Al-Risala · December 1999

حقائق پر اعتماد

Al-Risala, December 1999, pp. 18–19

By Maulana Wahiduddin Khan

۷ھ میں پیغمبر اسلام اور مشرک سرداروں کے درمیان صلح کا وہ معاہدہ ہوا جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ لمبی بات چیت کے بعد جب معاہدہ کی دفعات طے ہو گئیں تو پیغمبر اسلام نے اس کو کا غذ پر لکھوانا شروع کیا۔ حضرت علی بن ابی طالب اس کی کتابت کر رہے تھے۔ آپ نے کہا کہ هذا ما صالح علیه محمد رسول الله ... (سیرت ابن کثیر جلد ۳ صفحه ۳۲۰)

مشرکین کے نمائندہ نے اس پر اعتراض کیا۔ اس نے کہا کہ ہمارے آپ کے درمیان یہی تو جھگڑا ہے کہ ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے۔ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول مان لیں تو جھگڑا اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ اس لئے آپ اس طرح لکھئے کہ هذا ما صالح عليه محمد بن عبد الله۔ آپ فورا اس پر راضی ہو گئے۔

حضرت علی سے آپ نے کہا کہ معاہدہ کے کاغذ سے محمد رسول اللہ کا لفظ مٹا دو اور اس کی جگہ محمد بن عبد اللہ لکھو۔ حضرت علی نے کہا کہ میں اپنے ہاتھ سے رسول اللہ کا لفظ نہیں مٹا سکتا۔ اس کے بعد پیغمبر اسلام نے کا غذ کو اپنے ہاتھ میں لیا اور رسول اللہ کے لفظ کو مٹا دیا۔ اس کے بعد حضرت علی سے آپ نے کہا کہ اب یہاں محمد بن عبد اللہ لکھ دو۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا (صفحہ ۳۲۱) پیغمبر اسلام کی اصل حیثیت یہی تھی کہ وہ اللہ کے رسول تھے۔ آپ کا پورا مشن آپ کے اسی دعوے پر کھڑا ہوا تھا۔ رسول اللہ کے لفظ کو مٹانا گویا اپنی اصل حیثیت کو مٹا دینے کے ہم معنی یہ ایک بے حد نازک موقع تھا۔ رسول اللہ کا لفظ مٹانے کا مطلب لوگوں کو یہ کہنے کا موقع دینا تھا کہ آپ کو خود اپنی ابن حیثیت کے بارے میں شک ہے۔

لیکن پیغمبر اسلام نے ان باتوں کو کوئی اہمیت نہ دی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ایک ایسے بلند انسان تھے جو حقائق میں جینے والا ہو، جو ظواہر سے اوپر اٹھ کر چیزوں کو دیکھ سکے۔ نفسیات کی بناپر آپ محسوس کر رہے تھے کہ کاغذ پر خواہ جو بھی لکھا جائے مگر آخر کار جو چیز غالب

رہے گی وہ حقیقت ہے۔ آپ کا یہ غیر متزلزل یقین کہ میں خدا کا رسول ہوں، یہی اس بات کی کافی ضمانت تھا کہ آپ ایک ایسی چیز کو کوئی اہمیت نہ دیں جو خود حقائق کے زور پر ایک دن مٹ کر رہ جائے گی۔ کوئی نہ اس کا حامی ہوگا اور نہ کوئی اس کا وکیل۔

رسول اللہ علیے کی کے اس واقعہ سے اسلام کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ اجتماعی معاملات میں حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرنا۔

ایک شخص جب اپنی انفرادی نماز پڑھ رہا ہو تو اس کو اختیار ہے کہ وہ اس میں خواہ لمبی سورہ پڑھے یا چھوٹی سورہ۔ لیکن جب وہ ایک بڑی جماعت کی امامت کر رہا ہو تو اس کو دوسروں کا لحاظ کرنا

یہی حکم دوسرے اجتماعی معاملات کا بھی ہے۔ اجتماعی معاملات میں ہمیشہ ایک سے زیادہ فریق ہوتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ایسے معاملات میں دوسروں کی رعایت کی جائے۔ بار بار ایسی رکاوٹیں پیش آئیں گی کہ اجتماعی زندگی کا سفر طے کرنا ہی مشکل ہو جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل اسلام کی نظر حال سے زیادہ مستقبل پر ہونی چاہئے۔ ایک معاملہ میں اگر فریق ثانی کسی شرط پر اصرار کرنے اور اہل اسلام بھی جوابی ضد کرنے لگیں تو اس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ تعطل پیدا ہو جائے گا۔ فریقین کی یہ ضد متشددانہ ٹکراؤ کی صورت بھی اختیار کر سکتی ہے۔ ایسی حالت میں اسلام کی پالیسی یہ ہے کہ وقتی طور پر فریق ثانی کی ضد کو مان لیا جائے اور اسی کے ساتھ اپنے تعمیر واستحکام کے عمل کو جاری رکھا جائے۔ اور یہ یقین کیا جائے کہ جو چیز حال میں بظاہر حاصل نہیں ہو رہی ہے وہ مستقبل میں ضرور حاصل ہو جائے گی۔

اختلافی معاملے میں ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کیا جائے تو پیش قدمی کا عمل رک جاتا ہے۔ کے برعکس مصالحانہ طریقہ اختیار کرنے کا یہ فائدہ ہے کہ بظاہر وقتی نقصان کے باوجود پیش قدمی کا عمل جاری رہتا ہے۔ اور کامیاب عمل وہی ہے جو کسی رکاوٹ کے بغیر مسلسل جاری رہے۔

Printed page