Al-Risala · February 1999

سوال و جواب

Al-Risala, February 1999, pp. 40–46

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کئی مذہبوں کو پڑھا ہے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ سب مذہب ایک ہیں۔ سب مذہب ایک ہی سچائی کی طرف جاتے ہیں۔ آج کل لوگوں میں یہ سوچ آگئی ہے کہ میرا ہی مذہب اچھا اور سچا اس کی وجہ سے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ سب مذہب یکساں ہیں تو تمام جھگڑے اپنے آپ مٹ جائیں گے۔ اس بارے میں اپنی رائے دیں (گوپال شرما، نئی دہلی) سب مذہب ایک ہیں کا نظریہ ایک غیر علمی اور غیر واقعی نظریہ ہے۔ کیونکہ مذہبوں کے درمیان اختلاف ایک واضح حقیقت ہے۔ مثال کے طور پر اسلام میں خالق اور مخلوق کی علیحدگی کا تصور ہے، جب کہ ہندو دھرم میں دونوں کو ایک مانا جاتا ہے، اسی کا نام ادویت واد ہے۔ اسی طرح اسلام میں پیغمبر کا تصور ہے اور ہندو دھرم میں خدائی اوتار کا تصور۔ اسلام میں موت کے بعد سزا اور جزا کا تصور ہے اور ہندو دھرم میں آوا گمن کا تصور، وغیرہ۔ جہاں تک سماجی اتحاد کا معاملہ ہے، اس کا کوئی تعلق مذہبی اتحاد سے نہیں۔ ساری تاریخ بتاتی ہے کہ بار بار ایک مذہب کے لوگ آپس میں لڑتے رہے ہیں مثلاً کورو اور پانڈو دونوں ہندو تھے۔ اس کے باوجود ان میں زبردست جنگ ہوئی۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں عیسائی قومیں ایک دوسرے کے خلاف لڑیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کی ۱۹۷۱ کی جنگ یا افغانستان کی موجودہ جنگ میں دونوں فریق مسلمان ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اختلاف ایک فطری چیز ہے، وہ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ اختلاف انسانوں کے درمیان ہر حال میں باقی رہتا ہے، وہ کسی بھی صورت میں ختم نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں اتحاد اور امن کی حقیقی بنیاد صرف ایک ہے، اور وہ ہے اسپرٹ آف ٹالرینینس۔ ہمیں لوگوں کے اندر ٹالرینینس اور باہمی احترام کا مزاج پیدا کرنا چاہئے۔ نہ کہ بے فائدہ طور پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔ انسانوں کے درمیان اتحاد کا تعلق خود انسان کے اپنے مزاج سے ہے نہ کہ کسی قسم کے خارجی

کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کے اسلامی مدرسوں میں تشدد اور علیحدگی پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس طرح وہ ملک میں منفی رول ادا کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں ان مدرسوں کو باقی رکھنے کا جواز ہے (محمد عمران، راشٹریہ سہارا، دہلی)

یہ بالکل بے بنیاد بات ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ملک میں تشدد پسندی اور علیحدگی پسندی کارجان ہے مگر وہ زیادہ تر سیاسی لیڈروں کا پیداکردہ ہے، ان کا مدرسوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ان مدرسوں میں دین اور اخلاق کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ان مدرسوں میں ایسے لوگ تیار کئے جاتے ہیں جو اصول پسند اور اور اسی کے ساتھ وہ سماج میں مارل ٹیچر بن کر رہ سکیں۔ میں خود مدرسہ کے اسی تعلیمی نظام کی پیداوار ہوں۔ اور میں پورے اعتماد کے ساتھ اس قسم کے الزام کی تردید کر سکتا سیاست اور میڈیا یہ دو چیزیں لوگوں کے کردار کو بری طرح تباہ کر رہے ہیں۔ میں مدرسہ کے نظام کو مزید طاقتور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ موجودہ اخلاقی بگاڑ کے سیلاب کو روک سکیں۔

ہدایہ کا ایک جز یہ ہے ”قتال الكفار واجب وان لم يبدونا“ (کفار سے قتال واجب ہے اگرچہ وہ ہم سے قتال کی ابتدا نہ کریں) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل اسلام اور اہل کفر کے درمیان تعلق کی دائمی نسبت محاربہ کی ہے۔ اور اہل کفر سے اہل ایمان کو جنگ کرنا مطلقاً واجب ہے۔ اسی طرح کی بات امام ابن القیم نے زاد المعاد میں جہاد کے سلسلہ میں بحث کرتے ہوئے، اور سید قطب شہید نے اپنی مشہور کتاب معالم في الطريق میں اسی کو بنیاد بنا کر ایک لمبی بحث لکھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات علمی اور شرعی طور پر ثابت ہے (غضریف شہباز ندوی، ابوالفضل انکلیو نئی دہلی)

دائمی محاربہ کا نظریہ نہ قرآن کی کسی براہ راست نص میں ہے اور نہ حدیث میں۔ وہ تمام تر کچھ فقہا اور علما کے قیاس پر مبنی ہے۔ اور دائمی محاربہ جیسا سنگین مسئلہ صرف نص صریح سے ثابت ہونا چاہئے نہ کہ قیاس سے۔ مثال کے طور پر قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کفار و مشرکین جب تک تم سے سیدھے (پرامن) رہیں تم بھی ان سے سیدھے (پرامن) رہو (التوبہ ۷) قرآن کی یہ آیت واضح طور پر مذکورہ نظریہ سے ٹکراتی ہے۔ اسی طرح ایک متفق علیہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا کرو بلکہ اللہ سے عافیت مانگو (لا تتمنوا لقاء العدو واسالوا الله العافية) یہ حدیث بھی واضح طور پر مذکورہ نظریہ کی تردید مزید یہ کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تم سے آسانی چاہتا ہے (البقرہ ۱۸۵) اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ دین آسان ہے (الدین یسر) مگر مذکورہ نظریہ دین کو نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن بنا دیتا ہے۔ اس کی ایک جدید مثال کمیونزم ہے۔ اس کو بھی ابدی محاربہ کے نظریہ پر قائم کیا گیا تھا مگر تقریباً سو سال کے تجربہ کے بعد وہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ اگر ابدی محاربہ کا حکم ہو تو یہ نعوذ باللہ اسلام کو غیر ابدی قرار دینے کے ہم معنی ہو گا۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے لئے اس دنیا میں صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے۔ ہلاکت یا منافقت۔ یعنی یا تو وہ ساری دنیا میں غیر مسلم قوموں سے لڑ کر اپنے کو ہلاک کرتے رہیں یا ابدی محاربہ کا عقیدہ رکھتے ہوئے ظاہری طور پر مصالحت کی روش اختیار کر لیں جس کا دوسرا نام منافقت ہے۔

آپ نے اپنی متعدد تحریروں میں تقسیم ہند کو ایک غلط فیصلہ قرار دیا ہے۔ آپ کے نزدیک تقسیم ہند کی تحریک نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے بیچ مطلوب دعوتی تعلق کو نقصان پہنچایا ہے۔ قومیں اسی تحریک کے باعث ایک دوسرے سے نفرت کرتی ہیں۔ ہم یہ بات تسلیم کر سکتے ہیں

لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان کے وجود میں آنے کے پچاس سال بعد اس بحث کا فائدہ کیا ہے۔ تاریخ کے پہیہ کو الٹا گھمایا جا سکتا ہے (طالب محسن، لاہور)

پاکستان کے بیشتر لکھنے اور بولنے والے بنگلہ دیش پر اور بنگلہ دیش کی قیادت پر تنقید کرتے ظاہر ہے کہ اس کا مقصد یہ نہیں کہ بنگلہ دیش کے معاملہ میں ”تاریخ کے پہیے کو الٹا گھمایا “ اس قسم کی تنقیدوں کا مقصد صرف اس ذہنیت پر تنقید ہوتا ہے جس نے بنگلہ دیش کو اسی طرح پاکستان کے بارے میں میں نے جو کچھ لکھا ہے اس کا مقصد بھی تقسیم اور تفریق کی ذہنیت پر تنقید ہے نہ کہ تاریخی معنوں میں وجودِ پاکستان پر تنقید۔ آج یہ صورت حال ہے کہ دنیا کے جس ملک میں بھی مسلمان اس کے کسی خطہ میں اکثریت رکھتے ہیں وہاں وہ مرکزی لیڈر شپ سے ٹکڑاؤ کر کے اپنا علیحدہ مسلم پاکٹ بنانا چاہتے ہیں۔ یہ ذہنیت میرے نزدیک اسلامی روح کے سراسر خلاف ہے۔ اسلام پھیلاد کو پسند کرتا ہے نہ کہ سمٹنے کو۔ کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی قوموں کو خدا کے سایہ رحمت میں لایا جائے نہ کہ ان کو غیر قوم قرار دے کر ان سے جدائی اختیار کر لی جائے۔

مسلمانوں کے اندر باہمی مسلکی جھگڑے کیا اپنی جہالت کی وجہ سے ہیں یا اس کے لئے غیر قوموں کی طرف سے ہوا دی جاتی ہے۔ یعنی یہ صورت حال مسلمانوں کی کسی داخلی کمزوری کا نتیجہ ہے یا وہ اغیار کی سازش کا نتیجہ ہے (عبد الملک المظاہری، حیدر آباد)

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ تمہارے اوپر جو مصیبت بھی آتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے (الشوریٰ ۳۰) اس کے مطابق ہمیں ہر مصیبت یا افتاد کا سبب خود اپنی کمزوریوں کو

سمجھنا چاہئے نہ کہ اغیار کی مخالفانہ کارروائیوں کا نتیجہ۔ یہ دنیا مسابقت کی دنیا ہے، اس لئے یہاں مسلمانوں کے خلاف سازشیں بھی ضرور ہوں گی۔ ایسا ہونا بالکل فطری ہے۔ مگر اس کا حل دوسروں سے لڑنا نہیں ہے بلکہ اس کا حل قرآن کے مطابق ، یہ ہے کہ خود اپنے اندر تقویٰ اور صبر کی طاقت پیدا کی جائے۔ صبر اور تقویٰ ہر سازش کے خلاف یقینی ڈھال ہے (آل عمران ۱۲۰) آپ کی تحریروں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے جیسے کہ آپ شعوری یا لاشعوری طور پر تصوف کے نظریہ وحدت شہود کے قائل ہیں۔ کیا آپ غیر مسلموں کو اسلام کے قریب لانے کے لئے اس نظریہ کی وقتی ضرورت اور مصلحت کے تحت قائل ہیں یا یہ کہ باقاعدہ اسے ایک ابدی نظریہ اور حقیقت سمجھتے ہیں۔ (محمد اورنگ زیب صالح، اوکاڑی، پاکستان)

وحدت وجود اور وحدت شہود دونوں ہی نظریہ کو میں غلط سمجھتا ہوں۔ میں نے کبھی اپنی تحریروں میں ان کی تائید نہیں کی، نہ وقتی اور نہ مستقل۔ یہ دونوں نظریات لفظی فرق کے باوجود حقیقتًا ایک وحدت وجود کا مطلب سادہ طور پر یہ ہے کہ تمام موجودات خدا کا جز ہیں، اور وحدت شہود کا مطلب یہ ہے کہ تمام موجودات خدا کا مظہر ہیں۔ ان دونوں میں کوئی حقیقی فرق نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ کائنات کی تمام چیزوں کو خدا نے اپنے حکم سے پیدا کیا ہے۔ خالق الگ ہے اور مخلوق الگ۔ دونوں کے درمیان کوئی وجودی اشتراک نہیں۔

میں الرسالہ کا قاری ہوں اور آپ جو کام کر رہے ہیں اس کا قدرداں ہوں۔ لیکن میری رائے یہ ہے کہ ہمارے ملک میں زیادہ پڑھے لکھے لوگ نہیں ہیں۔ ایسی حالت میں رسالہ اور کتاب کے ذریعہ ان لوگوں تک دعوت نہیں پہنچائی جاسکتی۔ ہمیں ایسی کوئی ترکیب عمل میں لانا چاہئے کہ

ایسے لوگوں تک بھی دعوت کا پیغام پہنچ سکے ۔ (سید عبد الحفیظ ، بھٹڑ گاؤں ، جل گاؤں) ہر زمانہ کی طرح آج بھی مسلمانوں میں خواص اور عوام دونوں قسم کے لوگ موجود ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس وقت دونوں ہی طبقوں میں اسلامی دعوت کا کام جاری ہے۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے، تبلیغی جماعت ان کے درمیان وسیع اور مؤثر کام کر رہی ہے۔ اور ماشا اللہ اس کے مثبت نتائج بھی نکل رہے ہیں۔ ہم نے اصلا خواص کے طبقہ کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔ پچھلے پچیس سال کی کوشش کے نتیجہ میں آج یہ کہا جا سکتا ہے کہ خواص کے طبقہ میں اسلام کا پیغام وسیع پیمانہ پر پہنچ رہا ہے۔ اور اس کے مثبت نتائج بھی واضح طور پر نکل رہے ہیں۔ اس تحریک کے نتیجہ میں نہ صرف ہندوستان بلکہ دوسرے ملکوں کے ہزاروں لوگوں کو از سر نو اسلام کی صداقت پر یقین حاصل ہوا ہے۔ پچھلے چند برسوں سے ہندوستان کے مسلمانوں میں احتجاج اور ٹکراؤ کا مزاج بڑی حد تک ختم ہو گیا ہے۔ اب وہ تعلیم اور تجارت جیسے تعمیری شعبوں میں سرگرم ہو رہے ہیں۔ بھی سب سے زیادہ الرسالہ تحریک کا نتیجہ ہے۔ الرسالہ تحریک اگر چہ براہ راست طور پر تعلیم یافتہ طبقہ تک پہنچتی ہے مگر یہ تعلیم یافتہ لوگ اپنے اپنے حلقہ میں عوام تک بھی اس تعمیری آواز کو پہنچانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

ماہنامہ الرسالہ کا میں ایک ریگولر ریڈر ہوں۔ اور اس کو پسند کرتا ہوں۔ مگر کبھی کبھی آپ نزاعی معاملات میں پڑ جاتے ہیں جو آپ کو نہیں کرنا چاہئے۔ مثلاً بابری مسجد ، وندے ماترم جیسے اشو میں پڑ کر آپ نے اپنے کو متنازعہ شخصیت بنا لیا۔ یہ آپ کے مثبت مشن کے لئے مفید نہیں (شفیع الدین احمد، دہلی) کوئی بھی شخص جو اجتماعی تحریک چلائے، اس کے لئے نزاع سے بچنا ممکن نہیں۔ نزاع آپ کے اندر نہیں ہوتی بلکہ وہ دوسروں کے دماغ میں ہوتی ہے۔ اور وہ اس کو آپ کے ساتھ منسوب کر کے غیر

ضروری طور پر نزاعی بنا دیتے ہیں۔ کوئی شخص خواہ کتنا ہی محتاط ہو، وہ ایسے لوگوں کی زبان و قلم سے بچ مثال کے طور پر مولانا سید ابوالحسن علی ندوی اپنی اعتدال پسندی اور غیر اختلافی روش کے لئے مشہور ہیں۔ مگر ان کے بارے میں بھی متعدد بار اخبار میں اس قسم کی باتیں آتی رہی ہیں۔ ایک تازہ مثال، ہفت روزہ نئی دنیا (دہلی) کے شمارہ اے۔ ۷ دسمبر ۱۹۹۸ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس میں ایک مسلم رہنما مولانا موصوف کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے کیا مطلب نکالا جائے کہ مولانا علی میاں اندر ہی اندر سازش کر رہے ہیں اور ایسے بیانات دے کر بی جے پی کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہ کہ مولانا علی میاں اس سازش کو سمجھنے میں ناکام رہے اور مسلمانوں کو غلط مشورہ دے دیا ہے جس کی میں مکمل طور پر مخالفت کرتا ہوں......... مولانا علی میاں کا بیان بی جے پی کے مقصد کو پورا کر دے گا....... میں مولانا علی میاں کی رائے سے بالکل اتفاق نہیں کرتا ہوں کیونکہ اس سے وشو ہندو پریشد اور بی جے پی کی مسلمانوں کو تعلیم سے دور کرنے کی سازش کامیاب ہو جائیگی ....... میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ انھوں نے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنالی ہے جو مسلمانوں کے لئے بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہوگی (صفحہ ۵) اسی صورت حال کے بارے میں ایک عربی شاعر نے کہا تھا۔ قبل ان الاله ذوولد قيل ان الرسول قد كهنا مانجا الله والرسول معاً من لسان الورى فكيف انا جہاں تک متنازعہ شخصیت کا تعلق ہے تو یہ سراسر ایک اضافی بات ہے۔ تاریخ کے تمام بڑے رہنما اپنے زمانہ میں متنازعہ شخصیت تھے اور بعد کے زمانہ میں مسلمہ شخصیت۔ ابو حنیفہ، فخر الدین الرازی، ابن تیمیہ اپنے معاصرین کی نظر میں متنازعہ شخصیت تھے۔ مگر بعد والوں کی نظر میں وہ امام بن گئے۔ ہندوستان میں شاہ ولی اللہ، سرسید، سید حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد اپنے زمانہ میں متنازعہ شخصیت بن گئے تھے۔ معاصرین کی نظر میں متنازعہ شخصیت بننا اس بات کی پیشگی اطلاع ہے کہ مستقبل میں اس کو یقینی طور پر غیر متنازعہ شخصیت کا مقام ملنے والا ہے۔

Printed page