مسوری کا سفر
Al-Risala, December 1999, pp. 21–26
By Maulana Wahiduddin Khan
۲۵ جولائی ۱۹۹۹ء کو مسوری میں ایک خصوصی پروگرام انڑ فیتھ ڈائیلاگ (Inter-faith Dialogue) کے نام سے ہوا۔ اس کا انتظام لال بہادر شاستری نیشنل اکیڈمی آف ایڈمنسٹریشن کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس موقع پر مختلف مذاہب کے اہل علم کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ مجھے اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے بلایا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں مسوری کا سفر ہوا۔ ۲۵ جولائی ۱۹۹۹ء کی صبح نور روانگی ہوئی۔ مجھ کو شتابدی ایکسپریس کے ذریعہ دہلی سے دہرہ دون پہنچنا تھا۔ دہرہ دون سے بذریعہ کار مسوری کا سفر کرنا تھا۔ ڈاکٹر ڈے اور ڈاکٹر سمستانی وغیرہ کل سات آدمی دہلی سے اس سیمنار میں جارہے تھے۔
پہلا تجربہ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ہوا۔ یہاں ہماری ٹرین (شتابدی ایکسپریس) پلیٹ فارم نمبر ۱۲ سے روانہ ہونے والی تھی۔ ہماری گاڑی ٹھیک پلیٹ فارم کے گیٹ تک پہنچ گئی۔ معلوم ہوا کہ یہاں یہ نیا انتظام کیا گیا ہے۔ کار کے ذریعہ اسٹیشن آنے والے لوگ سیدھے اپنی کار کو پلیٹ فارم تک لے جاسکتے ہیں۔ یہاں آنے والی کاروں کے لئے خصوصی پاس ۲۵ روپیہ کا ہوتا
نئے ہندوستان میں اس طرح دھیرے دھیرے عین وہی چیز ہوتی جارہی ہے جس کا الزام انگریزوں کو دیا جاتا تھا۔ یعنی ایلیٹ کلاس (Elite Class) کے لئے ہر جگہ خصوصی انتظام ۔ فرق پہلے انگریز اور ہندوستانی کے درمیان تھا، اب وہ خود ہندوستانی اور ہندوستانی کے درمیان ہے۔ تحریک آزادی کے بڑے بڑے لیڈر جو ۱۹۷۲ء سے پہلے انگریزوں کو یہ الزام دیتے تھے کہ انھوں نے ملک میں اپنے لئے خصوصی رعائیتیں لے رکھی ہیں، وہ مستقبل کے حالات سے کتنا زیادہ بے
ٹرین دہلی سے آگے بڑھ کر پنجاب میں داخل ہوئی تو ریلوے لائن کے دونوں طرف
ہرے بھرے میدانوں کا لامتناہی سلسلہ تھا۔ یہ سر سبز منظر دہرہ دون تک کے پورے سفر کے دوران جاری رہا۔ سر سبز درخت زمین کا حسن ہیں۔ زمین پر اگر سر سبزی نہ ہو تو زمین بالکل ایسی ہو جائے جیسی کوئی گنجے سر کا آدمی۔
میں اپنی پوری زندگی سر سبز مناظر کا دلدادہ رہا ہوں۔ اس قسم کا کوئی منظر دیکھ کر میں اس میں اس طرح کھو جاتا ہوں کہ دوسری کوئی چیز یاد ہی نہیں رہتی۔ سر سبز مناظر کو دیکھ کر ایک ایسی بے پناہ روحانی مسرت ہوتی ہے جس کا میں نے کسی اور چیز میں تجربہ نہیں کیا۔ یہ سر سبز مناظر زمین کے سوا وسیع کائنات میں کسی بھی دوسرے مقام پر موجود نہیں۔ میں نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے کہ صرف زمین کی سطح کے اوپر استثنائی طور پر یہ سر سبز مناظر پیدا کئے گئے ہیں۔ میں کسی دوسرے مقام پر اس قسم کا منظر موجود نہیں۔
یہ سوچتے ہوئے ایک عجیب خیال دل میں پیدا ہوا۔ میں نے سوچا کہ خالق کو یہ منظور تھا کہ جب وہ اس قسم کا حیرت انگیز حسن پیدا کرے تو وہاں ایک انسان بھی موجود ہو جو اس کو دیکھے تو اس کے اندر ایسا پر ارتعاش جذبہ پیدا ہو کہ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئیں اور وہ کہہ پڑے: ربنا ما خلقت هذا باطلاً ، سبحانك فقنا عذاب النار . ہماری بوگی (چتر کار) میں اتفاق سے انگریزی اسکول کی لڑکیاں سفر کر رہی تھیں۔ مسلسل زور زور سے بول رہی تھیں۔ یہاں تک کہ ان کی آواز ٹرین کی آواز پر غالب آگئی۔ سب انگریزی بول رہی تھیں۔ بظاہر وہ گیارہویں یا بارہویں کلاس کی لڑکیاں تھیں۔ ان کا شور سن کر مجھے کسی کا قول یاد آیا کہ : سب سے زیادہ غیر تعلیم یافتہ وہ لوگ ہیں جو کہ تعلیم یافتہ ہیں۔ The most uneducated people are those who are educated people. تعلیم بلا شبہ بے حد اہم ہے۔ مگر صرف فارمل ایجوکیشن کافی نہیں۔ اس کے ساتھ انفارمل ایجوکیشن بھی بے حد ضروری ہے جس کا مقصد شعور کی تعمیر اور کیر کٹر بلڈنگ ہو ۔ کے بغیر صرف فارمل ایجوکیشن کافی نہیں ہو سکتی۔
اس کی ایک مثال تبلیغی جماعت ہے۔ سرسید نے تعلیم کے ساتھ ہر ہاسٹل میں نماز خصوصی انتظام کیا مگر اس انتظام سے بہت کم لوگ نمازی بن سکے۔ لیکن تبلیغی جماعت کی خار کو ششوں کے نتیجہ میں لاکھوں لوگ نمازی بن گئے حتی کہ خود کالجوں اور یونیورسٹیوں کے لو
لڑکیوں کا شور جب ختم نہیں ہوا تو ایک صاحب سے رہا نہیں گیا۔ انھوں نے کھڑے ہو کر بلند آواز سے لڑکیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا:
This coach does not belong to you alone. مگر اس کے باوجود لڑکیوں کا شور ختم نہیں ہوا۔
میں نے مغربی ملکوں میں بار بار سفر کیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ وہاں کے لڑکے اور لڑکیاں بہت دھیمی آواز میں بولتے ہیں۔ ان لوگوں کو میں نے کبھی شور کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ فرق کا سبب یہ ہے کہ وہ لوگ آزادی کے ساتھ اپنی سماجی ذمہ داریوں کو بھی جانتے ہیں جب کہ ہمارے نوجوانوں کا حال یہ ہے کہ انھیں اپنی آزادی کی خبر تو ضرورت سے زیادہ ہے مگر اپنی سماجی ذمہ داریوں کی خبر انھیں بقدر ضرورت بھی نہیں۔
تاہم ہمارے ساتھی ڈاکٹر ایس کے ڈے (ڈائرکٹر گاندھی میں فاؤنڈیشن) کا رول ابھی باقی وہ ظرافت کے انداز میں بات کرنے کے ماہر ہیں۔ ایک بار ہماری مجلس تھی۔ جو دیر تک قائم ڈاکٹر ڈے نے اپنی شگفتہ باتوں سے لوگوں کو احساس نہیں ہونے دیا کہ ان پر دو گھنٹہ کا وقت گزر چکا ہے۔ جب میں مجلس سے اٹھنے لگا تو ایک صاحب نے کہا کہ شاید آپ بور ہو گئے۔
Where there is Dr. Day, there is no question of boredom. چنانچہ ڈاکٹر ڈے نے اپنی ظرافت کی تدبیر سے ٹرین میں لڑکیوں کے شور کے مسئلہ کو وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کر لڑکیوں کے پاس گئے اور نرمی کے ساتھ ان سے کہا: اس سے اچھا تو یہ تھا کہ آپ نے ہمیں ایک گانا سنایا ہو تا۔ ڈاکٹر ڈے کا یہ جملہ سن کر لڑکیاں شرمندہ ہو گئیں اور
اس کے بعد ان کا شور کرنا بند ہو گیا۔
ہمارے قافلہ میں ایک سینئر پروفیسر تھے جن کا نام ڈاکٹر ایم ایچ سمانی تھا۔ ان کا سبجیکٹ بدھزم رہا ہے۔ انھوں نے اس پر ریسرچ کی ہے۔ وہ پالی اور سنسکرت زبان بھی جانتے ہیں۔ سے میں نے پوچھا کہ کیا گوتم بدھ کی تعلیمات اور چینل زبان میں موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب بدھزم کا جو لٹریچر ہمارے پاس موجود ہے وہ پالی اور سنسکرت میں ہے جو کہ سب کا سب ترجمہ ہے۔ میں نے پوچھا کہ گوتم بدھ کے اپنے بولے ہوئے الفاظ کا کوئی ریکارڈ کیا آج بھی پایا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ کچھ مثالیں دی جاتی ہیں مگر وہ تاریخی طور پر مستند نہیں ہیں۔ اس قسم کا سوال اگر پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں پوچھا جائے تو کوئی بھی مسلمان یہ کہے گا کہ ہاں، آپ کی تعلیمات آج بھی اسی ابتدائی زبان میں موجود ہیں۔ آپ کے بولے ہوئے الفاظ آج بھی وہی کے وہی حدیث کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔ کتنا زیادہ فرق ہے اسلام میں اور دوسرے مذہبوں میں۔
راستہ میں ایک عیسائی پروفیسر ڈاکٹر پی کے جان سے گفتگو ہوئی وہ دہلی میں رہتے ہیں اور مسوری کے سیمنار میں شرکت کے لئے جا رہے تھے۔ وہ کرسچین تھیالوجی پڑھاتے ہیں۔ مسیحی عقائد پر دیر تک باتیں ہوئیں۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ہم مسیح کو پرافت اور سن آف گاڈ دونوں مانتے ہیں۔ میں نے کہا کہ کیا سن آف گاڈ اسی سنس میں جس کہ ہر آدمی اپنے باپ کا بیٹا ہو تا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ میں نے کہا کہ پھر مسیح کا تو ایک فزیکل وجود آپ کے عقیدہ کے مطابق ان کو پھانسی بھی دی جا سکتی تھی۔ پھر کیا خدا بھی اسی طرح فزیکل جس پر موت و حیات کے قوانین وارد ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں ۔ غیر فزیکل وجود ہے۔ میں نے کہا کہ بیٹا تو ہمیشہ اپنے باپ کا جزء ہوتا ہے۔ پھر ایسا کیوں کر ممکن ہے کہ خدا تو غیر فزیکل وجود ہو اور اس کا بیٹا فزیکل وجود کی شکل میں ظاہر ہو۔ اس کا وہ کوئی واضح جواب نہ دے سکے۔
اسی طرح میں نے پوچھا کہ تثلیث (Trinity) کا عقیدہ جو موجودہ مسیحیت کا بنیادی عقیدہ ہے وہ انجیل مقدس میں کہاں ہے۔ لمبی گفتگو کے بعد انھوں نے اقرار کیا کہ تثلیث کا عقیدہ اپنی موجودہ شکل میں دوسری صدی عیسوی میں وجود میں آیا۔
ڈاکٹر ڈے بھی اس سفر میں چل رہے ہیں۔ وہ ایک معمر آدمی ہیں۔ اور تقسیم سے پہلے کی ہندوستانی سیاست سے کافی واقف ہیں۔ ایک گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ مسٹر محمد علی جناح کو میں قریب سے جانتا ہوں ۔ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ ایک پکے سیکولر آدمی تھے۔ میں نے کہا کہ پھر کیسے وہ مسلمانوں کے سب سے بڑے لیڈر بن گئے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں میں کوئی دوسرا آدمی تھا ہی نہیں۔ میں نے مولانا ابو الکلام آزاد کا نام لیا۔ انھوں نے کہا کہ میں مولانا آزاد کو بھی قریب سے جانتا ہوں۔ ان کا کیس لینگوئج بیریئر (Language barrier) کا ان کی کمی یہ تھی کہ وہ جناح صاحب کی طرح انگریزی نہیں بول سکتے تھے۔ میں نے سوچا کہ مولانا آزاد نہایت ذہین تھے۔ ان کا حافظہ بھی بہت اچھا تھا۔ وہ بہت آسانی سے انگریزی بولنے کی مشق پیدا کر سکتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ ان کے جیسے آدمی کے لئے ایک سال سے بھی کم محنت کافی تھی۔ انھوں نے تقسیم کے بعد جامع مسجد دلی میں جو تقریر کی تھی اس میں انھوں نے مسلمانوں سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے چلنا چاہا مگر تم نے مجھے چلنے نہیں لیکن صحیح بات یہ ہے کہ شکایت ان کو اپنے آپ سے کرنی چاہئے تھی۔ اگر وہ محنت کر کے جناح اور نہرو کی طرح انگریزی اسپیکر بن جاتے تو مجھے یقین ہے کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کے بلا شرکت غیرے لیڈر بن جاتے۔ اس کے بعد دوسری قیادتیں اپنے آپ چھوٹی ہو جاتیں۔
دہہرہ دون ریلوے اسٹیشن سے روانگی ہوئی تو تھوڑی دور آگے بڑھ کر پہاڑ کی چڑھائی شروع ہو گئی۔ ہماری گاڑی گھومتی ہوئی سڑکوں پر چڑھتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔ طے کرنے کے لئے اس قسم کی چکر دار سڑکیں بنانے کا کام انگریزوں نے کیا۔ اس طرح انھوں نے میدانی لوگوں کے لئے پہاڑ پر چڑھنا آسان بنا دیا۔ انہیں سڑکوں کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ
پہاڑی علاقے (hill stations) پر آبادیاں قائم ہوں اور قدرت کے اس نادر مقام کو شہروں کی تعمیر کے لئے استعمال کیا جاسکے جس کو پہاڑی مقام (hill station) کہا جاتا ہے۔ یہ پہاڑی سفر ایک ایسے ماحول میں ہو رہا تھا جہاں اوپر پھیلا ہوا آسمان تھا اور نیچے چاروں طرف پھیلی ہوئی سر سبز کائنات۔ فطرت کا یہ حسن شاید اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ آدمی آخرت کے جنتی حسن کا تصور کر سکے اور اس کا طالب بنے۔
دہرہ دون ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہو کر ہمارا قافلہ بذریعہ کار لال بہادر شاستری نیشنل ایڈ منسٹریٹو اکیڈمی پہنچا۔ یہاں ہم لوگ جب پہنچے تو مسٹر سنجیو چوپڑا (IAS) ہم لوگوں کو ریسیو کرنے کے لئے موجود تھے۔ ڈاکٹر ڈے نے ان کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ انھوں نے یہاں کے سیمنار میں آپ کی شرکت پر بہت اصرار کیا تھا۔ یہ آپ کو پڑھتے رہتے ہیں اور آپ کے بہت ایڈ مائُر (admirer) ہیں۔ اس کے بعد ڈاکٹر ڈے نے ہنستے ہوئے کہا: