اول دن
Al-Risala, April 2000, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
زکام شروع ہونے سے پہلے اس کی کچھ علامتیں ظاہر ہوتی ہیں مثلاً چھینک آنا۔ ابتداءئی علامت ظاہر ہوتے ہی اگر فوری طورپر دوا لی جائے تو پہلی ہی خوراک میں زکام کنٹرول میں آجائے گا لیکن اگر دیر کی جائے تو لمبی مدت تک زکام آپ کو پریشان کرتا رہے گا۔ بیماریوں کا معاملہ ہے۔
زندگی کے مسائل و معاملات کی نوعیت بھی یہی ہے۔ اس بات کو فارسی زبان کی ایک مثل میں اس طرح کہا گیا ہے: مگر به کشتن روز اول (بلی کو پہلے ہی دن ہلاک کرو) اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی شخص سے تمہاری نزاع ہو یا اس سے دشمنی ہو جائے تو ابتدا ہی میں اس کو ختم کرنے کی کوشش کرو۔ حتیٰ کہ فریق ثانی کی شرطوں پر اگر معاملہ ختم ہوتا ہو تب بھی اس میں دیر نہیں اس طرح کے معاملات میں دیر کرنے کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ معاملہ کی پیچیدگی بڑھتی چلی جائے۔ نزاعی مسئلہ ابتدائی مرحلہ میں تھوڑی قیمت پر حل ہو جاتا ہے۔ جب کہ بعد کو بھاری قیمت دے کر اسے حل کرنا پڑتا ہے۔
اس اصول پر عمل نہ کرنے کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ نزاع پیش آنے کے بعد صاحب معاملہ معتدل ذہنی حالت میں نہیں رہتا۔ اس لئے وہ بے لاگ فیصلہ کرنے میں عاجز ثابت ہو تا اس کا حل یہ ہے کہ معاملہ پیش آنے کے بعد لوگوں سے مشورہ کیا جائے اور جو مشورہ ملے اس پر کھلے ذہن کے ساتھ غور کیا جائے۔ مشورہ کے ذریعہ وہ درست رائے معلوم ہو جاتی ہے جس کو صاحب معاملہ اپنے متاثر ذہن کی بنا پر دریافت نہیں کر سکاتھا۔
نزاع کا جاری رہنا کسی بھی فریق کے لئے مفید نہیں۔ اگر فریق ثانی ضد کا طریقہ اختیار کرے تب بھی ایک فریق کو یک طرفہ طور پر اسے ختم کر دینا چاہئے۔ جو فریق نزاع کے خاتمہ کی پہل کرے گا آخر کار وہ کامیاب ہوگا۔