غلط فہمی
Al-Risala, April 2000, pp. 40–44
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ایک موقع پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا تھا (الاحزاب ۳۷) سبب نزول یا وقتی انطبا ق کے اعتبار سے اس آیت کا تعلق زینب اور زید کے معاملہ سے ہے۔ مگر تو سیعی انطباق کے اعتبار سے قرآن کی یہ آیت ایک اصول حیات کو بتاتی ہے۔ وہ یہ کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک بات آدمی کے دل میں ہوتی ہے مگر وہ اس کو اپنی زبان سے ظاہر کرنا پسند نہیں کرتا۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں اس اصول کی ایک مثال یہ ہے کہ خلافت کے لئے آپ اپنے بعد حضرت ابو بکر صدیق کو سب سے زیادہ اہل سمجھتے تھے۔ مگر آپ نے کبھی اپنی زبان سے اس کا صراحتاً اظہار نہیں فرمایا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کو یقین تھا کہ آپ کے بعد آپ کے اصحاب خود ہی اس مطلوب فیصلہ تک پہنچ جائیں گے۔ حضرت ابو بکر صدیق کی موجودگی میں وہ کسی اور کو اپنا امیر یا خلیفہ نہیں بنائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد جب امارت کا سوال پیدا ہوا تو صحابہ نے تقریباً اتفاق رائے سے حضرت ابو بکر صدیق کو اپنا خلیفہ چن لیا۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ اس نظیر کے باوجود خلیفہ اول نے اس معاملہ میں اجتہاد سے کام لیا۔ اپنے بعد خلیفہ دوم کے معاملہ کو انھوں نے عمومی انتخاب کے اوپر نہیں چھوڑا بلکہ صراحت کے ساتھ حضرت عمر فاروق کو اس منصب کے لئے نامزد فرما لیا۔
اس کا سبب یہ تھا کہ لوگوں کو حضرت عمر فاروق کے بارے میں ایک سخت قسم کی غلط فہمی حضرت عمر فاروق کے مزاج میں شدت تھی۔ لوگ حضرت عمر فاروق کے اخلاص اور قربانی کے معترف تھے۔ مگر ان کو یہ اندیشہ تھا کہ ایک ایسا آدمی خلافت کے نازک منصب کے لئے موزوں نہیں جس کے اندر شدت اور تنقید کا مزاج پایا جائے۔ حضرت عمر فاروق کے بارے میں لوگوں کی اسی غلط فہمی کی بنا پر خلیفہ اول کو یہ اندیشہ تھا کہ اگر انہوں نے خود سے عمر فاروق کو نامزد نہیں کیا تو آپ کے بعد مسلمان شاید ان کو اپنا امیر بنانے پر اتفاق نہ کر سکیں گے اور اس طرح عین
وہی شخص مسلمانوں کا امیر بننے سے رہ جائے گا جو اپنی خصوصی اہلیت کی بنا پر مسلمانوں کی پوری جماعت میں امیر یا خلیفہ بننے کا سب سے زیادہ اہل ہے۔
مگر یہ غلط فہمی سراسر بے بنیاد تھی۔ اصل حقیقت برعکسی طور پر یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق ان انتہائی نادر انسانوں میں سے تھے جن کو تاریخ ساز انسان کہا جاتا ہے۔ مگر اس غیر معمولی صفت کے باوجود بظاہر یہ ممکن نظر نہیں آتا تھا کہ خلیفہ دوم کے منصب کے لئے لوگ ان کے نام پر متفق ہو یہی اندیشہ تھا جس کی بنا پر خلیفہ اول کو اس معاملہ میں پیشگی نظیر کے باوجود اجتہاد کرنا چنانچہ انھوں نے ذاتی مداخلت کرتے ہوئے عمر فاروق کو اپنے بعد خلافت کے لئے نامزد کر دیا۔ حضرت عمر فاروق کے بارہ میں لوگوں کی یہ رائے تمام ترغلط فہمی پر مبنی تھی۔ فاروق بے حد اصول پسند انسان تھے۔ وہ حق کے معاملہ میں مصالحت کو گوارہ نہیں کرتے تھے۔ اس چیز نے ان کے مزاج میں شدت پیدا کر دی تھی۔ وہ جب بھی کس کو کوئی غلط بات کہتے ہوئے یا غلط کام کرتے ہوئے دیکھتے تو وہ اس پر سخت تنبیہہ و تنقید کرتے۔ وہ جس چیز کو حق سمجھتے اس کے اعلان میں وہ کبھی کسی کی رعایت نہیں کرتے تھے۔ اس بنا پر لوگ ان سے دور رہنے لگے۔ رسول اللہ نے فرمایا خدا عمر پر رحم کرے، ان کا کوئی دوست نہیں۔
مگر حضرت عمر کے بارے میں لوگوں کا یہ احساس تمام ترغلط فہمی پر مبنی تھا۔ فاروق کی شدت صرف ناحق کے خلاف ہوتی تھی نہ کہ کسی انسان کے خلاف۔ وہ عین اس وقت بھی انسان کے خلاف نفرت سے خالی ہوتے جب کہ وہ اس کی تنبیہہ کر رہے ہوتے تھے۔ دل میں عین اس وقت بھی انسان کے لئے خیر خواہی کا جذبہ ہوتا تھا جب کہ بظاہر وہ اس کے خلاف غصہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ ان کی ہر سختی میں ایک نرمی چھپی ہوتی تھی۔ ان کی ہر تنقید کے پیچھے محبت کا جذبہ کار فرما ہوتا تھا۔
عام لوگ اس نازک فرق کو نہ سمجھ سکے۔ اس لئے انہیں حضرت عمر فاروق کے بارے میں سخت غلط فہمی پیداہوگئی تاہم جو لوگ زیادہ باشعور تھے وہ اس راز کو سمجھتے تھے۔ لوگوں نے حضرت عثمان سے حضرت عمر فاروق کی شکایت کی تو حضرت عثمان نے ان کے بارے
میں کہا کہ ان کا اندر ان کے باہر سے بہتر ہے۔ اسی طرح حضرت ابو بکر نے لوگوں کی شکایات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عمر پر جب خلافت کی ذمہ داری آئے گی تو وہ اپنے آپ نرم ہو (الکامل فی التاریخ لابن الاثیر جلد ۲ صفحہ ۴۲۵)
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ غلط فہمی کتنی خطرناک چیز ہے۔ غلط فہمی کی بنا پر آدمی یک شخص کے بارے میں بالکل الٹی رائے قائم کر لیتا ہے۔ حالانکہ وہ شخص اس غلط رائے سے بالکل پاک ہوتا ہے۔ اس قسم کی منفی رائے غلط فہمی میں مبتلا ہونے والے کے اپنے دماغ میں ہوتی ہے۔ باہر کی دنیا میں سرے سے اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ یہ غلط فہمی بلا شبہ ایک سنگین قسم کا اخلاقی جرم ہر آدمی پر لازم ہے کہ اس جرم سے اپنے آپ کو بچائے۔
غلط فہمی سے بچنے کے لئے سب سے زیادہ ضروری تدبیر یہ ہے کہ آدمی محض سن کر کسی بات پر یقین نہ کرے۔ سنی ہوئی بات اکثر غلط ہوتی ہے۔ کسی معاملہ کی صحیح رپورٹ دینا بے حد مشکل کام ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ بہت کم ہوتے ہیں جو کسی واقعہ کو ٹھیک ویسا ہی بیان کریں جیسا کہ اگر ایک آدمی کے دل میں دوسرے آدمی کے خلاف غلط فہمی پیداہوجائے تو فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ غلط فہمی میں مبتلا ہونے والا شخص اس آدمی سے ملے اور خود صاحب معاملہ سے تحقیق کرے۔ براہ راست تحقیق کے بغیر کسی کے بارے میں بری رائے قائم کرنا سخت گناہ ہے۔ جو آدمی غلط فہمی میں مبتلا ہو اس کے اوپر یہ فرض ہے کہ اس نے جس طرح کسی کے بارہ میں ایک بری رائے قائم کی ہے اسی طرح وضاحت کے بعد وہ اس بری رائے کو اپنے دماغ سے نکالے اور اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کرتے ہوئے اپنے ذہن کی اصلاح کرلے۔ جس آدمی کے اندر غلطی کے اعتراف کا مادہ نہ ہو اس کے لئے یہ بھی جائز نہیں کہ وہ کسی کے بارے میں غلط رائے کو اپنے ذہن میں جگہ دے۔
تجربہ بتاتا ہے کہ غلط فہمی اکثر حالات میں بے بنیاد ہوتی ہے۔ آدمی ایک طرفہ رپورٹ یا ناقص معلومات کی بنیاد پر ایک بری رائے قائم کر لیتا ہے۔ حالانکہ اگر کھلے ذہن کے ساتھ تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ وہاں سرے سے ایسی کوئی چیز موجود ہی نہ تھی۔
آدمی کو چاہئے کہ وہ یا تو اتنا باشعور بنے کہ وہ باتوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھ لے، اس کا ذہن اپنے آپ ہی غلط فہمی کو اپنے اندر جگہ دینے سے انکار کر دے۔ اور اگر کوئی آدمی اتنا زیادہ باشعور نہ ہو تو انسانیت کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ وہ غلط فہمی میں پڑنے سے پہلے براہِ راست طور پر اس کی مکمل تحقیق کرے ۔ وہ اس وقت تک ہرگز کسی بات کو نہ مانے جب تک وہ تحقیق کی تمام شرطوں کے ساتھ اس کا جائزہ نہ لے چکا ہو۔
تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو ہر بری بات کو سنتے ہی اسے مان لیں۔ ایسے لوگ بلا شبہ اسلام سے دور ہیں۔ خواہ بطور خود وہ اپنے آپ کو اسلام کے اعلیٰ معیار پر سمجھتے ہوں۔ غلط فہمی دراصل ناقص معلومات کی بنیاد پر کامل رائے قائم کرنے کا دوسرا نام ہے۔ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کسی کے بارے میں ایک جزئی بات سنتا ہے اور اس سے وہ اس آدمی کی کلی تصویر بنا لیتا ہے۔ کبھی کسی کا قول اس کے سیاق سے الگ ہو کر سامنے آتا ہے اور پورے سیاق کی روشنی میں دیکھے بغیر ایک ایسی رائے قائم کر لی جاتی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ کبھی کسی آدمی کے ایک ظاہری پہلو کو دیکھ کر اس کے باطن کے بارے میں ایک نظریہ بنا لیا جاتا ہے۔ کبھی کسی سنی ہوئی بات کو ٹھیک ویسا ہی مان لیا جاتا ہے حالانکہ مختلف راویوں سے گزر کر وہ بات آخر کار ایک ایسی شکل اختیار کر لیتی ہے جس کا اصل واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے علم میں ایک بات آتی ہے اور وہ خود ساختہ تعبیر کے ذریعہ اس کا ایک مفہوم متعین کر لیتا ہے حالانکہ یہ تعبیر اصل حقیقت کے بالکل خلاف ہوتی ہے۔ اس قسم کی مختلف صورتیں ہیں جو غلط فہمی کا سبب بنتی ہیں۔ غلط فہمی کا یہ معاملہ اتنا زیادہ وسیع ہے کہ انتہائی صالح افراد بھی اس کی زد سے مستثنیٰ نہیں۔ اکثر ایسا ہوا ہے کہ لوگوں نے کسی کے خلاف انتہائی بھیانک قسم کی رائے قائم کر لی۔ حالانکہ اس کے پیچھے بے بنیاد غلط فہمی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ ایسی حالت میں غلط فہمی کے گناہ سے بچنے کی واحد صورت یہ ہے کہ آدمی کسی کے خلاف رائے قائم کرنے میں سخت محتاط ہو۔ وہ مکمل تحقیق کے بغیر کبھی ایسی کوئی رائے قائم نہ کرے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ یا تو سرے سے کسی کے بارے میں کوئی رائے ہی قائم نہ کرے اور اگر رائے
قائم کرنا ضروری ہو تو اس کی تحقیق کا حق ادا کرے۔ رائے قائم نہ کرنے پر کسی کی کوئی پکڑ نہیں۔ مگر رائے قائم کرتے ہی آدمی خدا کی پکڑ کی زد میں آ جاتا ہے۔ رائے قائم نہ کرنے والا معذور قرار دیا جا سکتا ہے۔ مگر مخالفانہ رائے قائم کرتے ہی اس کا عذر ختم ہو جاتا ہے۔ اب اس کا معاملہ یہ ہو جاتا ہے کہ یا تو وہ دوسرے کے بارے میں اپنی مخالفانہ رائے کو دلیل سے ثابت کرے، یا خود اسی چیز کا مجرم بنے جس کا الزام وہ بے بنیاد طور پر دوسرے کو دینا چاہتا تھا۔
غلط فہمی یا بدگمانی کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ بے حد ذمہ داری کی بات ہے۔ اگر آپ کسی کے خلاف براگمان کرلیں تو آپ اپنے کو اس خطرہ میں مبتلا کر رہے ہیں کہ اگر فریق ثانی برانہ ہو تو خدا کی نظر میں آپ خود اسی برائی کے ذمہ دار قرار پائیں، جس کا ذمہ دار آپ دوسرے کو سمجھے ہوئے تھے۔ ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يرمی رجل رجلاً بالفسق ولا يرميه بالكفر إلا ارتدتّ عليه إن لم يكن صاحبه كذالك (مسند احمد (۱۸۱/۵) یعنی جب کوئی شخص کسی کے اوپر فسق کا الزام لگائے یا اس کے اوپر کفر کا الزام لگائے تو اس کا الزام خود اسی کی طرف لوٹ آئے گا اگر دوسرا شخص ویسانہ ہو۔ بے بنیاد غلط فہمی بھی بلاشبہ ایک الزام کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ کسی کے بارے میں ایک ایسی غلط فہمی میں مبتلا ہونا ہے جو باعتبار واقعہ درست نہیں۔ ایسی حالت میں غلط فہمی یا بدگمانی سے بچنا خود اپنے فائدے کے لئے ضروری ہو جاتا ہے۔ وہ آدمی کا خود اپنا مسئلہ بن جاتا ہے۔ فریق ثانی میں اگر وہ برائی نہ ہو تو خود بدگمانی کرنے والا اس کا مجرم قرار پائے گا۔ یہ حدیث رسول بے حد سنگین ہے۔ اس کا تقاضہ ہے کہ آدمی غلط فہمی یا بدگمانی کے معاملہ میں آخری حد تک سنجیدہ ہو جائے۔ غلط فہمی اگر سادہ نوعیت کی ہو مثلاً آپ کسی کے بارے میں یہ رائے قائم کریں کہ وہ جلد غصہ میں آ جاتا ہے تو اس میں اس کے لئے کوئی بڑا خطرہ نہیں۔ کسی کے بارے میں غلط فہمی کی بنا پر ایسی سنگین رائے قائم کر لی جائے جو اخلاقی یا شرعی جرم کی حیثیت رکھتی ہو تو ایسی صورت میں معاملہ بے حد سنگین ہو جائے گا۔ ایسی سنگین غلط فہمی گویا دو دھاری تلوار ہے، وہ اگر فریق ثانی کو نہ کاٹے تو خود آپ کی ہلاکت کا سبب بن جائے گی۔