و مسائل کو جاننا ہو تا ہے جن کو فقہاء اسلام نے بعد کے زمانہ میں مرتب کیا۔ مگر مذکورہ آیت یا حدیث میں فقہ کا لفظ اس مفہوم میں استعمال نہیں ہوا ہے۔ بلکہ وہ اصولی اور اساسی دین میں گہری فہم وبصیرت کے لئے آیا ہے۔ اس اعتبار سے، فقہ کا مطلب معروف نوعیت کا مقلدانہ علم نہیں ہے۔ بلکہ وہ سراسر ایک مجتہدانہ علم ہے۔ فقہ فی الدین کا مطلب سطور سے گزر کر بین السطور کو پڑھ لیناہے۔ نکلنے والے سادہ مفہوم سے گزر کر اس کی چھپی ہوئی معنویت کو دریافت کرتا ہے۔ فنی اور ظاہری تفصیلات سے آگے بڑھ کر معنویت کے سمندر میں داخل ہو جانا ہے۔

فقہ فی الدین بلاشبہ ایک مومن کے لئے خیر اعلیٰ کا درجہ رکھتا ہے۔ جس آدمی کے اندر فقہ کی صلاحیت پیدا ہو جائے اس کا ایمان اس کے اندر ربانی شخصیت کی تشکیل کرنے لگتا ہے۔ حقیقتوں کو براہ راست دیکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ وہ واقعات و معاملات کو ان کی صحیح روشنی میں دیکھنے لگتا ہے۔ خواہ اپنی ذات کا معاملہ ہو یا دوسروں کا معاملہ، وہ صحیح ترین رائے تک پہنچنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: خصلتان لا تجتمعان في منافق حسن سمت ولا فقہ في الدین (الترمذی بحوالہ مشکاۃ المصابیح ا/ ۷۲) دو صفتیں ایسی ہیں جو کسی منافق میں جمع نہیں ہوتیں خوش خلقی اور تفقه

منافقت کے ساتھ تفقه فی الدین کیوں جمع نہیں ہوتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ منافق ایک غیر سنجیدہ انسان ہوتا ہے، اور غیر سنجیدہ ذہن اس قابل ہی نہیں ہو تا کہ وہ گہری حقیقتوں کو سمجھے یا ان کا ادراک کر سکے۔ گہری بصیرت کے لئے سنجیدگی (sincerity) ایک لازمی شرط منافقت کے ساتھ سنجیدگی کبھی جمع نہیں ہوتی۔ اس لئے منافق انسان کبھی تفقه فی الدین کی لذت سے آشنا بھی نہیں ہوتا۔

تفقه فی الدین کا درجہ اس کے حصہ میں آتا ہے جو اپنے ذہن کو دوسری غیر متعلق چیزوں سے ہٹا کر صرف دین کو اپنے غور و فکر کا موضوع بنائے۔ یہ ذہنی یکسوئی (concentration) ہی تفقه فی الدین کا دروازہ ہے۔ جو لوگ ذہنی یکسوئی کی یہ قیمت ادا نہ کریں وہ کبھی اس خیر کو نہیں پا سکتے جس کو قرآن و حدیث میں تفقه فی الدین کہا گیا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: فقیه واحد اشد علی شیطان من الف عابد (الترمذی، ابن ماجہ، بحوالہ مشکاۃ المصابیح ا/ ۷۳) یعنی ایک فقیہ شیطان کے اوپر ہزار عابد سے زیادہ سخت ہے۔

غیر فقیہ صرف چیزوں کے ظاہر کو دیکھتا ہے۔ اس کے بر عکس فقیہ کی نظر چیزوں کی اصل حقیقت تک پہنچ جاتی ہے۔ غیر فقیہ چیزوں کے فرق کو نہیں سمجھتا جب کہ فقیہ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو جان لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر فقیہ نہایت آسانی سے شیطان کی تزئین کا شکار ہو جاتا ہے۔ جب کہ فقیہ اس قابل ہو تا ہے کہ وہ شیطانی تزئین کا پردہ پھاڑ کر حقیقت کو اس کے برہنہ روپ میں دیکھ سکے۔ اور اس طرح اس کی گمراہی سے بچ جائے۔

Printed page