Al-Risala · December 1999

مذہب کی حقیقت

Al-Risala, December 1999, pp. 8–9

By Maulana Wahiduddin Khan

انڈونیشیا (جکارتا) میں ایک ادارہ قائم ہے۔ اس کا مقصد مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ اس ادارہ کے ایک شعبہ کا نام اسکول آف ہائر اور نِس (School of Higher (Awareness ہے ۔ اس ادارہ کا پورا نام و پتہ یہ ہے :

Anand Ashram, JI. Sunter Mas Barat 11-E, Block H-10/1, Jakarta- 14350 Tel. (021) 650-8648, (0818) 701658, Fax (021) 650-3459, e-mail: ashram@indo.net-id, Homepage: http/members.tripod.com/anandashram اس ادارہ کی طرف سے ایک درجن انڈونیشی مردو عورت کا وفد ہندوستان آیا۔ مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے تھے۔ اس وفد کے قائد مسٹر آنند کرشنا تھے وہ انڈونیشی زبان کے ایک معروف رائیٹر ہیں۔ یہ پورا وفد ۱۵ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو اسلامی مرکز (دہلی) میں آیا۔ سے سوال وجواب کی صورت میں ایک گھنٹہ سے زیادہ دیر تک ان لوگوں سے گفتگو ہوئی۔ کا تعلق زیادہ تر اسلام اور دیگر مذاہب سے تھا۔

ایک خاتون نے بتایا کہ ان کی ماں مسلمان تھیں اور ان کے والد ہندو تھے۔ خود انھوں نے ایک کرسچن سے شادی کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں اپنے کو مسلمان سمجھتی ہوں مگر میرا طریقہ یہ ہے کہ میں مندر جاتی ہوں تو میں وہاں کے لحاظ سے پوجا کر لیتی ہوں۔ جب میں چرچ میں جاتی ہوں تو میں وہاں کی عبادت میں شریک ہو جاتی ہوں۔ اور جب میں مسجد میں جاتی ہوں تو میں مسلمانوں کی طرح نماز پڑھ لیتی ہوں۔ میرا یہ طریقہ درست ہے یا نہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ پھر میں نے اس کی تفصیل کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کا مذہب، اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، کوئی مذہب نہیں۔ وہ صرف ایک قسم کا سماجی رکھ رکھاؤ یا سماجی توافق ہے : It is not a religion. It is a kind of social adjustment. مذہب کیا ہے۔ مذہب ایک سچائی ہے۔ سچائی خود اپنی نیچر کے لحاظ سے وحدت چاہتی

جب آدمی ایک چیز کو سچائی کے طور پر دریافت کرتا ہے تو وہ اس کے لئے ایک یقین کی دریافت کے ہم معنی ہوتی ہے۔ وہ اس پر اعتماد جذبہ سے سرشار ہو تا ہے کہ میں نے حقیقت اعلیٰ کو پالیا ہے۔ میں نے زندگی کے جنگل میں اس واحد راستہ کو معلوم کر لیا ہے جو مجھے منزل مقصود تک پہنچانے والا ہے۔

مذکورہ قسم کا مذہب کسی آدمی کو عین اس قیمتی چیز سے محروم کر دیتا ہے جو مذہب ہی سچائی کا اصل مقصود ہے، یعنی اعتماد و یقین۔ اس دنیا میں انسان کی پہلی ضرورت یہ ہے کہ وہ یہ جانے کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے۔ وہ انسان اور کائنات کے بارہ میں ایک واضح اور غیر مبہم تصور رکھتا ہو۔ وہ اس یقین پر کھڑا ہوا ہو کہ اس نے زندگی کے گہرے رازوں کو دریافت کر لیا ہے۔ حقیقت اسی دریافت کا نام ہے۔

اگر آپ ایک لمبے سفر پر جا رہے ہوں تو آپ کو اپنی منزل کا واضح اور متعین شعور ہونا اس یقینی شعور کے بغیر جو آدمی سفر پر روانہ ہو جائے وہ صحیح معنی میں ایک مسافر نہ ہوگا بلکہ ایک بھٹکا ہوا انسان ہوگا۔ اس کے سفر کا نہ کوئی آغاز ہے اور نہ کوئی اختتام۔ اس قسم کا سفر مختلف وادیوں میں بھٹکنا ہے نہ کہ حقیقتاً سفر طے کرنا۔ یہی معاملہ مذہب کا ہے۔ حقیقی مذہب وہ ہے جو آدمی کے لئے سچائی کی دریافت بن جائے۔ جو آدمی کو وہ فکری سرمایہ دے سکے جس کو اعتماد کہا جاتا ہر آدمی فطری طور پر اس کا ضرورت مند ہے کہ وہ ایک ایسی صداقت کو پائے جس پر وہ یقین مذہب آدمی کی اسی طلب کا جواب ہے۔ آدمی کا یہ احساس کہ اس نے سچے مذہب کو پالیا ہے، اس کو لازوال یقین کی دولت عطا کرتا ہے۔ "ہر مذہب سچا ہے" کا تصور خود مذہب کی نفی ایسا تصور مند ہب کے لئے کبھی مطلوب یقین کا سر چشمہ نہیں بن سکتا۔

جہاں تک سماجی ہم آہنگی کا تعلق ہے، اس کے حصول کا ذریعہ یہ نہیں ہے کہ یہ کہا جائے کہ ہر مذہب سچا ہے۔ سماجی ہم آہنگی کے حصول کا ذریعہ یہ ماننا ہے کہ ہر انسان قابل احترام ہے۔ سماجی ہم آہنگی کی بنیاد احترام انسانی کے تصور پر قائم ہوتی ہے نہ کہ وحدت مذاہب کے تصور پر۔

Printed page