Al-Risala · March 2000

یر غمال بنانا

Al-Risala, March 2000, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ کے کچھ مسلمان اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف وہ متشددانہ کارروائیاں کر رہے ہیں جن کو ہائی جیکنگ یا یر غمال بنانا کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے تمام طریقے اسلام میں سراسر جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ یقینی طور پر اللہ کی پکڑ سے بے خوف ہیں، ورنہ وہ ہرگز ایسی مذموم حرکتیں نہ کریں۔ ہوائی جہاز کو ہائی جیک کرنا بے قصور انسانوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنانا ہے۔ اس قسم کی بزدلانہ حرکت انسانیت کے خلاف بھی ہے اور خدا کے دین کے خلاف بھی۔ یر غمال بنانے کا غیر اسلامی ہونا دور اول کے ایک واقعہ سے ثابت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین جو مکہ میں تھے، انھوں نے یہ خلاف انسانیت حرکت کی تھی کہ کچھ مسلمانوں کو اپنے یہاں قید کر رکھا تھا۔ اس دوران پیغمبر اسلام اور آپ کے مخالفین کے درمیان وہ معاہدہ ہوا جو معاہدہ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس معاہدہ کے وقت پیغمبر اسلام نے مخالفین سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ تم لوگ ہمارے آدمیوں کو واپس کرو۔ البتہ خود یک طرفہ طور پر یہ اعلان فرمایا کہ اگر تمہارا کوئی آدمی ہمارے قبضہ میں آجائے گا تو ہم اس کو اپنے پاس نہیں روکیں گے بلکہ اس کو تمہاری طرف واپس کر دیں گے۔ اس سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ فریق ثانی اگر ہمارے آدمیوں کو یر غمال بنائے تب بھی ہمارے لئے جائز نہیں کہ ہم ان کے آدمیوں کو یر غمال بنانے لگیں۔

Printed page