سنتِ الہی
Al-Risala, February 1999, pp. 25–27
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام ﷺ نے جب اپنی دعوتِ حق کا آغاز فرمایا تو وہ تمام لوگ آپ کے مخالف ہو گئے جن کے اوپر اس کی زد پڑتی تھی، جن کے مفادات اس سے مجروح ہو رہے تھے۔ لوگ دلائل کے ذریعہ آپ کی دعوت کا توڑ نہیں سکتے تھے، انھوں نے یہ تدبیر کی کہ آپ کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنا شروع کر دیا۔ اس صورتِ حال کا ذکر قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے اور انکار کرنے والوں نے کہا کہ اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں خلل ڈالو، شاید کہ تم غالب (حم السجدہ ۲۶)
اس آیت کی تشریح میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے: قرآن کریم کی آواز بجلی کی طرح سننے والوں کے دلوں میں اثر کرتی تھی۔ جو سنتا فریفتہ ہو جاتا۔ اس سے روکنے کی تدبیر منکروں نے یہ نکالی کہ جب قرآن پڑھا جائے، ادھر کان مت دھر و اور اس طرح ہماری بک بک سے قرآن کی آواز دب جائے گی۔ آج بھی جاہلوں کو ایسی ہی تدبیریں سوجھا کرتی ہیں کہ کام کی بات کو شور مچا کر سننے نہ دیا جائے۔ لیکن صداقت کی کڑک مچھروں اور مکھیوں کی بھنبھناہٹ سے کہاں مغلوب ہو سکتی ہے۔ ان سب تدبیروں کے باوجود حق کی آواز قلوب کی گہرائیوں تک پہنچ کر رہتی ہے (تفسیر عثمانی ۶۲۱)
پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کی جو مہم چلائی گئی تھی اس کی بہت سی مثالیں حدیث اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں۔ ان میں سے ایک مثال یہ ہے کہ جب قرآن کی سورہ النجم اتری تو آپ نے اس کو ایک ایسے مخلوط مجمع میں سنایا جہاں مسلمانوں کے ساتھ مشرک لوگ بھی موجود تھے۔ اس کو سناتے ہوئے آپ نے یہ آیتیں پڑھیں: افراء یتم اللّت والعزى. ومنوۃ الثالثۃ الاخرى ( النجم ۱۹-۲۰)
جیسے ہی آپ نے یہ آیتیں پڑھیں حاضرین میں سے ایک مشرک نے اس میں اپنی
طرف سے یہ الفاظ ملا دیئے جو وہ جاہلی روایت کے تحت ان بتوں کے بارے میں پڑھا کرتے تھے : تلك الغرانيق العلى ، وان شفاعتهن لترتجى (یہ بڑی ہستیاں ہیں اور ان کی شفاعت کی قبولیت کی پوری امید ہے) تفسیر ابن کثیر ۲۲۹/۳۔
اس واقعہ کے بعد مخالفوں کی پروپیگنڈا مشین تیزی سے حرکت میں آگئی۔ مجمع کے اندر ایک مشرک کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کو پیغمبر اسلام کی طرف منسوب کر کے یہ کہنا شروع کیا کہ دیکھو، اب تو محمدؐ نے بھی بتوں کی عظمت کو مان لیا۔ وہ بھی مشرکین کی بات کو دہرانے لگے (اس واقعہ کی تفصیل تفسیر کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے) یہ صرف کوئی ایک واقعہ نہیں، اس قسم کا معاملہ ہر دور میں اور ہر داعیٔ حق کے ساتھ پیش آتا ہے۔ حق کی دعوت جب بھی اٹھتی ہے وہ مضبوط دلائل پر قائم ہوتی ہے ۔ فطرت کو اپیل کرتی ہے۔ لوگ تیزی سے اس کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں۔ یہ صورت حال ان لوگوں کے لئے خطرہ بن جاتی ہے جو غیر حق کو حق بتا کر اپنی قیادت قائم کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ دین کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حال ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ وہ دلائل کا مقابلہ دلائل سے کرنے میں اپنے کو عاجز محسوس کرتے ہیں ۔ چنانچہ وہ دلائل کا مقابلہ جھوٹے پروپیگنڈوں سے کرنے کے لئے حرکت میں آجاتے ہیں۔
پیغمبروں کے ساتھ اور اسی طرح حق کے داعیوں کے ساتھ بدنام کرنے کا یہ جو معاملہ پیش آتا ہے وہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں۔ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی گہری مصلحت شامل ہے۔ لئے ہوتا ہے تاکہ لوگوں کو آزمایا جائے ۔ اس طرح وہ لوگ الگ ہو جاتے ہیں جو اپنی خدا ترسی اور معرفت حق کی بنا پر اس میں کامیاب رہتے ہیں کہ وہ حقیقی دلیل اور جھوٹے پروپیگنڈے میں فرق کر سکیں۔ وہ جھوٹے پروپیگنڈوں کو نظر انداز کر کے حق کے ساتھ اپنی وابستگی کو اور زیادہ مضبوط بنا لیں۔
دوسری طرف حق کے مخالفین کی اسی مہم کے درمیان وہ لوگ کھل کر سامنے آجاتے ہیں جو بظاہر حق پرست بنے ہوئے تھے۔ لیکن ان کے اندر حقیقی معنوں میں نہ خدا کا خوف تھا اور نہ ایمان کی سچی روشنی۔ ایسے لوگ اپنے اندھے پن کی بنا پر دلیل اور غیر دلیل میں فرق نہیں وہ جھوٹے الفاظ کو دلیل سمجھ کر ان سے متاثر ہو جاتے ہیں اور داعیان حق کے بارے میں شبہات میں پڑ جاتے ہیں۔ اس طرح وہ حق کی دعوت کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے، البتہ خود اپنی حقیقت کو وہ پوری طرح بے نقاب کر دیتے ہیں۔
یہی وہ خدائی قانون ہے جو قرآن کی ان آیتوں میں پیغمبر کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے: اور ہم نے تم سے پہلے جو بھی رسول اور نبی بھیجا تو جب اس نے کچھ پڑھا تو شیطان نے اس کے پڑھنے میں ملا دیا۔ پھر اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو مٹا دیتا ہے۔ پھر اللہ اپنی آیتوں کو پختہ کر دیتا ہے۔ اور اللہ علم والا، حکمت والا ہے۔ تاکہ جو کچھ شیطان نے ملایا ہے اس نے وہ ان لوگوں کو جانچے جن کے دلوں میں روگ ہے اور جن کے دل سخت ہیں۔ اور ظالم لوگ مخالفت میں بہت دور نکل گئے ہیں۔ اور تاکہ وہ لوگ جن کو علم ملا ہے جان لیں کہ یہ فی الواقع تیرے رب کی طرف سے ہے۔ پھر وہ اس پر یقین لائیں۔ اور ان کے دل اس کے آگے جھک جائیں۔ اور اللہ ایمان لانے والوں کو ضرور سیدھا راستہ دکھاتا ہے (الحج ۵۲۔ خدا کا مطلوب مومن وہ ہے جو خدا کی قائم کی ہوئی ایمانی کسوٹی پر پورا اترے۔ وہ کسوٹی یہ ہے کہ مخالف حالات میں وہ اپنے آپ کو صاحب ایمان ثابت کرے۔ شبہات کا طوفان بھی اس کے یقین کو متزلزل نہ کر سکے۔ ہر قسم کے ناموافق اسباب کے باوجود وہ حق کو پہچان لے اور اپنے آپ کو اس کے ساتھ وابستہ کر دے۔