Al-Risala · December 1999

When pen is lost everything is lost

Al-Risala, December 1999, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

قلم بلاشبہ انسان کے لئے بے حد اہم ہے۔ اس لئے قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ علم اللہ نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا۔

ٹرین کے ذریعہ یہ سفر تقریباً ۹ گھنٹہ کا تھا۔ کچھ دیر کے بعد نیند آگئی۔ اس کے بعد جب نیند کھلی تو ٹرین دہلی کے قریب پہنچ چکی تھی۔ نیند کیسی عجیب نعمت ہے۔ نیند مشکل کو آسان بناتی ہے اور لمبے سفر کو مختصر کر دیتی ہے۔ تاہم وہ آج بھی فطرت کا ایک راز ہے۔ جدید دور میں اہل علم نے اس موضوع پر کافی ریسرچ کی ہے مگر وہ اس کی کوئی توجیہ ابھی تک دریافت نہ کر سکے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ”خدا نے نیند کو تمہاری تکان رفع کرنے کے لئے بنایا ہے“ (النباء ۹)۔ اعتبار سے نیند ایک عظیم نعمت ہے۔ انسان دن بھر کام کرتا ہے۔ جس میں اسے ذہنی اور جسمانی تکان آ جاتی ہے۔ اس تکان کو دور کرنے کا فطری طریقہ اللہ تعالیٰ نے نیند کی صورت میں پیدا اگر نیند نہ ہو تو کسی بھی دوسرے ذریعہ سے آدمی یہ فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ جنھیں مستقل نیند نہیں آتی وہ پاگل ہو جاتے ہیں۔

۲ جولائی ۱۹۹۹ء کو صبح تقریباً ۸ بجے ہماری ٹرین دہلی کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچ کر کھڑی سفر اپنے اختتام تک پہنچ گیا۔ اسی طرح ہر سفر ایک مقام سے شروع ہو کر دوسرے مقام پر ختم ہو جاتا ہے۔ یہی معاملہ آخرت کا بھی ہے۔ ہر آدمی صبح و شام اس سفر کو طے کر رہا ہے۔ موت اس سفر کا خاتمہ ہے۔ موت کے بعد جو دوسرا سفر شروع ہوتا ہے، اس کے بارے میں موجودہ دنیا میں کسی کو بھی کچھ نہیں معلوم۔ ایک مصنف کے الفاظ میں، کتاب زندگی کے اگلے ورق سر بمہر ہیں۔

Printed page