Al-Risala · February 1999

خدا کائنات کا نور

Al-Risala, February 1999, pp. 9–13

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے (النور ۳۵) یعنی اس پوری کائنات میں جہاں بھی کوئی روشنی ہے وہ خدا کی ذات سے ہے۔ خدا اگر روشنی نہ دے تو کہیں اور سے کسی کو بھی روشنی ملنے والی نہیں۔

سورج اگر نہ ہو تو زمین پر ہر طرف اندھیرا چھا جائے۔ اسی طرح اگر ستارے نہ ہوں تو ساری کا ئنات گہری تاریکی میں ڈوب جائے۔ خدا نے ساری کائنات میں بے شمار تعداد میں انتہائی روشن قسم کے متحرک اجسام پھیلا دئے ہیں جو کائنات کے ہر حصہ کو مسلسل طور پر روشنی کا تحفہ دے رہے ہیں۔ اگر یہ کائناتی انتظام نہ ہو تو دنیا اپنی ساری وسعتوں کے باوجود تاریکی کا ایک بھیانک غار بن جائے گی۔

یہ مادی روشنی کا معاملہ ہے۔ یہی معاملہ فکری اور روحانی روشنی کا ہے۔ اس دنیا میں بسنے والے ہر انسان کو ضرورت ہے کہ اس کے ذہن کو وہ رہنمائی ملے جس کی روشنی میں وہ صحیح طور پر

سوچے اور اس کو وہ روحانی خوراک ملے جو اس کے سینہ میں حکمت حیات کا باغ اگادے۔ اور روحانی روشنی کا سر چشمہ بھی صرف اور صرف خداوند ذوالجلال ہے۔ یہ روحانی روشنی بھی ایک خدا کے سوا کہیں اور سے انسان کو ملنے والی نہیں۔

آدمی جب خدائے واحد پر سچا یقین کرتا ہے تو نفسیاتی سطح پر خدا سے اس کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد روحانی تاروں پر اس کی پوری ہستی جگمگا اٹھتی ہے۔ وہ اپنی یادوں میں خدا کو پانے لگتا ہے۔ وہ اپنے آنسوؤں میں خدا کی جھلک دیکھنے لگتا ہے۔ اس کی سوچ اور جذبات میں خدا اس طرح بس جاتا ہے جیسے کہ وہ خدا کے پڑوس میں پہنچ گیا ہو، جیسے کہ وہ خدا کے رحمت بھرے سایہ میں زندگی گزارنے لگا ہو۔

قرآن میں شرک کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے (لقمان ۱۳) ظلم کا مطلب ہے کسی چیز کو غیر جگہ پر رکھ دینا (وضع الشي فی غیر موضعہ) یعنی شرک (خدا کے ساتھ کسی اور کو شریک کرنا) اس کائنات میں سراسر اجنبی ہے۔ اس دنیا میں شرک کا عقیدہ رکھنے یا مشرکانہ فعل کرنے کے لئے کائنات میں کوئی جگہ نہیں۔

اس دنیا کا خالق ایک ہی خدا ہے۔ وہی اس کا مالک ہے۔ وہی اس کو سنبھالنے والا ہے۔ کے پاس ہر قسم کے اختیارات ہیں۔ ایسی حالت میں جو شخص خدا کے سوا کسی اور کو خدا مانے یا کسی اور کو خدا کی خدائی میں شریک کرنے اس نے ایک خود ساختہ مفروضہ کو واقعی حقیقت کا درجہ دیا۔ اس نے ایک ایسی چیز کو موجود فرض کیا جس کا اس دنیا میں سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔ مشرکانہ طرز فکر تمام برائیوں میں سب سے بڑی برائی ہے۔ جس آدمی کا ذہن مشرکانہ طرز پر سوچے، جس آدمی کے دل میں مشرکانہ خیالات پرورش پائیں، وہ ایک بے حقیقت چیز کو اختیار کرتا ہے۔ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کی تردید کرتی ہے۔ شرک کا عقیدہ یا نظریہ آدمی کو فکری غذا دینے والا نہیں۔ وہ اس کو اس روحانی روشنی

سے منور کرنے والا نہیں جس کے بغیر آدمی کا پورا وجود ہی اس دنیا میں بے معنی ہو جاتا ہے۔ توحید اور شرک کا فرق توحید کا مطلب خالق کو پالینا ہے اور شرک کا مطلب یہ ہے کہ آدمی مخلوقات میں اٹک کر رہ جائے۔ توحید حقیقت کی سطح پر جینے کا نام ہے اور شرک کا مطلب توہمات کی سطح پر جینے کا ۔ توحید اپنی فطرت کی دریافت کا نتیجہ ہے اور شرک اپنی فطرت سے بے خبری کا نتیجہ۔ توحید ہی اس دنیا کے مطلوب انسان کی حیثیت رکھتے ہیں کیوں کہ یہی لوگ جو خالق کی منشا کے

دنیا کے بنانے والے نے اس کو جس منصوبے کے تحت بنایا ہے اہل توحید اس منصوبہ الہی کی تکمیل کر رہے ہیں۔ وہ اسی نقشہ پر ہیں جس نقشہ پر انسان کو ہونا چاہئے۔ اہل توحید خدا کے مطلوب انسان ہیں۔ وہ دنیا میں دنیا کے مالک کی مرضی کو پورا کر رہے ہیں۔ شرک اور اہل شرک کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ شرک خدا کی دنیا میں ایک اجنبی تصور ہے۔ اہل توحید اگر اس دنیا میں مطلوب لوگ (wanted people) ہیں تو اہل شرک اس کے برعکس غیر مطلوب لوگ (unwanted people)۔ شرک کے عقیدہ کو اس دنیا میں اس کے مالک کی سند حاصل نہیں۔ شرک کی روش اس دنیا میں ایک ایسی روش ہے جس کی اجازت دنیا کے مالک نے دنیا میں بسنے والوں کو نہیں دی۔

گول خانہ میں کوئی چو کور چیز رکھی جائے تو وہ اس کے اندر فٹ نہیں بیٹھے گی۔ گول خانہ میں گول چیز بالکل فٹ بیٹھ جاتی ہے۔ یہی معاملہ توحید اور شرک کا ہے۔ فطرت کے اعتبار سے صرف توحید کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اس لئے توحید کا تصور یا موحدانہ زندگی اس کی فطرت کے عین مطابق ہے جب کہ شرک کا عقیدہ یا مشرکانہ زندگی انسانی فطرت کے مطابق نہیں۔

مشرک انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ غیر خدائی چیزیں اس کی توہجات کا مرکز بنی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس لئے پیش آنے والے مختلف حالات میں اس کا رویہ بھی انھیں غیر خدائی ہستیوں کی نسبت سے متعین ہوتا ہے۔ وہ اپنی کامیابی میں بھی انھیں کی طرف دوڑتا ہے اور ناکامی میں بھی وہ انھیں کی پناہ تلاش کرنا چاہتا ہے۔

اس کی مفروضہ غیر خدائی ہستیاں ہی ہر صورت حال میں اس کے دل و دماغ پر چھائی موحد انسان اگر اپنے تجربات سے توحید کی غذا پا تا رہتا ہے تو مشرک انسان کے لئے اس کے تجربات مشرکانہ غذا کے حصول کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

آدمی ہر لمحہ کچھ حالات کے درمیان جیتا ہے۔ خوشی کے حالات یا غم کے حالات، تکلیف کے حالات یا آرام کے حالات، کامیابی کے حالات یا ناکامی کے حالات، اختیار واقتدار کے حالات یا بے اختیاری کے حالات، غلبہ کے حالات یا مغلوبیت کے حالات، موافق حالات یا غیر ان مختلف حالات میں ایک رویہ (response) موحدانہ رویہ ہے اور دوسرا رویہ مشرکانہ رویہ۔

موحد انسان خدا کی عظمت میں جی رہا ہوتا ہے اس لئے اس کی زندگی میں پیش آنے والا ہر واقعہ اس کو خدا کی یاد دلاتا رہتا ہے۔ اس کا رویہ ہر موقع پر وہی ہوتا ہے جو اس کے عقیدہ توحید کے مطابق ہو۔ وہ ہر صورت حال میں ایک سچا خدا پرست انسان ثابت ہوتا ہے۔ وہ زندگی کے اتار چڑھاؤ میں اپنے اعتدال کو نہیں کھوتا۔ وہ خواہ جس حال میں ہو، ہمیشہ اپنے خدا سے وابستہ رہتا خدا اس کی تمام تو جہات کا مرکز بن جاتا ہے، وہ کسی بھی حال میں اس سے نہیں ہٹتا۔ توحید خدا کی نظر میں سب سے زیادہ با قیمت چیز ہے اور شرک خدا کی نظر میں سب سے زیادہ بے قیمت چیز ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس معاملہ کا تعلق اس انتہائی مخصوص چیز سے ہے جو انسان کا سب سے زیادہ قیمتی اثاثہ ہے۔ اور وہ ہے کسی سے گہرا قلبی تعلق ۔ یہ انسان کی سب سے

زیادہ اعلیٰ متاع ہے۔ اسی گہرے قلبی تعلق کا صرف ایک خدا سے وابستہ ہو جانے کا نام توحید ہے۔ اگر یہ گہری وابستگی خدا کے سوا کسی اور سے ہو تو اسی کا نام شرک ہے۔ اس گہرے قلبی تعلق کا اظہار دو قسم کے جذبات کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور دوسرے خوف۔ قرآن میں موحد انسان کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ اس کو سب سے زیادہ محبت صرف ایک خدا سے ہوتی ہے (البقرہ ۱۶۵) اور سب سے زیادہ خوف بھی صرف ایک خدا سے

یہ حب شدید اور خوف شدید صرف اس ہستی کا حق ہے جس نے انسان کو پیدا کیا ہے، جو اس کا مالک اور رب ہے۔ جو آدمی یہ مخصوص تعلق کسی اور سے قائم کرے تو اس نے شرک کیا۔ اس نے وہ چیز کسی اور کو دے دی جو صرف ایک خدا کا حصہ تھی۔

آدمی کو جس چیز سے یہ گہرا قلبی تعلق ہو جائے وہ ہر لمحہ اس کے بارہ میں سوچتا ہے۔ اس کے جذبات میں وہی ہر وقت سمایا ہوا ہوتا ہے۔ وہ اسی کو پانے سے خوش ہوتا ہے، اس سے محرومی کا اندیشہ اس کو تڑپا دیتا ہے۔ اس کے دل میں شوق کا طوفان اٹھتا ہے تو اسی کے لئے اٹھتا اس کو چھننے کا خوف ہوتا ہے تو اسی سے۔ وہ پانے کی امید رکھتا ہے تو اسی سے۔ اس کی آنکھیں روتی ہیں تو اسی کو یاد کر کے روتی ہیں۔ اس کی سوچ پر غلبہ رہتا ہے تو صرف اسی ایک کا غلبہ رہتا اس کا وجود کسی کے آگے ڈھ پڑتا ہے تو وہ صرف یہی ایک اعلیٰ اور برتر ذات ہوتی ہے۔ اسی لطیف انسانی جذبہ کو عبودیت کہا جاتا ہے۔ اس جذبہ عبودیت میں خدا کسی کی شرکت کو گوارا نہیں کرتا۔ اس جذبہ عبودیت کا مستحق صرف ایک خدائے عظیم ہے، اس کے سوا کوئی نہیں جو ادنیٰ درجہ میں بھی اس کا مستحق ہو۔

Printed page