نظریاتی سپر پاور
Al-Risala, December 1999, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام ایک نظریاتی سپر پاور ہے۔ اور اس دنیا میں بلاشبہ نظریاتی سپر پاور سے زیادہ طاقت در کوئی دوسری چیز نہیں۔ دوسری طاقتیں مادی چیزوں پر غلبہ حاصل کرتی ہیں۔ اور نظریہ انسان کے اوپر غلبہ حاصل کرتا ہے۔ دوسری طاقتوں کا زور صرف جسم کے اوپر چلتا ہے۔ آدمی کے ذہن و دماغ کو مسخر کر لیتی ہے۔ دوسری طاقتیں صرف وقتی طور پر کسی کو مجبور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ نظریاتی طاقت کی یہ خصوصیت ہے کہ لوگ آمادگی قلب کے ساتھ اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اسلام فطرت کا دین ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کا نشی پیشگی طور پر ہر آدمی کے سینہ میں موجود ہے۔ آدمی پیدائشی طور پر اپنے اندر اس کی طلب اسلام میں اور انسان میں وہی رشتہ ہے جو پانی میں اور پیاسے میں ہوتا ہے۔ اسلام کو پانا خود اپنے آپ کو پانا ہے۔ اسلام کی دریافت خود اپنی دریافت ہے۔
جس خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ اسی خدا نے انسان کے لئے اس کا دین بھی مقرر کیا اسی دین خداوندی کا نام اسلام ہے۔ خدا کی طرف سے جو رسول آئے ، سب اسی دین کو لے مگر زمانہ کے انقلابات میں دوسرے ادیان بگڑ گئے۔ وہ اپنی اصلی اور ابتدائی حالت پر باقی مگر اسلام اپنی اسی اصل حالت پر آج بھی باقی ہے جس حالت میں اول دن اسے رب العالمین نے اپنے پیغمبر پر نازل کیا تھا۔ دوسرے مذاہب محرف دین ہیں اور اسلام غیر محرف دین۔ اسلام علم کے تمام معیاروں پر پورا اترتا ہے۔ اس کے تمام کردار تاریخی کردار ہیں نہ کہ افسانوی یا غیر تاریخی کردار۔ اسلام میں اور سائنس میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ جدید علمی دریافتوں نے صرف اسلام کی تصدیق کی ہے۔ زمانہ کی ترقیوں سے اسلام کا کوئی ٹکراؤ نہیں۔ اسلام کی ان خصوصیات نے اسلام کو نظریاتی سپر پاور کی حیثیت دے دی ہے۔ افکار و نظریات کے میدان میں وہ بلا مقابلہ کامیابی حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔