Al-Risala · January 2000

ہندوستانی مسلمان

Al-Risala, January 2000, pp. 26–27

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بیان کردہ مذکورہ قانون اور اس کی تاریخی تصدیق پر غور کیجئے تو ایک نہایت اہم حقیقت دریافت ہوتی ہے۔ خوش قسمتی سے اس حقیقت کا تعلق ہندوستانی مسلمانوں سے ہے ۔ ہندوستانی مسلمان اس کا عین مصداق قرار پاتے ہیں۔ اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں ساری صورت حال اچانک بدلی ہوئی نظر آئے گی۔ وہ قوم جس کا معاملہ آج بظاہر ایک المیہ کی صورت میں دکھائی دیتا ہے وہ اچانک ایک طربیہ نظر آنے لگتا ہے۔ ایک قوم جو آج بظاہر ملک کے لئے ایک بوجھ (liability) سمجھی جارہی ہے، وہ ملک کے لئے ایک قیمتی اثاثہ (asset) کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ مزید یہ کہ ہندوستانی مسلمانوں کی یہ امید افزا حیثیت صرف ہندوستان کے لئے نہیں ہے بلکہ وسیع تر معنوں میں وہ ساری دنیا کے لئے ہے۔

آج کی دنیا کو گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو تمام قوموں میں صرف ہندوستانی مسلمان وہ گروہ ہیں جن کے حق میں مذکورہ تاریخی شرطیں پوری ہورہی ہیں۔ وہ یہاں اقلیت میں ہیں مگر اتنی چھوٹی اقلیت نہیں کہ چیلنج کے مقابلہ میں بے بس ہوکر رہ جائیں ۔ اقلیت میں ہونے کی بنا پر ایک طرف انھیں

اکثریت کے چیلنج کا سامنا ہے دوسری طرف ان کا ایک بڑی اقلیت ہونا اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ اکثریت کے مقابلہ میں یکسر مغلوب ہو کر نہ رہ جائیں ۔ اس صورت حال نے ہندوستان کے مسلمانوں کو بہترین موافق پوزیشن (advantageous position) میں لا کر کھڑا کر دیا ہے۔

Printed page