Al-Risala · April 2000

سوال و جواب

Al-Risala, April 2000, pp. 37–39

By Maulana Wahiduddin Khan

میں آپ کے ذہن و دماغ کا قائل ہوں۔ ساتھ ہی آپ کی خلوص نیت کا بھی۔ بات ہے کہ مسلمان آج بھی اپنی دیرینہ طرز فکر سے نکل نہیں پا رہے ہیں۔ اور آج بھی نام نہاد قائدین کو اپنا نجات دہندہ سمجھ رہے ہیں۔ قائدین کی ان غلطیوں کو ماننا پہلے دشوار معلوم ہو تا تھا مگر اب حقائق کی کثرت نے ان کے تمام فارمولوں کو فیل کر دیا۔ پہلے میں آپ کی فکر میں آپ کو اکیلا تصور کر رہا تھا مگر حالات و واقعات کا بغور مطالعہ آپ کی فکر کی تائید کرتا ہے۔ آپ کی جانب سے امن کا پیغام اور مثبت طرز فکر، ان دونوں کو میں نے گانٹھ باندھ لیا ہے۔ مسائل کو نظر انداز کر کے مواقع کا استعمال نہایت ہی بہترین فارمولا ہے۔ دراصل ہمارے زیادہ تر سیاسی رہنما idealist واقع ہوئے ہیں نہ کہ realist ۔ اور اول الذکر کی بنیاد پر ایک خیالی دنیا تو تعمیر ہو سکتی ہے مگر حقیقی کامیابیوں سے بھر پور دنیا نہیں۔ مجھے تعجب اس بات کا ہے کہ آخر آپ اپنے ہم عصروں کی فکر کی زد سے کیسے نکل آئے جب کہ آج بھی ان لوگوں کی فکر مسلمانوں کے اوپر حکمراں ہے۔

آپ کی ذہانت کی دلیل ہے۔ آپ جیسے زیرک حضرات کا آج فقدان ہے اور خدا سے دعا ہے کہ آپ جیسے لوگوں کو نوبل انعام سے نوازا جائے۔

میں علامہ اقبال کا admirer رہا ہوں اور ان کی فکر پر تنقید کو طفلانہ سمجھتا تھا مگر آپ کی بے لاگ تنقید نے علامہ کی فکر کا جائزہ لینے میں بڑی مدد کی ہے۔ میں اب بتدریج Idealism سے Realism کی طرف آرہا ہوں اور میری اس دریافت میں آپ کا بڑا ہاتھ ہے۔ اشفاق، عماد الملک روڈ، اے ایم یو، علی گڑھ)

حدیث میں آیا ہے کہ : ان الدین یسر ( صحیح البخاری، کتاب الایمان) یعنی دین آسان اس کے مطابق ، دین کو سمجھنا ہر آدمی کے لئے آسان ہونا چاہئے، اور بلاشبہ اس کا سمجھنا البتہ خدا کے دین کو سمجھنا اس وقت مشکل ہو جائے گا جب کہ آدمی خدا کے دین کو غیر خدا سے اخذ کرنے لگے۔ موجودہ زمانہ میں یہی پیش آیا ہے۔ لوگ عام طور پر دین کو اپنے مفروضہ اکابر کے ذریعہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی چیز لوگوں کے لئے فہم دین میں پردہ بن گئی ہے۔ میں خدا کے فضل سے کبھی بھی اکابر پرستی کا شکار نہیں رہا۔ میں امام ابو حنیفہ کے اس قول کو مانتا ہوں کہ هم رجال ونحن رجال۔ اس لئے میں خود براہ راست قرآن وسنت سے دین کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں اور اس دنیا کے لئے خدا کا یہ قانون ہے کہ جو شخص صحیح راستہ سے کوشش کرے وہ ضرور اپنے مقاصد کو پائے گا۔ (مَنْ جَدَّ وَجَدَ)

اقبال کی مقبولیت کا سبب کیا ہے، وہ خود اقبال کے ایک شعر سے معلوم ہوتا ہے۔ نے اپنے بارے میں کہا: مرا یاراں غزل خوانے شمردند (لوگوں نے مجھے ایک غزل خواں سمجھ لیا) غالباً اقبال یہ سمجھتے تھے کہ ان کے اشعار قوم کے اندر نئی سوچ لائیں گے اور لوگ تعمیر ملت کے محاذ پر سرگرم ہو جائیں گے۔ مگر عملاً صرف یہ ہوا کہ اقبال کے اشعار لوگوں کے لئے ذہنی تفریح کا سامان بن گئے۔ اقبال نے اپنے مذکورہ شعر میں غالباً اسی کی شکایت کی ہے۔ مگر یہ خود

اقبال کی غلطی ہے۔ ان کا یہ سمجھنا درست نہ تھا کہ اشعار کے ذریعہ وہ قوم کے اندر کوئی حقیقی بیداری لا سکتے ہیں۔ شعر ایک لفظی آرٹ ہے۔ وہ انسان کے لئے صرف ذہنی تفریح کا سامان بن شعر کسی حقیقی اصلاح کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن میں پیغمبر اسلام کے لئے فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو شعر نہیں سکھایا اور وہ اس کے لئے مناسب نہیں (یس ۶۹) مصلح یاداعی نثر کی زبان میں کلام کرتا شعر کی زبان مصلح اور داعی کی زبان نہیں۔ لوگ عام طور پر تفریح پسند ہوتے ہیں۔ تفریحی کلام تیزی سے لوگوں میں مقبول ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں سنجیدہ نثر لوگوں کے درمیان بہت کم مقبول ہوتی ہے۔ مگر مذکورہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقی اصلاح کا کام ہمیشہ نثر کی زبان میں ہوتا ہے نہ کہ ردیف اور قافیہ کی زبان میں۔

میں نے کچھ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ آپ بھا چا اور آر۔ ایس کے آدمی یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ آپ کو اپنے جلسوں میں بہت بلاتے ہیں، اس کی حقیقت کیا ہے۔ (ایک قاری الرساله، دہلی)

یہ سراسر بہتان ہے۔ میرا مقصد اسلامی دعوت ہے اور اس مقصد کے لئے میں مسلمانوں کے اجتماعات کے علاوہ غیر مسلموں کے جلسوں میں بھی جاتا ہوں۔ مگر وہ صرف بھا چا اور آر ایس ایس کے جلسے نہیں ہوتے بلکہ ان کا تعلق ہر مذہب کے لوگوں سے ہوتا ہے۔ مثلاً ہندو، عیسائی، مثلاًہندو،عیسائی،جینی،سکھ،بودھ سکھ، بودھ وغیرہ۔ آپ اگر اس معاملہ میں سنجیدہ ہوں تو آپ یہ کریں کہ ماہنامہ الرسالہ میں پچھلے دس سال کا خبر نامہ پڑھیں۔ آپ کو خود ہی معلوم ہو جائے گا کہ میں کن لوگوں کے جلسوں میں جو لوگ میرے بارے میں مذکورہ قسم کا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں وہ بلاشبہ ایک فعل حرام کا ارتکاب کررہے ہیں۔ آخرت میں ان کی بہت شدید پکڑ ہوگی۔

Printed page