Al-Risala · February 1999

تصویر کا فتنه

Al-Risala, February 1999, pp. 35–38

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مسلمان کی تصویر ایک کٹر ہندی اخبار میں چھپی ۔ یہ اخبار مسلم دشمنی کے لئے اس تصویر کو لے کر کچھ مسلم نوجوان ایک مشہور دینی مدرسہ کے علما کے پاس گئے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ تصویر ہمارے نزدیک قابل اعتراض ہے۔ آپ اس کے خلاف سخت فتوی مذکورہ علما نے اس قسم کا فتویٰ دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ فتویٰ کسی ثابت شدہ فعل پر دیا جاتا ہے۔ اور کسی اخبار میں چھپی ہوئی تصویر کسی کے خلاف کوئی ثبوت نہیں۔ علما کا یہ جواب بلاشبہ شریعت کے عین مطابق تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی ثابت شدہ فعل ہی پر کسی کے خلاف کوئی شرعی حکم لگایا جاسکتا ہے۔ اور تصویر سے یقینی طور پر کسی کے خلاف کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔

موجودہ زمانہ کیمرہ اور اخبار کا زمانہ ہے۔ کیمرہ کے ذریعہ ہر قسم کی تصویر لی جاسکتی ہے۔ مثلاً ایک شہر کا واقعہ ہے۔ کچھ مسلمان ایک جلوس کے ساتھ جارہے تھے۔ ان کے ساتھ ایک مقامی مسلمان لیڈر بھی تھے۔ سڑک پر ایک جگہ انھیں اپنے جوتے کا فیتہ کسنے کے لئے رکنا پڑا۔ اتفاق سے اس کے قریب ایک چھوٹا سا سمندر تھا جہاں ایک بت نصب تھا۔ مذکورہ لیڈر جس وقت جوتے کا فیتہ کسنے کے لئے جھکے ہوئے تھے عین اسی وقت ایک کیمرہ والے نے بت کا اینگل لے کر ان کا فوٹو لے لیا۔ اگلے دن ایک لوکل اخبار میں یہ فوٹو ان الفاظ کے ساتھ چھپا کہ ۔ مسلمان لیڈر ایک بت کے آگے جھکے ہوئے۔

اس قسم کی تصویر بالکل فرضی طور پر بھی بنائی جاسکتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک شریف خاتون کا واقعہ ہے۔ ایک دادا قسم کا نوجوان ان سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ اس نے خاتون کے باپ کے یہاں پیغام بھیجا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ اس کے بعد اس نوجوان نے یہ کیا کہ خاتون کے یہاں کام کرنے والے ایک لڑکے کو کچھ پیسہ دیا۔ اس لڑکے نے مذکورہ خاتون کے

شناختی کارڈ سے ان کی تصویر نکالی اور لے جا کر اسے مذکورہ نوجوان کو دے دیا۔ اب مذکورہ نوجوان نے خاتون کی اس تصویر کو اپنی تصویر کے ساتھ ملا کر ایک مشترک فوٹو کھنچوایا اور پھر اس فوٹو کو لے کر مذکورہ خاتون کو بدنام کرنا شروع کر دیا۔

فوٹو کے ذریعہ جھوٹے پروپیگنڈے کی سیاست موجودہ زمانہ میں بہت عام ہے ۔ اخباروں میں اکثر اس طرح کے قصے آتے رہتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں کوئی بھی شخصیت اس قسم کے جھوٹے پروپیگنڈے کی زد سے محفوظ نہیں۔

فوٹو پر مبنی جھوٹا پروپیگنڈہ دو چیزوں کے ذریعہ ممکن ہوا ہے۔ ایک کیمرہ اور دوسرے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اگر کیمرہ اور اخبار قدیم زمانہ میں موجود ہوتے تو انتہائی صالح قسم کے لوگ حتی کہ پیغمبر بھی نعوذباللہ ثم نعوذباللہ اس مکروہ سیاست سے شاید محفوظ نہ رہ پاتے۔ مثال کے طور پر قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین کے سفر میں ایک بار شام کو ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد ایک بزرگ کے بلانے پر ان کی غیر شادی شدہ صاحبزادی کے ساتھ چل کر وہ مذکورہ بزرگ کے گھر گئے۔ اگر اس وقت کیمرہ موجود ہوتا اور اخبار نکل رہے ہوتے تو ایک کیمرہ والا اس منظر کا فوٹو لے لیتا اور اگلے دن کے اخبار میں ایک تصویر چھپتی جس کے نیچے نعوذ باللہ یہ الفاظ لکھے ہوئے ہوتے۔ پیغمبر موسیٰ تنہا ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ۔

اسی طرح پیغمبر اسلام ﷺ تیرہ سال تک مکہ میں تھے۔ وہاں آپ کعبہ میں جا کر نماز پڑھا کرتے تھے۔ اس وقت وہاں ۳۶۰ بت تھے۔ یہ بت کسی بند بکس میں رکھے ہوئے نہیں تھے بلکہ بیت اللہ میں ہر طرف نصب تھے۔ رسول اللہ ﷺ وہاں بار بار رکوع یا سجدہ میں ہوتے تھے۔ وقت اگر وہاں کیمرہ اور اخبار موجود ہوتا تو ایک کیمرہ والا مخصوص اینگل سے آپ کا ایسا فوٹو لے سکتا تھا جس کے فوکس میں خدا نخواستہ ایک بت بھی دکھائی دیتا۔ اس کے بعد اگلے دن کے اخبار

میں ایک تصویر چھپتی جس کے نیچے نعوذ باللہ یہ الفاظ لکھے ہوئے ہوتے کہ--- پیغمبر توحید ایک بت کے آگے جھکے ہوئے۔

جیسا کہ معلوم ہے ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ بعض اتفاقی اسباب سے قافلہ کے پیچھے رہ گئی تھیں۔ بعد کو وہ ایک مسلم نوجوان کے ساتھ مدینہ اس وقت اگر کیمرہ اور اخبار موجود ہوتے تو ایک کیمرہ والا اس منظر کا فوٹو لے لیتا اور پھر اگلے دن مدینہ کے اخبار میں ایک تصویر چھپتی جس کے نیچے نعوذ باللہ یہ الفاظ لکھے ہوئے ہوتے --- پیغمبر کی نو عمر بیوی ایک اجنبی نوجوان کے ساتھ۔

اس قسم کے جھوٹے تصویری افسانے کسی بھی شخص کے خلاف بنائے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر مولانا اسماعیل شہید قدیم دہلی میں رہتے تھے۔ وہ اپنے وعظ کے لئے مشہور تھے۔ ایک بار دہلی کی طوائفوں کی طرف سے انہیں پیغام ملا کہ آپ ہمارے یہاں تشریف لائیں اور ہم کو وعظ فرمائیں۔ شاہ اسماعیل شہید نے اس دعوت کو قبول فرما لیا۔ وہ وہاں گئے اور بیڑھیوں پر چڑھ کر اوپر کے دروازے پر پہنچے اور وہاں کھڑے ہو کر وعظ فرمایا۔ پھر واپس آئے۔ اگر اس زمانہ میں کیمرہ ہو تا تو جب وہ وہاں کی سیڑھیوں پر چڑھ رہے تھے اس وقت کوئی کیمرہ والا اس منظر کا فوٹو لے لیتا اور پھر اگلے دن دہلی کے اخبار میں ایک تصویر چھپتی جس کے نیچے نعوذ باللہ یہ الفاظ لکھے ہوئے ہوتے--- مولا نا شاہ اسماعیل صاحب طوائف کے کوٹھے پر چڑھتے ہوئے۔

اس قسم کے تصویری پروپیگنڈے موجودہ زمانہ میں بہت زیادہ عام ہیں۔ اکثر بے بنیاد افواہیں جھوٹی تصویروں کی مدد سے پھیلائی جاتی ہیں۔ ایسی مثالیں ہندوستان میں بھی بار بار پیش آئی ہیں اور باہر کے ملکوں میں بھی۔

مجھے خود بھی متعدد بار اس قسم کے تصویری پروپیگنڈے کا تجربہ پیش آیا ہے۔ میں نے ایک عرب پرچے میں بیت المقدس (قبتہ الصخرا) کی تصویر دیکھی۔ اس تصویر میں نظر

آرہا تھا کہ اسرائیلی فوجی بندوق کے ساتھ قبة الصخرا کے قریب دونوں طرف کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کے پاؤں زمین پر تھے اور سر گنبد کے اوپر تک پہنچے ہوئے تھے۔

بظاہر یہ ایک سچا فوٹو دکھائی دیتا تھا۔ مگر جب میں نے گہرائی کے ساتھ غور کیا تو یہ فوٹو غیر فطری نظر آیا کیونکہ ایسا واقعہ صرف اس وقت ممکن تھا جب کہ ان اسرائیلی فوجیوں کا قد تار کے برابر ہو۔ اصل یہ ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی یہ تصویر کاٹ کر قبة الصخرا کی تصویر کے ساتھ چپکائی گئی تھی۔ اور پھر اس مصنوعی تصویر کا فوٹو لے کر اس کو میگزین میں چھاپا گیا تھا۔ اس کے بعد جب میں فلسطین گیا اور مسجد اقصی اور قبة الصخرا کو دیکھا تو میرے قیاس کی تصدیق ہو گئی۔ وہاں میں نے پایا کہ قبة الصخرا کے کمپاؤنڈ میں اندر کوئی اسرائیلی فوجی نہیں رہتا۔ اسرائیلی فوجی صرف گیٹ کے باہر ہوتے ہیں۔ اور باہر کھڑے ہوئے ان اسرائیلی فوجیوں کے قد یقینی طور پر عام انسانی قد کے مانند تھے نہ کہ تار کے درخت کے مانند۔ تصویری پروپیگنڈے کی یہ قسم دوسروں کے لئے صرف ایک جھوٹی سیاست ہے مگر مسلمانوں کے لئے وہ مزید اضافہ کے ساتھ ایک نا قابل معافی گناہ۔

Printed page