Al-Risala · March 2000

۔ اسیلام کے نام پر غیر اسلام

Al-Risala, March 2000, pp. 30–31

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک تعلیم یافتہ مسلمان جو امریکہ میں رہتے ہیں انھوں نے ایک ملاقات کے دوران کہا کہ آج کل امریکہ میں اسلام کی تصویر اتنی خراب ہوگئی ہے کہ میں اپنے کو مسلمان بتاتے ہوئے گھبرا تا ہوں۔ کوئی مجھ سے میرا مذہب پوچھتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ میں مذہب انسانیت کو مانتا اگر میں اپنا مذہب بتاؤں تو وہ فوراً کہے گا: ”پھر تو تم ایک دہشت گرد ہو“: Then you must be a terrorist انھوں نے کہا کہ اسلام کی یہ تصویر جدید میڈیا نے بنائی ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ اسلام کی یہ تصویر خود مسلمانوں نے بنائی ہے۔ اصل یہ ہے کہ مسلمان جگہ جگہ اسلام کے نام پر تشدد کی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ اس کو میڈیا کے لوگ رپورٹ کرتے ہیں۔ مسلمان اپنی یہ تحریکیں چونکہ اسلام کے نام پر چلاتے ہیں اس لئے وہ اسلام سے منسوب ہو کر میڈیا میں آتی ہیں۔ مسلمان خود اس قسم کی تحریکوں کو اسلام کے نام پر چلارہے ہوں تو میڈیا ان کو کسی اور نام سے کیسے رپورٹ کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ اس قسم کی متشددانہ تحریکیں صرف کچھ مسلمان چلاتے ہیں نہ کہ سارے پھر ان کی بنیاد پر سارے مسلمانوں کے بارے میں منفی رائے قائم کرنا کیوں کر درست ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ اس قسم کی تحریکیں تھوڑے مسلمان چلاتے ہیں مگر اسی کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے کہ بقیہ مسلمان ان تحریکوں کی کھلی مذمت نہیں کرتے۔ وہ ان کے بارے میں خاموشی کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اس لئے خود اسلامی اصول کے مطابق، یہ کہنا درست ہوگا کہ اسلام کے نام پر نفرت اور تشدد کی ان تحریکوں کو چلانے کے لئے اگر تھوڑے لوگ براہ راست ذمہ دار ہیں تو بقیہ لوگ اس کے بالواسطہ ذمہ دار۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی یہ روش بے حد افسوسناک ہے۔ اسلامی حکومت اور نظام

مصطفی اور اسلامی جہاد کے نام پر ایسے افعال کئے جارہے ہیں جو سراسر اسلام کے خلاف ہیں۔ لوگوں کو خدا کے دین سے قریب کرنے کے بجائے انھیں اس سے دور کر رہے ہیں۔ اندوہناک صورت حال کو دیکھ کر ایک شاعر نے بجاطور پر کہا ہے :

کسے خبر تھی کہ لے کر چراغ مصطفوی جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہی موجودہ زمانہ میں اس قسم کی متشددانہ تحریکیں نظام اسلام یا نظام مصطفیٰ کے نام پر چلائی مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تحریکیں اسلام کے نام پر سیاسی لیڈرئی کرنے کے ہم معنی سیاسی اقتدار کے حصول کے لئے تحریکیں چلانا اسلام میں جائز ہی نہیں۔ اسلامی تحریک کا نشانہ فرد کو اسلامائز کرنا ہے نہ کہ حکومت یا اسٹیٹ کو اسلامائز کرنا۔ صوفیاء کرام نے سیکڑوں سال تک جو کام کیا وہ فرد کو اسلامائز کرنے کا کام تھا۔ یہ کام پر امن طور پر مسلسل جاری رہا، وہ کبھی نفرت اور تشدد پھیلانے کا ذریعہ نہ بن سکا۔ صوفیاء کے ذریعہ ہمیشہ امن اور انسانیت کو فروغ حاصل ہوا جب کہ موجودہ نام نہاد انقلابی تحریکیں برعکس نتیجہ ظاہر کر رہی ہیں۔

اسلام کے ساتھ نفرت اور تشدد کا وابستہ ہونا صرف موجودہ زمانہ کے نام نہاد مسلم لیڈروں کا پیدا کردہ ہے. جنھوں نے خود ساختہ طور پر حکومت واقتدار کو نشانہ بنا کر اپنی تحریکیں ان لوگوں نے اپنے عمل سے اسلام کو نفرت اور تشدد کا دین بنا دیا ہے حالانکہ خدا کا بھیجا ہوا اسلام امن اور خیر خواہی کا مذہب ہے۔ مسلمان خیر خواہ انسانیت ہوتا ہے نہ کہ

Printed page