عمل اور نیت
Al-Risala, March 2000, pp. 9–10
By Maulana Wahiduddin Khan
صحیح البخاری کا پہلا باب اگرچہ آغاز وحی (كيف كان بدء الوحی الی رسول الله صلی الله عليه وسلم) ہے۔ مگر اہمیت کی بنا پر اس میں سب سے پہلی حدیث نیت سے متعلق درج کی گئی ہے۔ امام البخاری اپنا سلسلہ سند بتاتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ علقمہ بن وقاص اللیثی کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن الخطاب کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سناکہ میں نے رسول الله صلى الله عليه وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ عمل کا دار و مدار نیت پر ہے۔ ہر آدمی کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس آدمی کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے تھی تو اس کی ہجرت اسی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔
کوئی عمل، خواہ بظاہر وہ دینی کیوں نہ ہو، اس کا بدلہ آدمی کو اسی نیت کے اعتبار سے ملتا ہے جس کے تحت اس نے وہ عمل کیا تھا۔ گویا عمل کا مدار آدمی کی اپنی حالت نفسی پر ہے نہ کہ خود عمل کی شکل ظاہری پر۔
مثلاً کلمہ کے الفاظ دہراکر آدمی مومن بنتا ہے۔ مگر ایمان کا مدار محض کلمہ کے صحت تلفظ پر نہیں ہے، بلکہ ایمان کا اقرار کرنے والے آدمی کی قلبی کیفیت پر ہے۔ نماز کا مدار اس کے مسائل ظاہری کی تعمیل پر نہیں ہے بلکہ خود نمازی کے باطنی خشوع پر ہے۔ انفاق کا مدار اس کی مقدار پر نہیں ہے بلکہ اس پر ہے کہ آدمی نے اپنا انفاق خالص الله کے لئے کیا تھا یا اس میں کوئی اور مقصد شامل تھا، وغیرہ۔
آدمی کی جیسی نیت ہواسی کے لحاظ سے اس کی پسند بنتی ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اسی کام کی طرف جھکتا ہے جس میں اس کی نیت پوری ہوتی ہو۔ اس کے علاوہ جو کام ہیں ان کی طرف اسے رغبت نہیں ہوتی۔ شہرت چاہنے والا آدمی انھیں کاموں کی طرف دوڑتا ہے جن میں نمائشی پہلوموجود ہو۔ ایک مادیت پسند آدمی انھیں میدانوں میں سرگرم ہوتا ہے جس میں
اسے مالی فائدہ پانے کی امید ہو۔ ایک قیادت کا شائق آدمی انھیں چیزوں میں دھوم مچاتا ہے جن کے ذریعہ یہ امید ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کا قائد بن جائے گا۔
دنیا کے لئے کرنے والے کا عمل دنیا ہی میں رہ جائے گا اور جو شخص آخرت کے لئے عمل کرے وہ اپنے عمل کا انجام مزید اضافہ کے ساتھ آخرت میں پائے گا۔ قرآن وحدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جو آدمی صالح نیت کے ساتھ عمل کرے اسی کا عمل اللہ تعالی کے یہاں مقبول ہوتا ہے۔ اور جس آدمی کی نیت صالح نہ ہو اس کا بظاہر نیک عمل بھی خدا کے یہاں قبولیت کا درجہ حاصل نہیں کرے گا۔
مثلاً ایک آدمی دکھاوے کے لئے مال خرچ کرے تو اس پر اس کے لئے کوئی ثواب نہیں اسی طرح کوئی آدمی دکھاوے کے لئے عبادت کرے تو وہ بھی اس کو کسی ثواب کا مستحق نہیں بنائے گی۔ حتیٰ کہ اگر کوئی آدمی شہرت کے لئے جہاد کرے تو ایسا جہاد بھی خدا کی نظر میں بے قیمت ہو کر رہ جائے گا۔
اس معاملہ کے دو درجے ہیں۔ ایک کو شعوری اور دوسرے کو غیر شعوری کہا جاسکتا شعوری درجہ یہ ہے کہ آدمی پیشگی طور پر یہ سوچ کر کوئی کام کرے کہ اس کے ذریعہ سے اس کو دنیوی فائدے حاصل ہوں گے۔ لوگوں میں اس کی عزت اور مقبولیت بڑھے گی۔ اس معاملہ کی غیر شعوری صورت یہ ہے کہ آدمی پیشگی طور پر اور بالکل سوچ سمجھ کر تو ایسا کام نہ کرے مگر اپنے مزاج کے اعتبار سے وہ ایسا بن گیا ہو کہ اس کو صرف نمائشیی کاموں میں غیر نمائش کام اس کو اہم نظر نہ آئیں، اس بنا پر وہ اپنے آپ کو اس میں شریک بھی نہ اس کو مادی فائدے والے کاموں سے رغبت ہو اور غیر مادی قسم کے کاموں سے بے ایسا آدمی بھی وسیع تر تقسیم کے اعتبار سے مذکورہ زمرہ ہی میں شامل ہے۔