Al-Risala · March 2000

Center for Holistic Health and Meditation

Al-Risala, March 2000, pp. 45–49

By Maulana Wahiduddin Khan

اس ادارہ کے تحت ایک درجن افراد انڈیا آئے۔ وہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے تھے۔ وفد مسٹر آنند کرشنا کی قیادت میں ۱۵ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو صدر اسلامی مرکز سے ملا۔ وہ اسلام کے بارے میں سمجھنا چاہتے تھے۔ ان کو تفصیل کے ساتھ اسلام سے متعارف کیا گیا۔ کی یہ پوری بات چیت انگریزی میں ہوئی جس کو انھوں نے ریکارڈ کیا۔

۲۳ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو کیتھولک چرچ کی طرف سے کانسٹی ٹیوشن کلب (نئی دہلی) میں ایک اجتماع کیا گیا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور وہاں مختلف مذاہب کے مشترک اجتماع میں ایک تقریر کی۔ اس میں انھوں نے قرآن اور روحانیت کی ایک بات یہ کہی گئی کہ انسان پیدائشی طور پر امن اور روحانیت کی فطرت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اسلام میں صبر کی تعلیم اس لئے دی گئی ہے کہ یہ فطرت بگڑنے نہ پائے۔ ۲۹ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو تارا بھٹا چار جی، ممبر، کھادی اینڈ ولیج انڈسٹری کمیشن کی رہائش گاہ پنج شیل پارک (نئی دہلی) پر اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک میٹنگ ہوئی جس میں کچھ بیرونی ملکوں کے لوگ بھی شریک تھے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اسلام کی سماجی تعلیمات پر ایک تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ تمام

انسانوں کو یکساں طور پر خدا کی مخلوق سمجھو۔ لوگوں سے تمہیں ناخوشگواری کا تجربہ ہو تب بھی تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ دوسروں کی طرف سے منفی رویہ کا اظہار ہو تب بھی تم مثبت رویہ پر قائم رہو۔

پوپ جان پال کی دہلی آمد پر مسٹر ٹی پی پانڈے نے .I. N. T. V کے لئے یکم نومبر ۱۹۹۹ کو ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام میں ہر مذاہب کے بزرگوں کے احترام کی تعلیم دی گئی ہے۔ اسلام کا اصول یہ ہے کہ تم کو خواہ کسی سے مذہبی اختلاف ہو تب بھی انسان کی حیثیت سے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور بلا تفریق ہر قوم کے بڑوں کی

پروفیسر راج موہن گاندھی کی کتاب (Revenge and Reconciliation)

حال میں پنگوئن بکس نے چھاپی ہے۔ اس سلسلہ میں ۱۲ نومبر ۱۹۹۹ کو انڈیا انٹر نیشنل سنٹر نئی دہلی میں ایک پینل ڈسکشن منعقد کیا گیا۔ اس میں دہلی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بڑی تعداد میں اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اس کتاب میں ساؤتھ ایشیا کی دوسری تہذیبوں کے ساتھ اسلام کے بارے میں بھی یہ کہا گیا ہے کہ اس کی تاریخ میں تشدد زیادہ ہے اور صلح کم۔ اس سلسلہ میں کہا گیا کہ اس معاملہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ نیچر کا اصول شاک ٹریٹمنٹ کا ہے۔ دنیا میں جتنی بھی ترقیاں ہوئی ہیں وہ سب شاک ٹریٹمنٹ کے ذریعہ ہوئی ہیں۔ اس لحاظ سے وہ چیز جس کو تشدد کہا گیا ہے وہ در حقیقت زحمت میں رحمت (blessing in disguise) ہے۔

نیشنل یوتھ سنٹر (نوائڈہ) میں ۱۴نومبر۱۹۹۹کو ایک سیمنار ہوا۔ اس میں تعلیم یافتہ لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور سکولرزم اور ہندوستان کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کے لئے سکولر نظام ہی واحد صحیح نظام ہے۔ اس لئے نہیں کہ اقلیتوں کے لئے اس میں تحفظ ہے بلکہ

اسی میں خود ملک کا فائدہ ہے۔ آج ساری دنیا میں سکولراسٹیٹ کو پسند کیاجاتاہے ۔ اسٹیٹ کو بہت برا سمجھا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں اگر ہندوستان میں مذہبی اسٹیٹ بنائی جاتی تو یہ ملک عالمی برادری سے الگ ہو جاتا۔ اور عالمی سطح پر اپنا وزن کھو دیتا۔ مولانا ابو الکلام آزاد سنٹر کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے احمد آباد کا سفر کیا۔ نومبر کو وہاں مختلف پروگرام ہوئے۔ ۲۰ نومبر کو سنٹر کے ہال میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے اجتماع میں تفصیلی خطاب ہوا۔ اس سفر کی روداد سفر نامہ کے تحت انشاء اللہ شائع کر دی

نور الاسلام فاؤنڈیشن (فلوریڈا) کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز کا امریکہ کا سفر ہوا۔ ۲۳ نومبر ۱۹۹۹ کو شروع ہوا اور ۸ دسمبر ۱۹۹۹ کو واپسی ہوئی۔ اس سفر میں امریکہ کے مختلف مقامات پر دعوتی پروگرام ہوئے۔ ہر پروگرام کے موقع پر اسلامی مرکز کی انگریزی مطبوعات کا بک اسٹال بھی لگایا گیا۔ اس سفر کی روداد انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔

جیز ز اینڈ میری کالج (نئی دہلی) میں ۱۰ دسمبر ۱۹۹۹ کو مختلف مذاہب پر ایک خصوصی اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور اسلام کے تعارف پر ایک تقریر کی۔ یہ پروگرام انگریزی میں تھا۔

۲۶ دسمبر ۱۹۹۹ کو دور درشن (انٹرنیشنل) کی ٹیم نے صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر ریکارڈ اس کا موضوع 'روزہ اور انسانیت‘ تھا تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ روزہ ایک اعتبار سے اللہ سے قربت کا ذریعہ ہے اور دوسرے اعتبار سے وہ سلف کنٹرول اور اخلاقی ڈسپلن کی تربیت ہے تاکہ انسان اپنے سماج کا بہتر فرد بن کر رہ سکے۔

صدر اسلامی مرکز کے سفر امریکہ کے دوران بی بی سی لندن نے ٹیلی فون پر ان کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا تھا۔ یہ انٹرویو ۲۹ دسمبر ۱۹۹۹ کو بی بی سی کی صبح کی خبروں کے تحت نشر کیا گیا۔

انٹرویو کا موضوع تھا: دنیا کیسے تخلیق ہوئی۔ اس سلسلہ میں انھوں نے قرآن کی آیتوں کی روشنی میں بتایا کہ دنیا کی تخلیق کے بارے میں قرآن میں کیا تصور دیا گیا ہے۔ ۱۴- ان ٹائم ٹی وی نیوز (نئی دہلی) (In Time T. V. News) کی ٹیم نے ۳۰ دسمبر ۱۹۹۹ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس کا موضوع یہ تھا کہ اگلی شتابدی کیسی ہوگی۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ فطرت کا قانون ہمیشہ ارتقاء کی طرف جاتا ہے۔ اس لئے انسان کی تاریخ بھی اگلی صدیوں میں یقینی طور پر ارتقاء کی طرف جائے گی۔ مثال کے طور پر بیسویں صدی میں اقوام متحدہ وجود میں آئی۔ اس طرح حالات بتاتے ہیں کہ اگلی صدی میں روحانیت کا غلبہ اسی طرح ہوگا جس طرح بیسویں صدی میں مادیت کا غلبہ تھا۔ اور یہ قانون فطرت کے تحت ہوگا۔

دوردرشن (نئی دہلی) نیوز چینل کے لئے یکم جنوری ۲۰۰۰ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا گیا۔ اس کا موضوع تھا: ہائی جیکنگ اور اسلام۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہائی جیکرس کا حکم اسلام میں وہی ہے جو قطاع الطریق (Highway robbers) کا ہے۔ اس قسم کا فعل اسلام میں بلاشبہ جائز نہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہا گیا کہ جہاد (بمعنی قتال) صرف حکومت کا کام ہے، وہ افراد کا کام نہیں ہے۔

یکم جنوری ۲۰۰۰ کو مارکیٹ (نئی دہلی) میں تعلیم یافتہ مسلمانوں کا ایک اجتماع ہوا۔ کی ۲۲ تاریخ تھی۔ اس نسبت سے روزہ کا حکم اور اس کے روحانی پہلو پر صدر اسلامی مرکز نے ایک تقریر کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ روزہ سلف کنٹرول کی ایک سالانہ تربیت ہے۔ حقیقی روزہ وہی ہے جس میں اس کے فارم کے ساتھ اس کی مطلوب اسپرٹ بھی موجود ہو۔ شری رام اسکول (گڑگاؤں) میں ۱۲ جنوری ۲۰۰۰ کو طلبہ اور اساتذہ کا ایک خصوصی پروگرام اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اسلام کے تعارف پر ایک تقریر کی۔ تقریر کے آخر میں سوال و جواب ہوا۔ اسکول کے اس پروگرام کے تحت

مختلف مذہب کے مستند عالموں کو بلا کر انھیں یہ موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے مذہب کا تعارف پیش کریں۔ چنانچہ اسلام کے تعارف کے لئے صدر اسلامی مرکز کو بلایا گیا۔ زی ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۳ جنوری ۲۰۰۰ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ کا تعلق زیادہ تر اسلام اور آتنک واد‘ سے تھا۔ جواب میں کہا گیا کہ آتنک واد کا کوئی بھی تعلق اسلام سے نہیں ہے۔ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے۔ اور اپنے مقصد کو صرف پر امن ذرائع سے حاصل کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔

سیرین میڈیا کے نمائندہ ڈاکٹر وائل الشیخ حسن عوادنے ۱۳جنوری ۲۰۰۰کوصدراسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو انگریزی میں ریکارڈ کیا۔ اس کا سبجکٹ تھا: تقسیم اور ہند پاک اس تفصیلی انٹرویو میں جو باتیں کہی گئیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ہندو یا انگریز کو تقسیم کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔ جس لیڈر شپ نے تقسیم کا مطالبہ کیا وہی اس کی اصل ذمہ دار ہے۔ یہ دنیا مسابقت کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی اس انتظار میں ہے کہ آپ اپنے کسی فعل سے اس کو موقع دیں تو وہ اس کو اپنے حق میں استعمال کرے۔ اس لئے صحیح بات یہ ہے کہ مسلم لیڈر شپ نے موقع فراہم کیا اور پھر دوسروں نے اس کو استعمال کیا۔ شپ کو دوسروں کی شکایت کرنے کے بجائے یہ جاننا چاہئے کہ اس دنیا میں آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ایسا کوئی فعل نہ کرے جس سے دوسروں کو اسے استعمال کرنے کا موقع مل جائے۔ بی بی سی لندن کے لئے مسٹر زبیر احمد نے ۱۳ جنوری ۲۰۰۰ کو لندن سے بذریعہ ٹیلی فون صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلم۔ مسیحی تعلقات سے تھا۔ سوال کے جواب میں یہ کہا گیا کہ مسیحی لوگ اگر زیادتی کریں تو مسلمانوں کو یکطرفہ طور پر اسے نظر انداز کرنا چاہئے تا کہ دعوت کا ماحول باقی رہے۔ دعوت کا عمل صرف دونوں کے درمیان نارمل تعلقات میں ہو سکتا ہے۔ اور نارمل تعلق کو باقی رکھنے کے لئے سب سے زیادہ ذمہ داری مسلمانوں کو اٹھانا چاہئے کیونکہ ان کی حیثیت داعی کی ہے۔

Printed page