حضرت لبید
Al-Risala, February 1999, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
لبید بن ربیعہ بن مالک العامری (م ۴۱ ھ) قدیم عرب کے ایک مشہور شاعر تھے۔ شمار اصحاب المعلقات میں سے ہوتا ہے۔ ہجرت کے بعد انھوں نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد انھوں نے شاعری چھوڑ دی۔ کہا جاتا ہے کہ قبولِ اسلام کے بعد انھوں نے صرف ایک شعر کہا تھا جو یہ ہے۔
والمرء يصلحه الجليس الصالح ما عاتب المرء الكريم كنفسه عمر فاروقؓ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں ایک بار حضرت لبید سے کہا کہ اپنے کچھ اشعار حضرت لبیدؓ نے جواب دیا کہ اللہ نے جب مجھ کو بقرہ اور آل عمران جیسی سورتوں کی تعلیم دی تو اس کے بعد میرے لئے مناسب نہیں کہ میں شعر کہوں (ما كنت لاقول شعرا قد ان علمنى الله البقرة وآل عمران ) ابن عبد البر، الاستيعاب حضرت لبید نے اپنے شعر میں جو بات کہی ہے وہ یہ ہے کہ شریف آدمی احتسابِ غیر کے بجائے احتسابِ خویش کے معاملے میں زیادہ حساس ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کی غلطی پر گرفت کرتے ہوئے نرمی کا انداز اختیار کرتا ہے مگر جب معاملہ خود اپنی غلطی کا ہو تو وہ اس کے لئے بے رحم محاسب بن جاتا ہے۔
شعر کے دوسرے مصرع میں انھوں نے صحبت کی اہمیت بتائی ہے۔ آدمی اگر زیادہ دیر تک برے کی صحبت اختیار کرے تو اندیشہ ہے کہ وہ بھی برا بن جائے۔ اس کے مقابلہ میں جب آدمی اچھے انسان کی صحبت اختیار کرتا ہے تو اس کی صحبت کے اثر سے وہ بھی ایک اچھا آدمی بن حضرت لبیدؓ نے خلیفہ دوم سے جو بات کہی وہ بظاہر قرآن کے مقابلہ میں ہے مگر وسیع تر معنی میں اس کا تعلق دوسری حقیقتوں سے بھی ہے۔ اور وسیع تر انطباق کے لحاظ سے ہر حق کے مقابلہ میں اپنی زبان بند کر لینے سے۔