کرنے کا اصل کام
Al-Risala, March 2000, pp. 34–38
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے موجودہ قسم کی سیاسی ہنگامہ آرائی یا تشدد نہ صرف یہ کہ غیر اسلامی ہے، بلکہ وہ انتہائی حد تک بے فائدہ بھی ہے۔ قریبی ماضی کی تاریخ اس کے ثبوت کے لئے کافی ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، بیسویں صدی کے نصف اول میں بیشتر مسلم ممالک مغربی طاقتوں کے زیر اقتدار تھے، خواہ براہ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر۔ اس کے بعد آزادی کی تحریکیں آج یہ تمام مسلم ممالک سیاسی طور پر آزاد ہیں۔ ان ملکوں کی تعداد تقریباً ۶۰ تک پہنچ چکی گنتی کے اعتبار سے اقوام متحدہ کے ممبروں میں سب سے زیادہ تعداد مسلم ملکوں کی ہے۔
کے باوجود عالمی سیاسی نقشہ پر مسلمانوں کا کوئی وزن نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں سیاسی اقتدار ہی سب کچھ ہوا کرتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں سیاسی اقتدار کی حیثیت ثانوی بن گئی اب تعلیم اور سائنس اور ٹیکنالوجی اور اقتصادیات کی اہمیت ہے۔ صرف سیاسی طور پر آزاد ہونا آج کی دنیا میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
موجودہ مسلم ممالک چونکہ ان غیر سیاسی شعبوں میں دوسری قوموں سے پچھڑے ہوئے ہیں اس لئے عالمی نقشہ میں ان کا کوئی مقام نہیں۔ ان کے عوام ابھی تک زیادہ ترغیر تعلیم یافتہ ہیں۔ اور ٹیکنالوجی میں وہ ابھی تک مغربی ملکوں کے محتاج ہیں۔ جدید معیار کے اعتبار سے انھیں اقتصادی ترقی بظاہر سیاسی اقتدار کا مالک ہونے کے باوجود وہ زندگی کے تمام جدید شعبوں میں پچھڑے وہ دوسری قوموں کے مقابلہ میں حدیث کے مطابق صرف ید سفلیٰ (نچلا ہاتھ) بنے آزادی کے باوجود وہ عملاً محکومی کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔
مزید چشم کشا مثال یہ ہے کہ بہت سے مسلم ملک ہیں جہاں ان کے دعویٰ کے مطابق مفروضہ اسلامی انقلاب آچکا ہے۔ مثلاً مصر، پاکستان، ایران، مثلاًمصر،پاکستان،ایران،الجزائر،سوڈان،افغانستان،وغیرہ۔ مگر سوڈان، افغانستان، وغیرہ۔ مگر اصل مسئلہ کی نسبت سے یہ نام نہاد اسلامی ممالک بھی انہیں سنگین مسائل کا شکار ہیں جن کا شکار دوسرے مسلم ممالک ہیں جن کو سیکولر کہا جاتا ہے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ علمی اور اقتصادی شعبوں میں یہ نام نہاد اسلامی ممالک بھی اتناہی پچھڑے ہوئے ہیں جتنا کہ دوسرے سیکولر ممالک۔ اس لئے آج کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی مسلم نسلوں کو ان غیر سیاسی شعبوں میں آگے بڑھایا جائے۔ اور بلاشبہ یہ سب غیر سیاسی کام ہیں، ان کا سیاست اور اقتدار سے کوئی تعلق نہیں۔ مزید یہ کہ ان غیر سیاسی کاموں میں عمل کرنا خالص امن کے دائرہ میں ممکن ہے۔ ان میدانوں میں متحرک ہونے کے لئے نہ نفرت پھیلانے کی ضرورت ہے اور نہ تشدد بھڑکانے کی۔ یہ سارے مثبت نوعیت کے کام ہیں، ان کا منفی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں۔
برادر محترم و مکرم جناب یوسف نورانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کا خط مورخہ ۱۲ مارچ ۱۹۹۹ بذریعہ فیکس ملا۔ آپ نے جس مسئلہ کی بابت تحریر فرمایا ہے اس پر میں نے کافی غور کیا۔ اس سلسلہ میں چند باتیں مختصر طور پر یہاں درج کرتا ہوں۔ قرآن کی سورۃ الواقعہ (آیت ۸۳-۸۵) میں بتایا گیا ہے کہ موت سے کچھ پہلے جب کہ آدمی ابھی اسی دنیا میں ہوتا ہے تو اس کا تعلق آخرت سے قائم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی جب موت کے قریب پہنچتا ہے تو اس کے مردہ رشتہ دار اس کو لینے کے لئے اس کے پاس آجاتے ہیں۔ اس طرح کے اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ زندہ انسانوں کا مردہ روحوں سے تعلق کسی نہ کسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے اگر چہ یہ تعلق وقتی اور جزئی قسم کا ہوتا ہے۔
دونوں دنیاؤں کے درمیان اس ربط کا کوئی تعلق کسی قسم کی عملیات یا مشق(exercise) وہ خود بخود اور کبھی کبھی ہوتا ہے۔ اس کا انحصار اس پر ہے کہ زندہ انسان کی روحانی تطهیر (spiritual purification) کتنی زیادہ ہوئی ہے۔ زندہ انسان کی جتنی زیادہ تطہیر ہو گی اتنا ہی زیادہ وہ ارواح سے ربط کے قابل ہوگا، اتناہی زیادہ وہ دوسری دنیا کے پیغام کا آخذ(recipient) تاہم یہ ربط ارادہ نہیں بلکہ اتفاقا ہوتا ہے۔
زندہ انسان اور مردہ انسان کی روح کے درمیان یہ ربط کبھی لمحاتی طورپر عالم بیداری میں بھی ہو سکتا ہے مگر اس قسم کا ربط انتہائی نادر استثناء (rare exception) ہے۔ زیادہ تر یہ ربط خواب کی صورت میں ہوتا ہے جس کو حدیث میں نبوت کا چھیا لیسواں حصہ بتایا گیا ہے۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے زندہ لوگوں کو اس قسم کے خواب دکھائی دیئے جن کا کچھ تذکرہ ابن قیم کی کتاب الروح میں دیکھا جا سکتا ہے، خود میں نے بھی بعض ایسے خواب دیکھے ہیں جب کہ
خواب میں کسی مردہ رشتہ دار سے میری ملاقات ہوئی۔ مگر اس قسم کا ربط کسی عملیاتی مشق کے ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ وہ صرف اتفاقی طور پر کسی کو پیش آسکتا ہے۔ مزید یہ کہ خواب کا ذریعہ صرف وہ وحی کے مانند حقیقی نہیں۔
قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ موت کے بعد کوئی عورت یا مرد فوراً ہی اپنے اخروی انجام سے دوچار ہو جاتا ہے، حدیث میں آیا ہے کہ قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔ اس سے مراد معروف معنوں میں زمینی قبر کا مقام یعنی مرنے والے انسان کے اوپر یہ معاملہ قبر کے اندر نہیں ہو تا بلکہ آخرت میں ہوتا قبر عالم آخرت میں داخل ہونے کا دروازہ ہے۔ موت اور انجام آخرت میں کوئی فاصلہ نہیں تا ہم یہ بات صرف اجمالی طور پر جانی جاسکتی ہے نہ کہ تفصیلی طور پر۔
قرآن میں شہداء کے بارے میں آیا ہے کہ و يستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم من خلفهم (آل عمران (۱۷۰) اس آیت کا ترجمہ ایک فارسی مترجم نے اس طرح کیا ہے: و مژده می دهند بانانکہ ہنوز نرسیدہ اند (صفحہ ۹۶) یعنی جنت میں پہنچنے کے بعد وہ دنیا میں باقی رہنے والے ساتھی کو خوش خبری دیتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زندہ مومن اور وفات یافتہ اہل جنت کے درمیان ایک مخفی قسم کا ارتباط (communication) باقی رہتا ہے۔ ارتباط کی کوئی مشقی تدبیر نہیں۔ ایسا واقعہ صرف کسی نفس مطمئن (complex-free soul) کے ساتھ پیش آتا ہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ : ”اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی ذریت بھی ان کی راہ پر ایمان کے ساتھ چلی، ان کے ساتھ ہم ان کی ذریت کو بھی جمع کر دیں گے، اور ان کے عمل میں سے کوئی چیز کم نہیں کریں گے“۔ (الطور ۲۱) اس سے معلوم ہوا کہ اہل خاندان، مثلاً میاں اور بیوی دونوں اگر صاحب ایمان ہیں تو آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ اس طرح رحمت کا معاملہ فرمائے گا کہ کم عمل والے فرد کو اپ گریڈ (upgrade) کر کے اس کو زیادہ عمل والے فرد کے درجہ میں پہنچادے گا تاکہ دونوں ایک ساتھ جنت کی پر مسرت دنیا میں رہ سکیں۔ گویا کہ اگر دونوں میں سے ایک کا عمل دوسرے سے زیادہ ہو تو کم عمل والا زیادہ عمل والے کے ساتھ جوڑ دیا
جائے گانہ کہ اس کے برعکس۔ واضح ہو کہ قرآن میں وسیع تر تقسیم (broad division) کے اعتبار سے جنت کے دو درجے بتائے گئے ہیں۔ پھر ان کی ضمنی تقسیمات ہیں۔ چنانچہ حدیث میں دو سو جنتوں کا ذکر آیا ہے۔
ایک مومن جوڑے میں سے اگر ایک فرد کا انتقال ہو گیا اور دوسرا باقی ہے تو زندہ رہنے والے فرد کے لئے بہترین کام یہ ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کو دونوں ہی کے لیے ایک نادر موقع وہ اپنی بقیہ زندگی کو اعلیٰ اسلامی عمل میں مصروف کر دے تاکہ اس کو جب اپنے زیادہ عمل کی بنا پر زیادہ اعلیٰ جنت ملے تو اس کا جوڑا بھی مذکورہ خدائی قانون کے مطابق اپ گریڈ (upgrade) ہو کر اس کے ساتھ اس اعلیٰ جنت میں پہنچا دیا جائے۔ گویا کہ ایک اگر اکانومی کلاس میں ہے اور دوسرا فرسٹ کلاس میں تو اکانومی کلاس والا اپ گریڈ ہو کر فرسٹ کلاس میں پہنچ جائے۔ قرآن کی یہ آیت اہل ایمان کے لیے ایک عظیم خوشخبری ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ زندہ رہنے والا فرد اپنے مرنے والے ساتھی کے غم میں اپنے کو نڈھال نہ کرے۔ وہ اس کی یاد میں پریشان ہو کر اپنے باقی ماندہ وقت کو ضائع نہ کرے۔ بلکہ اپنے ساتھی کی موت کے بعد اس کو زندگی کا جو لمحہ ملا ہے اس کو وہ دونوں ہی کے حق میں ایک قیمتی موقع (opportunity) سمجھے۔ وہ اس ملے ہوئے وقت کو اپنی اور اپنے مرحوم ساتھی کی جنتی ترقی کے لئے استعمال (avail) کرے۔ تاریخ: ۱۵ مارچ ۱۹۹۹