شاک ٹریٹمنٹ
Al-Risala, January 1999, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے ( لقد خلقنا الانسان فی کبد ) اسی طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ بے شک انسان گھاٹے میں ہے (ان الا نسان لفی خسر ) اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں انسان کا کیس لازمی طور پر خسران کا کیس ہے۔ یہ خود خالق کا مقدر کیا ہوا ہے، اس لئے یہ ناممکن ہے کہ کوئی انسان اس سے بچ سکے۔
اب سوال یہ ہے کہ گھاٹے کے اس معاملہ میں نفع کا پہلو کیا ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کار روحانی پہلو ہے۔ عملی اعتبار سے اس دنیا میں ہر انسان کو نقصان اور تباہی سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ہر انسان کے لئے لازمی طور پر یہ مقدر ہے کہ وہ غلطیاں اب کامیاب وہ ہے جس کے اندر ان تلخ تجربات کے بعد خود احتسابی کا جذبہ جاگے۔ جو اپنے آپ پر نظر ثانی کر کے زندگی کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ خود احتسابی کا یہ تعمیری عمل صرف اس انسان کے اندر جاری ہوتا ہے جو اعتراف پر جو واقعات کا بے لاگ جائزہ لے اور پھر اپنی کوتاہیوں کا کھلے طور پر اعتراف کرے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس دنیا میں آنے والا ہر آدمی مریض ہے۔ زندگی کے تجربات اسی فطری بیماری کو دور کرنے کے لئے شاک ٹریٹمنٹ کی حیثیت رکھتے ہر آدمی گویا ایک مریض ذہن ہے۔ کامیاب وہ ہے جس کا خاتمہ اس طرح ہو کہ وہ اپنے مریض ذہن کی اصلاح کر کے اس کو ایک صحت مند ذہن بنا سکا ہو۔ ایسے ہی لوگ موت کے بعد والی دنیا میں کامیاب زندگی کے حق دار ہوں گے۔