بمبئی کا سفر
Al-Risala, April 2000, pp. 19–27
By Maulana Wahiduddin Khan
میرے بھتیجے شکیل احمد خان انجینئر دوبئی میں رہتے ہیں۔ ان کے صاحبزادے جاوید میاں کی شادی ۱۷ جون ۱۹۹۵ کو بمبئی میں ہوئی ۔ میں شادیوں کی تقریب میں بالکل شریک نہیں ہوتا۔ لوگ بلاتے ہیں تو خاموشی سے ان کے حق میں دعا کر دیتا ہوں اور بس۔ مگر شدید اصرار کی بنا پر مجھے اس تقریب میں شریک ہونا پڑا۔ اس سفر کے دوران جو مختلف تجربات ہوئے، ان کی مختصر رو داد یہاں درج کی جاتی ہے۔
۱۶ جون ۱۹۹۵ کو دہلی سے بمبئی کے لئے انڈین ایرلائنز کی فلائٹ ۴۰۵ کے ذریعہ روانگی جہاز کامقرروقت ساڑھے پانچ بجے تھا۔ مگر جہاز پون گھنٹہ کی تاخیر سے روانہ ہوا۔ راستہ میں اس چیز کا تجربہ پیش آیا جس کو عام طور پر ایئر پاکٹ کہا جاتا ہے۔ جہاز جھٹکے کے ساتھ نیچے اوپر ہونے لگا۔ ایک بار ایسا محسوس ہوا جیسے کہ پورا جہاز اچانک دھم سے نیچے آگیا ہو۔ مسافروں کی چیخیں نکل گئیں۔ میں بیٹھا ہوا خاموشی کے ساتھ دعائیں پڑھتا رہا۔ چار منٹ کے بعد اعلان ہوا کہ مسافر اپنی سیفٹی بیلٹ کھول لیں۔ اس کے بعد جہاز حسب معمول پر سکون طور پر پرواز کرنے لگا۔ انڈین ایرلائنز کا فلائٹ میگزین سواگت (جون ۱۹۹۵) دیکھا۔ اس کے صفحہ اول پر لکھنو کے بڑے امام باڑہ کی مسجد کی رنگین تصویر چھپی ہوئی تھی۔ اندر لکھنو کے تاریخی آثار کے بارہ میں ایک تفصیلی اور با تصویر مضمون تھا۔ اس میں سب کے سب مسلم دور کے آثار تھے۔ مضمون کے آخر میں درج تھا کہ لکھنو ملک کے تمام بڑے شہروں سے ہوائی جہاز اور ٹرین اور روڈویز کے ذریعہ جڑا ہوا ہے۔ انڈین ایرلائنز روزانہ لکھنو کے لئے پرواز کرتی ہے: Lucknow is connected by air and rail with all major Indian cities. Indian Airlines have daily flights. (p. 16)
مضمون کے آخر میں یہ جملہ سیاحوں کے اعتبار سے تھا۔ مسلم دور سلطنت کی تاریخی
یادگاروں کی حیثیت پہلے مسلم یادگار کی تھی۔ اب ان کی حیثیت سیاحوں کے مراکز کشش کی ہو گئی
میگزین کے ہندی حصہ میں لکھنؤ کی روایتی کبوتر بازی پر بھی ایک مضمون تھا۔ عنوان تھا ’’شوقیہ کبوتر بازی‘‘۔
میگزین میں ایک اورلمباباتصویر مضمون مانڈو کے بارے میں تھا۔ ۱۵ ویں صدی میں مسلم مالوہ سلطنت کا مرکز تھا۔ یہاں مسلم عہد کی یادگاریں تقریباً پندرہ کلومیٹر کے رقبہ میں پھیلی مانڈو میں ایک بہت بڑی مسجد ہے جو ۱۴۵۴ء میں بنائی گئی تھی۔ مضمون نگار نے اپنے مانڈو کے سفر کی روداد کے تحت لکھا تھا:
On your right you see the Jama Masjid (1454) which is one of the biggest such medieval structures with its huge colonnades, of ele- gant arches and pillars and domes of different dimensions. (p. 87) انگریزی روزنامہ مڈڈے(۱۶جون ۱۹۹۵) کے صفحہ اول پر ایک خبر آئیڈنٹٹی کارڈ کے بارے اخبار مذکورہ نے ایک سینیر افسر کے حوالے سے لکھا تھا کہ دہلی کے ۷۲ لاکھ آئیڈنٹٹی کارڈوں میں گیارہ لاکھ سے اوپر ناقص تھے۔ اس کی تردید کرتے ہوئے دہلی کے چیف الیکٹورل افسر مسٹر ٹی ٹی جوزف نے کہا کہ ناقص کارڈوں کی تعداد ایک لاکھ سے کم تھی۔ یہ تردید مجھے غلط معلوم ہوتی ہے۔ میں خود دہلی کا رہنے والا ہوں۔ میں نے اور میرے گھر والوں نے متعلقہ دفتر جا کر فارم پر کیا اور تصویر کھنچوائی۔ مگر مہینوں گزر جانے کے باوجود اب تک ہمیں آئیڈنٹٹی کارڈ نہیں ملا۔
آئیڈنٹٹی کارڈ کا اِشو کھڑاکرکے مسٹر ٹی این سیشن (چیف الیکٹورل کمشنر) ملک میں ہیرو مگر ایک سو کروڑ روپیہ خرچ کرنے کے بعد جو کارڈ تیار ہوئے ان میں زیادہ تر ناقص تھے۔ اور بہت سے تو ووٹروں کو سرے سے ملے ہی نہیں۔ جن میں سے ایک میری فیملی بھی شامل ہے۔ جہاز میں ایک معمر خاتون نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کا ذکر کیا اور کہا کہ اسلام
میں عورتوں کے لئے جو قوانین ہیں وہ قابل اصلاً ہیں۔ پھر ملا لوگ اصلاح کی مخالفت کیوں کیا آپ لوگ چاہتے ہیں کہ عورتیں بس کچن میں پڑی رہیں۔
میں نے کہا کہ اسلام میں عزت اور حقوق کے اعتبار سے عورت اور مرد میں کوئی فرق البتہ پلیس (مقام عمل) دونوں کا الگ الگ ہے۔ اور یہ بالکل فطری ہے۔ چنانچہ جو عورتیں آزادی کے نظریہ کے تحت گھر سے باہر آتی ہیں وہ بھی باہر آکر عملی اعتبار سے اپنے ہی دائرہ کار میں رہتی ہیں۔ آپ دیکھئے، جہاز کے اندر جو عورتیں (ایرہاسٹس) ہیں وہ یہاں اگر بھی تو کچن ہی کا کام سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہی حال ساری دنیا میں عورتوں کا ہے۔ آزادی نسواں کی تحریک کا نعرہ ہے کہ عورت تو، کافی نہ بیٹھو، پالیسی بناؤ۔ مگر اصلاح اس کے سوا کوئی فرق نہیں کہ پہلے وہ گھر کی کافی بناتی تھیں، اب جہاز کی کافی بنا رہی ہیں۔ پالیسی بنانا اب بھی ساری دنیا میں مردوں ہی کے ہاتھ میں ہے۔ امریکہ میں ایک ادارہ ہے جس کا نام ہے انٹرنیشنل ایر لائن پیسنجرس اسوسی ایشن (IAPA)۔ کچھ عرصہ پہلے اس نے یہ بیان دیا کہ ہندوستانی پائلٹ ضروری تربیت اور ڈسپلن سے محروم ہیں جو نئے قسم کے ہوائی جہازوں کو چلانے کے لئے ضروری ہے:
Indian pilots lack necessary training and discipline to cope with the new generation aircraft's technology. اس پر ہندوستانی حلقوں میں بہت شور و غل ہوا۔ ایک صاحب نے تبصرہ کیا کہ مذکورہ ادارہ نے یہ بات محض اپنا انشورنس بزنس بڑھانے کے لئے کہی ہے۔ ایک پائلٹ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جدید طرز کے تمام جہاز تمام تر کمپیوٹر پر ہوتے ہیں۔ ان کو چلانا تو بہت آسان ہے۔ پائلٹ کو آنکھ بند کر کے صرف کمپیوٹر کی پیروی کرنا ہوتا ہے۔ اور اگر جہاز میں کوئی پرابلم پیدا ہو جائے تو کمپیوٹر فوراً اس پرابلم کو بتاتا ہے اور وہی اس کا حل بھی تجویز کرتا ہے۔ تاہم مذکورہ ادارہ نے اپنے بیان کو واپس نہیں لیا۔
بمبئی ایرپورٹ پر میرے بھتیجے اظفر خاں کے علاوہ جناب ایم اے صدیقی، جناب اقبال احمد، جناب فاروق فیصل صاحبان موجود تھے۔ مسافروں کی اکثریت اپنے سامان کے لئے کنویر
بیٹ کے سامنے بھیڑ لگا کر کھڑی ہوگئی۔ میرے ساتھ صرف ایک دستی بیگ تھا۔ میں رکے بغیر چلتا ہوا باہر آگیا۔ ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہو کر ہوٹل میٹر و پلیس پہنچا۔ یہاں کمرہ نمبر ۳۰۳ میں قیام تھا۔
ہوٹل کا کمرہ مسلسل ایک اجتماع گاہ بنا رہا۔ رات اور دن ہر وقت لوگ آتے رہے اور ان سے دینی اور ملی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ ہوٹل کے کچھ کارکن یہ سمجھے کہ یہاں کوئی "بزرگ" آکر ٹھہرے ہیں۔ چنانچہ وہ لوگ بار بار آکر یہ کہتے رہے کہ میرے لئے دعا کیجئے۔ شادی کی وجہ سے میرے اکثر رشتہ دار اور عزیز بمبئی میں اکٹھا ہوگئے تھے۔ تاہم ان سے میری گفتگو خاندانی انداز کی کم اور مشن کے انداز کی زیادہ ہوئی۔ میرے بھائی عبد المحیط خاں (ریٹائرڈ جوائنٹ ڈائرکٹر) فیض آباد سے آئے تھے۔ وہ تقریبا شروع سے الرسالہ کی ایجنسی چلاتے ہیں۔ ایک صاحب سے ان کا تعارف کراتے ہوئے میں نے کہا: یہ میرے بھائی بھی ہیں اور الرسالہ برادری کے ایک مستقل ممبر بھی۔ حسین احمد خاں صاحب پہلے مغربی طرز پر رہتے تھے اور ہمارے خاندان میں "الٹرا ماڈرن" مشہور تھے۔ ان کی والدہ صدیقہ خانم جو بہت مذہبی تھیں، ہمیشہ ان کے بارہ میں تشویش میں مبتلا رہتی تھیں۔ مگر یہاں ان کے چہرہ پر خوبصورت سفید داڑھی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ اب وہ پوری طرح دین دار بن چکے ہیں۔ ایک موقع پر میں نے ان کی ترقی کی دعا کی تو انھوں نے کہا: آپ تو بس ہماری آخرت کے لئے دعا کیجئے۔ انسان ایک سوچنے والی مخلوق ہے۔ انسان کے بارہ میں کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ کچھ نہیں معلوم کہ کب اس کا ذہن بدلے اور اس کے اندر انقلاب آجاۓ۔
عبد المحیط خاں انجینئر (۶۵ سال) نے اپنی تعلیم کے زمانہ کے کئی سبق آموز قصے بتائے۔ ۱۹۵۳ میں وہ بنارس ہندو یونیورسٹی میں انجینئرنگ کالج کے طالب علم تھے۔ ایک روز شہر میں وہ اپنی بہن (طیبہ مرحومہ) سے ملنے کے لئے گئے۔ واپس ہوئے تو رات کے گیارہ بج چکے تھے۔
یونیورسٹی گیٹ پر چوکی دار نے انھیں روکا۔ کیوں کہ قاعدہ یہ تھا کہ طالب علم تحریری اجازت کے بغیر 9 بجے رات سے زیادہ باہر نہیں رہ سکتا۔ اگر وہ بلا اجازت تاخیر کرے گا تو اس پر پچاس روپیہ جرمانہ ہو گا جو ۱۹۵۳ء میں ایک طالب علم کے لئے بڑی رقم تھی۔
چوکی دار نے رپورٹ کردی۔ اگلے دن صبح کو وہ یونیورسٹی کے پراکٹر مسٹر وی پی پانڈے کے یہاں حاضر ہوئے۔ وہ گھبرائے ہوئے تھے کہ کہیں ان کے خلاف کوئی سخت ایکشن نہ لیا مگر مسٹر پانڈے نے ان کے بیان کو فوراً مان لیا اور کہا کہ میں تم کو جانتا ہوں تمہارا بیان ہی ہمارے اطمینان کے لئے کافی ہے۔
عبد المحیط خاں صاحب انجینئر نے زمانہ کے فرق کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ۱۹۵۰ میں میں اعظم گڑھ شبلی انٹر کالج میں پڑھتا تھا۔ میرے ایک ساتھی کا نام چندر بلی تھا۔ وہ ہندو رواج کے مطابق جنیو پہنتا تھا۔ ایک روز میں نے کہا کہ یہ کیا بے کار کا دھاگا تم لٹکائے رہتے ہو۔ یہ کہہ کر میں نے جینو کو جھٹکے کے ساتھ کھینچا یہاں تک کہ وہ ٹوٹ گیا۔ چندر بلی نے غصہ نہیں کیا بلکہ کہا: کہا:’’بھیوا،دوسراکوئی ایساکرتاتو آج میں اس کا خون کر دیتا" یہ مسٹر چندر بلی اب کیمیکل انجینئر ہیں اور گوالیار میں رہتے ہیں۔
یہ ۱۹۵۰ء کی بات ہے۔ مگر آج کوئی مسلمان کسی ہندو کا جنیو نہیں توڑ سکتا۔ کل اور آج میں کتنا زیادہ فرق آچکا ہے۔
حسین احمد خاں صاحب پہلے بمبئی میں ایک دوا ساز ادارہ میں بڑے افسر تھے۔ ایک بار وہ بمبئی میں ایک مسلمان سے ملے۔ انھوں نے اپنا کارڈ دیا جس پر ان کا نام اس طرح چھپا ہوا تھا (Husain A. Khan)۔ یہ مسلمان خود اپنا نام مخفف صورت میں اس طرح لکھتے تھے جس سے مذہب کا اندازہ نہ ہو، (جیسے آر این باگڑ)۔ چنانچہ انھوں نے حسین صاحب کا کارڈ دیکھ کر تعجب کے ساتھ کہا: ایسا کھلا کھلا لکھ دیتے ہیں آپ، اس سے آپ کو کوئی پرابلم نہیں آتا“۔ صاحب نے کہا کہ نہیں، بلکہ مجھے تو اب تک اس سے فائدہ ہی ہوا ہے۔
حسین صاحب نے بتایا کہ بمبئی کی تین فرموں میں انھوں نے اچھے عہدہ پر کام کیا ہے۔ جگہ انھیں ہمیشہ احترام ہی ملا ہے۔ انھوں نے اس کی کچھ تفصیلات بتائیں۔ شادی کے سلسلہ میں ایک انجینئر صاحب لکھنؤ سے آئے تھے۔ ان سے ہوٹل میں ملاقات ہوئی تو وہ سخت مشتعل ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ جن لوگوں کی دعوت پر آپ لکھنؤ (اپریل ۱۹۹۵) گئے تھے، آپ جانتے ہیں کہ وہ کون لوگ ہیں۔ وہ اسلام دشمن لوگ ہیں۔ بلانے پر آپ لکھنؤ پہنچ گئے اور ان کے پروگرام میں شرکت کی ۔ وہ نہایت غصہ کی حالت میں دیر تک زور زور سے بولتے رہے۔ آخر میں میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں اور کافروں کے پاس جاتے تھے جو کہ خدا کے اور اس کے دین کے دشمن تھے۔ اگر آپ ان کے پاس نہ جاتے تو لوگوں تک حق کا پیغام کس طرح پہنچتا۔ کو یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ کن لوگوں کی دعوت پر گئے۔ بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ وہاں جا کر کیا بات کہی۔ میں نے کہا کہ ان لوگوں نے لکھنؤ کے گنگا پرشاد میموریل ہال میں ۱۶ اپریل ۱۹۹۵ کو میرا پروگرام رکھا تھا۔ اس کا عنوان تھا: ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کا حل سیرت نبوی کے آئینہ اس کو آپ اشتہارات میں اور لکھنؤ کے روزنامہ قومی آواز (۱۵ اپریل ۱۹۹۵) میں دیکھ سکتے اس کے علاوہ میری تقریر کا مکمل ٹیپ بھی موجود ہے۔ ندوہ کے بہت سے طلبہ اس جلسہ میں شریک تھے، ان سے بھی آپ پوچھ سکتے ہیں کہ میں نے اپنی تقریر میں کیا کہا۔ مذکورہ قسم کی سوچ صرف تنگ نظری کی پیداوار ہے۔ اس کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں۔ حتی کہ اس کا تعلق عقل سے بھی نہیں۔
شکیل احمد خاں اور حسین احمد خاں دونوں میرے قریبی عزیز ہیں۔ وہ دہلی سے آئے تھے۔ حسین احمد صاحب نے بتایا کہ ہمارے ساتھ سونے کے زیورات تھے جن کی مالیت لاکھوں روپیہ ہم نے طے کر لیا تھا کہ ائیر پورٹ پر کوئی چیز نہیں چھپائیں گے بلکہ صاف صاف بتا دیں چنانچہ انھوں نے کسٹم والوں کو بتا دیا کہ ہمارے پاس فلاں فلاں زیورات ہیں۔
پوچھا کہ اتنے زیادہ زیورات آپ کس لئے لائے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے لڑکے کی شادی اس میں دینے کے لئے ہم یہ زیورات لائے ہیں۔ اس صاف گوئی کا اثر کشم کے عملہ پر اتنا زیادہ ہوا کہ اس نے ان حضرات کے سامان تک نہیں کھلوائے اور کہا کہ کوئی حرج نہیں، جائیے۔ آپ کی شادی کی خوشیوں میں ہم بھی آپ کے ساتھ شریک ہیں۔
بمبئی کے اردو ہفت روزہ بلٹز نے اپنے شمارہ ۲۰ مئی ۱۹۹۵ میں میرا ایک انٹرویو شائع کیا تھا۔ ایک صاحب نے اس کا ایک نسخہ لا کر دیا۔ یہ انٹرویو مسٹر پرویز حفیظ نے کلکتہ میں لیا تھا۔ خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے مسائل کی واحد ذمہ داری نا اہل مسلم لیڈر شپ پر ہے۔ مسلمانوں کو بار بار ٹکراؤ کے راستہ پر چلا کر تباہ کیا۔ ان کو خود تو لیڈری ملتی رہی۔ اور مسلمان اپنی تباہی کی صورت میں اس کی مہنگی قیمت ادا کرتے رہے۔
ڈاکٹر انصار پیش امام (ملت نگر، بمبئی) نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ اب الرسالہ کی مخالفت کہاں ہے۔ جو لوگ پہلے تنقید کرتے تھے وہ خود اب الرسالہ کی پالیسی کے مطابق، اعراض کا طریقہ اختیار کئے ہوئے ہیں (روایت جناب فاروق فیصل صاحب)
اس قسم کی باتیں کئی لوگوں نے کہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ چند سالوں کے اندر مسلم نقطہ نظر میں اتنا زیادہ فرق آچکا ہے کہ اس کو ہر جگہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ آج بر سر عام ایسی باتیں کہی جانے لگی ہیں جو کہ پہلے نجی مجلسوں میں بھی قابل برداشت نہیں ہوتی تھیں۔ بمبئی میں ”قیادت“ کے مسئلہ پر ایک سیمنار ہوا۔ میں تقریر کرتے ہوئے جسٹس قاضی صاحب نے کہا کہ بابری مسجد کو کسی اور نے نہیں گرایا۔ کو نام نہاد مسلم قائدین نے گرایا۔ وہ خم ٹھونک کر یہ کہتے رہے کہ مسجد کو گرا کر دیکھو۔ انھوں نے فریق ثانی کو جوش دلایا اور انھوں نے جذبات میں بھڑک کر اس کو گرا دیا۔ ایک صاحب نے اس پر اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ : اس قسم کے انتہائی واقعات ہمیشہ اشتعال کی حالت میں ہوئے ہیں۔ اگر لوگوں کو اشتعال نہ دلایا جائے تو ایسے واقعات کبھی نہیں ہوں گے۔
جناب ایم اے صدیقی الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ وہ مسٹر محمد علی جناح کے ساتھ رہ اب وہ الرسالہ سے پوری طرح اتفاق کرتے ہیں۔ جناب فاروق فیصل صاحب نے ان کا ایک تاثر انھیں کے الفاظ میں اس طرح لکھ کر مجھے دیا: ”مسٹر جناح کی شخصیت کے کئی پہلو قابل لیکن یہ مولانا وحید الدین صاحب کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ انھوں نے سوائے دو قومی نظریہ کے کبھی ان کے کسی اور پہلو پر اعتراض نہیں کیا۔ الرسالہ پڑھنے والوں کے اندر کس قسم کا ذہن بنتا ہے، اس کا اندازہ ایک چھوٹے سے واقعہ سے ہوتا ہے۔ الرسالہ کے ایک سفر نامہ میں ایک بار چھپا تھا کہ جہاز میں قواعد سفر کا اعلان کرتے ہوئے اناونسر نے کہا کہ اس کو غور سے سنئے، اگر چہ آپ ایک مستقل مسافر ہوں: Listen it carefully even if you are a regular traveller. جناب فاروق فیصل صاحب نے بتایا کہ ایک روز وہ قرآن پڑھ رہے تھے۔ اچانک انھیں مذکورہ فقرہ یاد آیا۔ انھوں نے اپنے دل میں کہا کہ اس کتاب کو احتیاط کے ساتھ پڑھو، اگر چہ تم اس کے مستقل قاری ہو:
Read it carefully even if you are a regular reader. جسٹس قاضی صاحب کی رہائش گاہ پر کچھ لوگ جمع تھے۔ وہاں میں نے جنت کی تشریح میں کچھ باتیں کہیں۔ ایک بات یہ تھی کہ جنت میں بورڈم کبھی نہیں ہوگا۔ وہاں کی لذتوں سے آدمی پورے طور پر محظوظ ہوتا رہے گا۔
قرآن میں ہے کہ جن لوگوں نے بھلائی کی ان کے لئے بھلائی ہے اور زیادہ بھی (یونس (۲۶) حدیث کے مطابق زیادہ سے مراد ان کو دیکھنا ہے (النظر الی وجہ الرحمن)
ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ لذت کمال نوکی دریافت میں ہے۔ حدیث میں ہے کہ اہل جنت ہر
قسم کی نعمتوں میں ہوں گے۔ اس کے بعد انھیں اللہ کی ایک تجلی دکھائی جائے گی۔ وہ اتنی پر مسرت ہوگی کہ اہل جنت اس کو دیکھ کر دوسری نعمتوں کو بھول جائیں گے۔ اس طرح ابدی طور پر ہوتا رہے گا (مشکوٰۃ المصابیح ۳/ ۱۵۷۲)
اس طرح اہل جنت کو خالق کائنات کے لامتناہی جلوے بار بار دکھائے جاتے رہیں گے۔ نئے نئے تجربات انھیں کبھی بورڈم کا احساس نہیں ہونے دیں گے۔
جسٹس قاضی کی اہلیہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ قاضی صاحب نے بتایا کہ وہ اکثر مجھ کو نصیحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ : دولت مند کوئی شخص اچانک بھی بن سکتا ہے۔ مگر صاحب علم بننا برسہا برس کی کاوشوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔
جسٹس قاضی نے مارک ٹوین کا ایک قول اس طرح بتایا کہ خاموشی ایک نا قابل برداشت