Al-Risala · March 2000

ملک کی تعمیر اور مسلمان

Al-Risala, March 2000, pp. 26–29

By Maulana Wahiduddin Khan

قومی تعمیر کا عمل ایک مسابقت کا عمل ہے۔ یہ ایک مسابقتی دوڑ ہے۔ معاملہ کے اس پہلو نے قومی تعمیر کے عمل کو ایک بے حد نازک عمل بنا دیا ہے۔ قومی تعمیر کے عمل میں اگر آپ ایک دن کی بھی غفلت کریں تو اس کا خمیازہ آپ کو ایک صدی تک بھگتنا پڑے گا۔ اس کی ایک مثال دستور ہند کا مسئلہ ہے۔ آزادی (۱۹۴۷) کے بعد ملک کے اعلیٰ ترین دماغوں نے ملک کا بظاہر ایک نہایت جامع دستور بنایا۔ مگر اس میں ایک بے حد اہم پہلو جگہ پانے سے رہ گیا۔ اس میں بنیادی حقوق (fundamental rights) کی دفعات تو رکھی گئیں لیکن بنیادی فرائض (fundamental duties) کا اس میں سرے سے کوئی باب ہی نہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آزادی کے بعد پوری قوم نے اپنے حقوق کو تو ضرورت سے زیادہ جانا مگر اپنی ذمہ داریوں کی بقدر ضرورت بھی اسے خبر نہ ہوسکی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری قوم حقوق شناس (right conscious) بن کر رہ وہ فریضہ شناس (duty conscious) نہ بن سکی۔

سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے بعد کو اس کی تلافی کرنا چاہا اور ایک ترمیم کے ذریعہ دستور میں بنیادی ذمہ داریوں کا ایک مختصر باب شامل کیا۔ مگر اب اتنی زیادہ دیر ہو چکی تھی کہ اس ترمیم کے باوجود قومی کردار میں کوئی تبدیلی نہ ہو سکی۔ اس غلطی کے تباہ کن نتائج آج اتنے زیادہ عام ہو چکے ہیں کہ یہاں اس کی مثال دینے کی ضرورت نہیں۔

یہی معاملہ ہندو - مسلم تعلقات کا ہے۔ ۱۹۴۷ میں جب ہندوستان آزاد ہوا تو اس کے بعد ملک میں دو بڑے فرقے موجود تھے۔ ایک ہندو، دوسرے مسلمان۔ عددی اعتبار سے ہندو اکثریت میں تھے اور مسلمان عددی اعتبار سے اقلیت میں تھے۔ یہ تناسب بے حد اہم تھا مگر یہاں بھی بروقت صحیح رہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے دونوں ہی فرقوں کا ذہن غلط رخ پر چل پڑا۔ ایک طرف ہندوؤں کا ذہن یہ بنا کہ مسلمان اس ملک میں بوجھ (liability) کی حیثیت

اور دوسری طرف مسلمانوں کا ذہن یہ بنا کہ ہندوان کے لئے ایک غیر ہمدرداکثریت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس طرح دونوں ہی فرقے ایک دوسرے کے بارے میں غیر حقیقت پسندانہ سوچ کا شکار ہو گئے اور وہ مثبت تاریخی واقعہ انجام نہ پاسکا جو حالات نے دونوں کے لئے مقدر کیا تھا۔

وہ واقعہ یہ تھا کہ ہندو اور مسلمان دونوں ایک دوسرے کو تاریخ کے فیصلے کے طور پر قبول کریں اور فطرت کے اصول پر دونوں کے درمیان صحت مند مقابلہ جاری ہو۔ اگر ایسا ہو تا تو آج ہندوستان بلاشبہ ایک اعلیٰ ترقی یافتہ ملک بن چکا ہو تا، جیسا کہ بہت سے دوسرے ملک اسی حقیقت شناسی کی بنا پر ترقی یافتہ ملک بنے ہوئے ہیں۔

انڈونیشیا کے موجودہ صدر پروفیسر عبدالرحمن وحید سے چند سال پہلے میری ملاقات روم (اٹلی) میں ہوئی ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ انڈونیشیا اور ملیشیا دونوں مسلم ملک سمجھے جاتے ہیں۔ مگر ملیشیا میں زبردست ترقی ہوئی ہے جب کہ انڈونیشیا میں کوئی قابل ذکر ترقی نہ ہو سکی۔ کا سبب کیا ہے۔

پروفیسر عبدالرحمن وحید نے جواب دیا کہ اس کا سبب بالکل ظاہر ہے۔ اصل یہ ہے کہ ملیشیا میں مسلمانوں کو ایک طاقتور اقلیت کا سامنا ہے۔ اس بنا پر وہاں مسلسل طور پر مسابقَت (competition) کا ماحول قائم رہتا ہے۔ مسلمان اور غیر مسلم دونوں ہر لمحہ چوکنار ہتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ اگر غفلت کی تو دوسرا گروہ آگے بڑھ جائے گا، اور وہ اس کے مقابلہ میں پیچھے رہ جائیں گے۔ مسابقت کے اس ماحول نے وہاں دونوں گروہوں کو ملک کا مفید حصہ بنادیا مسابقت کے اس ماحول کی بنا پر دونوں ترقی کر رہے ہیں اور نتیجہ پوراملک ترقی کے راستہ پر

مگر انڈونیشیا کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ کیوں کہ انڈونیشیا میں زیادہ تر مسلمان آباد ہیں۔ اس بنا پر ان کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں۔ اس صورت حال نے انڈونیشیا کے مسلمانوں کو ایک بے

اندیشہ قوم بنادیا ہے۔ چنانچہ وہ سورہے ہیں۔ وہ ملک میں کسی بڑے ترقیاتی عمل کا آغاز نہ کرسکے۔ ہندوستان کا معاملہ بھی تقریباً یہی ہے۔ ہندوستان میں ایک طرف اگر ہندو اکثریت ہے تو دوسری طرف مسلم اقلیت، جو تعداد میں اتنی زیادہ ہے کہ انڈونیشیا کے بعد وہ دنیا کی سب سے بڑی مسلم ملت بن گئی ہے۔

اس صورت حال کا فطری نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ ہندوستان میں دونوں کے درمیان اسی قسم کا صحت مند مقابلہ جاری ہو جس کی ایک مثال ملیشیا میں دکھائی دیتی ہے۔ مگر بد قسمتی سے دونوں ہی گروہ ایک دوسرے کے بارہ میں غیر حقیقت پسندانہ سوچ کا شکار ہو گئے۔ مسلمانوں کو غیر مطلوب اقلیت سمجھا اور مسلمانوں نے ہندوؤں کو غیر ہمدرد اکثریت۔ نتیجہ میں دونوں کے درمیان بے بنیاد غلط فہمیوں کا جنگل اگ آيا۔ وہ تاریخ کے پیدا کردہ فطری ماحول میں جینے کے بجائے خود ساختہ مصنوعی ماحول میں جینے لگے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان اور انڈیا دونوں نے تقریباً ایک ساتھ اپنے نئے قومی سفر کا آغاز کیا مگر واقعات بتاتے ہیں کہ جاپان صرف ۲۵ سال کی مدت میں دنیا کی ایک مضبوط اقتصادی طاقت بن گیا۔ جب کہ ہندوستان پچاس سال کی مدت گزارنے کے بعد بھی کوئی قابلِ ذکر ترقی حاصل نہ کر سکا۔

اب ہندوستان نئی صدی کے دور میں قدم رکھ رہا ہے۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں اپنے حالات کا از سر نو جائزہ لیں۔ دونوں ماضی کی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اکیسویں صدی میں اس کو جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کریں۔ اور پھر ہم دیکھیں گے کہ دس سال سے زیادہ مدت نہیں گزرے گی کہ ملک ایک نئے دور ترقی میں اپنا تیز رفتار سفر شروع کر چکا ہوگا۔ کسی مفکر کا قول ہے کہ ہر ناکامی کا آغاز دماغ سے ہوتا ہے اور ہر کامیابی کا آغاز بھی دماغ اب دونوں فریقوں کو جو کرنا ہے وہ صرف یہ کہ وہ اپنے مذکورہ نقطہ نظر کو بدل ڈالیں۔ فرقے ایک دوسرے کو اس نظر سے دیکھنا چھوڑ دیں جس نظر سے وہ پچھلے پچاس سال کے دوران

ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ہیں۔ اس کے برعکس دونوں ایک دوسرے کو قومی زندگی کے صحت مند حصہ دار کے روپ میں دیکھیں۔ دونوں ایک دوسرے کے چیلنج کو صحت مند مقابلہ میں بدل دونوں ایک وجود کے دائیں اور بائیں بازو بن جائیں۔ دونوں قومی تعمیر کے عمل میں ایک دوسرے کے ساتھ صحت مند مقابلہ کریں نہ کہ فرقہ وارانہ نفرت کے میدان میں۔ کے اقتصادی عمل کی مشین میں دندانہ دارپہیہ (cog wheel) کی مانند بن جائیں۔ اور پھر دونوں خود بھی ترقی کریں گے اور ملک کو بھی اعلیٰ ترقی کے دور میں پہنچانے کا سبب بن جائیں گے۔ چیلنج زندگی کی ایک لازمی حقیقت ہے۔ یہ فطرت کا نظام ہے اور کوئی بھی سماج فطرت کے اس نظام سے خالی نہیں ہو سکتا۔ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک، مریضانہ مقابلہ۔ اور دوسرا، صحت مند مقابلہ۔ مریضانہ مقابلہ کا نتیجہ موت ہے اور صحت مند مقابلہ کا نتیجہ زندگی۔ مریضانہ مقابلہ یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو دشمن کی نظر سے دیکھیں۔ دوسرے سے نفرت کریں۔ وہ ایک دوسرے کو مٹا کر اپنا مستقبل بنانا چاہیں۔ اس قسم کا طریقہ گویا فطرت کی تردید ہے۔ وہ تاریخ کے فیصلہ کو قبول نہ کرنا ہے۔ اور جو لوگ ایسا کریں ان کے لئے خدا کی اس دنیا میں تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔

چیلنج کا صحت مند مقابلہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو اپنا شریک سفر سمجھیں۔ ایسے دو بھائی بن جائیں جو دوڑ کے مقابلہ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتے ہوں، اس کے باوجود دونوں کے دل میں ایک دوسرے کے لئے نفرت نہ پیدا ہو۔ دونوں مقابلہ کی حالت کو ایک دوسرے کے لئے مہمیز سمجھیں نہ کہ مخالفت اور عداوت۔

ہندوستان میں اعلیٰ ترقی کے لئے اسی قسم کے صحت مند مقابلہ کی ضرورت ہے۔ نے اپنے یہاں اسی طرح صحت مند مقابلہ کا ماحول قائم کر کے اعلیٰ کامیابی حاصل کی ہے۔ بھی ہندوستان میں اسی ماحول کو زندہ کرنا ہے۔ اسی میں ہر فرقہ کی ترقی ہے اور اسی میں خود ملک کی ترقی بھی۔

Printed page