Al-Risala · January 1999

با معنی زندگی

Al-Risala, January 1999, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

زندگی ہر ایک کو ملتی ہے۔ مگر کوئی بے معنی زندگی گزار کر مر جاتا ہے۔ شخص اپنی زندگی کو با معنی بنانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ دو انسانوں میں یہ فرق کیسے ہوتا یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام انسان فطرت سے یکساں صلاحیت لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ پھر وہ کیا چیز ہے جو ایک ہی قسم کے دو انسانوں میں اتنا بڑا فرق پیدا کر دیتی ہے۔ اس کا بنیادی سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے شعور کا استعمال یا عدم استعمال۔

ایک انسان وہ ہے جو اپنے شعور کو کام میں نہ لائے بلکہ دوسروں کے زیر اثر عمل بلکہ وہ حالات کا معمول بن کر زندگی گزارے۔ اس کے گرد و پیش کے احوال اس کو جیسا بننے کے لئے کہیں وہ ویسا ہی بنتا چلا جائے۔ دنیا اس کو جس سانچے میں ڈھالے، وہ اسی میں ڈھلتا چلا جائے، خواہ وہ سانچہ صحیح ہو یا غلط۔

یہ وہ انسان ہے جس کی زندگی معنویت سے خالی رہی۔ وہ ایک حیوان کی طرح جیا اور ایک حیوان کی طرح مر گیا۔ فطرت نے اس کو ایک با معنی وجود کے ساتھ دنیا میں بھیجا تھا، مگر جب وہ دنیا سے رخصت ہوا تو صرف ایک بے معنی وجود کی حیثیت رکھتا تھا۔ دوسرا انسان وہ ہے جس نے اپنے شعور کو زندہ رکھا۔ جس نے اپنے عقل کو استعمال اس نے آزادانہ غور و فکر کے تحت اپنے آپ کو بھی جانا اور دنیا کو بھی۔ اس نے صحیح اور غلط میں فرق کیا۔ اس نے اخلاق انسانی کے ابدی اصولوں کی پابندی کی۔ اس نے ایک با اصول اور ایک با کردار انسان کی زندگی گذاری۔ وہ اسی پر جیا اور اسی پر مرا۔ یہ دوسرے قسم کا انسان ہی حقیقی انسان ہے۔ اس کی زندگی بھی با معنی تھی اور اس کی موت بھی با معنی۔

Printed page