Al-Risala · March 2000

ہر قل کاواقعہ ۲۰اگست

Al-Risala, March 2000, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

۶۳۶ء کو ایک فیصلہ کن واقعہ ہوا جو تاریخ میں دریائے یرموک کی جنگ (Battle of the Yarmuk River) کے نام سے مشہور ہے۔ یرموک ایک دریا کا نام ہے جو شام اور اردن کے درمیان واقع ہے۔ مذکورہ تاریخ کو یہاں عربوں اور رومیوں کے درمیان جنگ عرب فوج کے سردار خالد بن ولید تھے، اور رومی فوج کی قیادت تذارق (Theodorus) کر رہا تھا جو شہنشاہ ہرقل کا بھائی تھا۔

اس جنگ میں رومی فوج کو مکمل شکست ہوئی۔ خود توارق قتل کر دیا گیا۔ یہ جنگ اس پورے علاقہ کے لئے فیصلہ کن تھی، چنانچہ اس کے بعد پورا شام تقریبا مقابلہ عربوں کے قبضہ یرموک کی شکست کی اس اہمیت سے شہنشاہ ہرقل بخوبی واقف تھا جو اس وقت حمص (شام) میں تھا۔ اس کے بعد وہ حمص سے روانہ ہو گیا۔ مورخ بلاذری کی روایت کے مطابق، اس وقت اس کی زبان پر یہ کلمہ تھا: سلام عليك يا سوريا، سلاما لالقاء بعده (اے شام، تجھ کو آخری سلام، اب تجھ سے میری ملاقات نہیں ہوگی)

ہر چیز جو انسان کو ملی ہوئی ہے وہ آخر کار اس کا ساتھ چھوڑنے والی ہے۔ موت سے پہلے یا موت کے وقت۔ مگر انسان آخر وقت تک چیز کو اپنی چیز سمجھتا ہے۔ وہ سوچ نہیں پاتا کہ کوئی چیز اس کی اپنی نہیں۔ ہر چیز خدا کی چیز ہے۔ وہ جب تک چاہے کسی کے پاس رکھے، اور جب چاہے

آدمی جو کلمہ ملک چھن جانے کے بعد کہتا ہے، اگر وہی کلمہ وہ ملک چھننے سے پہلے کہے تو وہ اس کے نامہ اعمال میں ایک قیمتی عمل کے طور پر لکھا جائے ۔ مگر آدمی اس حقیقت شناسی کا ثبوت ہر آدمی چھننے کے بعد کہتا ہے نہ کہ چھننے سے پہلے۔ اور چھننے کے بعد کہنا کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔

Printed page