Silence is unbearable repartee.
Al-Risala, April 2000, pp. 27–33
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب سے الرسالہ مشن کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مسٹر جناح سے لے کر مسٹر شہاب تک ہمارے لیڈروں نے جو سیاست چلائی، اس کے نتیجہ میں مسلمان اس ملک میں ایک قسم کا پروٹسٹنٹ گروپ بن گئے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ مسلمانوں کو اس ملک میں حقیقی معنوں میں نکری ایٹیٹو گروپ کی حیثیت دے دیں۔
۱۸ جون کی شام کو ہوٹل کے کمرہ میں کچھ لوگ جمع ہوگئے۔ ان کی خواہش تھی کہ فقہی اختلاف کے مسئلہ کی وضاحت کی جائے۔ میں نے تقریباً آدھ گھنٹہ تک اس کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی۔ لوگ مطمئن ہوگئے۔ اس گفتگو کا ٹیپ جناب فاروق فیصل صاحب کے پاس
۱۴ مئی ۱۹۹۵ کو ممبئی میں راجستھان، مہاراشٹر، گجرات اور دہلی کے چیف منسٹروں نے ایک پریس کانفرنس کی تھی۔ اس میں کیشو بھائی پٹیل منوہر جوشی اور مدن لال کھورانہ کے علاوہ
گوپی ناتھ منڈے، جسونت سنگھ وغیرہ بھی موجود تھے۔ انھوں نے متفقہ طور پر مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ پاکستان کو سبق سکھائے تا کہ پڑوسی ملک کو اپنے کرایہ کے سپاہیوں کے ذریعہ چرار شریف طرز کی گھناؤنی کارروائیوں سے باز رکھا جاسکے۔
چار ریاست کے ان چیف منسٹروں کو شاید یہ بات معلوم نہیں کہ کشمیر کا موجودہ سنگین مسئلہ "سبق سکھانے کی سیاست" ہی کے نتیجہ کی پیداوار ہے۔ یہ مسز اندرا گاندھی کا ذہن تھا۔ چنانچہ اسی سبق سکھانے کے لئے ۱۹۷۱ء میں وہ شیخ مجیب الرحمن کے ساتھ بنگلہ دیش کی جنگ میں باقاعدہ شریک ہوگئیں۔ اپنے خیال سے انھوں نے پاکستان کو دو ٹکڑے کرکے اس کو سبق سکھادیا مگر اس کے بعد پاکستان میں از سر نو انتقام کی نفسیات جاگ اٹھیں۔ اس نے دوبارہ ہم کو سبق سکھانے کے لئے کشمیر کا محاذ کھول دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ۱۹۷۱ء سے پہلے پاکستانی عوام کشمیر کو تقریباً بھول چکے تھے مگر ۱۹۷۱ء کے بعد ان کے اندر دوبارہ ہندوستان کے خلاف جذبات بھڑک اٹھے اور بنگلہ دیش کا بدلہ لینے کے لئے انہوں نے پھر سے کشمیر کا محاذ کھول دیا۔ ٹائمز آف انڈیا کے سنڈے ایڈیشن (۱۸ جون ۱۹۹۵) میں ایک مضمون مسٹر عبد الرحمن انتولے کے بارے میں تھا۔ اس میں ان کی پوری زندگی کو علم نجوم (ایسٹرولوجی) کی روشنی میں بیان کیا گیا تھا۔
عبدالرحمن انتولے ۹ فروری ۱۹۲۹ء کو مہاراشٹر کے ایک قصبہ میں پیدا ہوئے۔ میں وہ راجیہ سبھا کے ممبر بنے۔ ۱۹۷۷ء میں وہ انڈین نیشنل کانگریس کے جنرل سکریٹری مقرر ۱۹۸۰-۸۲ء میں وہ مہاراشٹر کے چیف منسٹر تھے۔ اس کے بعد ان کی زندگی میں مختلف اتار چڑھاؤ آتا رہا۔ جون ۱۹۹۵ء میں وہ مرکز میں ہیلتھ منسٹر مقرر ہوئے۔ آخر میں درج تھا : His planets once elevated Antulay to the highest postition in life and he ruled the state like a Moghul king holding durbars. فاروق فیصل صاحب نے بمبئی کے انگریزی روزنامہ مڈ ڈے (Mid-day) کا شمارہ ۱۷جون اس میں بمبئی کے مشہور جرنلسٹ مسٹر ایم وی کامتھ کا ہفتہ وار کالم تھا۔ اس بار انھوں نے
میرے بارے میں لکھا تھا۔ اس کا پہلا پیرا گراف تھا:
بمبئی کے ایک جرنلسٹ مسٹر اقبال مسعود نے ٹائمز آف انڈیا میں شائع شدہ میرے ایک مضمون پر اپنا تبصرہ انگریزی اخبار پائیر (۲۹ مئی ۱۹۹۵) میں شائع کیا تھا۔ اس کے آخر میں انھوں نے لکھا تھا کہ بمبئی کے مسلمان میرے مشورہ کے مطابق، حقیقت پسندانہ سیاست کا طریقہ اختیار کرنے کے لئے تیار ہو چکے ہیں:
اس ”تبدیلی“ کے مختلف مظاہر بمبئی کے اس سفر میں دیکھے۔ ان ان میں سے ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بمبئی کے ایک صاحب نے یہ طے کیا ہے کہ وہ ہر مہینہ ایک بڑی رقم صرف اس لئے دیں گے کہ اس کے ذریعہ سے ماہنامہ الرسالہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے۔ فضل سے اس پر عمل در آمد شروع ہو گیا ہے۔
بمبئی سے ایک اردو ماہنامہ البلاغ کے نام سے شائع ہو تا ہے۔ اس کے شمارہ اکتوبر ۱۹۹۵ میں ایک مضمون میرے بارے میں چھپا تھا۔ مضمون نگار میرے اوپر ”تبصرہ“ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”جو حضرات اخبارات ورسائل میں مولانا کے اندازِ فکر اور طرزِ نگارش سے واقف ہیں ان کو یہ تو معلوم ہی ہو گا کہ موصوف قرآن و حدیث کے احکام کو کس طرح قومی وملی مسائل پر چسپاں کر کے (مسلمانوں کو) مجہولیت و مفعولیت کا پیغام دیتے رہے ہیں“ (صفحہ ۲۶)
یہ میرے اوپر سر اسر اتہام ہے کہ میں مجہولیت اور مفعولیت کا سبق دیتا ہوں۔ میں نے اس قسم کی بات کبھی بھی الرسالہ میں نہیں لکھی۔ الرسالہ کے تمام قارئین جانتے ہیں کہ میں مسلمانوں کو جس چیز کا سبق دیتا ہوں وہ صبر و اعراض ہے اور صبر و اعراض بلا شبہ قرآن و سنت کی ایک اہم تعلیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام علماء صالحین ہمیشہ ملت کو صبر و اعراض کی تلقین کرتے
الرسالہ میں صبر کو ایک اصول اسلام کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ بہت سے لوگ صبر کو ایک اصول کے طور پر اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے مگر جب حالات کا دباؤ پیش آتا ہے تو یہی لوگ اس وقت صبر کی بولی بولنے لگتے ہیں۔ اس کی ایک مثال خود ماہنامہ البلاغ بھی ہے۔
ماہنامہ البلاغ (بمبئی) کے شمارہ جون ۱۹۹۵ میں ایک مضمون نظر سے گذرا۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے:
"(قرآن میں ارشاد فرمایا صبر وا۔ یعنی صبر کو لازم پکڑو۔ سیاق کلام سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نزاع اور جھگڑوں سے بچنے کا کامیاب نسخہ بتایا گیا ہے۔ دوسروں کے ساتھ چلنے کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ آدمی خلاف طبع امور پر صبر کرنے اور نظر انداز کرنے کا عادی ہو۔ اسی صفت کا دوسرا نام صبر ہے۔ یہ ہر شخص جانتا ہے کہ نزاع بہت بری چیز ہے۔ مگر اس سے بچنے کا گر یہی ہے کہ آدمی خلاف طبع امور پر صبر کرنے کا خوگر بنے۔
ایک آئور کٹا سٹڑک سے گزرا۔ اس کے پیچھے ہندی میں یہ الفاظ لکھے ہوئے نظر آئے میرا بھارت مہان، پر قرض سے پریشان۔
حال میں ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ ہندوستان کے بڑھے ہوئے قرضوں کی وجہ سے اس کی آمدنی کا بہت بڑا حصہ سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔ ٹائمس آف انڈیا (۷ جون ۱۹۹۵) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مرکزی وزیر مالیات مسٹر من موہن سنگھ نے اقرار کیا ہے کہ سودی
قرضوں کی ادائیگی کی بڑھی ہوئی شرح کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ہماراخزانہ اس کی ادائیگی میں خالی ہو جاتا
The union finance minister, Mr. Manmohan Singh, has confessed that mounting interest payments are a drain on the exchequer. ایک کشمیری مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ ان کو میں نے انگریزی اخبار دی ایشین ایج کا شمارہ ۱۹ جون دکھایا۔ اس میں مرکزی وزیر داخلہ مسٹر ایس بی چوہان کا انٹرویو تھا۔ انھوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے نقطۂ نظر کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ لوگوں کو جاننا چاہئے کہ جموں اور کشمیر کے لوگوں نے اس وقت انڈیا سے الحاق کیا جب کہ انھیں یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ انڈیا میں ان کو خصوصی درجہ (special status) حاصل رہے گا۔ ہم اس دعویٰ سے پھر نہیں سکتے جب تک کہ خود کشمیری عوام ہی کچھ اور چاہیں (صفحہ ۴)
میں نے کہا کہ کشمیر کو چاہئے کہ وہ ہتھیار پھینک دیں اور جنگجوئی کا طریقہ چھوڑ کر گفت و شنید کی میز پر آجائیں۔ انڈین یونین کے اندر خصوصی درجہ کے اصول پر وہ ہندوستانی لیڈروں سے گفتگو کریں۔ کشمیریوں کے لئے یہی واحد صحیح راستہ ہے۔
اقبال مسعود صاحب بمبئی میں رہتے ہیں۔ دسمبر ۱۹۹۲ کے فساد کے وقت وہ بمبئی ہی میں اس فساد کی بابت انھوں نے روزنامہ پانیئر (۱۳ جون ۱۹۹۵) میں لکھا تھا: On December 6, 1992, evening, an advocate, a stranger to me, rang me up from a muslim area: "Iqbal saheb, you do not know me. But here are some wild young men who want to attack po- lice stations tomorrow." I was taken aback but agreed to talk. I heard wild uncontrolled rage. "The police kept quiet at Babri Masjid when it was demolished. Now they should not object if we attack police stations."
چند دن پہلے ٹائمس آف انڈیا (۱۵ جون ۱۹۹۵) میں مسٹر ہر بنس کھیا کا ایک مضمون میرے بارہ میں چھپا ہے۔ یہاں بہت سے لوگ اس کو پڑھ چکے تھے۔ اس میں مضمون نگار نے اعتراف کیا
ہے کہ پچھلے چند برسوں میں ہندوستانی مسلمانوں کے اندر غیر معمولی تبدیلی آچکی ہے۔ عین اس رخ پر ہے جس کے لئے میں لمبی مدت سے مسلسل کوشش کرتا رہا ہوں۔ مضمون نگار نے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ آج کا اصل مسئلہ ہندو۔ اسی کشیدگی نے سارے مسائل پیدا کئے ہیں۔ ۷۰ سال پہلے اقبال نے کہا تھا: مرابہنگر کہ درہندوستاں دیگر نمی بینی برہمن زادہ داناے رموز روم و تبریز است اقبال نے فخر کے ساتھ اپنے برہمن زادہ ہونے کا ذکر کیا مگر کسی نے اس کو برا نہیں مانا۔ یہ حال ہے کہ اگر میں ہندوؤں کے کسی جلسہ میں شریک ہو کر وہاں اسلام کا تعارف پیش کروں تو لوگ اس کو الٹے معنوں میں لے لیتے ہیں اور میرے خلاف عیب زنی کی مہم شروع کر دیتے ہیں۔ ۱۹ جون کو صبح ۸ بجے مجھے ہوٹل چھوڑ کر ایرپورٹ کے لئے روانہ ہونا تھا۔ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھی۔ دعا کرتے ہوئے خیال آیا کہ الرسالہ مشن کی کہانی کو ایک شمارہ کی صورت میں شائع کیا جائے۔ اس کا نام ’’روداد چمن‘‘ ہو اور اس کے نیچے یہ درج ہو: قفس میں مجھ سے روداد چمن کہتے نہ ڈر ہمدم گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میراآشیاں کیوں ہو مسٹر ایم اے صدیقی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نہایت ذہین آدمی ہیں وہ الرسالہ کے قاری ہیں۔ واپسی میں ایرپورٹ پر میں نے ان سے کہا کہ آپ اپنے تجربات حیات بتائیے۔ کافی اصرار کے بعد
انہوں نے کاغذ پر یہ الفاظ لکھے: عمر کے اندر اس مرحلہ پر آکر میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ زندگی کا آغاز کر رہا ہوں، یعنی مفید اور کار آمد زندگی کا۔
بمبئی سے انڈین ایر لائنز کی فلائٹ ۱۸۵ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جہاز ٹھیک مقرر وقت پر بمبئی سے روانہ ہوا۔ ۱۶ جون کی شام کو جب میں بمبئی پہنچا تو اناونسر نے اعلان کیا تھا کہ باہر کا درجہ حرارت ۲۸ڈگری ہے۔ واپسی میں جب میں دہلی پہنچا تو اناونسر نے کہا کہ باہر کا درجہ حرارت ۳۸ بمبئی اور دہلی میں دس درجہ کا فرق تھا۔
اسٹیٹس مین (۱۹ جون ۱۹۹۵) میں ایک مضمون میں بتایا گیا تھا کہ وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کی کامیابی کا راز ان کا ٹھنڈا انداز (cool approach) ہے۔ یہ بات نہایت صحیح ہے۔ شخص ملک کا وزیر اعظم ہو یا ایک عام آدمی ہو، ہر ایک کے لئے کامیابی کا یہی واحد طریقہ ہے۔ ٹھنڈا مزاج آدمی کو بھر پور طور پر سوچنے کا موقع دیتا ہے۔ اسی طرح آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے دماغ کی پوری صلاحیت کو استعمال کر کے صحیح ترین تدبیر اختیار کرے۔ لوگ ایسا کریں انھیں کوئی بھی چیز کامیابی سے روک نہیں سکتی۔
یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ مسلمان ہوائی جہاز کی صنعت میں بھی داخل ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کی ایک بڑی ہوائی کمپنی بن چکی ہے جس کا ہیڈ کوائر بمبئی میں ہے۔ اسی طرح مسلم نوجوان ہوائی جہاز کی سروس میں داخل ہو رہے ہیں۔ انھیں میں سے ایک مسٹر ابو انصاری ہیں۔ وہ پائلٹ ہیں اور بمبئی اور بھوپال کے درمیان پروازوں میں بطور ہواباز کام کر رہے ہیں۔