تبلیغ کیا ہے
Al-Risala, December 1999, pp. 10–11
By Maulana Wahiduddin Khan
جناب ابوالبرکات علوی (۷۵ سال) نظام پور ضلع اعظم گڑھ کے رہنے والے ہیں۔ اگست ۱۹۹۹ کوان سے دہلی میں ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں کے قریب مخدوم پور کی بستی ہے۔ یہاں ایک مسلمان نٹھو صاحب (تقریباً ۴۰ سال) رہتے ہیں۔ ان کو شراب کی عادت وہ اکثر نشہ میں رہتے تھے۔ گھر والے ان کی طرف سے مایوس ہو گئے تھے۔ چند سال پہلے کی بات ہے، تبلیغی جماعت کے کچھ لوگ مخدوم پور آئے۔ وہ گشت کرتے ہوئے نٹھو صاحب کے گھر پہنچے۔ ان سے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ جماعت میں چلیں ۔ جواب دیا کہ میں تو ایک شرابی آدمی ہوں۔ دیکھو اس وقت بھی میری جیب میں ایک پتی ہے۔ تبلیغی جماعت والوں نے اصرار کیا تو انھوں نے جیب سے پٹنی نکالی اور ساری شراب پی گئے۔ کے بعد وہ مدہوش ہو کر چارپائی پر لیٹ گئے۔ اب تبلیغ والے چارپائی کے چاروں طرف بیٹھ کر ان کے لئے دعا کرنے لگے۔
کئی گھنٹہ کے بعد انھیں ہوش آیا تو انھوں نے دیکھا کہ تبلیغ والے ان کے چاروں طرف بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگ رہے ہیں۔ نٹھو صاحب نے پوچھا کہ آپ لوگ ابھی تک یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ تبلیغ والوں نے کہا کہ ہاں، جب آپ مدہوش ہو گئے تو ہم لوگ آپ کے لئے دعا کرنے لگے۔ اس واقعہ کا نٹھو صاحب پر بہت اثر ہوا۔ انھوں نے کہا کہ اچھا میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔ اس کے بعد وہ گھر کے اندر گئے۔ اپنے بچوں سے کہا کہ غسل خانہ میں پانی رکھو۔ مجھ کو نہانا ہے اور کپڑے بدل کر تبلیغ والوں کے ساتھ جماعت میں جانا ہے۔ گھر والوں نے اس کو انھوں نے کہا کہ کیا آپ شراب کی پٹنی لے کر جماعت میں جائیں گے۔ کہا کہ نہیں میں شراب چھوڑ کر جاؤں گا۔ اس کے بعد وہ جماعت میں گئے۔ تین دن کے بعد جب وہ واپس آئے تو وہ ایک بدلے ہوئے انسان تھے۔ اب نٹھو صاحب کو لوگ ایک دیندار انسان کی
حیثیت سے جانتے ہیں۔
حال میں جناب ابو البرکات علوی کی ملاقات نٹھو صاحب سے ہوئی۔ ابو البرکات صاحب نے ان سے پوچھا کہ آپ کو کبھی شراب پینے کا جی نہیں چاہتا۔ انہوں نے جواب دیا کہ تبلیغ والوں نے جو بات بتائی وہ مجھ کو شراب سے بھی زیادہ اچھی لگتی ہے۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ دعوت و تبلیغ کی حقیقت کیا ہے۔ تبلیغ نام ہے دوسرے کے درد کو اپنے سینہ میں محسوس کرنے کا۔ تبلیغ یہ ہے کہ آدمی آخری حد تک اس کا خیر خواہ ہو جائے جس کی وہ اصلاح چاہتا ہے۔ دوسرے شخص کی برائی کو دیکھ کروہ اس سے نفرت نہ کرے بلکہ وہ اور زیادہ اس کی اصلاح کا حریص بن جائے۔ مدعو کے منہ سے شراب کی بدبو آرہی ہو پھر بھی وہ اس سے اپنا رخ نہ پھیرے۔ وہ بات سننے سے انکار کر دے تب بھی وہ اس سے نا امید
تبلیغ دراصل بھٹکے ہوئے لوگوں کا خیر خواہ بننے کا دوسرا نام ہے۔ سچے داعی کا حال یہ ہوتا ہے کہ ایک طرف وہ اپنے مدعو کی اصلاح کے لئے اپنی ساری کوششیں صرف کر دیتا ہے۔ طرف وہ مدعو کے لئے مسلسل دعائیں کرتا رہتا ہے تاکہ اس کی اپنی کوشش میں جو کمی رہ گئی ہے خدا اس کی تلافی کر دے اور اپنی مدد سے اس کی کوششوں کو تکمیل تک پہنچادے۔ تبلیغ کی شریعت میں نفرت حرام ہے۔ جہاں دوسرے لوگ غصہ سے بھڑک اٹھتے ہیں، داعی وہاں یک طرفہ طور پر لوگوں کو معاف کر دیتا ہے۔ جہاں دوسرے لوگ منفی قسم کی جوابی کارروائی کرنے لگتے ہیں وہاں داعی آخری حد تک مثبت روش پر قائم رہتا ہے۔ لوگ صرف اپنے جذبات کے مجروح ہو ہونے کو جانتے ہیں، وہاں داعی کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ دوسروں کے جذبات مجروح نہ ہونے پائیں۔ خلاصہ یہ کہ دوسرے لوگ اگر اپنے آپ میں جیتے ہیں تو داعی اس لئے جیتا ہے کہ وہ دوسروں کے لئے بھلائی کا دروازہ کھول سکے۔