Al-Risala · January 2000

ایک مثال

Al-Risala, January 2000, pp. 27–28

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں میں ایک مثال درج کروں گا جس سے اس معاملہ کی وضاحت ہوتی ہے۔ انڈونیشیا اور ملایشیا کی ہے۔ میں نے اپنے ایک بیرونی سفر کے دوران انڈونیشیا کے ایک سنیئر پروفیسر سے پوچھا کہ انڈونیشیا اور ملایشیا دونوں پڑوسی ملک ہیں مگر ملیشیاکے مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں جو ترقی کی ہے، انڈونیشیا کے مسلمان وہ ترقی نہ کر سکے۔ مذکورہ پروفیسر نے جواب دیا کہ اس کا سبب دونوں کے مختلف حالات میںپایاجاتاہے ۔ ملیشیامیں مسلمانوں اور غیر مسلموں کا عددی تناسب تقریباً ففٹی ففٹی کا ہے۔ اس بنا پر وہاں مسلسل چیلنج کی حالت قائم رہتی ہے۔ وہاں کے مسلمان ہر وقت یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر انھوں نے غفلت کی تو فریق ثانی آگے بڑھ جائے گا اور وہ ایک پچھڑا ہوا گروہ بن کر رہ جائیں گے۔ یہ نفسیات ملیشیاکے مسلمانوں کو مسلسل متحرک رکھتی ہے۔ ان کا زیادہ عمل ان کی ترقی کی ضمانت بن گیا ہے۔

انڈونیشیا کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہاں کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ۹۰ فیصد ہے۔ اس عددی اکثریت نے وہاں کے مسلمانوں کے اندر تحفظ کا احساس (sense of security) پیدا کر دیا ہے۔ یہ احساس ان کے لئے جمود کا سبب بن گیا ہے۔ چنانچہ ان کی صلاحیتیں زیادہ بیدار نہ ہو سکیں۔ وہ محنت کش بننے کے بجائے سہولت پسندی کی زندگی کے عادی بن گئے ۔ جس قوم کا یہ حال ہو جائے وہ کبھی کوئی بڑی ترقی نہیں کر سکتی۔

برصغیر ہند میں اگر اس اصول کو منطبق کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہو گا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمان گویا انڈونیشی مسلمانوں کے مانند ہیں ، اور انڈیا کے مسلمان ملایشیائی مسلمانوں کے مانند ...... بلکہ شاید یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انڈیا کے مسلمان اس معاملہ میں ملیشیاکے مسلمانوں سے بھی زیادہ بہتر

پوزیشن میں ہیں۔ کیونکہ ملیشیائی مسلمانوں کو ایک مساوی گروہ کی طرف سے چیلنج درپیش ہے، جب کہ انڈیا کے مسلمانوں کو عددی اعتبار سے ایک بر تر گروہ کا سامنا کرتے ہوئے زندگی کا ثبوت دینا ہے۔ اس فرق کی بنا پر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انڈیا کے مسلمانوں میں مقابلے کی اسپرٹ جتنی زیادہ بیدار ہوگی وہ اس سے زیادہ ہوگی جو ملیشیا کے مسلمانوں میں بیدار ہوتی ہے۔

ان حالات کی بنا پر ہندوستانی مسلمان ایک عظیم امکان کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں۔ امکان کہ وہ فطرت کے اشارہ کو سمجھیں اور اس کو استعمال کر کے نہ صرف ہندوستان کے لئے بلکہ پوری دنیا کے لئے ایک نئے دور کے نقیب بن جائیں۔

Printed page