اسلامی جہاد
Al-Risala, March 2000, pp. 31–33
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر ایک شخص میدان میں کھڑا ہو کر اپنے ہاتھ پاؤں ہلائے یا اٹھ بیٹھ کرے اور کہے کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں تو اس کے کہنے سے اس کا یہ فعل نماز نہیں بن جائے گا۔ نماز کی کچھ متعین ان شرطوں کے ساتھ جو عمل کیا جائے وہ نماز ہے، ورنہ وہ نماز نہیں۔
یہی معاملہ اسلامی جہاد کا ہے۔ جہاد کی کچھ متعین شرطیں ہیں۔ ان شرطوں کی پابندی کے ساتھ جو عمل کیا جائے وہ اللہ کے نزدیک جہاد ہوگا۔ اور جس عمل میں یہ شرطیں نہ پائی جائیں وہ بے معنی ہنگامہ آرائی ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں جہاد۔
اسلامی جہاد وہ ہے جو اللہ کے راستہ میں کیا جائے۔ ملک یا مال جیسی دنیوی چیزوں کے لئے لڑائی چھیڑنا اور اس کو جہاد بتانا صرف فساد ہے۔ ایسے لوگوں کو کسی بھی حال میں اسلامی جہاد کا کریڈٹ نہیں دیا جاسکتا۔ اسی طرح اسلامی شریعت کے مطابق کسی کے خلاف جنگ کا اعلان باقاعدہ طور پر قائم شدہ حکومت ہی کر سکتی ہے۔ افراد کو یہ اجازت نہیں کہ وہ بطور خود جہاد کے نام پر کسی کے خلاف لڑائی چھیڑ دیں۔ افراد کو خواہ کوئی بھی شکایت ہو مگر انھیں لازم ہے کہ پر امن دائرہ میں کام کرناہے جنگ اور تشدد کا طریقہ اختیار کرنا ان کے لئے کسی بھی حال میں جائز نہیں۔ اسی طرح جہاد (بمعنی قتال) مکمل طور پر ایک دفاعی عمل ہے۔ جارحانہ قتال اسلام میں قطعا جائز نہیں۔ مزید یہ کہ اگر کوئی قوم جارحانہ حملہ کرے تب بھی پہلے جنگ کو ٹالنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ جنگ صرف اس وقت کی جائے گی جب کہ اس کو ٹالنے یا اعراض کرنے کی ساری کوششیں ناکام ہو چکی ہوں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین نے ان کو ۸۰ سے زیادہ بار جنگ اور ٹکراؤ میں الجھانا چاہا مگر ہر بار آپ نے حسن تدبیر سے جنگ کو ٹال دیا۔ بار (بدر، احد، حنین) کے مواقع پر آپ عملی طور پر جنگ میں شریک ہوئے جبکہ جنگ کے بغیر کوئی چارہ ہی باقی نہیں رہ گیا تھا۔
اسی طرح خود حکومت کے لئے بھی جنگ کرنا صرف اس وقت جائز ہوگا جب کہ اس نے جنگ کی ضروری تیاری کر لی ہو۔ ضروری تیاری کے بغیر جنگ میں کود نا خودکشی ہے نہ کہ اسلامی معنوں میں کوئی جہاد۔ اسلام میں صرف نتیجہ خیز اقدام کی اجازت ہے۔ جس اقدام کا کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلے وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے خودکشی کی ایک چھلانگ ہے نہ کہ کوئی اسلامی یا دینی عمل۔ اسلام میں جائز جنگ بھی ایک کھلے عمل کا نام ہے، خفیہ انداز کی جنگی کارروائی کرنا اسلام
میں ہرگز جائز نہیں۔ اس اصول کی بنا پر پراکسی وار (proxy war) اسلام میں ناجائز قرار پاتی کیوں کہ پراکسی وار میں ملوث حکومت خفیہ مدد کے ذریعہ کسی اور گروہ سے تشدد کی کارروائی کراتی ہے، وہ اعلان کے ساتھ اس میں شریک نہیں ہوتی۔