بیسویں صدی کا جائزہ
Al-Risala, January 2000, pp. 28–31
By Maulana Wahiduddin Khan
بیسویں صدی میں دنیا کے نقشہ پر کئی قو میں ابھریں جنھوں نے عالم انسانی کی قیادت کا رول ادا کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے تین خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ سوویت یونین، امریکہ، مگر یہ تمام طاقتیں یا تو عملاً نا کام ہو چکی ہیں یا وہ نا کامی کے کنارے کھڑی ہوئی ہیں۔ ۱۹۱۷ میں روس میں کمیونسٹ انقلاب آیا، اس کے بعد سوویت یونین کی شکل میں اس کا ایک عظیم امپائر بن گیا۔ تقریباً ۷۵ سال تک شان وشوکت دکھانے کے بعد اس کا یہ حال ہوا کہ ۱۹۹۱ میں وہ ریت کے محل کی طرح ٹوٹ کر گر گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ نظام سر تا سر غیر فطری بنیاد پر قائم کیا گیا خدا نے اس دنیا کا نظام مسابقت (Competition) کے اصول پر قائم کیا ہے۔ مگر کمیونسٹ امپائر نے اس کو ختم کر کے ریاستی کنٹرول کی مصنوعی بنیاد پر زندگی کا نظام قائم کرنے کی کوشش کی۔ یہ نظام اول دن ہی سے قابل عمل نہ تھا۔ کچھ دن تک وہ جبر اور پروپیگنڈہ کے زور پر چلتا رہا۔ اس کے بعد وہ خود اپنی داخلی کمزوری کی بنا پر منہدم ہو گیا۔
امریکی نظام تقریباً دو سو سال سے بدستور ابھی تک چلا جار ہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کے ابتدائی دانشوروں نے اس کو صحیح فکری بنیاد یعنی مسابقت کے اصول پر قائم کیا۔ امریکی نظام میں اول دن سے ایک کمزوری شامل تھی ۔ وہ یہ کہ یہ نظام مذہب اور سیاست کی
تفریق کے اصول پر قائم کیا گیا اس قسم کی تفریق اصولی طور پر غلط ہے مگر وہ کم از کم اقتصادی پہلو سے ایک قابل بقا (sustainable) نظام تھا۔ اس لئے وہ ظاہری ڈھانچے کے اعتبار سے چلتا رہا اور بظاہر اب بھی چلا جا رہا ہے۔
تاہم گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ امریکی نظام اب آہستہ آہستہ زوال کا شکار ہو رہا ہے۔ اس زوال کا نمایاں مظاہرہ ۹۸۔ ۱۹۹۹ میں موجودہ امریکی صدر بل کلنٹن اور مونیکا لیونسکی (Monica Lewinsky) کے واقعہ کی صورت میں ہوا۔ مونیکا لیونسکی واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس کی ایک نوجوان کارکن تھی۔ کلنٹن نے اس سے خفیہ جنسی تعلق قائم کر لیا۔ جب یہ راز افشا ہو گیا تو صدر کلنٹن نے دو اور غلطیاں کیں۔ ایک دروغ حلفی (purjury) اور دوسرے انصاف میں ۱۳ ماہ تک اسمبلی کی سطح پر کیس چلتا رہا یہاں تک کہ ۱۲ فروری ۱۹۹۹ کو ممبران کی کثرت رائے سے کلنٹن کو بری کر دیا گیا۔
اس کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ امریکی عوام کی تقریبا ۷۵فیصد تعداد صدر کلنٹن کے مواخذہ (impeachment) کے خلاف تھی ۔ امریکی عوام کی رائے یہ تھی کہ صدر کلنٹن نے امریکی اقتصادیات کو بہتر بنایا ہے ایسی حالت میں اگر ان کی ذاتی زندگی غیر اخلاقی ہو تو ہمارے لئے وہ قابل لحاظ نہیں۔ امریکی عوام کے اس رجحان کی بنا پر صدر کلنٹن کے خلاف مواخذہ کی تحریک ناکام ہو گئی۔
۲۰۰ سال پہلے امریکہ نے سیاست کو مذہب سے جدا کیا تھا۔ اب یہ ثابت ہوا کہ امریکی قوم نے مزید آگے بڑھ کر اخلاقی اقدار (moral values) کو بھی اپنی سیاسی اور قومی زندگی سے الگ کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ دوسری علیحدگی اتنے بڑے پیمانہ پر ہوئی ہے کہ نہ صرف امریکی عوام بلکہ ساری دنیا کے لوگوں نے اس کو جان لیا۔ بل کلنٹن اور مونیکا لیونسکی کا یہ قصہ ایک ایسے زمانہ میں پیش آیا جب کہ دنیا میڈیا اور انٹرنیٹ کے دور میں داخل ہو چکی تھی۔ چنانچہ پورے ایک سال تک یہ معاملہ ہر روز لوگوں کے سامنے آتا رہا۔ دنیا میں بسنے والاتقریباًہر شخص اس کو جان گیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ میں اخلاقی اقدار اور سیاست کے درمیان میں یہ جدائی خاموش عمل کے طور پر نہیں ہوئی ہے بلکہ وہ اعلان اور اشتہار کے ساتھ ہوئی ہے۔ یہ برائی امریکی سماج میں اگر خاموش عمل کے طور پر ہوتی تو وہ امریکہ کے لئے کچھ اور زندگی کی ضمانت بن سکتی تھی جیسا کہ قدیم بادشاہوں کے ساتھ پیش آیا۔ مگر اس کو علی الاعلان اختیار کر کے امریکہ نے اپنے زوال کے سفر کو بہت زیادہ تیز کر دیا ہے۔ کوئی بھی نظام اخلاقی صفات سے محروم ہو کر قائم نہیں رہ سکتا۔ اور امریکہ یقینی طور پر اس تاریخی قانون سے مستثنیٰ نہیں۔
تیسری مثال ہندوستان کی ہے۔ ہندوستان میں تقریباً سوسال کی جدوجہد کے بعد ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو آزادی آئی۔ سوامی وویکانند نے کہا تھا کہ آزادی کے بعد ہندوستان ورلڈ لیڈر بنے گا۔ یہ ملک لمبی مدت سے اونچی ذات اور نیچی ذات کے دو طبقوں میں بٹا ہوا تھا۔ فائدہ اٹھا کر اونچی ذات والوں نے آزادی کو ہائی جیک (hijack) کر لیا۔ یہی لوگ آزادی کے بعد سے مسلسل ملک کے اوپر حکومت کر رہے ہیں۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ وہ ملک کو ایسا نظام دینے میں نا کام ثابت ہوئے ہیں جو مہاتما گاندھی کے الفاظ میں ”ہر آنکھ کے آنسو پونچھنے والا ہو۔ اس نا کامی کا سبب بالکل واضح ہے۔ ملک کے اونچے طبقہ (upper cast) کے پاس جو آئیڈیالوجی ہے وہ ایک ایسی محدود آئیڈیالوجی ہے جو پوری انسانیت کو اپنے دامن میں نہیں اس آئیڈیا لوجی میں اونچی ذات والوں کے لئے تو باعزت جگہ ہے۔ مگر نیچی ذات اور غریب عوام کے لئے اس میں کوئی جگہ نہیں۔ اس آئیڈیالوجی کے مطابق، ہر آدمی جس حال میں ہے وہ خود اس کی اپنی ہی پچھلی زندگی کا لازمی اور ناقابل تقسیم نتیجہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ غریب اور مظلوم ہیں وہ فطرت کے جبری نظام کے تحت خود اپنے ماضی کے کردار کا نتیجہ بھگت انھیں زندگی کے آخری لمحہ تک اس نتیجہ کو بہر حال بھگتنا ہے۔ یہ آئیڈیالوجی ملک کے نصف سے زیادہ حصہ کو اونچی ذات کے حکمرانوں کی نظر میں ایک ایسا کیس بنا دیتی ہے جس پر رحم کرنا ضروری تو کیا ممکن بھی نہیں۔
پیدائش کے اس جبری نظریہ نے اونچی ذات کے حکمرانوں کو جو آئیڈیا لوجی دی وہ ایک محدود آئیڈیالوجی تھی۔ اس محدود آئیڈیالوجی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان حکمرانوں کے دل میں وسیع تر انسانیت کے لئے نرم گوشہ پرورش نہ پاسکا۔ ان کے لئے آزادی صرف اس بات کا موقع بن گئی کہ وہ سب کچھ اپنے لئے جمع کر لیں اور دوسروں کے لئے کچھ نہ چھوڑیں ، کیونکہ دوسرے لوگ اسی لئے پیدا کئے گئے ہیں کہ وہ محروم رہ کر اپنے پچھلے دور حیات کی غلطیوں کی سزا پائیں اور اسی حال میں مر کر وہ اس دنیا سے چلے جائیں۔