Spiritual Empowerment
Al-Risala, May 2000, pp. 4–30
By Maulana Wahiduddin Khan
میرا یقین ہے کہ سب سے بڑی طاقت روحانی طاقت ہے۔ روحانیت آدمی کو سب سے زیادہ طاقتور بناتی ہے۔ مگر روحانی طاقت سے مراد کوئی پراسرار طاقت نہیں۔ یہ ایک معلوم انسانی جس آدمی کے اندر یہ روحانی وصف پیدا ہو جائے وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ تشدد کو استعمال کئے بغیر محض اپنے روحانی کلمات یا اپنے روحانی سلوک سے کسی آدمی کے دل و دماغ پر اتنا اثر ڈالے کہ وہ مسخر ہو کر رہ جائے۔
۶ فروری ۲۰۰۰ کی صبح کو فجر سے کچھ پہلے گھر سے روانگی ہوئی۔ ایئرپورٹ روڈ دہلی کی سب سے اچھی سڑک سمجھی جاتی ہے۔ مگر ترقی یافتہ ملکوں کی سڑکوں کے مقابلہ میں وہ ایک معمولی سڑک آزادی (۱۹۴۷) کے بعد جو لوگ ہمارے ملک میں حکمراں بنے وہ شاید اس راز کو نہیں
جانتے تھے کہ کسی ملک کی ترقی کے لئے سب سے بڑا عامل اچھا انفراسٹرکچر (infrastructure) یعنی سڑکیں اور اس قسم کے دوسرے معاون وسائل کا معیاری ہونا۔ اچھا انفراسٹرکچر موجود ہو تو آدمی خود ہی ترقی کی طرف دوڑتا ہے۔ مگر ہمارے پر جوش حکمران دوسری غیر متعلق سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر پچاس سال گزر جانے کے بعد بھی ملک ابھی تک مطلوب ترقی نہ کر سکا۔
گھر سے ائرپورٹ تک سڑک کے دونوں طرف پھیلی ہوئی عمارتوں کی صورت میں جدید دہلی کے مناظر دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ کیا ان جدید سرگرمیوں میں مسلمانوں کا بھی کوئی حصہ ہے، تو مجھے محسوس ہوا کہ مسلمان ان جدید سرگرمیوں میں اتنے کم ہیں کہ ان کا کوئی تناسب مقرر کرنا سخت مشکل ہے۔ عام آدمی اس کا سبب حکومت کے تعصب کو بتائے گا۔ سراسر غیر منصفانہ بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری تمام تر خود مسلمانوں کے نااہل لیڈروں پر ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو مسلسل غیر متعلق نعروں کی طرف دوڑایا، وہ ان کو نتیجہ خیز کاموں میں مصروف نہ کر سکے۔
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ساری دنیا میں یہ عجیب و غریب منظر ہے کہ کچھ مسلم رہنماؤں کو شخصی عظمت تو خوب ملی مگر مسلمانوں کو قومی حیثیت سے عظمت نہ اس فرق کا راز یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر انہیں حکومت سے ٹکراؤ کی باتیں اچھی لگتی ہیں۔ چنانچہ تمام ملکوں میں سطحیّت پسند رہنما برسوں سے صرف اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس طرح عوام پسند باتیں کر کے وہ شخصی عظمت تو حاصل کر لیتے ہیں مگر اب تک قوم کی عظمت کا سامان نہ ہو سکا۔ قوم کی پر عظمت تعمیر کے لئے ضروری تھا کہ ملک میں ایسے رہنما ابھریں جو حکومت اور اکثریت کی نظر میں اعتماد کا درجہ رکھتے ہوں۔ ٹکراؤ کی سیاست کے نتیجہ میں ایسی با اعتماد قیادت کسی بھی ملک میں ابھر نہ سکی۔ تعمیر کے مواقع استعمال ہونے سے رہ گئے۔
دہلی ائرپورٹ پر ایک تعلیم یافتہ ہندو سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ہندو۔ جھگڑے کی جڑ یہ ہے کہ آپ لوگ صرف اپنے مذہب کو سچا سمجھتے ہیں۔ اگر آپ لوگ بھی ہماری طرح یہ مان لیں کہ اسلام بھی سچا ہے اور ہندو مذہب بھی سچا تو جھگڑا اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ یہ نظریہ بہت پرانا ہے۔ اسی کو فارسی مقولہ میں اس طرح کہا گیا ہے کہ با مسلماں اللہ اللہ با برہمن رام رام۔ مگر یہ ایک غیر فطری فارمولہ ہے۔ میں نے کہا کہ مذہب سچائی کا جب آدمی ایک مذہب کو اختیار کرتا ہے تو یہ سمجھ کر اس کو اختیار کرتا ہے کہ اس نے سچائی کو پا لیا ہے۔ اس طرح کی دریافت لازمی طور پر یقین چاہتی ہے۔ ”ہر مذہب سچا ہے“ کہنا خود مذہب کی نفی ہے۔ کیوں کہ سچائی صرف ایک ہو سکتی ہے۔ اس قسم کا نظریہ بے یقینی پر مبنی ہے اور انسان بے یقینی کے اوپر کھڑا نہیں ہو سکتا۔
میں نے کہا کہ اس مسئلہ کا زیادہ درست حل یہ ہے کہ ہر آدمی اپنے عقیدہ کے مطابق ایک مذہب کو سچا سمجھے اور دوسرے مذہبوں کا احترام کرے۔ یہی اس معاملہ کا فطری حل ہے۔ دہلی ائر پورٹ سے انڈین ائرلائنز کی جو بس ہم کو لے کر جہاز کی طرف چلی اس میں ایک سبق آموز واقعہ پیش آیا۔ بس کے اندر میرے قریب ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ بس کی روانگی سے دو منٹ پہلے وہ اچانک اٹھا اور تیزی سے باہر چلا گیا۔ آج کل کے حالات کے لحاظ سے مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ وہ بس کے اندر کوئی بم نہ چھوڑ گیا ہو۔ میں دل ہی دل میں دعائیں کرنے لگا۔ یہ کیفیت اس وقت تک باقی رہی جب تک کہ بس ہوائی جہاز کے پاس نہ پہنچ گئی اور میں اس سے اتر کر باہر نہ آگیا۔
یہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اکثر غلط فہمی بالکل بے بنیاد ہوتی غلط فہمی پر یقین کر لینا اکثر حالات میں ایک ایسی چیز پر یقین کرنے کے ہم معنی ہوتا ہے جس کا واقعہ کی دنیا میں کوئی وجود ہی نہیں۔
۶ فروری ۲۰۰۰ کی صبح کو جب کہ انڈین ائرلائنز کا جہاز مجھ کو لے کر تیزی سے فضا میں
از رہا تھا، ایک واقعہ گزرا جس کے بعد بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو امڈ آئے اور فانی بدایونی کا یہ شعر میری زبان پر آگیا:
میری ہوس کو عیش دو عالم بھی تھا قبول تیرا کرم کہ تو نے دیا دل دکھا ہوا میری عمر اب ہجری کیلنڈر کی رو سے ۸۰ سال ہو رہی ہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میری زندگی میں ایسا درجنوں بار ہوا کہ میں نے کسی دل پسند چیز کی طرف مڑنا چاہا مگر خدا نے مداخلت کر کے مجھے کسی بظاہر غیر پسندیدہ چیز کی طرف موڑ دیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پوری عمر خدا کے فرشتے میرے ساتھ رہے ہیں تاکہ میں کسی اور موڑ کی طرف نہ مڑوں بلکہ خدا کے طے کردہ منصوبہ کے مطابق ایک ہی رخ پر چلتا رہوں۔ یہ بڑا عجیب معاملہ تھا جو میرے جیسے عاجز انسان کے ساتھ پیش آیا۔
راستہ میں جہاز کے اندر انڈین ائرلائنز کافلائٹ میگزین سواگت (فروری ۲۰۰۰) دیکھا۔ اس میں ایک مضمون حیوانات کے بارے میں تھا جس کا عنوان یہ تھا: Wild Encounters اس کے مضمون نگار مسٹر اندر راج اہلو والیا تھے۔ انھوں نے رنتھمبور نیشنل پارک کی اس اوپن پارک میں انھوں نے مختلف قسم کے جانوروں کو قدرتی ماحول میں دیکھا۔ انھوں نے اپنے ان مشاہدات کو دس صفحہ کے ایک با تصویر مضمون میں بیان کیا تھا۔ اس مضمون کا ایک حصہ شیر کے بارے میں تھا۔ انھوں نے لکھا تھا کہ وہ اور دوسرے ۵۰ سیاح چند گاڑیوں پر ایک راستہ سے گزر رہے تھے کہ ایک کھلے مقام پر انھیں ایک شیر ملا۔ راستہ کے کنارے لیٹا ہوا تھا۔ خارجی دنیا سے بے پروا وہ اپنے آپ میں مطمئن نظر آتا تھا۔ نر شیر تھا۔ اس نے ہمارے قافلہ کو اس طرح ٹالریٹ (tolerate) کیا جس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا:
And then, finally we saw him, lying full stretch just off the track, at ease with himself, a big male tiger that tolerated us more than I had imagined possible.
جہاز اپنے وقت پر حیدر آباد پہنچا۔ اس بار یہاں کے ائرپورٹ پر کچھ نئی چیزیں دکھائی میں نے اخباروں میں پڑھا تھا کہ حیدر آباد کے ائرپورٹ کو ماڈرنائز کیا گیا ہے۔ اس بار اس کو دیکھنے کا موقع ملا۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ ’’ائرپورٹ‘‘کی کی سطح پر انڈیا ترقی کر رہا ہے لیکن ”بیل گاڑی“ کی سطح پر ملک ابھی تقریباً وہیں ہے جہاں وہ پچاس سال پہلے تھا۔ اس میں اتنا اور اضافہ کر لیجیے کہ انڈیا کی ۷۵ فیصد آبادی ابھی تک انہیں قدیم حالات میں رہتی ہے جہاں اب بھی زندگی کا سفر بیل گاڑیوں کے ذریعہ طے ہوتا ہے۔
حیدر آباد ایئر پورٹ پر کئی لوگ موجود تھے۔ حبیب بھائی حیدر آباد سے باہر تھے۔ ان کی نمائندگی ان کے صاحبزادے محمد احمد صاحب نے کی۔ ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہو کر حبیب بھائی کے مکان (بیگم پیٹ)پر پر پہنچا جو ہوائی اڈہ سے قریب ہے۔ یہاں بہت سے ساتھی اکٹھا ہو گئے اور ان سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔
مولانا اسحاق کمال صاحب کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ اس دنیا میں انسان بظاہر مکمل طور پر با اختیار ہے مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ اتنا ہی مجبور ہے جتنا کہ سورج، چاند اور دوسری مادی چیزیں۔ اس دنیا کی ہر چیز کامل عجز کے مقام پر ہے۔ انسان کو بھی اسی کا ثبوت دینا ہے۔ فرق یہ ہے کہ دوسری چیزیں مجبورانہ عجز کے مقام پر ہیں جب کہ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اختیاری عجز کا ثبوت دے۔ وہ خدا کی قدرت کاملہ کے مقابلہ میں اپنے عجز کامل کا میں نے کہا کہ انسان کا امتیازی وصف یہ ہے کہ وہ شعور قدرت کے مقابلہ میں شعور عجز کی دوسری انتہا (extent) بناتا ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ داعی جب دوسروں کو خطاب کرتا ہے تو گویا کہ وہ دوسرے سے یہ مطالبہ کر رہا ہوتا ہے کہ تم حق کا اعتراف کرو۔ ایسی حالت میں داعی کا عمل اسی وقت پوری طرح نتیجہ خیز ہو سکتا ہے جب کہ وہ خود اعتراف کا ثبوت دے چکا ہو۔ دعوت کا عمل اعتراف خویش سے شروع ہوتا ہے اس کے بعد وہ اعتراف غیر تک پہنچتا ہے۔ جو داعی خود بے اعترافی
کی سطح پر جی رہا ہو اس کہ دعوتی کلام اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک قسم کی لیڈری ہے نہ کہ دعوت الی اللہ۔ حبیب بھائی کی رہائش گاہ پر لوگوں سے دیر تک اس طرح کی باتیں ہوتی رہیں۔ صاحب نے اپنے تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ اب حیدر آباد کے اور پورے ملک کے مسلمان عملاً آپ ہی کا فارمولہ پر چل رہے ہیں۔ اگر چہ بہت کم لوگ ہیں جو زبان سے اس کا اعتراف کرتے میں نے پوچھا کہ وہ فارمولہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود آپ کے الفاظ میں وہ فارمولہ یہ مسائل کو نظر انداز کرنا اور مواقع کو استعمال کرنا۔
ڈاکٹر محمد ظہیر احمد (پیدائش ۱۹۶۳) سے میں نے پوچھا کہ آپ اپنا کوئی تجربہ بتائیے۔ انھوں نے ایک عالم کا نام لیتے ہوئے کہا کہ میں نے ان کی تقریر سنی۔ ان کی ایک بات مجھے پسند انھوں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو غیر مسلموں سے مل کر رہنا میں نے کہا کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں، کیوں کہ مجھے اس قول میں بزدلی کی بو آتی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات صحیح ہے کہ مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ساتھ مل کر رہنا چاہئے مگر اس کا سبب ہندوستان کے مخصوص حالات نہیں ہیں بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ یہی انسانیت کا اعلیٰ اصول ہے اور یہی اسلام کا تقاضہ بھی۔ مل کر رہنے کی روش ہم کو بر بنائے اصول اختیار کرنا ہے نہ کہ بر بنائے مصلحت۔ محمد عبدالروف صاحب (پیدائش ۱۹۲۵) الیکٹری سٹی بورڈ حیدر آباد میں ملازم ہیں۔ کہا کہ بورڈ کے احاطہ میں ملازمین کی سہولت کے لئے ایک مسجد اور ایک مندر کی تعمیر کی گئی۔ پہلے مسجد کے اوپر پلاسٹک کی شیٹ ڈالی ہوئی تھی۔ اس کے بعد اس پر آر سی سی کی باقاعدہ پختہ چھت بنائی چھت کا اصول یہ ہے کہ تعمیر کے بعد اس پر پانی ڈالنا بہت ضروری ہے، ورنہ چھت کمزور ہو اتفاق سے اگلا دن اتوار کا تھا، کوئی مسلمان وہاں پانی ڈالنے کے لئے نہ پہنچ سکا۔ وہاں پاس ہی مندر کا ہندو پجاری رہتا ہے۔ اس نے جب دیکھا کہ چھت پر پانی ڈالنے کے لئے کوئی نہیں پہنچا ہے تو وہ خود پائپ لے کر چھت کے اوپر چڑھا اور حسب قاعدہ اس نے چھت پر اپنے ہاتھ سے پانی ڈالا۔ اس واقعہ کو سن کر میں نے کہا کہ یہ ہندو اور مسلم کی بات نہیں بلکہ یہ فطرت کی بات
حدیث کے مطابق، ہر انسان صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ فطرت بیس پیدائشی طور پر یہ بات شامل ہے کہ ایک دوسرے کی خدمت کی جائے۔ یہ فطری جذبہ ہر ہندو اور ہر مسلمان کے اندر وہ پیدائشی طور پر موجود رہتا ہے۔ بیس نے اپنی نوجوانی کی عمر میں دیکھا ہے کہ اس ملک کا ہندو اور مسلمان اسی فطرت پر جی رہا تھا۔ ہر ایک دوسرے کے کام آکر خوش ہوتا تھا۔ مگر اس کے بعد یہ ہوا کہ ہندوستان میں انتہائی نااہل اور عاقبت اندیش لیڈر اٹھے۔ انھوں نے نفرت کی بولی بول کر ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کو فطرت سے ہٹا دیا۔ ۱۹۴۷ء کے بعد ہندوستان میں جو فرقہ وارانہ جھگڑے آپ دیکھ رہے ہیں وہ فطرت سے اسی انحراف کا نتیجہ ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ ان نااہل لیڈروں نے میرے نزدیک بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ وہ جرم ہے اپنی بے جامد اخلت سے خدا کے قائم کئے ہوئے فطری نظام کو بگاڑنا۔ حیدر آباد سے کئی اخبار نکلتے ہیں۔ ان میں سے ایک روزنامہ سیاست ہے۔ سیاست کے شمارہ ۶ فروری ۲۰۰۰ میں ایک خبر اس طرح تھی: تھی:قونصل جنرل عزت مآب افضل امان اللہ صاحب نے بتایا کہ امسال ایک لاکھ میں ہزار ہندوستانی حجاج کرام حج کا مقدس فریضہ ادا کرنے جدہ تشریف لائیں گے۔ یہ تمام حجاج کرام ہندوستان کے مختلف شہروں سے بذریعہ ہوائی جہاز روانہ ہو کر جدہ انٹرنیشنل ائرپورٹ پراتریں گے۔ اس خبر سے معلوم ہوا کہ اس سال ہندوستانی حاجیوں کی تعداد ایک لاکھ میں ہزار ہے۔ یعنی تقریباً اتنی ہی جتنی کہ حجۃ الوداع کے موقع پر اصحاب رسول کی تعداد تھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے اصحاب کو یہ ہدایت کی کہ تم لوگ تمام اقوام عالم کو میری طرف سے اسلام کا پیغام پہنچادو۔ میں نے سوچا کہ پیغمبر اسلام کی یہ آواز آج بھی حجاز کی فضاؤں میں گونج رہی ہے۔ اگر یہ حاجی وہاں پہنچ کر اس آواز کو سن سکیں اور صحابہ کی طرح اس کی پیروی کریں تو دوبارہ جدید تاریخ میں اسلام کی توسیع واشاعت کا وہی کام انجام پانے لگے جو دور قدیم میں انجام پایا تھا۔
حیدر آباد آندھرا پردیش کی راجدھانی ہے۔ یہاں کے قیام کے دوران بار بار اس کے
مختلف حصوں میں جانے کا اتفاق ہوا اور بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ شہر ہراعتبار سے زیادہ ترقی یافتہ نظر آیا۔ یہاں کے مسلمان بھی تقریبا سب کے سب ۱۹۴۷ء سے پہلے کے دور کے مقابلہ میں آج زیادہ بہتر حالت میں پہنچ چکے ہیں۔ مثلاً ایک صاحب ۵۰ سال پہلے پیدل یا بائسکل پر چلتے تھے۔ اب ان کے گھر کے سامنے موٹر کار کھڑی ہوئی ہے۔ ایک مسلمان جن کے والد صاحب قدیم حیدر آباد میں صرف ایک بوسیدہ مکان میں رہتے تھے۔ آج انہوں نے پانچ منزلہ شاندار بلڈنگ کھڑی کر لی ہے۔ ایک اور مسلمان جن کے دادا صاحب نے قدیم حیدر آباد میں کرایہ کے ایک چھوٹے سے مکان میں زندگی گزاری، آج شہر میں ان کے چار بڑے بڑے مکانات ایک اور مسلمان جن کے والد معمولی سروس کرتے ہوئے وفات پا گئے آج وہ ایک بڑی فیکٹری کے مالک ہیں۔ قدیم حیدر آباد میں صرف چند تعلیمی اور اسلامی ادارے تھے آج یہاں درجنوں کی تعداد میں بڑے بڑے تعلیمی اور اسلامی ادارے قائم ہیں، وغیرہ۔ میں نے ۱۹۴۷ء سے پہلے کے حیدر آباد کو بھی دیکھا ہے اور ۱۹۴۷ء کے بعد کے حیدر آباد کو پچھلے سو سال کے درمیان حیدر آباد کی مسلم سیاست کا خلاصہ بیان کیا جائے تو وہ صرف ایک یہاں کی مسلم ریاست کو کسی نہ کسی طرح بر قرار رکھنا۔ حتی کہ ۱۹۴۷ء کے بعد کے دور کے لئے بھی مسلمان یہی نا قابل عمل خواب دیکھتے رہے کہ وہ اس ریاست کو ایک علیحدہ مسلم ریاست کے طور پر باقی رکھ سکیں ۔ جب قانون فطرت کے تحت ایسا نہیں ہوا تو مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والوں نے شکایت اور احتجاج کی زبان میں لکھنا اور بولنا شروع کر دیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ مسلم ریاست کے دور کے مقابلہ میں آج حیدر آباد کے مسلمان سو گنا زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس کا سادہ سبب یہ ہے کہ مسلم ریاست کے دور میں ہر مسلمان ریاست کے اوپر تکیہ کئے ہوئے تھا۔ ہر مسلمان کی آخری خواہش یہ ہوتی تھی کہ ”حضور نظام“ کی حکومت میں اس کو کوئی ملازمت مل جائے۔ نئے انقلاب نے اس بھروسہ کو توڑ دیا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے اندر ذاتی اعتماد جاگا۔ اب ہر مسلمان ذاتی کوشش کے میدان میں سر گرم ہو گیا۔
خود اعتمادی کا نتیجہ وہ ترقی ہے جو آج یہاں کے مسلمانوں میں نظر آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ترقی کار از خود اعتمادی ہے، نہ کہ کسی کا سیاسی یا غیر سیاسی سہارا۔
۶ فروری کو نماز ظہر کے بعد جامعہ ریاض البنات، ملک پیٹ،حیدرآباد میں خطاب ہوا۔ اس خطاب کے لئے جناب ریاض موسی صاحب مالاباری نے یہ موضوع تجویز کیا تھا ’’ہندوستان میں دعوت اسلام کی حکمت عملی‘‘۔ اس موضوع پر تقریبا ایک گھنٹہ خطاب کیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا: اس ملک میں دعوت کے مواقع اتنے ہی ہیں جتنے کہ کسی اور ملک میں۔ اس سلسلہ میں نے کہا کہ ۱۹۴۷ء کے انقلاب سے پہلے بر صغیر ہند میں یہ حال تھا کہ ہر دن ہزاروں لوگ اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔ ۱۹۴۷ء کے بعد یہ پراسس رک گیا۔ اس کی وجہ خود مسلمانوں کی تفریقی میں نے کہا کہ قومی تفریق کا نظریہ سراسر غیر اسلامی نظریہ ہے۔ ہمارا کام تمام لوگوں کو ایک خدا کے دین رحمت میں لانا ہے نہ کہ انہیں مختلف انسانی گروہوں میں تقسیم کرنا۔ جناب ریاض موسیٰ صاحب خالص دعوتی مزاج کے آدمی ہیں۔ انہوں نے مجھ سے پہلے انہوں نے اپنی تقریر میں یہ کہا کہ دعوت کا خطاب سب سے پہلے قوم کے بڑوں سے اس سلسلہ میں انہوں نے اس واقعہ کا حوالہ دیا کہ مکی دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار مکہ کے سردار عتبہ بن ربیعہ کے سامنے قرآن سے حم السجدہ کی ابتدائی آیتیں پڑھ کر (سیرۃ ابن ہشام ۱/ ۳۱۳) یہ واقعہ بتاتے ہوئے انہوں نے حاضرین سے یہ سوال کیا کہ آج کا عتبہ کون ہے جس کے سامنے اسلام کا پیغام پیش کیا جائے۔ ایک شخص نے بلند آواز سے کہا کہ اٹل بہاری باجپئی۔ جناب جناب ریاض موسیٰ صاحب نے کہا کہ پھر کیا آپ نے آج کے عتبہ کو قرآن کا پیغام پہنچایا ہے۔ اس پر لوگ خاموش رہے۔
میں جب اسٹیج پر آیا تو میں نے اپنی تقر یراسی بات سے شروع کی۔ میں نے کہا کہ اللہ کی توفیق سے مجھے یہ سعادت حاصل ہوئی ہے کہ میں آپ کے بقول، وقت کے عتبہ کے سامنے اسلام کا پیغام پیش کروں۔ میں نے بتایا کہ نئی دہلی کے فلکی آڈیوریم میں ایک جلسہ تھا جس میں شہر
کے تعلیم یافتہ ہندو بڑی تعداد میں شریک تھے۔ اس پروگرام میں صرف دو مقرر تھے۔ اور دوسرا مقرر میں تھا۔ پہلے مجھ کو بولنے کا موقع دیا گیا۔ میں نے تقریباً ایک گھنٹہ تک خالص اسلام پر تقریر کی۔ میں نے قرآن کی آیت: وما ارسلناك الا رحمة للعالمين کو اپنا موضوع بنایا۔ میں نے کہا کہ اسلام ایک رحمت کلچر ہے۔ میں نے قرآن اور حدیث اور سیرت کے حوالے سے بتایا کہ اسلام کس طرح سارے انسانوں کے لئے رحمت کی حیثیت رکھتا ہے۔ میری تقریر کے بعد اٹل بہاری باجپئی اسٹیج پر آئے۔ ان کی تقریر زیادہ تر سیاسی انداز کی تاہم انہوں نے اپنی تقریر کے آغاز میں میری تقریر پر مختصر تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا: مولانا صاحب، یہ وچار منچ ہے، یہ پرچار منچ نہیں۔ اٹل بہاری باجپئی نے یہ بات اپنے مخصوص انداز میں کہی۔
اٹل بہاری باجپئی کا یہ تبصرہ بتاتا ہے کہ انہوں نے میری تقریر کو پوری طرح سنا اور انہیں اس میں واضح طور پر اسلام کی دعوت نظر آئی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اس تقریر کے ذریعہ میں حاضرین کے سامنے اسلام کا پیغام پیش کر رہا ہوں۔ جس کو انہوں نے سادہ طور پر نہیں لیا، بلکہ اس کو پرچار (تبلیغ) کے ہم معنی سمجھا۔
جامعہ ریاض البنات میں اپنی تقریر ختم کر کے میں اسٹیج سے اترا تو ایک باریش بزرگ نے مجھے دو کتابیں پیش کیں۔ یہ دونوں کتابیں میری مخالفت میں لکھی گئی تھیں۔ میں نے ان کتابوں کو لیتے ہوئے کہا کہ میں ان کتابوں کو پڑھ چکا ہوں۔ یہ غیر علمی کتابیں ہیں۔ وہ اپنی تردید آپ ہیں۔ کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔
ان میں سے ایک کتاب ”اسلامی فکر کیا ہے“ میں ہمارے مشن کو مطعون کرتے ہوئے صاحب کتاب نے لکھا تھا کہ نعوذ باللہ، ہمارا مشن ”اسلام پسندی کی رو کو رو کنے کی کوشش“ ہے۔ مصنف کی کتاب اور ان کے ساتھ تھی اس قسم کی باتوں کو ”تنقیدی جائزہ“ سمجھتے ہیں۔ وہ صرف سب و شتم ہے۔ اور اس قسم کا بے دلیل سب و شتم کسی بھی شخص کے خلاف کیا جا سکتا
مثلاً مذکورہ مصنف کی مخالفانہ تحریروں کے بارے میں ٹھیک اسی طرح کہا جاسکتا ہے کہ وہ ہمارے دعوتی مشن کی زد کو روکنے کی ایک ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ حیدر آباد میں میرے خطابات کی رپورٹنگ مقامی اخباروں میں ہوتی رہی، اردو میں بھی اور انگریزی میں بھی۔ انگریزی اخبار دکن کر انکل کے شمارہ ۷ فروری ۲۰۰۰ میں شائع شدہ رپورٹ کا عنوان یہ تھا:
Muslims urged to facilitate dialogue with other faiths. اس رپورٹ کے چند جملے یہ تھے:
He described Islam as a religion with a solid historical base. Today's man relates to history and logic as never before. The religions that have their grounding in vague and unfounded references and superstitions do not have a chance to survive. If the people are allowed to make a choice on the basis of facts, Islam would win unopposed. حیدر آباد میں وہاں کے ایک صاحب نے کہا کہ جماعت اسلامی والے آپ کی مخالفت کرتے ہیں حالانکہ اب وہ اپنے بانی کی نام نہاد سیاسی فکر کو چھوڑ چکے ہیں اور آپ ہی کے دعوتی فکر کو لے کر چل رہے ہیں۔ اس کے ثبوت میں انھوں نے حیدر آباد کے روز نامہ سیاست کا شمارہ ۳ دسمبر ۱۹۹۹ مجھے دکھایا۔ اس کے پہلے صفحہ پر سنگل کالم کی فیکس سے موصول شدہ ایک خبر میں جماعت اسلامی کے موجودہ امیر کی تقریر کی رپورٹ چھپی تھی۔ اس کے مطابق جماعت کے موجودہ امیر نے ایس آئی او کے ایک تربیتی کیمپ (نئی دہلی) کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہندوستان نہ دارالحرب ہے نہ دارالکفر بلکہ یہ دار الدعوۃ ہے۔ حیدر آباد کے جن صاحب نے مذکورہ اخبار مجھے دکھایا تھا انھوں نے کہا کہ یہ بات یقینی طور پر انہوں نے آپ سے لی ہے۔ یہ لوگ جب اپنے بانی کی فکر کو چھوڑ کر آپ ہی کی فکر کو اختیار کر چکے ہیں تو پھر وہ آپ کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے تو یہ ان کے اوپر آپ کا ایک فکری احسان ہے۔ ان کے بانی کی ناقابل عمل سیاسی فکر نے ان کو ایک بند گلی (impasse) میں پہنچا
حدیث میں آیا ہے کہ : من لم يشكر الناس لم يشكر الله (احمد، ترندی) یعنی جو آدمی انسان کا شکر ادا نہ کرے وہ خدا کا شکر بھی ادا نہیں کرے گا۔ شکر کیا ہے۔ شکر کی حقیقت قلبی جس چیز کو انسانی معاملات میں اعتراف کہا جاتا ہے اسی کا نام خدائی معاملہ میں شکر اگر آپ کو کسی انسان سے ایک عطیہ ملے اور آپ اس کا سچا اقرار نہ کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا سینہ جذبہ اعتراف سے خالی ہے اور جو سینہ ایک کے معاملہ میں اعتراف سے خالی ہو وہ یقینی طور پر دوسرے کے معاملہ میں بھی اعتراف سے خالی ہوگا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ شکر سب سے بڑی عبادت ہے۔ جس آدمی کے اندر شکر و اعتراف کا جذبہ نہ ہو وہ گویا اسی عبادتی حلاوت سے محروم رہ گیا جو اس دنیا میں کسی مومن کے لئے خدا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ شکر گہرے قلبی احساس کا نام ہے نہ کہ زبان سے کچھ الفاظ بول دینے کا۔
ایک مجلس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ جو لوگ الرسالہ مشن کے خلاف جھوٹا طوفان کھڑا کر رہے ہیں مجھے اس کی کوئی پریشانی نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ الرسالہ مشن کا اعتراف خواہ آج نہ کیا جائے مگر انشاء اللہ مستقبل کا مورخ اس کا اعتراف کرے گا۔ وہ لکھے گا کہ الرسالہ مشن عمومی اندھیرے میں سچائی کا ایک چراغ تھا۔
ایسے وقت میں جب کہ پوری مسلم دنیا اسلامی عمل کا مطلب صرف یہ سمجھتی تھی کہ اسلامی نظام کے نام پر حکمرانوں سے ہلاکت خیز ٹکراؤ کیا جائے، اس وقت الرسالہ مشن نے یہ بتایا کہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ سیاسی ٹکراؤ سے اعراض کر کے پر امن تعمیر کے میدان میں کام کیا جائے۔ تمام مسلم ذہن صرف اس اعلان میں مشغول تھے کہ مغربی قو میں اسلام دشمن ہیں، ان سے لڑو، اس وقت الرسالہ مشن نے یہ نشاندہی کی کہ مغربی تہذیب نے دعوت کے نئے عظیم الشان مواقع
کھولے ہیں، ہمیں چاہئے کہ ہم ان مواقع کو استعمال کریں۔ فلپائن اور برما جیسے بہت سے ملکوں میں جب مسلم رہنما اپنا علیحدہ سیاسی جزیرہ بنانے کے نام پر مرکزی حکمرانوں سے خونی جنگ چھیڑے ہوئے تھے، اس وقت الرسالہ مشن نے بتایا کہ زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ تقسیم کے بجائے توسیع کو اپنا نشانہ بنایا جائے۔ اسی طرح ہندوستان میں جب تمام علماء اور دانشور اس انکشاف میں مشغول تھے کہ یہاں دوسرا اسپین بنایا جا رہا ہے۔ الرسالہ مشن نے یہاں کے مسلمانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کیا کہ اس ملک میں ان کے لئے ہر قسم کے بہترین ترقیاتی مواقع موجود ہیں۔ ہندوستان میں ظاہر ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے بارہ میں جب مسلم رہنما صرف یہ جانتے تھے کہ ان کے خلاف شکایت اور احتجاج کا بے فائدہ لفظی طوفان برپا کرتے رہیں، اس وقت الرسالہ مشن نے اس نکتہ سے آگاہ کیا کہ اعراض کا اصول اختیار کرو، اور پھر فسادات اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔
ایک مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ میں نے آپ کی تحریریں پڑھی ہیں۔ میں مسلم سالویشن فرنٹ کے مسلح جہاد کو درست نہیں سمجھتے۔ انھوں نے پر جوش طور پر کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ الجزائر میں اسلام پسندوں کو الیکشن کے ذریعہ اقتدار تک پہنچنے سے روک دیا ایسی حالت میں وہ اور کیا کر سکتے تھے کہ اپنے مقصد کے لئے تشدد کا سہارا لیں۔ I think they are more than justified. They were denied of ballots so they opted for bullets. What's wrong with this. میں نے کہا کہ یہ تشدد کے لئے کافی جواز نہیں۔ مسلم اداروں میں عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص میرٹ پر قابل انتخاب ہوتا ہے مگر ادارہ کے ذمہ دار اپنے ذاتی مصالح کی بنا پر اس کو رد کر دیتے ہیں۔ اس کے بجائے وہ کسی اور شخص کا تقرر کر دیتے ہیں۔ اب اگر یہ رد کیا ہوا آدمی ادارہ کے ذمہ داروں کے خلاف بندوق اٹھا لے تو کیا آپ اس کو جائز قرار دیں گے۔ میں نے کہا کہ اقتدار کے حصول کو نشانہ بنا کر تحریک چلانا بذات خود ایک غیر اسلامی فعل ہے۔ اور جب اقتدار نہ ملنے پر تشدد شروع کر دیا جائے تو یہ مزید اضافہ کے ساتھ غیر اسلامی فعل ہوگا۔
پسندوں کے لئے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ حکمرانوں سے ٹکراؤ کو چھوڑ کر غیر سیاسی میدان میں دعوت اور تعلیم و ترقی کا کام کریں اور آپ جانتے ہیں کہ اس طرح کے مواقع الجزائر سمیت ہر ملک میں پوری طرح کھلے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کا سب سے زیادہ تباہ کن فتنہ اسلام کی سیاسی تفسیر کا فتنہ ہے۔ اس سیاسی تفسیر نے اقتدار کو نشانہ بنا کر مسلمانوں کو تخریب کے راستہ پر ڈال دیا۔ اس سیاسی تفسیر نے موجودہ زمانہ میں اسلام اور مسلمانوں کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا نقصان شاید پوری تاریخ میں اسلام کو نہیں پہنچا۔ قرآن کے مطابق ، زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ صالح زندگی گزار نانشانۂ عمل ہے، اور سیاسی اقتدار کا پانا نتیجہ عمل۔
ایک مجلس میں میں نے قرآن کی کچھ آیتوں کی تشریح کی۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے : اور ان کو اس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے اپنی نشانیاں دی تھیں تو وہ ان سے نکل بھاگا۔ اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہو گیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان نشانیوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے مگر وہ تو زمین کا ہو کر رہ گیا۔ اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا۔ اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ اگر تو اس پر بوجھ لادے تب بھی ہانپے اور اگر چھوڑ دے تب بھی یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ پس تم یہ احوال ان کو سناؤ تا کہ وہ سوچیں (الاعراف ۷ : ۵۷۱۷۵)
سبب نزول کی روایات کے مطابق، یہ آیتیں امیہ بن ابی الصلت کے بارے میں اتریں۔ مگر تو سیعی مفہوم کے لحاظ سے ان آیتوں کا تعلق ہر دور سے ہے۔ ہر زمانہ کے انسانوں میں اس قسم کا کردار پایا گیا ہے جس کا ذکر قرآن کی ان آیتوں میں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت کی تعمیر کا موقع ہو مگر وہ دنیا کی تعمیر میں پھنس کر رہ جائیں، وہ اس سے اوپر نہ اٹھ سکیں۔ ایک شخص کو اقتدار ملے تو اس کے لئے یہ موقع ہے کہ وہ اقتدار کے ذریعہ عدل قائم مگر وہ اقتدار کو صرف ذاتی بڑائی کا ذریعہ بنالے۔ ایک شخص کو مال ملے ۔ مگر وہ اپنے مال کو کار خیر میں استعمال کرنے کے بجائے اس کو ذاتی نمائش میں استعمال کرنے لگے۔ ایک شخص کو کسی
ادارہ کا ذمہ دار بنایا جائے، اس طرح اس کو یہ موقع ملے کہ وہ اس ادارہ کو بنیاد بنا کر دین وملت کی مگر وہ اس ادارہ کو صرف اپنے ذاتی مفاد کے حصول کا ذریعہ بنالے۔ اس قسم کا ہر کردار امیہ بن ابی الصلت کی مانند ہے۔ ان میں سے ہر ایک کا معاملہ یہ ہے کہ اس نے رفعت کے بدلے پستی کا انتخاب کیا۔ اس کے لئے خدا کو راضی کرنے کا موقع تھا، مگر وہ صرف اپنی ذات کی پرستش میں لگا رہا۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں آج بھی بے قیمت ہیں۔ آخرت کے دن بھی وہ خدا کی نظر میں بے قیمت قرار پائیں گے۔ یہاں کے ایک عالم نے کہا کہ فقہ کے اختلافات پر آپ کی کتاب (تجدید دین) میں نے پڑھی۔ آپ نے اس میں فقہی اختلافات کی نہایت عمدہ توجیہہ کی ہے۔ اب آپ یہ بتائیے کہ فقہ میں عبادات کی جود رجہ بندی کی گئی ہے۔ فرض، واجب، سنت، سنت مؤکدہ، نفل وغیرہ، اس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے۔ نے کہا کہ شاہ ولی اللہ صاحب نے درست طور پر لکھا ہے کہ یہ درجہ بندی یا یہ تقسیمات بعد کے فقہاء نے کی ہیں، وہ حدیث میں موجود نہیں (حجۃ اللہ البالغہ)۔ میں اس پر یہ اضافہ کروں گا کہ امور تعبدی میں اجتہاد نہیں ہے۔ اس لئے ان تقسیمات کی وہ اہمیت نہیں ہو سکتی جو عام طور پر لوگوں نے انہیں دے رکھی ہے۔
مزید یہ کہ اس درجہ بندی کا ایک نقصان بھی ہے۔ قرآن کے مطابق، عبادت کی اصل اس اعتبار سے عبادتی اعمال کی درجہ بندی کیفیت عبادت کے لحاظ سے ہونا چاہئے نہ کہ اشکال عبادت کے لحاظ سے، جیسا کہ ان تقسیمات میں کیا گیا ہے۔
میں نے حیدر آباد میں ایک صاحب کی تقریر میں شرکت کی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ دور اول میں اسلام کی جو دعوت چلائی گئی اس کا ذریعہ کتابوں کو پڑھانا پڑھانا نہ تھابلکہ اخلاق میں نے کہا کہ یہ بات قرآن کے خلاف بھی ہے اور واقعہ کے خلاف بھی۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اقراء باسم ربك الذي خلق.علم بالقلم۔
قرآن خود ایک کتاب ہے آج کل کی زبان میں گویا کہ وہ ایک پیریڈایکل (Periodical) تھا
جو ۲۳ سال کے دوران میں وقفہ وقفہ سے اترتا رہا۔ دورِ اول کے مسلمان اس حصہ قرآن کو فوراً پڑھ کر یاد کر لیتے اور اس کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے۔ وہ روزانہ غیر مسلموں کی مجالس میں جاکر انہیں قرآن سناتے۔ مقرر نے غالباً یہ دیکھا کہ اس زمانہ میں پرنٹنگ پریس نہ تھا۔ موجودہ قسم کی مجلد کتا بیں اس وقت نہیں پائی جاتی تھیں۔ پھر مطالعہ کے ذریعے کیسے اسلام پھیلایا جاتا۔ مکہ اور مدینہ میں دعوت کا جو طریقہ چلایا گیا وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے مطالعہ کتاب ہی کی حیثیت رکھتا تھا۔ صحابہ اپنے اپنے ماحول میں قرآن کی بنیاد پر گویا اسٹڈی سرکل چلا رہے تھے۔ قرآن کے الفاظ میں: تعلیم بالقلم (بالفاظِ دیگر تعلیم بالکتاب) دعوت کا ذریعہ ہے نہ کہ تعلیم اخلاق ایک شخصی عمل ہے جس کا محرک تقویٰ ہے نہ کہ دعوت۔
ریاست حیدر آباد اپنے ابتدائی دور میں مغلوں کے ماتحت رہی۔ ہندوستان میں جب برٹش دورآیاتو انھوں نے برٹش ماتحتی کو قبول کر لیا۔ یہ گویا سیاسی ٹکراؤ کو avoid کر کے اپنی موجود حیثیت کو برقرار رکھنا تھا۔ حیدر آباد کے مسلم حکمرانوں کی یہ پالیسی ان کے لئے بے حد مفید ثابت اس طرح وہ کئی سو سال تک شاندار طور پر اپنے وجود کو باقی رکھنے میں کامیاب رہے۔ میں تقریباً اسی نوعیت کا معاملہ ان کے لئے تیسری بار پیش آیا۔ اب ان کے لئے موقع تھا کہ وہ نئی دہلی کی سیاسی ماتحتی کو قبول کر کے بدستور اپنے ریاستی وجود کو باقی رکھیں۔ مگر کچھ پر جوش اور بے خبر مسلم لیڈروں کی غیر حقیقت پسندانہ سیاست کا نتیجہ یہ ہوا کہ حیدر آباد نے اپنی سابقہ حیثیت وہ خود اپنے ہی کئی سو سالہ تجربہ سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا۔
حقیقت یہ ہے کہ فرد کا معاملہ ہو یا حکومت کا معاملہ، اس دنیا میں ہر ایک کے لئے بہترین پالیسی یہ ہے کہ وہ حقیقت پسندی سے کام لے۔ وہ اپنے وجود سے باہر پائی جانے والی نا قابلِ تغیر حقیقتوں کو جانے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد اس کے سوا جو راستہ ہے وہ زیادہ پانے کے نام پر تھوڑے کو بھی کھو دینا ہے۔ حیثیت کو حاصل کرنے کے نام پر آخر کار محکومانہ زندگی پر راضی ہونا ہے۔
حیدر آباد میں بہت سے تاریخی آثار ہیں۔ ان میں سے ایک سالار جنگ میوزیم ہے۔ میوزیم میں ۴۰۰۰۰ قیمتی نوادر اکٹھا کئے گئے ہیں۔ یہ میوزیم اپنی خصوصیات کی بنا پر عالمی شہرت رکھتا اس کے بارے میں انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں یہ الفاظ درج ہیں ــــ نوادرات کا یہ ذخیرہ پوری مشرقی دنیا میں امتیازی حیثیت رکھتا ہے، بلکہ شاید پوری دنیا میں:
The Collection is unique in the East and perhaps in the world. حیدر آباد کا ایک سبق آموز واقعہ یہ ہے کہ ۱۹۴۸ میں پولیس ایکشن کے بعد یہاں کے مسلمانوں نے اچانک پایا کہ وہ یہاں بالکل بے بس ہو کر رہ گئے ہیں۔ لیکن جلد ہی بعد لوگوں نے دیکھا کہ یہاں کے مسلمان بڑی تعداد میں باہر کے دولت مند ملکوں میں گئے اور وہاں انھوں نے پہلے سے زیادہ ترقیاں حاصل کر لیں۔ اس کا راز کیا تھا۔ میں نے اس سلسلہ میں جو کچھ معلوم کیا اس کے مطابق اس کا راز یہ تھا کہ ۷۲ سے پہلے نظام کی حکومت نے یہاں تعلیم کو بہت ترقی دی۔ حتی کہ یہاں کی بیشتر آبادی تعلیم یافتہ ہو گئی۔
نظام کی حکومت نے ۱۹۱۶ میں پرائمری ایجوکیشن کی مکمل ذمہ داری اپنے اوپر لے لی۔ پالیسی کے تحت پرائمری تعلیم ہر فرد کے لئے مفت اور لازمی قرار دے دی گئی۔ ۷۲ کے اعداد و شمار کے مطابق حیدر آباد شہر میں ۴۰۰ پرائمری اسکول تھے۔ اسکول عمر کے تمام لڑکے اور ۹۰ فیصد لڑکیاں ان اداروں میں تعلیم پارہی تھیں۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت کی مدد سے کثیر تعداد میں شہر میں مڈل اسکول اور سکینڈری اسکول قائم ہوگئے۔ اسی طرح کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم کے لئے بھی لوگوں کو ہر قسم کے مواقع فراہم کئے گئے۔
تعلیمی اداروں کی اس کثرت کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۷۲ تک حیدر آباد کے تقریباً تمام مرد و عورت کم و بیش تعلیم یافتہ بن چکے تھے۔ اس تعلیمی لیاقت نے یہاں کے لوگوں کو نیا حوصلہ دیا۔ وہ بڑی تعداد میں باہر کے ملکوں میں چلے گئے۔ اور پھر وہاں اپنی تعلیمی لیاقت کی بنیاد پر نیا ترقیاتی سفر شروع کر دیا۔ آج کے حیدر آباد میں آپ جدھر بھی جائیں، آپ کو یہاں کے مسلمانوں کی نئی ترقیوں
کے مناظر دکھائی دیں گے۔ قدیم حیدر آباد میں اگر ”چار مینار“ یہاں کی ترقی کی علامت تھا تو اب شاید چار سو سے زیادہ مینار یہاں کی ترقیوں کی علامت بنے ہوئے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے سوچا کہ اس دنیا میں کوئی بھی حادثہ یا کوئی بھی سازش کسی قوم کا راستہ روکنے والی نہیں۔ خدا کی اس دنیا میں مواقع اور امکانات کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان کا یکسر خاتمہ کرنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔ یہاں اگر ایک امکان کو ختم کیا جائے تو اس کے بعد ایک سو مزید امکان ابھر کر سامنے آ جائیں گے۔ حیوانات کی دنیا میں ایک امیا(amoeba) ختم ہو کر دو امیا پیدا کر دیتا ہے۔ انسان کی دنیا میں یہی امکان مزید اضافہ کے ساتھ موجود ہے۔ یہ نظام خود فطرت کے اٹل قانون کے تحت اور بلاشبہ کوئی بھی اتنا طاقتور نہیں جو فطرت کے قانون کو بدل سکے۔ مولانا مصلح الدین قاسمی حیدر آباد میں رہتے ہیں۔ انھوں نے روزنامہ منصف کے دو شمارے (۵ مارچ، ۲ اپریل ۱۹۹۹) دیئے۔ ان میں ان کا ایک مضمون دو قسطوں میں چھپا تھا۔ عنوان یہ تھا: ”مولانا وحید الدین خاں کے خلاف اعتراضات، کتنی حقیقت، کتنا فسانہ“۔ اپنے اس تفصیلی مضمون میں مولانا مصلح الدین صاحب نے صرف یہ کیا تھا کہ میرے معترضین نے میری جن عبارتوں کی قطع و برید کر کے ان پر اعتراضات وارد کیے ہیں۔ وہ عبارتیں انھوں نے اصل کتاب سے لے کر پوری پوری نقل کر دیں۔ یہ طریقہ اپنے آپ اعتراضات کا جواب بن گیا۔ سے ظاہر ہو گیا کہ یہ غیر ذمہ دار معترضین میری عبارتوں کو سیاق و سباق سے کاٹ کر اس کو خود ساختہ انداز میں پیش کر رہے تھے اور اس طرح لوگوں کو غلط فہمی میں ڈال رہے تھے۔ مصلح الدین صاحب نے بتایا کہ ان کے اس مضمون کی اشاعت کے بعد لوگوں کی غلط فہمیاں دور ہو گئیں اور وہ خود معترضین کو غلط سمجھنے لگے۔ جنھوں نے اصل عبارت میں مسخ (distortion) کے ذریعہ اپنا خود ساختہ اعتراض نکالا تھا جو کہ اصل عبارت میں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ قیام حیدر آباد کے دوران بار بار شہر کی مختلف علاقوں سے گزرنے کا اتفاق ہوا۔ اقتصادی سرگرمیاں دکھائی دیں۔ ایک صاحب سے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں پیسہ کمانے کے
جو نئے نئے مواقع کھلے ہیں ان کے بعد کسی کو ہمارے خلاف دشمنی کرنے کی فرصت نہیں۔ اتنا زیادہ مشغول ہے کہ اگر آپ اس کونہ چھیڑیں تو وہ کبھی آپ کے لئے خطرہ نہیں بنے گا۔ زمانہ لوگوں کے لئے شدید معاشی مصروفیت کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں لوگوں کے شر سے بچنے کی سب سے زیادہ آسان تدبیر یہ ہے کہ انہیں اپنے اقتصادی کاموں میں مشغول رہنے دیا جائے۔ ۶ فروری کو دوسرا خطاب منالی گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ یہ شام کو مغرب کی نماز کے بعد تھا۔ اس کا موضوع تھا: اسلام کی دعوت ۲۱ویں صدی میں۔
میں نے اپنی مفصل تقریر میں کہا کہ دور جدید اپنے امکانات کے اعتبار سے دور اسلام زمانہ نے فیصلہ کی جو نئی بنیاد فراہم کی ہے وہ عین ہمارے حق میں ہے۔ اس سلسلہ میں تفصیل کے ساتھ دعوت کے جدید امکانات کو بتایا۔
۷ فروری کی شام کو منالی گیسٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس ہوئی۔ اکثر اخبارات کے نمائندے اس میں موجود تھے۔ زیادہ تر سوالات مسلم مسائل کے بارے میں کئے گئے۔ جواب میں نے قرآن وسنت کی روشنی میں دیا۔
ایک اخبار نویس نے کہا کہ آپ اکثر مسلمانوں کو صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ آخر یہ صبر کب میں نے کہا کہ یہ سوال اتناہی غیر مناسب ہے جتنا کہ یہ سوال کہ نماز کب تک یا روزہ کب تک۔ ظاہر ہے کہ نماز اوروزہ خدا کی طرف سے انسان کے اوپر عبادتی فریضہ ہے، اس لئے اس میں "کب تک" کا سوال نہیں۔ جب تک آپ اس دنیا میں ہیں اس وقت تک آپ کو نماز ور روزہ کا فریضہ انجام دینا ہے۔
یہی معاملہ صبر کا بھی ہے۔ صبر کوئی مجبورانہ روش نہیں۔ وہ خدا کی ایک عبادت ہے۔ صبر سب سے بڑی عبادت ہے۔ کیوں کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ صبر کرنے والے بلا حساب اجر پائیں (الزمر ۳۹) ایسی حالت میں ہم کو زیادہ سے زیادہ صبر کرنا ہے تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ انعام پائیں۔ اصل یہ ہے کہ خدا کو یہ مطلوب ہے کہ انسان فتنوں سے بھری اس دنیا میں مثبت نفسیات
کے ساتھ رہے، وہ کبھی منفی نفسیات میں مبتلا نہ ہو۔ جو سینہ منفی نفسیات سے خالی ہو اسی سینہ کے اندر اعلیٰ ربانی کیفیات پرورش پاتی ہیں۔ ایسا ہی شخص عبادت اور اخلاق کے معاملہ میں اعلیٰ درجہ کا عمل کر سکتا ہے۔ ایسا ہی شخص وہ ربانی انسان بنتا ہے جس کو جنت میں جگہ دی جائے۔ صبر کا لمحہ ہمارے لئے رحمت خداوندی کے حصول کا لمحہ ہے، وہ کوئی نا مطلوب چیز نہیں۔ حبیب بھائی حیدر آباد کے ایک تاجر ہیں انھوں نے ایک ملاقات میں کہا کہ "اسلامی حکومت قائم کرو" یہ سراسر غیر اسلامی بات ہے۔ اصل کام اسلام کے نظریہ کو قائم کرنا ہے نہ کہ کسی حکومت کو قائم کرنا۔ سارا فساد اس لئے ہے کہ لوگوں نے مکمل دین کا مطلب یہ سمجھ لیا کہ ہمارا مقصد اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔ حالانکہ اصل مقصد اسلامی نظریہ کی صداقت کو قائم کرنا میں نے کہا کہ آپ نے بہت صحیح بات کہی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اسلام آج کل تشدد کے ہم معنی بن گیا ہے۔ جب کہ اسلام سراسر رحمت اور سلامتی کا دین ہے۔ حیدر آباد میں میرا قیام حبیب بھائی کے مکان پر تھا۔ پروگرام میں شرکت کے لئے میں ان کے گھر سے روانہ ہوا۔ گاڑی حیدر آباد کی مختلف سڑکوں سے گزرتی ہوئی ایک مقام پر رکی۔ یہاں سڑک کے کنارے ایک پر شکوہ چھ منزلہ عمارت تکمیل کے آخری مرحلہ میں تھی۔ ریاض البنات کی نئی عمارت تھی جو مولانا سید اکبر الدین قاسمی کی کوششوں سے بن رہی ہے۔ ۱۹۹۷ سے پہلے اس جگہ اس قسم کی کوئی عمارت موجود نہ تھی۔ یہ صرف حال میں بن کر تیار ہوئی ہے۔ اسی عمارت کے کشادہ ہال میں وہ دوروزہ پروگرام ہوا جس میں شرکت کے لئے میں یہاں آیا تھا۔
جامعہ ریاض البنات کی یہ شاندار ملٹی اسٹوری بلڈنگ گویا نے حیدر آباد کی ایک علامت آج کے حیدر آباد کے مسلمانوں میں مختلف قسم کی تعمیری سرگرمیاں بہت بڑے پیمانہ پر افراد اور جماعتیں بہت بڑے پیمانہ پر ترقی یافتہ حیدر آباد کی تعمیر میں مشغول ہیں۔ جامعہ ریاض البنات کو دیکھ کر میرے ذہن میں حیدر آباد کی سو سال کی تاریخ گھومنے لگی۔
حیدر آباد کے مسلمانوں کی گذشتہ تاریخ کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس مدت میں ان کی ساری کوششیں حیدر آباد کی مسلم ریاست کے ساتھ وابستہ رہیں۔ تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ بس یہ لکھنے اور بولنے میں مشغول تھے کہ حیدر آباد کی مسلم ریاست باقی رہے۔ ان کے نزدیک اسی ریاست کے ساتھ ان کے دینی اور ملی وجود کا بقا منحصر تھا، حتی کہ ۱۹۴۷ کے انقلاب کے نتیجہ میں جب تاریخ نے حیدر آباد کو انڈین یونین کا ایک لازمی جغرافی حصہ بنادیا، اس وقت بھی یہاں کے مسلم رہنما قابل فہم طور پر اسی سوچ میں مبتلا ہے کہ حیدر آباد کسی نہ کسی طرح ایک مسلم سیاسی جزیرہ کے طور پر باقی رہے۔
لیکن اگر حقیقی حالات کو دیکھا جائے تو مسلم لیڈروں کی یہ کوشش اتنی زیادہ بے معنی معلوم ہو گی کہ اس کو کوئی عنوان دینا ہی نا ممکن نظر آئے گا۔
حیدر آباد کی مسلم ریاست کے زمانہ میں یہاں کے مسلمانوں کا حال کیا تھا۔ ہیں کہ تمام مسلمانوں کی سوچ بس یہ تھی کہ کسی نہ کسی طرح وہ ریاست کے اندر کوئی ملازمت حاصل کر لیں۔ اس زمانہ میں یہاں کے تمام لوگ صرف ریاست کی اصلاح میں سوچتے تھے۔ ریاست کے تقریباً تمام مسلمان بس ریاستی ملازمین کا ایک گروہ بن کر رہ گئے۔ ۱۹۴۸ میں جب حیدر آباد میں پولیس ایکشن ہوا اور ریاست کا خاتمہ ہو گیا تو یہاں کے مسلمانوں نے سمجھا کہ ان کے وجود ملی کا ستون گر گیا اور اب یہاں مسلمانوں کے لئے کسی زندگی اور ترقی کا کوئی امکان نہیں۔ لیکن آج کے حیدر آباد کا سروے کیجئے تو معلوم ہوگا کہ حیدر آباد کے مسلمان آج ۱۹۴۷ سے پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ بہتر حالت میں ہیں، معاشی اعتبار سے بھی اور ملی اور دینی اعتبار سے بھی۔
آج حیدر آباد کے مسلمانوں کے پاس ہر قسم کے ترقیاتی سامان وافر مقدار میں موجود ہیں۔ کار اور ٹیلی فون، پختہ مکانات، بچوں کی اعلیٰ تعلیم، سامان راحت، غرض اقتصادی ترقی کے تمام اسباب یہاں ہر طرف دکھائی دیتے ہیں۔ اسی کے ساتھ مسجدیں اور مدرسے اور اسلامی ادارے
بہت بڑی تعداد میں سارے حیدر آباد میں پھیلے ہوئے ہیں۔
ریاستی دور کے مقابلہ میں آج کے مسلمان کیوں زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ سبب پر غور کیجئے تو ایک نہایت اہم حقیقت سامنے آئے گی۔ اصل یہ ہے کہ ریاست کے دور میں مسلمانوں کا ذہن تمام تر ریاست کے اوپر اٹکا ہوا تھا۔ اس ذہنی اٹکاؤ کی بنا پر ان کی فکری صلاحیتیں دبی ہوئی تھیں ۔ ان کی خداداد صلاحیتیں ابھرنے نہیں پاتی تھیں۔ جب ریاست ختم ہوگئی تو وہ ایک شاک سے دوچار ہوئے۔ ریاست کا خاتمہ ان کے لئے ایک شاک ٹریٹمنٹ (Shock Treatment) کے ہم معنی تھا۔
اب ہر آدمی دوڑ بھاگ کرنے لگا۔ کچھ لوگ حیدر آباد سے نکل کر باہر کے ملکوں میں چلے گئے اور وہاں تعلیمی اور اقتصادی جدوجہد شروع کردی۔ بقیہ لوگ حیدر آباد کے اندر کوشش میں مصروف ہو گئے۔ اس طرح ان کی وہ تمام صلاحیتیں جاگ اٹھیں جو ریاست پر انحصار کی وجہ سے ابھی تک سوئی ہوئی تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاست پر انحصار نے یہاں کے مسلمانوں کو زیروبنا مگر جب ریاست کا سہارا ختم ہوا اور انھیں اپنے آپ پر اعتماد کرنا پڑا تو اس کے بعد ایک ایک مسلمان ہیرو بن گیا۔
یہی اس دنیا میں زندگی کا راز ہے۔ اس دنیا میں انحصار (dependence) سے صلاحیتیں دب کر رہ جاتی ہیں اور خود اعتمادی سے صلاحیتیں جاگ اٹھتی ہیں۔ غیر پر اعتماد آدمی کو ترقی سے روک دیتا ہے اور اپنے آپ پر اعتماد اس کے لئے ترقی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ حیدر آباد کے اس اجتماع میں باہر سے بھی کئی لوگ آئے تھے۔ یہ سب الرسالہ کے حلقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔ مثلاً بھوپال سے ڈاکٹر حمید اللہ ندوی، جناب بلال الدین اسی طرح ناندیڑ سے جناب کشن راؤ پٹیل وغیرہ۔
۱۹۷۶میں جب ماہنامہ الرسالہ جاری ہوا تو مجھے محسوس ہوتا تھا کہ ساری دنیا میں اکیلا ہی اس مشن کے ساتھ ہوں۔ اس وقت یہ ایک اکیلے انسان کا سفر معلوم ہوتا تھا جو اس نے
تاریکیوں کی لامتناہی فضا میں شروع کیا تھا۔ ہر آدمی اس کو دیوانگی کا ایک اقدام سمجھتا تھا۔ غالباً کوئی بھی شخص نہ تھا جو یہ سمجھتا کہ الرسالہ چلے گا اور وہ ایک عالمی مشن کی صورت اختیار مگر آج خدا کے فضل سے نہ صرف ہندوستان میں بلکہ تقریباً ساری دنیا میں اس سے وابستہ افراد موجود ہیں اور اب یہ مشن خدا کے فضل سے انٹرنیٹ پر بھی آچکا ہے۔ مولاناکبر الدین قاسمی صاحب نے اپنی ایک تقریر میں درست طور پر کہا کہ الرسالہ مشن کو پھیلانے میں اس کے دوستوں سے زیادہ اس کے مخالفین کا ہاتھ شامل رہا ہے۔ لوگوں نے اتنی زیادہ اس کی مخالفتیں کیں اور دنیا بھر میں اس کے خلاف اتنا زیادہ پروپیگنڈا کیا کہ جو لوگ الرسالہ کا نام بھی نہ جانتے تھے وہ بھی اس سے واقف ہوگئے۔ مخالفین کے ذریعہ متعارف ہونے والے ان لوگوں میں ہزاروں آدمیوں کو صرف ان مخالفین نے الرسالہ کا قاری اور حامی بنادیا۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے لوگوں کی مخالفتوں کے بعد الرسالہ کو پڑھنا شروع کیا اور پھر وہ ہمارے دل کی آواز بن گیا۔
حیدر آباد میں تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک مجلس میں میں نے پوچھا کہ آپ میں سے کوئی صاحب یہ بتا سکتے ہیں کہ ان کو ایک ایسی چیز کی معرفت ہوئی جو اسلام کی پوری تاریخ میں کسی کو میرا یہ سوال لوگوں کو عجیب معلوم ہوا۔ میں نے کہا کہ اس میں تعجب کی کوئی بات حدیث میں آیا ہے کہ قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے (لا تنقضی عجائبہ)۔ مطلب یہ ہے کہ ہر دور میں لوگ قرآن میں نئے نئے حقائق دریافت کرتے رہیں گے۔ پھر میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو لوگ ایمان لائے ان کو یہ ایمان درجہ معرفت میں ملا تھا، اسی قسم کا ایمان بعد والوں سے بھی مطلوب ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: فان آمنوا بمثل ما آمنتم بہ فقد اہتدوا (البقرۃ ۱۳۷)۔ معرفت یا ڈسکوری کے درجہ میں ایمان کو پانا بلا شبہ ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے۔ خدا کی رحمتِ عام سے یہ بعید ہے کہ وہ امت کے ابتدائی لوگوں کو تو اعلیٰ درجہ کا ایمان دے اور بعد والوں کے لئے صرف کم تر درجہ کا ایمان
جب کہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مثل امتی مثل المطر لا يُدْرَى اوله خير أو آخره (مسند احمد ۳/۱۳۳) یعنی میری امت کی مثال بارش جیسی ہے۔ میں معلوم کہ اس کا پہلا حصہ زیادہ بہتر ہو گایا اس کا آخری حصہ۔
حیدر آباد کے اس قیام کے دوران جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ان میں سے ایک ڈاکٹر عبد الرشید صاحب تھے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ شکر کی بیماری، دل کی بیماری اور بلڈ پریشر وغیرہ اکثر ذہنی ٹینشن سے پیدا ہوتی ہیں۔ میرا اپنا حال یہ ہے کہ میں مسلسل طور پر سخت قسم کے ذہنی ٹینشن میں رہتا ہوں۔ اگر میں یہ کہوں تو شاید مبالغہ نہ ہوگا کہ میری یہ کیفیت سپر ٹینشن تک پہنچ چکی ہے۔ بلکہ میرا ذاتی احساس تو کبھی یہ ہوتا ہے کہ شاید کوئی بھی دوسرا شخص اتنے شدید ذہنی ٹینشن میں نہ جیتا ہوگا۔ اس کے باوجود خدا کے فضل سے میرا بلڈ پریشر بالکل نارمل ہے۔ شکر کی بیماری یا دل کی بیماری بھی مجھ کو نہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ آپ کے دل کو یہ اطمینان حاصل ہے کہ آپ نے سچائی کو پایا ہے۔ کا ذہنی تناؤ اور ٹینشن صرف اوپری سطح کا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ قلب کی گہرائیوں نہیں آپ کے اندر حق پر ہونے کا سکون اور اطمینان موجود ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ الا بذکر اللہ اور یہی اطمینان قلب آپ کی ظاہری جسمانی صحت کا راز ہے۔
جناب محمد حسین صاحب (۵۲ سال) سے مغل پورہ میں ملاقات ہوئی۔ آج کل انھوں نے اپنے آپ کو پوری طرح دعوت کے میدان میں وقف کر دیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ میں ۱۹۹۳ سے برابر الرسالہ ۵ عدد ہر ماہ منگاتا ہوں۔ اور اس کو خاص طور سے علماء کے درمیان پھیلاتا ہوں۔ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ ماشاء اللہ الرسالہ کے ذریعہ لوگوں کو بہت فائدہ ہو رہا ہے اور لوگوں کے خیالات وسیع ہورہے ہیں۔ پڑھنے والوں کا مشترک احساس یہ ہے کہ الرسالہ میں اعراض کا قرآنی اصول، جس کی بار بار تشریح کی جاتی ہے، بے حد اہم ہے۔ انھوں نے کہا کہ بہت سے لوگ جو آپ کے معترض تھے الحمد للہ میں نے ان کو معترف بنادیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ الرسالہ میں
ہم کو غیر مسلموں میں کام کرنے کے لئے بہترین مواد ملتا ہے۔
حبیب بھائی کا ایک فارم کیرالامیں ہے۔ ان کے صاحبزادہ محمد احمد صاحب اس کا انتظام محمد احمد صاحب نے بتایا کہ وہ کار کے ذریعہ سفر کر کے وہاں جاتے ہیں۔ یہ مسلسل ۲۴ گھنٹہ کا سفر ہوتاہے۔ مگروہ رکے بغیر سفر کر کے وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ جب آدمی کے سامنے ایک متعین نشانہ ہو تو وہ ہیرو بن جاتا ہے۔ کوئی معلوم نشانہ نہ ہو تو آدمی مسلسل اتنا لمبا سفر نہ کر سکے۔
حیدر آباد میں قیام کے دوران ہم لوگ مدرسہ ریاض البنات (اندرون تالاب کہنہ) گئے۔ یہاں مولانا سید اکبر الدین قاسمی کے بچوں کا قرآن شروع کرانے کی تقریب میں شرکت کی۔ کشن جے ونت راؤ پاٹل (نانڈیڑ) اس پروگرام میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ کہا کہ حیدر آباد میں دعوت و تربیت کے عنوان سے جو پروگرام ہوا اس میں میں شریک تھا۔ نے اپنا تاثر ایک صاحب سے بتاتے ہوئے کہا کہ ــــ مولانا نے جو بات کہی وہ اس بارے میں تھی کہ قرآن کا مطلوب انسان کون ہے اور یہ کہ ایسا انسان کیوں کر بنتاہے یہ بات انہوں نے بہت ہی اچھے ڈھنگ سے پیش کی۔ مولانا کا جو سمجھانے کا طریقہ ہے اس سے ہر انسان کی سمجھ میں بات آ مولانا کی تحریک انسانوں کی بھلائی کی ہے۔ دیگر علماء کی سرگرمی مسلمانوں کے لئے ہوتی ہے اور مولانا کی سرگرمی انسانوں کے لئے ہے۔ یہی بات مجھے ان سے قریب لائی ہے“۔ ۷ فروری کو ہم لوگ شہر سے روانہ ہو کر اہل پہنچے۔ یہاں ہماری گاڑی ایک زیر تعمیر بلڈنگ کے سامنے کھڑی ہوئی۔ چند سال پہلے جب میں آیا تھا تو یہاں ایک صحرائی ماحول تھا۔ بلا تشبیہ، گویا کہ یہ مقام ملت کے اجڑے ہوئے چمن کی ایک علامت بنا ہوا تھا۔ آج یہاں ایک عظیم اور خوبصورت عمارت ابھرتی ہوئی دکھائی دی، ٹھیک ویسے ہی جیسے پانی کے اندر سے کنول کا پھول بر آمد ہوتا ہے۔ یہ شاندار عمارت جامعہ ریاض الاسلام کی تھی جو مولانا سید اکبر الدین قاسمی اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں سے وجود میں آئی ہے۔ اور گویا کہ وہ نئے دور میں احیاء ملت کی
ایک پُر امید علامت ہے۔
گفتگو کے دوران میں نے پوچھا کہ یہاں پانی کا کیسا انتظام ہے۔ جامعہ کے ذمہ داروں نے بتایا کہ ہم نے بورنگ کر کے یہاں پانی نکالا ہے۔ مزید تفصیل بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب بورنگ شروع کی گئی تو معلوم ہوا کہ نیچے سب پتھر ہی پتھر ہے۔ نیچے پچاس فٹ تک یہی حال تھا۔ کرنے والے یہ دیکھ کر مایوس ہوگئے۔ مولاناسید اکبر الدین صاحب نے لا تقنطوا من رحمة الله کے اصول پر کہا کہ آپ لوگ بورنگ جاری رکھیں۔ یہاں تک کہ جب وہ لوگ ساٹھ فٹ تک پہنچے تو صاف شفاف پانی کا فوارہ ابل پڑا۔ اب یہاں اتنا زیادہ پانی نکلتا ہے کہ وہ نہ صرف مدرسہ والوں کی ضرورت کے لئے کافی ہے بلکہ آس پاس کے لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ اس جامعہ ریاض الاسلام کی زیر تعمیر عمارت کے سامنے ایک وسیع اور شاندار گیٹ بن رہا میں نے تجویز کیا کہ اس گیٹ کا نام زمزم گیٹ رکھا جائے۔ میں نے کہا کہ ’’زم زم‘‘ ایک علامتی نام ہے جو یاد دلاتا ہے کہ کس طرح ایک صحرائی دنیا میں اسلام کا ایک شاندار باغ اگا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہاں کے اس صحرا میں بھی اسلام کا ایک باغ اگے گا جو اسلام کی روشنی سے آج کی دنیا کو منور کرے گا۔
اس کے بعد ہم لوگ مدرسہ تحفیظ القرآن پہنچے۔ یہاں کچھ دیر قیام رہا۔ اور بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر میر محمود علی خالد (پیدائش ۱۹۴۲) تھے وہ ’’الرسالہ‘‘ کے ایک پرانے قاری ہیں اور ’’الرسالہ‘‘ کے نقطۂ نظر سے پورا اتفاق رکھتے ہیں۔ سے میں نے کہا کہ الرسالہ مشن کے بارے میں آپ اپنا تاثر بتائیے۔ انھوں نے جواب دیا ’’آج سارے لوگ الرسالہ کی بات تو مانتے ہیں مگر وہ زبان سے اس کا اظہار نہیں کرتے۔ میں نے دوبارہ پوچھا، اس کا سبب کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرا خیال تو یہ ہے کہ ذہنی طور پر اب تمام لوگ اس کو صحیح مانتے ہیں لیکن ماحول کے خوف سے اس کے اظہار کی ہمت نہیں کرتے۔ مجھے یقین ہے کہ اظہار نہ کرنے کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ اس کو غلط سمجھتے ہیں بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ ان کے
اندر اعترافِ حق کی جرات نہیں۔
۷ فروری کی شام کو ہمارا قافلہ حیدر آباد سے چل کر محبوب نگر پہنچا۔ یہاں دینی تعلیم سے منسلک علماء اور دوسرے تعلیم یافتہ مسلمانوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور دیر تک علمی اور دینی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ مغرب اور عشاء کی نمازیں محبوب نگر میں پڑھی گئیں ۔ محبوب نگر جاتے ہوئے ہم چند ساتھی ایک گاڑی میں سوار تھے۔ ہر ایک اپنی زندگی کے انوکھے تجربات بتا رہا تھا۔ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی نے کہا کہ میں نے ایک نظم سنی تھی جس کا ایک مصرعہ جو مجھے یاد ہے وہ یہ تھا: لمحوں میں صدیاں جی آیا۔ حبیب حبیب بھائی نے کہا کہ میں ایک مجلس میں وہاں ایک شاعر نے ایک نظم سنائی اس کا ایک مصرعہ یہ تھا: میں نے جس کو جیون سمجھا وہ تو بس ایک پل نکلا۔ مولا نا سید اکبر الدین قاسمی صاحب نے بتایا کہ میں ایک بس میں سفر کر رہا اس میں کنڈکٹر کی سیٹ پر یہ با معنی شعر لکھا ہوا تھا: