نئے گروہ کی ضرورت
Al-Risala, January 2000, pp. 31–32
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ بیسویں صدی کے آخر میں یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ قیادت کی دعویدار تمام قومیں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔ اب آخری طور پر وہ وقت آ گیا ہے کہ ایک نیا اور تازہ دم گروہ ابھرے جو اس خلا کو پر کرے ، جو آنے والی اکیسویں صدی کو حقیقی معنوں میں انسان کے لئے ایک نئی اور بہتر صدی بنا دے۔
میرے اندازے کے مطابق یہ نیا گروہ ہندوستانی مسلمانوں کا گروہ ہے۔ تقریباً ٦٠ مسلم قوموں میں ، ہندوستانی مسلمان استثنائی طور پر اس خصوصیت کے مالک ہیں کہ وہ انڈونیشیا کو چھوڑ کر سب سے بڑے عددی گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ ایک اکثریتی گروہ کی طرف سے چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔ چیلنج انسانی ترقی کی لازمی شرط ہے ، اور یہ شرط اپنی پوری صورت میں موجودہ دور میں صرف ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں پوری ہورہی ہے۔ موجودہ ہندوستانی مسلمان ہی اس حالت میں ہیں کہ قانون فطرت کے تحت ان کے اندر وہ تخلیقی اور تعمیری اوصاف پیدا ہوں جو کسی قوم کو اس دنیا میں قیادت کا اہل بناتے ہیں۔
علامہ اقبال اور مسٹر محمد علی جناح نے غالباً ہندوستانی مسلمانوں کو اسی تعمیری رول کے لئے کھڑا کرنا چاہا مگر انھوں نے اس کے لئے جو تدبیر اختیار کی وہ درست نہ تھی۔ انھوں نے سمجھا کہ مسلمانوں کے لئے علیحدہ پاکٹ (پاکستان) بنانا ان کے لئے اس قسم کا موقع دینے والا ثابت ہو گا مگر برعکس طور پر
اس تدبیر نے ان مسلمانوں کو چیلنج کے ماحول سے محروم کر دیا، جب کہ چیلنج کا ماحول ہی کسی بڑے انسانی عمل کے ظہور میں آنے کی لازمی شرط ہے۔
تقسیم (۱۹۴۷) کے بعد ہندوستان کے کچھ مسلم لیڈروں نے اس سلسلہ میں ایک نیا انھوں نے چاہا کہ مسلم ۔ دلت اتحاد قائم کریں اور اس طرح مسلمانوں کو زیادہ طاقت ور حیثیت دے کر انھیں اس قابل بنائیں کہ وہ ملک میں کوئی بڑا رول ادا کر سکیں ۔ مگر یہ کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکی۔ اس کی پہلی اور بنیادی وجہ تو یہ تھی کہ مسلم ۔ دلت اتحاد کا مقصد صرف مسلمانوں کے لئے تحفظ فراہم کرنا تھا۔ وسیع تر ملکی مفاد اس کا حقیقی نشانہ نہیں تھا۔ اور اس قسم کی محدود اسکیم کسی بھی مشترک سماج میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس دنیا میں وہی منصوبہ کامیاب ہوتا ہے جس میں دوسروں کی خیر خواہی شامل ہو۔ محض اپنی خیر خواہی کی بنیاد پر بنایا ہوا منصوبہ قانون فطرت کے خلاف ہے اس لئے اس کا کامیاب ہونا بھی اس دنیا میں ممکن نہیں۔