ہر قل کا واقعہ
Al-Risala, February 1999, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
۲۰ اگست ۶۳۶ء کو ایک فیصلہ کن واقعہ ہوا جو تاریخ میں دریائے یرموک کی جنگ (Battle of Yarmuk River) کے نام سے مشہور ہے۔ یرموک ایک دریا کا نام ہے جو شام اور اردن کے درمیان واقع ہے، مذکورہ تاریخ کو یہاں عربوں اور رومیوں کے درمیان جنگ عرب فوج کے سردار خالد بن ولید تھے، اور رومی فوج کی قیادت تذارق (THEODOUS) کر رہا تھا جو شہنشاہ ہر قل کا بھائی تھا۔
اس جنگ میں رومی فوج کو مکمل شکست ہوئی۔ خود تذارق قتل کر دیا گیا۔ یہ جنگ اس پورے علاقہ کے لئے فیصلہ کن تھی۔ چنانچہ اس کے بعد پورا شام تقریباً بلا مقابلہ عربوں کے قبضہ یرموک کی شکست کی اس اہمیت سے شہنشاہ ہر قل بخوبی واقف تھا جو اس وقت حمص (شام) میں تھا۔ اس کے بعد وہ حمص سے روانہ ہو گیا۔ مورخ بلاذری کی روایت کے مطابق، اس وقت اس کی زبان پر یہ کلمہ تھا: سلام علیک یا سوریا، سلاما لا لقاء بعدہ (اے شام، تجھ کو آخری سلام، اب تجھ سے میری ملاقات نہیں ہوگی) ہر چیز جو انسان کو ملی ہوئی ہے وہ آخر کار اس کا ساتھ چھوڑنے والی ہے۔ موت سے پہلے یا موت کے وقت۔ مگر انسان آخر وقت تک چیز کو اپنی چیز وہ سوچ نہیں پاتا کہ کوئی چیز اس کی اپنی نہیں۔ ہر چیز خدا کی چیز ہے۔ وہ جب تک چاہے کسی کے پاس رکھے، اور جب چاہے چھین لے۔
آدمی جو کلمہ ملک چھن جانے کے بعد کہتا ہے، اگر وہی کلمہ وہ ملک چھینے سے پہلے کہے تو وہ اس کے نامہ اعمال میں ایک قیمتی عمل کے طور پر لکھا جائے۔ مگر آدمی اس حقیقت شناسی کا ثبوت ہر آدمی چھینے کے بعد کہتا ہے نہ کہ چھینے سے پہلے۔ اور چھینے کے بعد کہنا کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔