Al-Risala · April 2000

جنت کا استحقاق

Al-Risala, April 2000, pp. 15–16

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت بے حد عظیم نعمت ہے۔ وہ بے حد مہنگی قیمت پر کسی کو ملے گی۔ بہت تھوڑے خوش نصیب لوگ ہوں گے جو جنت کی لطیف دنیامیں بسائے جانے کے قابل ٹھہریں۔ جنت میں داخلہ کا پہلا امتحان یہ ہے کہ آدمی معرفت کے درجہ میں اپنے رب کو پائے۔ افکار و خیالات کے جنگل میں وہ سچائی کو دریافت کرے۔ وہ نہ دکھائی دینے والے واقعہ کو وہ نہ محسوس ہونے والی چیز کو محسوس کرے۔ وہ ظاہری ہنگاموں سے گزر کر باطن کی دنیا کا مسافر بن جائے۔

اسی طرح جنت میں داخلہ کی شرط یہ ہے کہ آدمی سرکشی کا اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکا دے۔ خود پرست بننے کے تمام محرکات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ سچا خدا پرست بن جائے۔ کشش اور جاذبیت کے بے شمار مراکز سے منہ موڑ کر وہ ہمہ تن خدا کی طرف متوجہ ہو جائے۔

اسی طرح جنت میں داخلہ صرف اس شخص کے لئے ممکن ہو گا جو منفی حالات کے درمیان ہمیشہ مثبت ذہن پر قائم رہے۔ جو اپنے سینے میں اٹھنے والے حسد اور گھمنڈ اور انتقام جیسے جذبات کو دفن کر کے یک طرفہ طور پر لوگوں کے لئے شفقت اور خیر خواہی کا پیکر بن جائے۔ جو ظلم اور بے انصافی کے مواقع کو پانے کے باوجود انہیں استعمال نہ کرے اور ہر حال میں اپنے آپ کو عدل و انصاف کا پابند بنا لے۔

جنت ایک نفیس ترین خدائی کالونی ہے۔ اس نفیس کالونی میں صرف وہی روحیں داخل ہوں گی جو آخرت میں اس طرح پہنچیں کہ دنیا میں انہوں نے اپنے اوپر تطہیر کا عمل کر لیا تھا۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کثیف شخصیت کے ساتھ پیدا کیا جاتا ہے۔ اب ہر آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی ذات پر خود تطہیری کا ایک مسلسل عمل شروع کرے۔

کہ اس کی کثیف شخصیت پاک وصاف ہو کر لطیف شخصیت میں بدل جائے۔

جنتی انسان وہ انسان ہے جو کانٹوں کے درمیان پھول بن کر رہے۔ جو اندھیروں کے درمیان روشنی کا مینار بن سکے۔ جو زلزلوں اور طوفانوں کے درمیان سکون کا راز پالے۔ کے درمیان محبت کا ثبوت دے۔ جو لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود یک طرفہ طور پر انہیں معاف جو کھونے میں بھی پانے کا تجربہ کرے۔

جنتی انسان وہ ہے جو بظاہر خدا سے دور ہوتے ہوئے بھی خدا سے قریب ہو گیا ہو۔ سورج کی شعاعوں میں خدا کے نور کودیکھے۔ جو ہواؤں کے جھونکے میں لمس ربانی کا تجربہ کرے۔ جو پہاڑوں کی بلندی میں خدا کی عظمت کا تعارف حاصل کر سکے۔ جو دریاؤں کی روانی میں خدا کی رحمت کا مشاہدہ کرے۔ جو مخلوقات کے آئینہ میں خالق کا جلوہ دیکھنے لگے۔ خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ یہ بتا دیا ہے کہ جنتی انسان کی صفات کیا ہوتی ہیں۔ لوگ دنیا کی زندگی میں اپنے اندر جنتی صفات پیدا کریں، وہ موت کے بعد جنت میں داخلہ کے مستحق قرار پائیں گے۔

جنت میں داخلہ نہ کسی سفارش کی بنیاد پر ہو گا، نہ کسی کے ساتھ نسبت کی بنیاد پر اور نہ کسی پر اسرار عملیات کی بنیاد پر۔ جنت میں داخلہ پوری طرح معلوم حقیقت پر مبنی ہے۔ اور وہ یہ کہ جو آدمی موجودہ دنیا میں اپنے قول وعمل کے اعتبار سے جنتی انسان بن کر رہے گا، وہ آخرت کی جنت میں داخلہ پائے گا۔

قرآن کے مطابق، جنت اہل تزکیہ کے لئے ہے۔ تزکیہ یہ ہے کہ آدمی غفلت کی زندگی کو ترک کرے اور شعور کی زندگی کو اپنائے ۔ وہ اپنے آپ کو ان چیزوں سے بچائے جو حق سے روکنے مصلحت کی رکاوٹ سامنے آئے تو اس کو نظر انداز کر دے۔ نفس کی خواہش ابھرے تو وہ اس کو کچل دے۔ ظلم اور گھمنڈ کی نفسیات جاگے تو وہ اس کو اپنے اندر دفن کر دے۔

Printed page