Al-Risala · April 2000

کردار کا کرشمہ

Al-Risala, April 2000, pp. 12–14

By Maulana Wahiduddin Khan

جناب اقبال احمد صاحب (پیدائش ۱۹۳۱) مراد آباد کے رہنے والے ہیں۔ وہ کلکٹریٹ کی سروس میں تھے۔ ۱۹۹۰ میں سینئر ایڈمنسٹریٹیو آفیسر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ اب وہ مراد آباد میں مقیم ہیں۔ (فون نمبر 323029-0598)

۴ فروری ۲۰۰۰ کو ان سے دہلی میں ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنی زندگی کے کئی سبق آموز واقعات بتائے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے کہا کہ میں گورنمنٹ سروس میں تقریبا چالیس مگر مجھے کبھی اس قسم کی شکایت نہیں ہوئی جس کو عام طور پر تعصب کہا جاتا ہے۔ اپنے ذاتی تجربہ کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہم اسلامی کردار کے مطابق رہیں تو ہم ہر جگہ اور خود ہندوستان میں نہایت عزت کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔

مثلاً انھوں نے بتایا کہ مراد آباد کے کلکٹریٹ میں ۱۲ سال تک میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا پیش کار رہا ہوں۔ وہاں مجھے مکمل آزادی حاصل تھی۔ اس مدت میں وہاں ۱۳ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بدلے مگر میں بدستور اپنی سیٹ پر قائم رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہر ایک میرے بارے میں اچھی رپورٹ دیتا تھا، اس لئے مجھ کو ہر آنے والے افسر سے وہی عزت ملی جو مجھے جانے والے افسر سے

انھوں نے بتایا کہ میرے خلاف لوگوں کی طرف سے اکثر بے بنیاد شکایتیں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے پاس آتی تھیں۔ لیکن انھوں نے کبھی ان پر دھیان نہیں دیا۔ اس کی وجہ صرف ایک تھی اور وہ جناب اقبال احمد صاحب کی کامل دیانت داری (honesty) تھی۔ سروس کی پوری مدت میں ان کا کردار اتنا اعلیٰ رہا کہ کسی کو ان کے خلاف کسی حقیقی شکایت کا موقع نہیں ملا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ کلکٹریٹ کے کچھ ملازمین نے ان کے خلاف ایک تحریک چلائی۔ شکایت تھی کہ اقبال احمد صاحب کو یہاں اتنی عزت کیوں حاصل ہے کہ عام قاعدہ کے خلاف ان کا

کبھی تبادلہ نہیں ہوتا۔ وہ ایک ہی کرسی پر لمبی مدت سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ لوگ اس وقت کے (A.D.M) کے پاس آئے۔ انہوں نے ان سے کہا کہ حسب قاعدہ تین سال کے اندر ہر ایک کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے مگر اقبال صاحب اپنی کرسی پر بدستور قائم ہیں۔ کیوں ان کا تبادلہ نہیں کیا جاتا۔ اے ڈی ایم مسٹر مہیشوری نے ان لوگوں سے کہا کہ آپ کا کہنا درست ہے ہم اقبال صاحب کا تبادلہ کر دیتے ہیں مگر آپ جانتے ہیں کہ ہم کو اقبال کی جگہ دوسرا اقبال چاہئے۔ وہ یہاں بیک وقت کئی آدمیوں کا کام کرتے ہیں۔ وہ اپنی ڈیوٹی کے حد درجہ پابند ہیں۔ وہ روزانہ تین ٹیلیفون کو سنبھالتے ہم صرف اشارہ کر دیتے ہیں اور وہ انگریزی یا ہندی میں بہترین draft بنا کر ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں اور ہمارا کام صرف دستخط کرنا ہوتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ آپ ایک ایسا آدمی لائیے جو ان کی جگہ لے سکے۔ اس کے لئے ہم آپ کو دو دن کا وقت دیتے ہیں۔ مگر یہ شکایت کرنے والے ملازمین خود بھی اقبال صاحب کی اعلیٰ خصوصیات سے واقف تھے، چنانچہ وہ ان کی قائم مقامی کے لئے کسی اور آدمی کا نام پیش کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔ اور اقبال احمد صاحب اپنی سروس پر اسی عزت کے ساتھ آخر وقت تک باقی رہے۔

زندگی میں کامیابی کا راز اعلیٰ کردار ہے۔ اعلیٰ کردار کامیابی کی یقینی ضمانت ہے۔ تعصب یا سازش ایسے آدمی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہوسکتی جو اعلیٰ کردار کی صفت اپنے اندر رکھتا ہو۔ اصل یہ ہے کہ ہر دفتری یا ہر ادارہ کو کارکنوں کی ضرورت ہے۔ اگر دس امیدوار ہوں اور سب کے سب برابر کی صلاحیت رکھتے ہوں تو ایسی حالت میں یہ ممکن ہے کہ انتخاب کرنے والے لوگ کسی ایک کے حق میں جانب داری کا معاملہ کریں اور نو برابر کو چھوڑ کر ایک برابر کو لے لیں۔ اگر ایسا ہو کہ ان میں سے نو افراد برابر کی صلاحیت رکھتے ہوں اور ایک امتیازی صلاحیت کا مالک ہو تو یقینی طور پر اسی ایک کے حق میں فیصلہ ہو گا جو امتیازی درجہ میں اپنی اہلیت کا ثبوت دے رہا ہے۔ کیوں کہ یہ ہر آدمی کی اپنی ضرورت ہے کہ اس کے پاس اعلیٰ درجہ کے کارکن موجود ہوں۔ امتیاز ہر تعصب اور جانب داری کی کاٹ ہے۔ صاحب امتیاز انسان کے لئے ہر سیٹ اس کی

اپنی سیٹ ہے۔ وہ جب چاہے جس سیٹ پر بیٹھ جائے۔ اسی حقیقت کو ایک انگریزی مقولہ میں اس طرح کہا گیا ہے کہ ”ٹاپ کی جگہ ہمیشہ خالی رہتی ہے“: There is always room at the top اعلیٰ کردار کا کرشمہ صرف کچھ لوگوں کے لئے مخصوص نہیں۔ ہر آدمی یہ کرشمہ پیدا کر شرط صرف یہ ہے کہ وہ اس کی ضروری قیمت ادا کرنے کے لئے تیار ہو۔ صاحب کرشمہ آدمی پیٹ سے پیدا نہیں ہوتا۔ وہ اپنی ذاتی محنت سے بنتا ہے۔ لگن اور منصوبہ بند تیاری اس کی لازمی قیمت ہے۔ جو آدمی یہ قیمت ادا کرے وہ یقینی طور پر اعلیٰ کردار کا حامل انسان بن جائے گا جس کو کرشمہ ساز انسان کہا جاتا ہے۔ اور ٹاپ کی جگہ ہر دن ایسے اعلیٰ افراد کا انتظار کر رہی ہے۔ کریب (Crabbe) نے درست طور پر کہا ہے کہ : امتیاز ہر اس آدمی کے لئے قابل حصول ہے جو اس کے لئے کوشش کا ارادہ رکھتے ہوں:

Excellence is attainable by all who have the will to strive for it. چند سال پہلے کی بات ہے۔ ایک صاحب کا ٹیلی فون میرے پاس آیا۔ انہوں نے خوشی کے لہجے میں کہا کہ آج مجھے غلامی کی زندگی سے نجات مل گئی۔ مزید پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ اب میں گورنمنٹ سروس سے ریٹائر ہو چکا ہوں۔ اب میں اس قابل ہو گیا ہوں کہ آزاد زندگی گزاروں۔ اصل یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر سب سے طاقتور جذبہ انا (Ego) کا جذبہ ہے۔ زندگی میں آدمی جو کچھ کرتا ہے آزادانہ طور پر کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں کسی کا پابند نہیں۔ سرکاری ملازمت میں آدمی کو اپنے افسر کا اور دوسرے ملازمین کا لحاظ کرنا پڑتا ہے۔ ملازمت کی زندگی اس کو پابندی کی زندگی دکھائی دیتی ہے۔ آزاد پیشے میں اس کی انا مجروح نہیں مگر سرکاری ملازمت میں بار بار اس کو اپنی انا مجروح ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ آدمی آزاد پیشے میں بھی کام کرتا ہے اور ملازمت میں بھی۔ اگر اس کا شعور اس طرح زندہ ہو کہ وہ چیزوں کو انا کا مسئلہ نہ بنائے تو ملازمت کی زندگی بھی اس کو اسی طرح با عزت زندگی نظر آئے گی جس طرح آزاد پیشہ اس کو با عزت زندگی معلوم ہوتا ہے۔

Printed page