Al-Risala · March 2000

کامیاب فارمولا

Al-Risala, March 2000, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

بنگلور کے ڈاکٹر احمد سلطان انوکھی شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ٹیپو سلطان کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ مگر ان کا مزاج برعکس طور پر یہ تھا کہ محبت سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ ۱۹۹۹ کو تقریبا ساٹھ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔

وہ جب بھی دہلی آتے تو مجھ سے ملتے اور اپنے "کامیاب فارمولا" کی سبق آموز مثالیں ایک بار ان کے صاحبزادے رات کے وقت گاڑی لے کر باہر نکلے۔ وہ گیارہ بجے واپس آئے تو وہ گاڑی باہر کھڑی کر کے گھر میں داخل ہوئے اور تیزی سے اپنے کمرے میں چلے تھوڑی دیر کے بعد دروازے پر دستک کی آواز آئی۔ ڈاکٹر احمد سلطان صاحب نے دروازہ کھولا تو دو ہندو نوجوان باہر کھڑے ہوئے تھے۔ انھوں نے غصہ کے لہجہ میں بتایا کہ آپ کے صاحبزادہ نے ہمارے اسکوٹر کو ٹکر ماری اور پھر بھاگ آئے۔ ڈاکٹر صاحب نے کوئی جواب دینے کے بجائے نرمی سے کہا کہ اندر تشریف لائیے، بیٹھ کر بات ہوگی۔ دونوں اندر آگئے۔ صاحب نے ان کو ایک میز کے کنارے کرسی پر بٹھایا اور کہا کہ اس وقت سردی کا موسم ہے۔ آئیے ہم لوگ پہلے چائے پیئیں پھر بات کریں گے۔ تھوڑی دیر کے بعد ان کا غصہ ختم ہو چکا تھا، دونوں خوش خوش واپس چلے گئے۔

ایک بار ایک ہندو نوجوان ان کے پاس آیا۔ اس نے رو کر کہا کہ میں ایک بڑے مسئلہ سے آپ میرا مسئلہ حل کیجئے۔ اس نے بتایا کہ مجھ سے ایک غلطی ہو گئی۔ اس کے بعد میرے باپ نے مجھ کو گھر سے نکال دیا۔ چھ مہینے ہو چکے ہیں اور ابھی تک وہ راضی نہیں ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ تم انھیں سمجھانے کی کوشش نہ کرو۔ تم خاموشی سے جاؤ اور اپنے باپ کے قدموں پر سر رکھ کر کہو کہ اے باپ، میری غلطی کے لئے مجھے معاف کر دیجئے۔ نوجوان نے ایسا جب وہ اپنے گھر گیا تو اس کے باپ نے اس کو ڈانٹا۔ بیٹا کوئی جواب نہ دیتے ہوئے باپ کے

قدموں پر گر پڑا۔ اس کے بعد باپ کا جذبہ پدری ابھر آیا۔ اس نے بیٹے کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔ چند منٹوں کے اندر ساری بات ختم ہو گئی۔

ایک بار ڈاکٹر صاحب ایک شہر میں گئے۔ وہاں کے مسلمانوں نے بتایا کہ جلد ہی یہاں کٹر ہندوؤں کا ایک جلوس نکلنے والا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ زبردست تیاری کر رہے ہیں۔ جلوس مسلم محلہ سے لے جائیں گے اور کوئی نہ کوئی بہانہ نکال کر فساد کریں گے۔ نے کہا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ لوگ میرا ایک مشورہ مان لیجئے اور پھر یہاں کوئی فساد نہیں ہوگا۔ آپ لوگ ایسا کیجئے کہ جس دن جلوس نکلنے والا ہو، بازار سے دو درجن پھولوں کے ہار لے آئیے۔ جب ان کا جلوس آپ کی مسجد کے سامنے پہنچے تو آپ لوگ پھولوں کا ہار لے کر باہر آئیں اور جو ہندو جلوس کے آگے آگے چل رہے ہیں ان سے کہیں کہ ہم آپ کا سواگت کرتے ہیں اور پھر ان کے گلے میں ایک ایک ہار ڈال دیں۔ مسلمانوں نے ایسا ہی کیا، نتیجہ یہ ہوا کہ جس دن وہاں ہندو مسلم ٹکراؤ ہونے والا تھا، وہ ان کے لئے ہندو مسلم ملاپ کا دن بن گیا۔ ایک بار بنگلور میں وہ اپنے گھر کے قریب سڑک پر چل رہے تھے۔ پیچھے سے شہر کے ایک ہندو کی گاڑی آئی جو مسلمانوں کا مخالف سمجھا جاتا تھا۔ اس کی گاڑی ڈاکٹر صاحب سے ٹکرا گئی اور ڈاکٹر صاحب سڑک پر گر پڑے۔ ان کو کئی جگہ زخم آئے۔ مذکورہ ہندو اپنی گاڑی روک کر ڈاکٹر صاحب کے پاس آیا اور کہا کہ آپ میری گاڑی پر بیٹھ جائیں میں آپ کو لے کر اسپتال چلتا انھوں نے کہا کہ تم فوراً یہاں سے چلے جاؤ۔ یہ مسلم علاقہ ہے۔ مسلمانوں نے اگر تم کو دیکھ لیا تو وہ تم کو مارے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے سخت اصرار کر کے اس کو وہاں سے بھیج اس کے بعد مذکورہ ہندو ہمیشہ کے لئے ڈاکٹر صاحب کا دوست بن گیا۔

ڈاکٹر سلطان کے دل میں کسی کے لئے نفرت نہ تھی۔ وہ ہر ایک کو پیار و محبت کی نظر سے یہی وجہ ہے کہ وہ مذکورہ کامیاب فارمولہ اپنانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس دنیا میں محبت سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ مگر نادان لوگ نفرت کو سب سے بڑا ہتھیار سمجھ لیتے ہیں۔

Printed page