مسئلہ اور غم
Al-Risala, March 2000, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
کوئی آدمی جب بھی کسی مسئلہ سے دوچار ہوتا ہے تو ایسا ہمیشہ فطرت کے قانون کے تحت لیکن مسئلہ کو اپنے لئے ایک غم بنا لینا یہ انسان کا اپنا اضافہ ہے۔ ابتدائی طور پر کوئی مسئلہ صرف ایک مسئلہ ہوتا ہے۔ لیکن جب آپ مسئلہ پیش آنے پر غم میں مبتلا ہو جائیں تو اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ نے فطرت کے واقعہ پر اپنی طرف سے ایک غیر مطلوب اضافہ کر دیا۔ مسائل کے مقابلہ میں یہی انسان کی اصل غلطی ہے۔ یہ غلطی بے حد سنگین ہے کیونکہ وہ مسئلہ کے حل میں معاون تو نہیں بنتی، البتہ وہ اس کے حل میں ایک فیصلہ کن رکاوٹ بن جاتی یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی رسی میں گرہ پڑنے کے بعد اس کو اور زیادہ کس دیا جائے۔ آدمی کو یہ بات جاننا چاہئے کہ اس دنیا میں وہ تنہا نہیں ہے یہاں بہت سے دوسرے لوگ ہیں جن کے درمیان اس کو زندگی گزارنا ہے۔ اس دنیا میں انسان کی حیثیت گویا ایک بہت بڑی مشین کے اندر ایک چھوٹے پرزہ کی ہے یا وہ ایک بے حد مصروف سڑک پر ایک راہگیر ہے۔ انسانی زندگی کی یہی مخصوص نوعیت ہے جو مسائل پیدا کرتی ہے۔ یہ مسائل کبھی عالم فطرت کی طرف سے پیش آتے ہیں اور کبھی دوسرے انسانوں کی طرف سے۔ دونوں حالتوں میں مسئلہ کا حل یہ ہے کہ ضبط و تحمل کے ساتھ اس کا سامنا کیا جائے۔ مسئلہ کو غم کا سوال بنانے کے بجائے اس کو تدبیر کا سوال بنایا جائے۔ مسئلہ پیش آجانے کے بعد اگر آپ صبر و تحمل کا ثبوت دیں تو آپ کی دلجمعی اور آپ کا ذہنی سکون باقی رہے گا۔ آپ اس پوزیشن میں ہوں گے کہ آپ اپنی پوری صلاحیت کو پیش آمدہ مسئلہ کے حل کے لئے استعمال کر سکیں۔ اور اگر ایسا ہو کہ آپ مسئلہ پیش آنے کے بعد غم میں مبتلا ہو کر اس کو اپنے لئے درد سر بنالیں تو مسئلہ کے مقابلہ میں آپ اپنا ضروری حصہ ادا کرنے کے قابل نہ رہیں گے۔ یہ ایسا ہی ہو گا جیسے اپنے حریف کو خود سے بلا مقابلہ جیت (unopposed victory) کا موقع دے دیا جائے۔