Al-Risala · April 2000

اہل ایمان

Al-Risala, April 2000, pp. 6–9

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ : محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ منکروں پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں تم ان کو رکوع میں اور سجدہ میں دیکھو گے۔ وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی کی طلب میں لگے رہتے ان کی نشانی ان کے چہروں پر ہے سجدہ کے اثر سے، ان کی یہ مثال تورات میں ہے۔ میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کھیتی، اس نے اپنا انکھوا نکالا، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ اور موٹا ہوا، پھر اپنے تنّے پر کھڑا ہو گیا، وہ کسانوں کو بھلا لگتا ہے۔ تا کہ ان سے کافروں کو جلائے۔ ان میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اللہ نے ان سے معافی کا اور بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔ محمد اللہ کے رسول ہیں ـــــ یہ صرف ایک واقعہ کا بیان نہیں ہے بلکہ وہ اس کی دلیل بھی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی کسی نے یہ اعلان کیا کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو وہ واقعہ اللہ کا پیغمبر اسلام سے پہلے یا پیغمبر اسلام کے بعد کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی شخص جو اللہ کا رسول نہ ہو وہ اپنی زبان سے یہ جملہ بولے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کہنا کہ "میں اللہ کا رسول ہوں" اتنا زیادہ مشکل ہے کہ یہ جملہ صرف وہی شخص بولے گا جو واقعہ اللہ کا رسول ہوگا، کوئی غیر رسول یہ جملہ بولنے کی ہمت ہی نہیں کر سکتا۔ اور نہ کبھی تاریخ میں کسی نے اس قسم کی جرأت کی۔ یہی اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ خدا کے آخری پیغمبر تھے۔ آپ کے بعد جب کوئی شخص یہ نہ کہہ سکا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں تو آپ کا دعویٰ غیر متنازعہ طورپر اپنے آپ تاریخ میں قائم ہے۔ آپ کو خاتم الرسل ثابت کرنے کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔ اور جو لوگ رسول کے ساتھ ہیں ـــــ یہ بظاہر ایک سادہ جملہ ہے جو اصحاب رسول سے لیکن جب اس پر غور کیا جائے کہ یہ اولین لوگ کیسے پیغمبر اسلام کے ساتھی بنے تو معلوم

ہو تا ہے کہ یہ محض ایک سادہ جملہ نہیں بلکہ اس کے اندر ایک انتہائی اہم حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ اسلام کے دور اول میں پیغمبر کی تصویر ، قرآن کے الفاظ میں صرف ایک بشر جیسی تھی۔ لوگوں کو بس محمد بن عبداللہ کے روپ میں دکھائی دیتے تھے۔ لیکن آج آپ کے نام کے ساتھ اتنی زیادہ تاریخی عظمتیں جمع ہو چکی ہیں کہ ایک غیر مسلم محقق بھی مجبور ہے کہ آپ کو تمام پیدا ہونے والے انسانوں میں سب سے بڑا انسان قرار دے۔ گویا آپ کے ابتدائی پیروؤں نے ”محمد بدون تاریخ‘‘ میں آپ کے رسول خدا ہونے کی حقیقت کو دریافت کیا۔ جب کہ آج کا ایک شخص ”محمد بشمول تاریخ‘‘ میں آپ کے رسول خدا ہونے کا اعتراف کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کے اولین پیروؤں نے آپ کے رسول خدا ہونے کو اس وقت مانا جب کہ آپ اپنی اضافی حیثیت کے بغیر مجرد روپ میں ان کے سامنے ظاہر ہوئے جب کوئی شخص اس طرح پیغمبر کو اس کی اضافی نسبتوں کے بغیر مجرد روپ میں جان لے تو ایسے آدمی کا ایمان ایک گہری معرفت پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ اس کے لئے ایک عظیم دریافت (Discovery) کے ہم معنی ہوتا ہے۔ ایسی دریافت آدمی کے پورے وجود میں ایک مکمل فکری اور روحانی انقلاب برپا کر دیتی ہے۔ اس انقلاب کے بعد اس کی جو شخصیت بنتی ہے ، اس کا ذکر آیت کے اگلے الفاظ میں کیا گیا ہے۔

پیروان رسول کی ایک صفت یہ بتائی گئی کہ وہ منکروں پر (اشداء علی الکفار) ہیں۔ یہاں سخت یا شدید کا مطلب کڑا پن یا درشتی نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ غیر اہل اسلام کی غیر اسلامی باتوں کا اثر قبول نہیں کرتے۔ عربی میں کہا جاتا ہے : ھو شدید علی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ میرے ساتھ سخت معاملہ کرتا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ میرا اثر قبول مومن ایک با اصول انسان ہوتا ہے۔ وہ بے اصول لوگوں یا مفاد پرستی کے علمبرداروں سے غیر متاثر ہو کر رہتا ہے۔ وہ خود اپنے طے کردہ اصولوں کی روشنی میں اپنی زندگی کی تعمیر کرتا وہ کبھی کسی خلاف حق رواج کا اثر قبول نہیں کرتا۔

وہ آپس میں مہربان ہیں (رحماء بینھم) ـــــ لوگوں سے مہربانی کے ساتھ پیش آنا انسانیت کا اعلیٰ ترین تقاضا ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اہل ایمان اپنے لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے رحیم و شفیق ہوں۔ اور جب دوسروں سے معاملہ پیش آئے تو وہ ان کے ساتھ اس کے برعکس عمل کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ رحمت و شفقت اہل ایمان کی ایک مستقل اور عمومی صفت ہے جو ایک کے مقابلہ میں ظاہر ہوتی ہے، خواہ وہ اپنا ہو یا کوئی غیر۔

آپس میں مہربان ہونے کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے فرمایا کہ آپس میں مہربان ہونا نسبتاً زیادہ مشکل کام ہے۔ جو آدمی اپنوں کے ساتھ رحمت و شفقت کا معاملہ کرے وہ غیروں کے ساتھ بھی ضرور رحمت و شفقت کا معاملہ کرے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے لوگوں کے درمیان ہمیشہ ملنا جلنا زیادہ ہوتا ہے۔ ان سے زیادہ معاملات پیش آتے ہیں۔ لین دین کی عملی صورتیں پیدا اس لئے اپنے لوگوں سے اکثر شکایت اور نزاع پیدا ہو جاتی ہے۔ گویا کہ غیروں کے مقابلہ میں شفقت کا معاملہ اگر سادہ طور پر صرف شفقت کرنے کا معاملہ ہے تو اپنوں کے مقابلہ میں شفقت کا معاملہ شکایت اور نزاع کے باوجود شفقت کا معاملہ۔ اپنوں کے مقابلہ میں رحیم ثابت ہونا زیادہ بڑی جانچ میں پورا اترنا ہے۔ اور یہ ایک فطری بات ہے کہ جو آدمی بڑی جانچ میں پورا اترے وہ چھوٹی جانچ میں بدرجہ اولیٰ پورا اترے گا۔

تم ان کو رکوع میں اور سجدہ میں دیکھو گے ـــــ یہ اہل ایمان کی اس کیفیت کی تصویر ہے جو ان کے اندر خدا کی نسبت سے پیدا ہوتی ہے۔ خدا پر ایمان ان کے لئے خدا کی عظمت کی دریافت کے ہم معنی ہوتا ہے۔ یہ دریافت ان کے سینہ کو خشوع اور تواضع سے بھر دیتی ہے۔ اس کا مظاہرہ بار بار عبادت اور رکوع اور سجود کی صورت میں ہوتا رہتا ہے۔

وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی کی طلب میں لگے رہتے ہیں ــــــ ایمان آدمی کے اندر یہ شعور پیدا کرتا ہے کہ ساری طاقتیں صرف ایک خدا کے پاس ہیں۔ وہ دینے والا ہے اور انسان اس سے پانے والا۔ یہ شعور اس کی زندگی میں اس طرح ڈھل جاتا ہے کہ وہ ہر چیز کو خدا کا

فضل سمجھنے لگتا ہے۔ اس کی ہر سرگرمی خدا کی خوشنودی کی تلاش میں بدل جاتی ہے۔ . ان کی نشانی ان کے چہروں پر ہے سجدہ کے اثر سے یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ آدمی کی اندرونی کیفیت اس کے چہرے پر نمایاں ہو جاتی ہے۔ آدمی اندر سے خوش ہے یا غمگین، دونوں حالتوں میں اس کا چہرہ اس کی داخلی حالت کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح جب ایک شخص حقیقی معنوں میں سجدہ گزار ہو، اس کا وجود ایمان کی کیفیات سے بھر گیا ہو تو اس کے چہرے پر اس کے اثرات اس طرح ظاہر ہو جائیں گے کہ دیکھنے والا اس کے ظاہر سے اس کے باطن کو پڑھ یہ اہل ایمان کی انفرادی خصوصیات ہیں جن کا ذکر پیشگی طور پر تورات میں کیا گیا تھا۔ اصحاب رسول کی یہ صفت موجودہ تبدیل شدہ تورات میں قدسیوں (Saints) کے لفظ کی صورت میں پائی جاتی ہے۔ (کتاب استثناء باب ۳۳)

انجیل (مرقس، باب ۴) میں اس گروہ کے اجتماعی اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے۔ خصوصیت کو مذکورہ قرآنی آیت کے آخر میں کھیتی یازرعی فصل کی تمثیل کے ذریعہ اس طرح بتایا گیا ہے کہ سچے اہل اسلام خدا کی زمین میں درخت کی طرح اگتے اور بڑھتے ہیں۔ وہ پودے سے آغاز کر کے ہرا بھراباغ بن جاتے ہیں۔ اہل اسلام کا گروہ پودے کی صورت میں ایک ابتدائی مقام سے پھر وہ بڑھتے بڑھتے ایک طاقتور درخت بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا استحکام اس درجہ کو پہنچ جاتا ہے کہ اہل حق اس کو دیکھ کر خوش ہوں اور اہل باطل غیظ و حسد میں مبتلا ہو کر رہ جائیں کہ چاہنے کے باوجود وہ اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔

آیت کے آخری ٹکڑے میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ مذکورہ انفرادی اور اجتماعی صفات میں پورے اتریں ان کے لئے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو مغفرت اور اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ مغفرت سے مراد آخرت کی کامیابی ہے اور اجر عظیم سے مراد دنیا کی کامیابی۔ آخرت کی کامیابی انہیں جنت کی صورت میں ملے گی اور دنیا کی کامیابی ملی و قارا ور فکری غلبہ کی صورت میں۔

Printed page