صدی کی شخصیت
Al-Risala, March 2000, pp. 23–25
By Maulana Wahiduddin Khan
عالم اسلام کی معروف شخصیت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کا ۳۱ دسمبر ۱۹۹۹ کو انتقال مولانا موصوف ۱۹۱۳ء میں پیدا ہوئے ۔ ان کی شخصیت گویا سو سالہ دور کا احاطہ کئے ہوئے تاریخ میں وہ اس دور کی علامت کے طور پر دیکھے جائیں گے۔ ان کو بلاشبہ صدی کی شخصیت (Man of the Century) کہا جا سکتا ہے۔
مولانا سید ابو الحسن علی ندوی بیک وقت مختلف اور متنوع خصوصیات کے مالک تھے۔ ایک ممتاز عالم تھے۔ دار العلوم ندوۃ (لکھنو) کو ان کے زمانہ میں غیر معمولی ترقی حاصل ہوئی۔ نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور اسی طرح دوسرے بہت سے اداروں کی کامیاب قیادت کی۔ بیسویں صدی میں اٹھنے والی تقریبا تمام بڑی بڑی اسلامی تحریکوں سے ان کا براہ راست یا بالواسطہ وہ ہر حلقہ اور ہر گروہ میں یکساں طور پر عزت و اعتماد کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ بلا اختلاف ایک بین اقوامی شخصیت کہا جا سکتا ہے۔
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک فرد اپنی قوم میں نمائندہ قوم کی حیثیت حاصل کر لیتا ہے۔ موصوف کو یہی حیثیت حاصل تھی۔ ایسا شخص کسی قوم کے لئے بے حد قیمتی ہے۔ اپنی اس حیثیت کی بنا پر وہ پوری قوم کے لئے شیرازہ اتحاد بن جاتا ہے۔ وہ اپنی قوم اور دوسری قوموں کے درمیان عملارابطہ کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ وہ تمام لوگوں کے لئے مرجع قوم بن جاتا ہے۔ یعنی ایک ایسا شخص جس سے پوری قوم کے معاملہ میں رجوع کیا جا سکے۔
مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کی ذات میں یہ تمام حیثیتیں بہ تمام و کمال جمع ہو گئی تھیں۔ مولانا محمد منظور نعمانی نے ایک بار مولانا موصوف کو ”رجل موہوب“ کہا تھا۔ ابو الحسن علی ندوی کے لئے یہ خطاب لفظ بلفظ درست ہے۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کا کارنامہ حیات تقریباً پوری صدی پر پھیلا ہوا ہے۔ وہ اپنی ذات میں ایک متحرک صدی تھے۔
آخری تاریخ کو یہ متحرک شخصیت خاموش ہوگئی۔ وہ انسانوں سے جدا ہو کر اپنے رب سے جاملی انا للہ وانا اليه راجعون۔
مولانا ابوالحسن علی ندوی ’’اک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے اندر بیک وقت مختلف اور متنوع خصوصیات موجود تھیں۔ مولانا سید مناظر احسن گیلانی نے کہا تھا کہ یورپ میں جو کام اکادمی کرتی ہے، وہ ہمارے یہاں ایک آدمی کرتا ہے“۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی اس قول کا ایک زندہ نمونہ تھے۔ وہ ایک فرد تھے مگر انھوں نے کئی اداروں کے برابر کام کیا۔ مولانا موصوف نے ایک طرف دار العلوم ندوہ جیسے ادارہ کے ذریعہ مسلمانوں کو علم دین سے بہرہ ور کرنے کی کوشش کی اور دوسری طرف مؤسسہ مطالعات و تحقیقات اسلامی لکسمبرگ جیسے اداروں کے ذریعہ لوگوں کے لئے عصری معرفت کا سامان کیا۔ ایک طرف انھوں نے اپنی موثر تقریروں کے ذریعہ مسلمانوں میں عملی جوش کو ابھارا اور دوسری طرف انھوں نے اپنی تحریروں کے ذریعہ انھیں گہرے علمی شعور سے آشنا کیا۔
ایک طرف انھوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذریعہ مسلمانوں کے ملی تحفظ کا انتظام کیا تو دوسری طرف ”پیام انسانیت“ کی تحریک کے ذریعہ انھیں داعی کے مقام پر کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ ایک طرف انھوں نے ردّة ولا ابابکر لھا جیسی کتابوں کے ذریعہ مسلمانوں میں دفاع اسلام کا جذبہ ابھارا اور دوسری طرف ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین جیسی کتابوں کے ذریعہ مسلمانوں کو اپنی تعمیر نو کی طرف متوجہ کیا۔ انھوں نے رابطہ العالم الاسلامی کے اہم رکن کی حیثیت سے عالمی مسلم اتحاد کی کوشش کی اور دوسری طرف رابطہ ادب اسلامی کے صدر کی حیثیت سے مسلمانوں کے اندر علم و ادب کے حصول کا شوق ابھارا۔ ایک طرف انھوں نے مدارس دینیہ کے قیام کے ذریعہ قدیم علوم کو زندہ کیا اور دوسری طرف آکسفورڈ یونیورسٹی کے اسلامک سنٹر کے صدر کی حیثیت سے مسلمانوں کے اندر جدید علوم کے ماہر پیدا کرنے کی کوشش کی۔
مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کی ذات بہت سی اعلی قدروں کا نمونہ بن گئی تھی۔ میں سے ایک چیز وہ ہے جس کی بابت کہا گیا ہے کہ ــــ دنیا سے بے نیاز ہو جاؤ، دنیا خود تمہاری طرف دوڑ کر آئے گی۔ مولانا موصوف دنیا کی چیزوں سے بے نیاز ہو گئے تھے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا نے خود اپنے آپ کو ان کے حوالے کر دیا۔
ایک بار ایک عرب سلطان ندوہ (لکھنؤ) آئے۔ ان کے استقبالیہ میں جو جلسہ ہوا اس میں تقریر کرتے ہوئے مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے ایک عرب بزرگ کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا تھا: نعم الامیر علی باب الفقیر و بئس الفقیر علی باب الامیر۔ مولانا موصوف ساری زندگی اہل دنیا سے بے نیاز رہے۔ مگر اہل دنیا نے خود اپنی ساری متاع ان کے سامنے پیش کر دی۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا گیا۔ ان کو بڑے بڑے ایوارڈ دئے گئے، مثلاً کنگ فیصل ایوارڈ اور اسی طرح برونائی اور عرب امارات کے خصوصی ایوارڈ وغیرہ۔ مولانا موصوف کی ذات اس حقیقت کی ایک عملی مثال تھی کہ مال، عہدہ، عزت، سب انسان کے تابع ہیں نہ کہ انسان ان چیزوں کے تابع ہے۔ انسان اگر اپنی انسانیت کو بلند کر لے تو بقیہ تمام چیزیں اپنے آپ اس کو حاصل ہو جائیں گی، بغیر اس کے کہ اس نے ان چیزوں کے لئے براہ راست جدوجہد کی ہو۔
ایک شاعر نے کسی کے بارے میں کہا تھا: وہ اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ اپنی ذات میں ایک عالم تھے۔ ان کی موت بلاشبہ موت العالم موت العالم کی مصداق ہے۔ تاہم قابل اطمینان بات یہ ہے کہ مولانا موصوف نے اپنے پیچھے اپنے شاگردوں کی عظیم تعداد چھوڑی ہے۔ یقین ہے کہ مولانا موصوف کے بعد ان کی تربیت سے فیض یافتہ یہ حضرات اس عربی شعر کا مصداق ثابت ہوں گے : اذا مات منا سید قام سید (جب ہمارا ایک سردار وفات پاتا ہے تو دوسرا سردار کھڑا ہو جاتا ہے)۔