Al-Risala · December 1999

ہے ہوا میں شراب کی تاثیر بادہ نوشی ہے باد پیمائی

Al-Risala, December 1999, pp. 26–40

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۵ جولائی کی سہ پہر کو میں مسوری پہنچا تھا۔ دن میں یہاں کے مختلف مقامات دیکھتا رہا اور مختلف لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ رات کو اپنے کمرے میں سویا تو اچھی نیند آگئی۔ پچھلے پہر خواب میں دیکھا کہ میں کسی شخص (غالباً مولانا محمد فاروق خاں صاحب) سے کہہ رہا ہوں کہ ہم لوگ تین زبان میں الرسالہ نکال رہے تھے۔ اردو، ہندی اور انگریزی۔ اس سے پہلے میں اردو کو پرائمری اہمیت دیتا تھا۔ اور انگش کو صرف سیکنڈری درجہ دئے ہوئے تھا۔ مگر اب میں نے

یہ طے کیا ہے کہ انگلش کو پرائمری اہمیت دی جائے۔ اور اردو اور ہندی کو سیکنڈری درجے میں رکھا

یہ خواب بظاہر ایک اہم خواب معلوم ہوتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں انگریزی زبان نے غیر معمولی اہمیت حاصل کرلی ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ تاریخ میں پہلی بار صحیح معنوں میں ایک عالمی زبان وجود میں آئی ہے اور وہ انگریزی ہے۔ انگریزی کو عالمی زبان کی حیثیت دینے کا کام پہلی بار برٹش ایمپائر نے کیا جس کا رقبہ اتنا بڑا تھا کہ اس میں سورج نہیں ڈوبتا تھا۔ اس کے بعد امریکہ نے انگریزی کو بہت زیادہ وسعت دی۔ آزادی کے بعد جب امریکی اسمبلی میں یہ سوال آیا کہ ملک کی قومی زبان کیا ہو تو صرف ایک ووٹ سے اپنی زبان کے مقابلہ میں انگریزی کو امریکہ کی قومی زبان کا درجہ حاصل ہوا۔

مسوری کا نام میں نے شاید پہلی بار سب سے پہلے ۱۹۲۸ کے آخر میں سنا جب کہ میرے خاندان کے ایک بزرگ مولانا اقبال احمد سہیل مرحوم مسوری گئے اور وہاں کے مناظر کو دیکھ کر اس پر ایک نظم لکھی۔ یہ نظم ۳۰ سے زیادہ اشعار پر مشتمل تھی۔ اس کے پہلے حصہ میں کوہ مسوری کے فطری حسن کا ذکر تھا۔ اس کے بعد اس کے دوسرے حصہ میں کچھ سبق آموز باتیں کہی گئی اس نظم کا خاتمہ اس شعر پر ہوا تھا:

خیز و گلزار وطن را آب و رنگ از سر بَدِه ایں خرابَاتِ کہن را رونقِ دیگر بده اسی کے ساتھ اس میں توحید کا پیغام بھی ان الفاظ میں دیا گیا تھا: دہر کو معمور کر دے نغمۂ توحید سے چھھیڑ دے ناخن سے پھر تار رباب زندگی مولانا اقبال احمد سہیل جب ۱۹۲۸ میں مسوری آئے تو انھوں نے اپنی نظم (کوہ مسوری) میں جن تاثرات کا تذکرہ کیا تھا ان میں سے ایک تاثر یہ تھا:

اے مسوری تیرے صدقے تو نے دکھلایا ہمیں کس طرح ہیں اہل مغرب کامیاب زندگی

نظم میں یہ شعر تو موجود تھا مگر اس میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ مسوری میں وہ کون سی مثالیں ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ اہل مغرب نے کس طرح کامیاب زندگی حاصل کی ہے۔ یہی شعر کی یہ ایک محدود اسلوب کلام کا نام ہے۔

شعر میں کسی کو نغمہ تو مل سکتا ہے مگر شعر میں رہنمائی نہیں مل سکتی۔ رہنمائی کا کام صرف نثر کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ شاعری کا آخری فائدہ ذہنی تفریح ہے نہ کہ فکری رہنمائی۔ مسوری میں ادھر ادھر سفر کرتے ہوئے میں نے وہاں جو مناظر دیکھے اس سے میں نے یہ سمجھا کہ مسوری کس طرح اہل مغرب کی کامیاب زندگی کی داستان بیان کرتا ہے۔ سڑکیں بتاتی ہیں کہ دشوار گزار مقامات پر معمول کا سفر طے کرنا کس طرح ممکن ہوتا ہے۔ سمندر سے ۶ ہزار فٹ کی بلندی پر شہر بسا کر انہوں نے بتایا کہ سخت گرمی کے موسم میں بھی کس طرح ٹھنڈی رہائش گاہیں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ کمیونی کیشن کے ذرائع دریافت کرکے انھوں نے یہ دکھایا کہ کس طرح دور دراز مقامات سے قریبی تعلقات قائم کئے جاسکتے ہیں۔ میں اونچے نیچے مقامات پر گھر بنانے کے لئے پہلے اس کو ہموار کیا جاتا تھا۔ اہل مغرب نے اونچے نیچے مقامات کو اسی طرح استعمال کرتے ہوئے ایک نیا اور دلکش طرز تعمیر ایجاد کیا جس کی ایک کامیاب مثال نیشنل ایڈمنسٹریٹیو اکیڈمی کی عمارتیں ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ مسوری ایک پہاڑی مقام ہے جو یوپی کے ضلع دہرہ دون میں واقع ہے۔ مسوری کو عوامی زبان میں منسوری کہا جاتا ہے۔ یہاں پہلے اس نام کا ایک معمولی گاؤں تھا۔ اس کے بعد برٹش دور میں ایک انگریز کیپٹن ینگ (Captain Young) نے اس کی اہمیت کو محسوس کیا اور ۱۸۲۶ میں اس نے پہلی بار یہاں برٹش آبادی قائم کی۔ اس کے بعد سے اس کا نام مسوری ہو گیا۔ اس کے بعد وہاں ترقیاتی کام شروع ہوئے۔ سڑکیں بنائی گئیں۔ اسکول اور لائبریری اور کلب بنائے گئے۔ یہاں پہلا انگلکن چرچ ۱۸۳۷ میں تعمیر کیا گیا۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے چھ ہزار فٹ کی بلندی پر ایک پورا شہر قائم ہو گیا۔

مسوری کو نہایت خوبصورت مقام سمجھا جاتا ہے لیکن اگر آپ مسوری شہر میں داخل ہو کر اس کی سڑکوں پر چل رہے ہوں تو وہ عام شہروں جیسا ایک شہر دکھائی دے گا۔ انگریزوں کے آنے سے پہلے بھی یہ پہاڑی مقامات (hill stations) موجود تھے مگر ان کو develop کرنے کا کام انگریزوں نے کیا۔ عام لوگ غالباً یہ سوچتے ہوں گے کہ سڑک تو صرف سیدھی بنائی جاسکتی ہے اور چونکہ پہاڑ پر سیدھی سڑک نہیں بنائی جاسکتی اس لئے اس کو استعمال کرنے کا خیال بھی ان کے دماغ میں نہ آیا۔ انگریزوں نے ہندوستان میں غالباً پہلی بار پہاڑوں پر چڑھنے کے لئے چکر دار سڑک بنانے کا رواج شروع کیا جو سلوپ (slope) کو کاٹ کر اور ہموار کر کے بنائی جاتی ہے۔ اس طرح انگریز چکر دار سڑکیں بنا کر پہاڑ کے اوپر پہنچے اور اس کے اوپر ایک خوبصورت شہر آباد کر دیا اور پرکشش تفریح گاہیں بنائیں۔

مسوری اور اس کے آس پاس کا پہاڑی علاقہ ۱۹ ویں صدی کے آغاز تک نیپال کا ایک مضافاتی حصہ تھا۔ اس کے بعد برٹش فوجیں ۱۸۰۱ میں گورکھپور تک پہنچ گئیں۔ برٹش فوجوں نے جب مزید آگے بڑھنا چاہا تو ان کی جھڑپیں نیپال کے گورکھا قبائل سے شروع ہو گئیں۔ دیر تک قائم رہا۔ ۱۸۱۶ میں انگریزی فوجوں نے مکوان کے مقام پر نیپالی فوجوں کو آخری شکست اس کے بعد انگریزوں اور نیپالی حکومت کے درمیان ایک ایگریمنٹ کے تحت اس پورے علاقہ پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا جس میں مسوری بھی شامل تھا۔

مسوری اور اس کے آس پاس کے پہاڑی علاقوں کی اہمیت ہل اسٹیشن کے علاوہ انگریزوں کے لئے یہ تھی کہ وہ اس کے ذریعہ سنٹرل ایشیا سے اپنے تعلقات کو قائم کر سکتے تھے : They obtained greater facilities for communications with the regions of central Asia. اگر بہادری کے اعتبار سے تقابل کیا جائے تو گورکھا قبائل انگریزوں سے زیادہ بہادر تھے، مگر دونوں میں یہ فرق تھا کہ گورکھا لوگ صرف روایتی ہتھیاروں اور روایتی طریقوں سے جب کہ انگریزی فوج جدید ٹکنالوجی اور بہتر فوجی پلاننگ کی مالک ہو چکی تھی۔

بہادرانہ ٹکراؤ کے باوجود گورکھا فوج کو انگریزوں کے مقابلہ میں شکست ہوئی۔ تا ہم اس کامیابی کے بعد انگریزوں نے گورکھا کو دشمن کے روپ میں دیکھنے سے زیادہ ان کو ان کی غیر معمولی جنگی صلاحیت کے اعتبار سے دیکھا۔ چنانچہ بعد کو انھوں نے گورکھا قبائل سے تعلقات بڑھا کر ان کو اپنی فوج میں شامل کر لیا۔ گور کھار جمنٹ آخر وقت تک انگریز فوج کا اہم حصہ بنی رہی۔ ایک بنگالی پروفیسر سے ملاقات ہوئی۔ وہ رابندر ناتھ ٹیگور کو قریب سے جانتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ٹیگور شانتی نکیتن میں روز آنہ صبح کو سورج کے سامنے بیٹھا کرتے تھے۔ وقت ان کے لئے جوس کا ایک گلاس لایا جاتا تھا جس کو وہ روز آنہ پیتے تھے۔ اس وقت اکثر اسٹوڈنٹس وغیرہ ان کے پاس جمع ہو جاتے تھے۔ ان لوگوں کو تعجب ہوتا تھا کہ ٹیگور تنہا جوس پی لیتے ہیں ہم لوگوں کو کبھی آفر نہیں کرتے۔

ایک روز ایک طالب علم نے یہ بات ٹیگور سے کہہ دی کہ نہ آپ اکیلے جوس پی لیتے ہیں اور ہم لوگوں کو کبھی آفر نہیں کرتے۔ ٹیگور نے ایک چمچہ جوس گلاس سے نکالا اور طالب علم سے کہا کہ اس کو چکھو۔ طالب علم نے جب اس کو منہ میں ڈالا تو وہ اتنا کڑوا تھا کہ وہ اس کو پی نہ سکا۔ ہوا کہ یہ کوئی پھل کا جوس نہیں ہوتا بلکہ کریلے کا جوس ہوتا ہے۔ اس کے بعد لوگ مطمئن

کریلا بعض سخت امراض کے لئے بے حد مفید ہے۔ اگر کوئی شخص کچا کریلا روز آنہ کھائے تو اس کو ذیا بیٹس وغیرہ جیسی بیماریاں نہیں ہوں گی۔ حال میں امریکہ کی بعض کمپنیوں نے اسی لئے کریلا اور جامن جیسی کچھ مفید چیزوں کو اپنے لئے پیٹنٹ کر لیا ہے۔

یہاں کی اکیڈمی میں ایک بہت عمدہ لائبریری ہے۔ جس میں نہ صرف اردو زبان کی کافی کتابیں موجود ہیں بلکہ اسلام پر اتنا زیادہ لٹریچر موجود ہے کہ آدمی ان کا مطالعہ کرنے کے اسلام کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ یہاں پر سکون ماحول میں بیٹھ کر کتابوں کا مطالعہ کرنے کا مکمل ماحول ہے۔ مزید یہ معلوم ہوا کہ کتابوں کا یہ وسیع ذخیرہ دہہرہ دون کے ایک ہندو

مسٹر پٹی کے جین نے اپنے ذاتی کتب خانہ کے لئے جمع کیا تھا۔ انھوں نے اپنی آخری عمر میں اس پورے ذخیرہ کو اکیڈمی کی لائبریری کو بطور عطیہ دے دیا۔

اس لائبریری کو دیکھتے ہوئے خیال آیا کہ کیسا عجیب زمانہ تھا جب اس ملک میں اردو، فارسی، عربی کا اتنا زیادہ رواج تھا کہ غیر مسلم حضرات بھی ان زبانوں کو سیکھتے تھے اور ان زبانوں میں جو لٹریچر ہے ان کا مطالعہ کرتے تھے۔ اس طرح اسلام کے عمومی تعارف کا کام کسی براہ راست دعوتی مہم کے بغیر اپنے آپ جاری تھا۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کی وہ قومی تحریکیں بلاشبہہ جرم کی حیثیت رکھتی ہیں جنھوں نے اس فضا کو برہم کر کے اس کی جگہ نفرت اور تشدد کا ماحول قائم کر دیا۔ ایک روز ہم لوگوں کی غیر رسمی میٹنگ تھی۔ اس میں اکیڈمی کے ڈپٹی ڈائرکٹر کی تین سالہ بچی اپنے بھائی کے ساتھ آگئی۔ اس کا نام یونیکا تھا۔ لوگ اس کی باتوں میں دلچسپی لینے لگے۔ صاحب نے اپنی جیب سے دوثانی نکالی اور اس کو دیتے ہوئے کہا کہ ایک تمہارے لئے ہے اور ایک تمہارے بھائی کے لئے۔ یونیکاثانی لے کر خوش خوش اپنے بھائی کے پاس گئی اور پھر یہ کہتے ہوئے دونوں ثانی خود لے لی کہ بھائی کا دانت خراب ہو جائے گا۔

میں نے سوچا کہ ذاتی انٹرسٹ کے معاملہ میں ہر آدمی کتنا زیادہ ہوشیار ہوتا ہے، حتیٰ کہ چند سال کا ایک چھوٹا بچہ بھی۔ ذاتی انٹرسٹ کا جذبہ بلاشبہہ انسان کے اندر سب سے زیادہ طاقتور اگر یہ جذبہ نہ ہو تو دنیا کی تمام سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ جائیں۔ تا ہم وہ ایک آزمائش آدمی اگر ذاتی معاملہ میں کچھ ہو اور دوسروں کے معاملہ میں کچھ اور بن جائے تو آخرت کی عدالت میں اس سے پوچھا جائے گا کہ جب اپنے انٹرسٹ کے معاملہ میں تم اتنا زیادہ ہوشیار تھے تو دوسروں کے انٹرسٹ کے معاملہ میں تم اتنا زیادہ نادان کیوں بن گئے۔

ذاتی انٹرسٹ کا طاقتور جذبہ آدمی کے لئے نہایت مفید چیز ہے مگر اسی کے ساتھ وہ امتحان کا ایک پرچہ بھی ہے۔

مسوری کے اس سیمینار میں پوری کارروائی انگریزی میں ہوئی۔ مجھے ۲۶ جولائی کی دوپہر

کو تقریر کرنے کا موقع ملا۔ سبجکٹ کے مطابق میں نے کنورژن اور اسلام کے موضوع پر خطاب میری تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ کنورژن کے دو مطلب ہیں۔ ایک ہے کسی دنیوی مقصد کے لئے مذہب بدلنا۔ اس قسم کا کنورژن اسلام میں پسندیدہ نہیں۔ ہجرت کے موقع پر ایک شخص نے مکہ سے مدینہ کی طرف اس لئے ہجرت کی کہ اس کو مدینہ کی ایک خاتون سے نکاح کرنا تھا۔ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے عورت سے نکاح کے لئے ہجرت کی تو اس کی ہجرت اسی کے لئے تھی جس کے لئے اس نے ہجرت کی۔

کنورژن کی دوسری قسم جس کو اسلام پسند کرتا ہے وہ سچائی کی دریافت کے ہم معنی ہے۔ جب آدمی اس لئے اپنا مذہب بدلے کہ اس نے اس مذہب میں سچائی کو دریافت کیا ہے تو ایسی حالت میں مذہب کو بدلنا عین فطری چیز ہے۔ اس قسم کا کنورژن سادہ طور پر کنورژن نہیں ہوتا بلکہ وہ انٹلکچول ٹرانسفارمیشن (intellectual transformation) یا ذہنی ارتقاء کے ہم معنی

اس کے بعد میں نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ اسلامی تعلیمات کا تعارف کرایا اور یہ بتایا کہ اسلام امن اور رحمت اور اخوت انسانی کا مذہب ہے۔ مسلمان اگر اس کے خلاف کریں تو اس کی ذمہ داری مسلمان پر ہوگی نہ کہ اسلام پر۔ آپ کو چاہئے کہ مسلمانوں کے عمل کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جانچیں ۔ آخر میں سوال و جواب کا وقفہ تھا۔ لوگوں نے اسلام کے بارے میں کئی سوالات اس کا میں نے جواب دیا۔ لوگوں کے تاثر سے معلوم ہوا کہ وہ ان جوابات پر مطمئن ہوئے۔ یہاں حاضرین سب کے سب ہندو نوجوان تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو IAS کے امتحان میں پاس ہوتے ہیں۔ اس اکیڈمی میں ان کو پروفیشنل ٹریننگ کے لئے مختصر مدت تک کے لئے بلایا

ایک سوال یہ تھا کہ اسلام میں کیوں ایسا مانا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام آخری پیغمبر ہیں۔ بعد کوئی دوسرا پیغمبر آنے والا نہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ صرف عقیدہ کی

بات نہیں بلکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ پیغمبرِ اسلام نے یہ اعلان کیا تھا کہ میں خدا کا آخری میرے بعد کوئی اور پیغمبر نہیں آئے گا۔ آپ کے یہ الفاظ آپ کے بعد تاریخ کا حصہ چنانچہ آپ کے بعد کوئی بھی شخص پیدا نہیں ہوا جو یہ دعویٰ کرے کہ میں خدا کا پیغمبر

آج ۲۵ جولائی ۱۹۹۹ تک آپ کا یہ قول ایک تاریخی حقیقت بنا ہوا ہے۔ آپ کو ایسا کہے ہوئے چودہ سو سال ہو گئے مگر ابھی تک دنیا میں کوئی بھی ایسا شخص پیدا نہیں ہوا جو یہ کہے کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ رام کرشنا پر ہنس نے کہا تھا کہ میں نے خدا کو دیکھا ہے۔ نے جواب دیا کہ میں خود بھی یہ کہتا ہوں کہ میں نے خدا کو دیکھا ہے۔ یہ قول مجازی معنوں میں مگر یہ کہنا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں بالکل دوسری بات ہے اور جب کسی نے ایسا دعویٰ نہیں کیا تو پیغمبرِ اسلام کا یہ اعلان اپنے آپ قائم ہے۔ اس کے لئے مزید کسی دلیل کی ضرورت

ایک صاحب نے کہا کہ مذہب سب پا کھنڈ ہوتے ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے کبیر داس کا ایک دوہا بنایا جس میں انھوں نے ہندو دھرم اور اسلام دونوں کے مذہبی رسوم کا مذاق اڑایا ہے۔ اسلام کے بارے میں انھوں نے یہ کہا ہے :

ککر پتھر جوڑ کر مسجد گئی چنائے تا چڑھے ملا بانگ دے کیا بہرا ہوا خدا ہے میں نے کہا کہ جہاں تک ہندو دھرم کا سوال ہے تو ہندو مذہب کے نمائند نے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں وہ اس کا جواب دیں گے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو کبیر کو اذان کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہے۔ انھوں نے اپنے دوہے میں جو کچھ کہا ہے اس کا سبب ان کی نا واقفیت ہے نہ کہ اذان

میں نے کہا کہ مسجد کا ملا (مؤذن) جو بانگ یا اذان دیتا ہے اس میں وہ خدا کو نہیں پکار تا۔ کو دعا میں پکارتے ہیں نہ کہ اذان میں۔ اذان میں مسجد کے آس پاس رہنے والے مسلمانوں کو پکارا چنانچہ اذان میں یہ الفاظ بھی ہوتے ہیں کہ: حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح۔ Come to the mosque for prayer. اس غلط فہمی کا سبب یہ ہے کہ جس پکار کا خطاب انسان سے تھا اس کو انھوں نے خدا کے ساتھ جوڑ دیا۔ اکثر غلط فہمیوں کا سبب یہی ہوتا ہے۔ لوگ کہیں کی بات کہیں جوڑ دیتے ہیں۔ کے نتیجہ میں ایسا ہوتا ہے کہ وہ ایک سیدھی بات کا عجیب و غریب طور پر الٹا مطلب نکال لیتے

ایک سوال یہ تھا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ اسلام کو مسلمانوں سے الگ کر کے دیکھو۔ کیوں کر ممکن ہے۔ ہم تو دونوں کو ایک ہی سمجھتے ہیں۔ میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا یہ اصول استثنائی طور پر صرف اسلام کے لئے نہیں ہو سکتا۔ پھر یہی اصول آپ کو ہر جگہ ماننا پڑے مثلاً ہندوستان کا ایک دستور ہے۔ اسی کے ساتھ ہندوستان میں ایک سماج آباد ہے جس کو ہندوستانی سماج کہا جاتا ہے۔ آپ ایسا نہیں کرتے کہ دستور اور سماج دونوں کو ایک سمجھ لیں۔ کے برعکس آپ دستور کو معیار کا درجہ دیتے ہیں۔ اور ہندوستانی سماج کو اسی معیار کی روشنی میں جانچتے ہیں۔ اگر آپ دونوں میں فرق نہ کریں تو یہ ہو گا کہ جو ہندوستانی سماج کے لوگ کریں گے وہی دستور اور قانون سمجھا جانے لگے گا۔ آپ ملکی دستور اور ملکی سماج کو الگ الگ کر کے دیکھتے یہی طریقہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بھی آپ کو اختیار کرنا چاہئے۔ ایک سوال یہ تھا کہ مسلمانوں کا ماننا یہ ہے کہ اسلام مذہب سب سے زیادہ سچا مذہب ہے۔ اس کے برعکس ہندوؤں کا ماننا یہ ہے کہ ہر مذہب میں سچائی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ ہندوؤں کے فارمولے کو اپنا لیں کیوں کہ اس کے بغیر مختلف مذاہب کے درمیان اتحاد قائم نہیں ہو سکتا۔ میں نے اپنے جواب میں کہا کہ مختلف مذاہب کا امتزاج (amalgamation) اتحاد کا فارمولا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف فطرت میں شامل ہے۔ اس لئے وہ کسی حال میں ختم نہیں ہو سکتا۔

وجہ ہے کہ ہر مذہب میں خود اس کے اندر طرح طرح کے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اگر بالفرض آپ تمام مذہبوں کو ملا کر ایک مذہب بنا دیں تب بھی اختلاف باقی رہے گا۔ اصل یہ ہے کہ مذہبی اتحاد کا صحیح فارمولا باہمی اعتراف (mutual recognition) نہیں ہے بلکہ اس کا صرف ایک فارمولا ہے اور وہ باہمی احترام (mutual respect) ہے۔ اسلام نے اسی باہمی احترام کے فارمولے پر زور دیا ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ آپ جس ڈھنگ سے اسلام کو پیش کرتے ہیں اس سے ہم کو اختلاف نہیں مگر دوسرے کئی لوگ اسی اسلام کو دوسرے ڈھنگ سے پیش کرتے ہیں پھر ہم کس کی بات کو سچا سمجھیں۔ میں نے کہا کہ آپ یہ نہ دیکھیں کہ میں نے کیا کہا اور دوسرے نے کیا کہا۔ بلکہ یہ دیکھئے کہ اسلام کی مقدس کتاب قرآن میں کیا کہا گیا ہے۔ آپ قرآن کا ایک نسخہ لیں اور اپنے ذہن کو خالی رکھ کر اس کو پڑھیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ آپ قرآن کے مسیح کو پالیں گے۔ میری تقریر کا خدا کے فضل سے بہت اچھا اثر ہوا۔ تمام لوگوں نے بہت غور سے سنا اور اس کا اعتراف کیا۔ میں نے اپنی تقریر میں اسلام کی کھلی وضاحت کی تھی۔ لیکن کسی نے بھی منفی رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔ بلکہ ہر ایک مطمئن نظر آیا۔ ادارہ کے ڈپٹی ڈائرکٹر سنجیو چوپڑانے کہا: ”آپ کی اسپیچ کے دوران پن ڈراپ سائلنس تھا۔ اس طرح کسی کو بھی نہیں سنا گیا“۔ کے تاثر کا دوسرے لوگوں نے بھی اظہار کیا۔ کئی لوگوں نے کہا کہ میں آپ کے اسلامک سنٹر میں آؤں گا۔ کئی لوگوں نے اسلام کے مطالعہ کی خواہش ظاہر کی اور قرآن کا ترجمہ طلب کیا۔ اس ادارہ کے موجودہ ڈائر کٹر مسٹر سنجیو چوپڑا ہیں۔ یہ ایک مرکزی ادارہ ہے جو IAS اور IPS میں پاس شدہ نوجوانوں اور افسران کی پروفیشنل ٹریننگ کے لئے 1959ء میں قائم کیا گیا تھا۔ کی عمارت نہایت خوبصورت انداز میں تعمیر کی گئی ہیں۔ اور چاروں طرف کے سرسبز ماحول نے اس کو اور بھی پر کشش بنا دیا ہے۔

خطاب کے وقت وسیع ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ یہ سب کے سب وہ لوگ تھے جو آئی

اے ایس کا امتحان پاس کر چکے ہیں اور اب جلد ہی کوئی بڑا انتظامی عہدہ سنبھالنے والے ہیں۔ میں ایسے لوگ بھی تھے جو عملاً کلکٹریا کمشنر کے عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔ اور یہاں وقتی طور پر بطور استاد بلائے گئے تھے۔ یہ میرے لئے ایک بڑا خو شگوار تجربہ تھا کہ مجھ کو ایسے ذمہ دار حضرات کے سامنے خطاب کرنے کا موقع ملا۔ پروگرام کے بعد ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے اسلام کی نسبت سے جو باتیں کہیں وہ بہت قیمتی تھیں کیوں کہ اس سے لوگوں کی غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں۔ اور اگر آپ اعلیٰ انتظامی عہدیداروں کی غلط فہمیاں دور کر دیں تو کتنے مسائل اپنے آپ حل ہو

یہ ”انٹر فیتھ ڈائیلاگ “ اکیڈمی کے وسیع ہال میں ہوا۔ سامعین تقریبا سب کے سب ہندو میری تقر ریر کے بعد کئی لوگوں نے کہا کہ آپ کی تقر ریر سن کر ہمارے اندر یہ جذ بہ ابھرا ہے کہ ہم اسلام کا مطالعہ اور یجنل سورس سے کریں۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو خاتون مادھوری سستم سوندھی نے واپسی کے بعد اپنے خط مورخہ ۱۲ اگست ۱۹۹۹ میں لکھا ہے کہ آپ کی تقریر سننے کے بعد میں نے قرآن کا مطالعہ شروع کر دیا ہے :

I have begun to read the Quran with some attention after listening to your speech. ۲۵ جولائی کی شام کو مسوری سے واپسی ہوئی، مسوری میں یہ بارش کا زمانہ تھا لیکن اللہ کے فضل سے پورے دوران قیام میں موسم بہت اچھا رہا۔ مسوری سے واپس ہو کر بذریعہ کار ہم لوگ دہرہ دون پہنچے۔ شام کا وقت ہونے کی وجہ سے چاروں طرف کہر پھیل گیا تھا جس نے قدرتی مناظر کو اپنے اندر ڈھک لیا تھا۔

لینن نے لکھا ہے کہ مذہبی اور اخلاقی تصورات ذہن کو کہر آلود کرنے (befogging of the mind) کا سبب بنتے ہیں۔ لینن کی بات مذہب کے بارے میں درست نہیں۔ بجائے خود یہ بات درست ہے کہ، خالص طور پر موجودہ زمانہ میں، غلط تعبیرات و تشریحات گہرے کہر کی طرح پھیل گئی ہیں کہ لوگ اس سے باہر آکر چیزوں کو ان کے اصل روپ میں دیکھ نہیں

مادی کہر قدرتی مناظر کو ڈھک لیتا ہے اور غلط افکار کا کہر معانی اور حقائق کو ۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ سفر کر کے ہم لوگ دہرہ دون ریلوے اسٹیشن پہنچے۔ یہاں کچھ دیر ویٹنگ روم میں قیام کیا۔ یہاں پروفیسر این اچ سمستانی سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ وہ ایک بدھسٹ ہیں اور انھوں نے بدھزم پر ریسرچ کی ہے۔ ریٹائر منٹ کے بعد اب وہ سنٹر فار مہا یانا بدھسٹ اسٹڈیز کے اعزازی ڈائر کٹر ہیں۔ ۷۵ سال کی عمر میں بھی ان کی صحت کافی اچھی ہے۔ اس کا راز انھوں نے یہ بتایا کہ وہ روز آنہ جنگل میں دیر تک ٹہلتے ہیں اور روزانہ صبح کو نیم کی پتی (پھنگی) کھاتے

ہندوستان میں کریلا اور نیم کی پتی وغیرہ بہت عرصہ سے صحت کے لئے مفید سمجھے جاتے اب امریکیوں نے اس راز کو دریافت کر لیا ہے۔ انھوں نے کریلا اور نیم جیسی کئی چیزوں کو پٹینٹ کر لیا ہے۔ بہت جلد ان چیزوں کا روایتی کڑوا پن ختم ہو جائے گا۔ ان کو پر اسس کر کے کیپسول میں بھر دیں گی اور پھر لوگ اس کو پانی کے ایک گھونٹ سے نگل لیا کریلا اور نیم کے فائدے کو جاننے کے باوجود ابھی تک بہت کم لوگ ان کو استعمال کر اب ان کا استعمال عمومی سطح پر ہونے لگا گا۔

۲۶ جولائی کی رات کو مسوری ایکسپریس کے ذریعہ دہلی کے لئے روانگی ہوئی۔ اس سفر میں کئی لوگ میرے ساتھ تھے۔ ڈاکٹر ڈسے مطالعہ کے اتنے شوقین ہیں کہ انھوں نے دہرہ دون کے پلیٹ فارم پر ۴۰۰ روپے میں دو کتابیں خریدیں۔ وہ ہر قسم کی کتابوں کا بکثرت مطالعہ کرتے ہیں۔ ان کی عمر اب ۷۵ سال ہو چکی ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے بہت کتابیں پڑھی ہیں۔ کے مختلف ملکوں کے سفر کئے ہیں۔ اپنی کوئی خاص ذہنی دریافت (intellectual finding) انھوں نے کچھ دیر سوچا اور اس کے بعد ٹیگور کا ایک شعر پڑھ دیا۔ میں نے کہا کہ میں ٹیگور کی دریافت نہیں آپ کی دریافت پوچھ رہا ہوں۔ مگر انھوں نے اپنی کوئی ذاتی دریافت نہیں بتائی۔ یہ سوال میں اکثر لوگوں سے کرتا ہوں۔ مگر مجھے بہت کم آدمی ایسے ملے جو اس سوال کا

کوئی واضح جواب دے سکیں ۔ احمد دیدات صاحب سے میری ملاقات مالدیپ میں ہوئی۔ میں نے یہی سوال کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ سب موشکانی (hairsplitting) ہے۔ تعجب ہوتا ہے کہ لوگ سیکڑوں کتابیں پڑھتے ہیں اور لمبی عمریں گزار دیتے ہیں مگر ان کے پاس یہ کہنے کے لئے نہیں ہوتا کہ فلاں بات میری اپنی دریافت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ فلاں بات پہلی بار میرے اوپر منکشف ہوئی۔

جاپانیوں سے یہ سوال کیا جائے تو اکثر ان سے اس سوال پر کوئی مثبت جواب ملے گا۔ جاپانیوں کے مزاج کا اندازہ جاپانی زبان کی اس کہاوت سے ہوتا ہے کہ ہر روز کوئی نئی بات سیکھو، خواہ وہ سوئی میں دھاگہ ڈالنے کا نیا طریقہ ہی کیوں نہ ہو۔

ٹرین دہرہ دون سے دہلی کے لئے روانہ ہوئی۔ ٹرین کے دونوں طرف دوبارہ سرسبز میدان موجود تھے مگر وہ ہمیں دکھائی نہیں دیتے تھے۔ اس لئے کہ رات کی وجہ سے چاروں طرف اندھیرا چھا چکا تھا۔ کسی چیز کو دیکھنے کے لئے صرف آنکھ کافی نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ روشنی بھی ضروری ہے۔ اگر روشنی نہ ہو تو آنکھ کے باوجود آدمی کچھ دیکھ نہ سکے گا۔ دہرہ دون اور دہلی کے درمیان سفر کرتے ہوئے ٹرین میں پروفیسر سمستانی سے تفصیلی باتیں ہوئیں ۔ وہ بنارس ہندو یونیورسٹی میں بدھزم کے استاد رہے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ گوتم بدھ نے کہا تھا کہ میرے بعد ایک اور بدھا آئے گا جو تم کو اور زیادہ جانکاری دے گا۔ نے کہا کہ ہمارے عقیدے کے مطابق وہ آچکا ہے اور وہ اسپریٹ کے روپ میں موجود ہے۔ یہ بات بہت عجیب لگی کیوں کہ پیشین گوئی کے مطابق دوسرے نے بدھا کو بھی جسم اور روح کا مجموعہ ہونا چاہئے نہ کہ صرف روح کا مجموعہ ۔

ایک موقع پر انھوں نے بدھزم پر ایک کتاب کی نشاندہی کی اور کہا کہ بدھزم کے مطالعہ کے لئے یہ کتاب بہت اچھی ہے۔ میں نے کہا کہ اس کتاب کا نام اور اس کے مصنف کا نام ایک کاغذ پر لکھ دیجئے ۔ انھوں نے اپنے بیگ سے قلم نکالنا چاہا تو وہ فورا انھیں نہیں ملا۔ کچھ دیر تلاش کرنے

کے بعد آخر کار قلم انہیں مل گیا۔ اس موقع پر ان کی زبان سے نکلا کہ قلم کا گم ہو جانا گویا ہر چیز کا گم ہو جاتا ہے۔

Printed page