Al-Risala · April 2000

بڑا کام

Al-Risala, April 2000, pp. 17–18

By Maulana Wahiduddin Khan

امام طبرانی طبرانی(260-360ھ)مشہور مشہور محدث ہیں۔ وہ شام میں پیدا ہوئے اور اصفہان میں انھوں نے المعجم الکبیر میں ایک مفصل روایت عبداللہ بن عباس کے واسطہ سے نقل کی ہے۔ اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں:

ثم جَاءَتْهُ(يَعْنِي یعنی النبی ﷺ امراة، فقالت انی رسول النساء الیک، وما منهن امراة علمت او لم تعلم الا وهى تهوی مخرجی الیک، الله رب الرجال والنساء والالهين، وانت رسول الله الى الرجال والنساء كتب الله الجهad على الرجال فان اصابوا اجروا، وان استشهدوا كانوا احياء عند ربهم يرزقون، فما يعدل ذالك من اعمالهم من قال طاعة أَزْوَاجِهِنَّ وَالْمَعْرِفَةُ بحقوقهم، وقليل منكن من يفعله. پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت آئی۔ اس نے کہا کہ میں عورتوں کی طرف سے بھیجی ہوئی آپ کے پاس آئی ہوں۔ اور ہر عورت خواہ وہ جانتی ہو یا نہ جانتی ہو، وہ چاہتی ہے کہ میں آپ سے مل کر معلوم کروں۔ اللہ مردوں کا رب بھی ہے اور عورتوں کا رب بھی۔ مردوں کے پیغمبر بھی ہیں اور عورتوں کے پیغمبر بھی۔ اللہ نے مردوں کے لئے جہاد لکھا ہے۔ وہ جہاد کریں تو اجر پائیں اور اگر شہید ہو جائیں تو وہ اپنے رب کے پاس زندہ رہیں اور رزق پھر عورتوں کے لئے اس عمل کے برابر کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ان کا عمل یہ ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی اطاعت کریں اور ان کے حقوق کو پہچانیں۔ لیکن تم میں بہت کم عورتیں ہیں جو ایسا کرتی ہیں۔

جنگ کے میدان میں لڑنا وہ کام ہے جو آدمی کو فوراً نمایاں کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس گھر کی چہار دیواری کے اندر روزمرہ کی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ایک ایسا کام ہے جو کسی کے لئے شہرت کا باعث نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ پہلے کام کی طرف فورا راغب ہو جاتے ہیں، مگر دوسرے

کام میں وہ اپنے آپ کو وقف کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔

کمزوری کی یہ قسم عورتوں میں بھی پائی جاتی ہے اور مردوں میں بھی۔ لوگ پر عظمت کاموں کی طرف دوڑتے ہیں۔ وہ اونچے اونچے منصوبوں پر تقریریں کرتے ہیں۔ مگر وہ کام جو بظاہر چھوٹے نظر آئیں، جن میں شہرت و عظمت کی چاشنی نہ ہو، ان کے بارہ میں وہ بے رغبت بنے حالاں کہ اصل کام یہ ہے کہ آدمی اپنی قریبی ذمہ داری کو ادا کرے، خواہ وہ بظاہر کتنی ہی معمولی کیوں نہ دکھائی دیتی ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے دو بڑے محاذ ہیں۔ ایک خارجی اور دوسرا داخلی۔ یکساں طور پر اہم ہیں۔ ان میں سے کوئی نہ کم ہے اور نہ زیادہ، نہ کوئی افضل ہے اور نہ کوئی غیر زندگی کی صحت مند تعمیر کے لئے ضروری ہے کہ دونوں محاذوں پر حسن خوبی کے ساتھ عمل کیا جائے۔

خالق نے اسی تخلیقی نقشہ کے مطابق مرد کو خارجی کام کے لئے پیدا کیا ہے اور عورت کو داخلی کام کے لئے۔ خالق نے مرد کو وہ صفات دی ہیں جن کے ذریعہ وہ خارجی کام کو بہتر طور پر اسی طرح خالق نے عورت کو وہ مخصوص صفات دی ہیں جو داخلی کام کو بہتر طور پر انجام دینے کے لئے ضروری ہیں۔ جس طرح عمل میں تقسیم کا اصول ہے اسی طرح دونوں جنسوں کی فطری صلاحیت میں بھی تقسیم کے اصول کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ عمل میں تقسیم کا یہ اصول خود خالقِ فطرت نے قائم کیا ہے۔ وہ کسی سماج کا عائد کیا ہوا نہیں۔ ایسی حالت میں تقسیم کے اس نقشہ کو توڑنا سادہ طور پر صرف کسی سماجی روایت کو توڑنا نہیں ہے۔ خود فطرت کے نقشہ کو توڑنا ہے۔ اور فطرت کے نقشہ کو توڑنے کی طاقت کسی میں بھی نہیں۔ ایسی حالت میں ہمارے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ فطرت کے نقشہ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے مطابق سماج کا نظام بنائیں، یعنی وہی اصول جس کو ہم نے اپنے دوسرے معاملات میں ہمیشہ سے اختیار کر رکھا ہے۔

Printed page