ہند تو: حقیقت یا افسانہ
Al-Risala, February 1999, pp. 28–33
By Maulana Wahiduddin Khan
خطرے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک حقیقی خطرہ، اور دوسرا فرضی خطرہ۔ اگر حقیقی خطرہ درپیش ہو تو اس کا حل یہ ہے کہ آدمی اس کی نوعیت کو سمجھے اور اس کے مطابق بچاؤ کی ضروری تدبیر کرے۔ اگر خطرہ محض فرضی ہو تو مسئلہ بالکل بدل جاتا ہے۔ اب اس سے بچاؤ کی تدبیر صرف یہ ہوتی ہے کہ اس کو سادہ طور پر نظر انداز کر دیا جائے۔ فرضی خطرہ کو نظر انداز کر دینا ہی اس سے بچاؤ کی سب سے زیادہ کامیاب تدبیر ہے۔
ہند تو کا خطرہ راقم الحروف کے نزدیک محض فرضی خطرہ ہے، وہ کبھی واقعہ بننے والا نہیں۔ ایسی حالت میں اس کے لیے پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔
یہ صحیح ہے کہ آج کل ہند تو کا کافی چرچا ہے۔ کچھ لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ مستقبل کا انڈیا ہند تو کی بنیاد پر تشکیل دیا جائے گا۔ مگر جہاں تک میرا مطالعہ ہے، خود ہند تو کے علم برداروں کے ذہن میں اس کا کوئی واضح نقشہ موجود نہیں ہے۔ اور جس چیز کا نقشہ ہی اب تک واضح طور پر متعین نہ ہوا ہو، وہ انڈیا کے مستقبل کی تشکیل کرنے والا کس طرح بنے گا۔
مسٹر لعل کرشن آڈوانی کے الفاظ میں، ہند تو سے مراد کلچرل نیشنلزم (cultural nationalism) یعنی کلچر پر مبنی قومیت۔ وہ کون سا کلچر ہوگا جس پر یہ قومیت تشکیل دی جائے گی۔ جواب مسٹر جے دوباشی کے الفاظ میں یہ ہے کہ انڈیا میں قومی تشخص صرف ہندو ہی ہو سکتا ہے : In India, the national identity can only be Hindu. (The Illustrated Weekly of India, March 12, 1993)
اسی کے ساتھ مسٹر گری لعل جین کے الفاظ ملا لیجیے تو بات مکمل ہو جائے گی۔ ٹائمز آف انڈیا (۱۱ مارچ ۱۹۹۳) میں خاص اسی موضوع پر مسٹر جین کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے : Apartheid in reverse — Dangers of minorityism مضمون نگار کے نزدیک انڈیا کے مسلمانوں کے مسئلہ کا حل یہ ہے کہ وہ اکثریتی فرقہ کے کلچر کو اختیار کر لیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ انڈیا کوئی انسانی چڑیا خانہ نہیں ہے جس میں مختلف انسانی انواع
ایک مقام پر الگ الگ خانوں میں رکھ دی گئی ہوں اور ان کو ایک نہ کیا جا سکتا ہو۔ انڈیا ممتاز طور پر اور ہزاروں سال سے ایک یکساں کلچر کا ملک ہے اگر چہ وہ یک سنگی نہیں :
غیر ہند و فرقے اگر ہند تو کے علم برداروں کے اس مطالبہ کو بلا بحث مان لیں تب بھی اصل مسئلہ ختم نہیں ہوتا۔ کیوں کہ یکساں کلچر کو اختیار کرنے کے لیے اس کا ایک ماڈل ہونا ضروری ہے۔ ایسا کوئی ماڈل سرے سے ملک کے اندر موجود ہی نہیں۔ اور جب ماڈل موجود نہ ہو تو اس کی پیروی کس طرح کی جائے گی۔
وہ چیز جس کو یہ حضرات ہندو کلچر یا بھارتی کلچر کہتے ہیں ، وہ بروقت کسی ایک چیز کا نام نہیں اس میں بیک وقت بے شمار خدا ہیں۔ بابری مسجد کو ڈھانے والے بھارتی کلچر کے نمائندوں نے پر فخر طور پر اجودھیا میں یہ نعرہ لگایا تھا کہ : ایک طرف ۳۳ کروڑ ، ایک طرف ایک اللہ۔ ہندوؤں میں زبان ، کھانا ، کپڑا ، رہن سہن ، ہر چیز میں اختلاف ہے۔ حتی کہ ایک ہند و مبصر کے الفاظ میں ، اس ملک میں جتنے ہندو ہیں ، اتنی ہی ان کی قسمیں ہیں۔
جب ہندو کی اتنی زیادہ قسمیں ہیں تو سوال یہ ہے کہ وہ کون ہندو ہے جس کو پیروی کے لیے ماڈل سمجھا جائے ۔ کیا وہ ہندو جو کوٹ اور پتلون پہنتا ہے یا وہ ہندو جو دھوتی اور کرتا پہنتا ہے۔ وہ ہندو جو مورتی پوجا کرتا ہے یا وہ ہندو جو مورتی پوجا کا کھنڈن کرتا ہے۔ وہ ہندو جو آستک ہے یا وہ ہندو جو ناسٹک ہے۔ وہ ہندو جو رامائن اور مہا بھارت کو تاریخ کہتا ہے یا وہ ہندو جو رامائن اور مہا بھارت کو افسانہ (میتھ) سمجھتا ہے۔ وہ ہندو جو شاکاہاری ہے یا وہ ہندو جو نسا ہاری ہے۔ وہ ہندو جو ہندو ازم کو مذہب بتاتا ہے یا وہ ہندو جو ہندو ازم کو فلاسفی قرار دیتا ہے۔ جو رام کو ہیرو مانتا ہے یا وہ ہندو جو راون کو ہیرو سمجھتا ہے۔ وہ ہندو جو اوچ ذات اور نیچ ذات میں یقین رکھتا ہے یا وہ ہندو جو ان باتوں کو ماننے سے انکار کرتا ہے۔
اس قسم کے بے شمار فرق ہیں جو ایک ہندو اور دوسرے ہندو کے درمیان پائے جاتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ان میں سے کون سا ہندو ہے جو ہند و ازم یا ہند و کلچر کے لیے ماڈل کی حیثیت ایسی حالت میں ہندو تو کے علم برداروں کو پہلے خود ہندوؤں کے اوپر اپنا بلڈوزر چلا کر انھیں ایک کلچر یا یکساں کلچر کا نمونہ بنانا ہوگا۔ اس کے بعد ہی وہ غیر ہندو فرقوں سے یہ مانگ سکتے ہیں ۔ کہ وہ اس "ماڈل ہندو " کی پیروی کریں۔
اگر یہ حضرات سنجیدگی کے ساتھ غور کریں تو انھیں معلوم ہوگا کہ ان اختلافات کو بلڈ وز کر کے ہند تو کا کوئی ایک ماڈل بنانا قابل عمل نہیں، اس لئے ہند تو کی بنیاد پر ملک کی تعمیر بھی یقینی طور پر قابل عمل یہ صورت حال بتاتی ہے کہ ہندو سوسائٹی میں اختلافات اتنے زیادہ بنیادی ہیں جو کبھی ختم ہونے والے حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حالت میں مسٹر گری لال جن کے الفاظ خود ہندو فرقہ پر زیادہ بڑے پیمانہ پر صادق آتے ہیں۔ ہندو فرقہ خود ایک بہت بڑا ہیومن زدہ ہے۔ اپنے موجودہ تنوعات کے ساتھ ہندو فرقہ کے لیے یکساں کلچر کا ناموز بنانا ممکن نہیں۔ وہ متنوع کلچر (composite culture) کا ماڈل یقیناً ہے مگر وہ یکساں کلچر کا ماڈل ہرگز نہیں۔
ہند تو کی اس کمزوری کا اعتراف خود ہند تو کے علم برداروں کو بھی کرنا پڑتا ہے ۔ چنانچہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ ہندو کی مشترک تعریف کے لیے کوئی واضح بنیاد موجودہ حالت میں موجود کیوں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ایک ہندو ، عمومی اعتبار سے، سب سے پہلے ایک ذات سے تعلق رکھتا ہے ، اس کے بعد ہی وہ ہندو برادری کا حصہ بنتا ہے :
A Hindu, generally speaking, belongs to a caste before he belongs to the مسٹر گری لال جین (۱۹۹۳– ۱۹۲۲) نے اپنے ایک مفصل مضمون میں لکھا تھا کہ ہندو قومیت کی دو قسمیں ہیں، منفی اور مثبت منفی ہندو قومیت درجات کے فرق کے ساتھ محض مسلم مخالفت جذبہ پر قائم ہے ۔ مثبت ہندو قومیت کا تعلق ایک ہندو تشخص کے لیے اپیل کرنے پر ہے۔ مگر چوں کہ یہ تشخص ہندوؤں کے درمیان داخلی یکسانیت نہ ہونے کی وجہ سے غیر واقعی ہے اس لیے مثبت ہندو قومیت وجود میں آنے کے مقابل نہیں۔ اس طرح جو چیز ممکن ہے وہ مطلوب نہیں اور جو چیز مطلوب ہے وہ ممکن نہیں :
There are two types of Hindu communalism: negative and positive. Negative Hindu communalism consists in being merely anti-Muslim in varying de- grees: positive Hindu communalism consists in appealing in the name of a Hindu identity. But since this identity is very shadowy due to Hindu's lack of internal homogeneity, positive Hindu communalism is not viable. Thus what is possible is not desirable and what is desirable is not possible. (The Times of India, New Delhi, July 4, 1987)
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہند تو خود اپنے اندرونی مسائل میں اتنا زیادہ مشغول ہے کہ اس کے لیے بیرونی خطرہ بننا تقریباً نا ممکن ہے ۔ ہند تو بیرونی خطرہ صرف اس وقت بن سکتا ہے جب کہ مسلمان جوش اور ہنگامہ والی سیاست سے اس کو اینٹی مسلم احساس پر کھڑے ہونے کا موقع دے دیں ۔ اگر مسلمان ٹکراؤ سے اعراض کی پالیسی اختیار کر لیں تو ہند تو اپنے قیام کی واحد بنیاد سے محروم ہو جائے گا۔ اس کے بعد اس کا جو انجام ہو گا اس کو لفظوں میں بتانے کی ضرورت نہیں۔
زندگی کا ایک محکم اصول یہ ہے کہ اگر کچھ لوگ ایک بے معنی نعرہ لگار ہے ہوں تو ہمیں چاہیے کہ ہم ان نعروں کو نظر انداز کر کے یہ دیکھیں کہ تاریخ کی طاقتیں کس طرف جار ہی ہیں۔ کیوں کہ زندگی میں بالآخر جو چیز باقی رہتی ہے وہ تاریخ کی طاقتیں ہیں نہ کہ کچھ غیر سنجیدہ لوگوں کے بولے ہوئے الفاظ۔ اس سلسلہ میں میں امریکہ اور کناڈا کی مثال دوں گا۔ ان ملکوں میں بھی، انڈیا کی طرح مختلف کلچر پائے جاتے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد وہاں کچھ انتہا پسند لیڈراٹھے۔ انھوں نے مختلف کلچر کو ختم کر کے ایک کلچر بنانے کی تحریک چلائی ۔ اس تحریک کو عام طور پر یونی کلچر لزم (uniculturalism) کہا مگر یہ تحریک کامیاب نہ ہو سکی ۔ آخر کار انھیں ماننا پڑا کہ ان کے ملک کے لیے قابلِ عمل چیز صرف متنوع کلچر یت (multiculturalism) ہے نہ کہ واحد کلچر۔
یہی واقعہ یقینی طور پر انڈیا میں بھی ہونے والا ہے۔ واحد کلچر کا نعرہ لگانے والے یہاں ناکام ہو کر رہ جائیں گے اور آخر کار جو چیز باقی رہے گی وہ مختلف اور متنوع کلچر کا اصول ہے جو ہزاروں سال سے اس ملک میں موجود تھا اور آج بھی وہ پوری طرح موجود ہے۔ یہی تاریخ کا فیصلہ ہے ۔ نئی دہلی میں ۲۵ جولائی ۱۹۹۳ء کو ایک میٹنگ تھی۔ اس کی رپورٹ ٹائمس آف انڈیا ۲۶ جولائی میں چھپ چکی ہے۔ یہاں مختلف ہندو دانش وروں نے تقریریں کیں۔ ٹائمس آف انڈیا کے ایڈیٹر
دلیپ پیڈگاؤنکر (Dileep Padgaonkar) نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس دنیا میں ہر آدمی کی مختلف حیثیت ہوتی ہے۔ آپ اس قانون قدرت کو بدل نہیں سکتے ۔ اس معاملہ میں ہمیں تنگ نظری کے بجائے وسعت نظری کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے ۔
انھوں نے کہا کہ میں مہاراشٹر میں پیدا ہوا۔ اب میں دہلی میں رہتا ہوں۔ وطن ، زبان، مذہب، تہذیب ، تعلیم ہر لحاظ سے میری مختلف حیثیتیں ہیں۔ اسی طرح تاریخ کے اعتبار سے میری مختلف حیثیت میری زندگی میں قدیم بھارتی عہد کا حصہ ہے۔ پھر میری زندگی پر مسلمانوں کے ہزار سال عہد کی چھاپ ہے۔ اس کے بعد برٹش عہد آیا۔ اس نے بھی میری زندگی پر اثرات ڈالے۔ اب میں آزاد انڈیا کا ایک فرد ہوں۔ یہ ساری چیزیں میری زندگی کا حصہ ہیں۔ ان میں سے کسی کو بھی میں اپنے سے الگ نہیں کر سکتا۔ اس قسم کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے مشہور انگلش رائٹر والٹ وٹمین (Walt Whitman) کا قول دہرایا اور کہا کہ ہمیں ان تمام تضادات کے ساتھ جینا ہے۔ زیادہ وسیع ہوں کہ ان تمام تضادات کو اپنی زندگی میں سمو سکوں :
والٹ وٹمین (۱۸۹۲ - ۱۸۱۹) کا یہ قول زندگی کی ایک حقیقت کو بتاتا ہے۔ کا مجموعہ ہے اور تضادات سے نباہ کر کے ہی وہ کامیاب ہو سکتا ہے ۔
انڈین کلچر اور انڈین ہسٹری کے مشہور عالم پنڈت بی این پانڈے (۸۸ سال) کا ایک انٹرویو ٹائمز آف انڈیا (۲۲ اگست ۱۹۹۳) میں چھپا ہے۔ ان سے یہ انٹرویو مسٹر ایس کالی داس نے لیا ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مشکل یہ ہے کہ آج کا ہندو تو ہمارے دھرم کی مقدس کتابوں سے بہت کم مناسبت رکھتا ہے ۔ اتھرو وید میں ہے کہ یہ دیش کئی مذہبوں ، کئی نسلوں، کئی ذاتوں، کئی زبانوں کا دیش ہے۔ اس کے اندر مزید یہ کہا گیا ہے کہ اس دیش کو دل کر رہنے کے لیے ایک اصول کو مان لینا چاہیے ۔ وہ یہ کہ یہ سر زمین ہماری مادر وطن ہے اور ہم سب اس کی سنتاں ہیں ۔ اس طرح پانچ پانچ ہزار سال پہلے ہم اس اصول پر متفق ہو چکے ہیں کہ اس دیش میں زبان، عقیدہ اور کلچر کے اختلاف کے باوجود ہم پر امن طور پر ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے :
انڈین کلچر کے بارہ میں یہی صحیح نقطہ نظر ہے اور آخر کار ہمارے ملک میں یہی باقی رہنے والا ہے۔ انڈیا ماضی میں مٹی کلچر کا ملک تھا، حال میں وہ مٹی کلچر کا ملک ہے، اور مستقبل میں بھی وہ مٹی کلچر کا ملک یہی تاریخ کا فیصلہ ہے۔ یہی عقل کا تقاضا ہے، اور اسی میں ملک کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ صرف نعرہ بازی ہے، نہ کہ کوئی واقعی نظریہ یا کوئی حقیقی سیاست۔ قال الله وقال الرسول اسلام ایک تعارف انسانیت کی منزل زیر نظر شمارہ فروری ۱۹۹۹ میں ایک مضمون اس عنوان کے تحت شامل ہے "توحید انسانیت کی منزل“ اس مضمون کو ۱۶ صفحات کے پمفلٹ کی صورت میں الگ سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس کی قیمت فی کاپی 4.00 روپیہ ہوگی۔ اس پمفلٹ کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ مفت تقسیم کے لئے بڑی تعداد میں منگائیں ان کو خصوصی رعایت دی جائے گی۔