عملی پروگرام
Al-Risala, January 2000, pp. 32–36
By Maulana Wahiduddin Khan
میرے نزدیک اس معاملہ میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مسلمان اس پورے معاملہ کو خالص انسانی نقطہ نظر سے دیکھیں ۔ وہ جو کچھ کریں عمومی خیر خواہی کے جذبہ کے تحت اپنی گروہی برتری کا قیام یا اپنے حقوق کا حصول جیسے ذاتی مقاصد کو لے کر اگر کوئی جد و جہد شروع کی گئی تو پیشگی طور پر سمجھ لینا چاہئے کہ وہ کسی بھی مثبت یا قابل لحاظ نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتی ۔ اس دنیا میں کسی انسان کی سب سے بڑی طاقت دوسروں کے حق میں خیر خواہی
اسی طرح کسی انسان کی سب سے بڑی کمزوری اس کی خود غرضی ہے۔ اندر یہ اخلاقی اور روحانی اسپرٹ پیدا کرنا مجوزہ مشن کا سب سے پہلا نکتہ ہوگا۔ موجودہ حالات میں دوسرا ضروری کام یہ ہے کہ بڑے پیمانہ پر ہند و مسلم ڈائیلاگ شروع کھلے ذہن کے تحت تمام فکری اور نظریاتی پہلوؤں پر گفتگو ہو۔ یہ کام مناظرہ کے انداز میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ خالص سائنٹفک انداز میں ہونا چاہیے، یعنی وہی انداز جو آج بھی مذہب کے سوادوسرے علمی موضوعات میں جاری ہے۔
اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ مسلمان صحت مند مقابلہ کے میدان میں پوری طرح داخل ہو جائیں ۔ شکایت اور احتجاج اور مانگ اور مطالبات کے طریقہ کو مکمل طور پر ترک وہ رعایت حاصل کر کے جینے کے بجائے قابلیت کا ثبوت دے کر ملک میں اپنی جگہ بنائیں ۔ تعلیم ، تجارت، انڈسٹری، تمام سماجی اداروں اور پروفیشنل شعبوں میں امتیازی لیاقت پیدا کر کے آگے بڑھیں۔
قرآن کی مذکورہ آیت میں اقلیتی گروہ کے لئے جس غلبہ کی پیشین گوئی کی گئی ہے اس کی لازمی شرط، آیت کے مطابق ، صبر ہے۔ قرآن کا یہ بیان حتمی طور پر یہ ثابت کرتا ہے کہ فطرت کے مذکورہ قانون کو اپنے حق میں واقعہ بنانے کے لئے لازمی شرط یہ ہے کہ لوگوں کے اندر صبر وتحمل کا مادہ ہو۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پیش آمدہ صورت حال میں فوری رد عمل کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ سوچا سمجھا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ سوچا سمجھا طریقہ اختیار کرنے کے لئے ہمیشہ وقت درکار ہوتا ہے۔ تا کہ آدمی ٹھنڈے ذہن کے ساتھ معاملہ کو وہ تحقیق اور مشورہ کے مراحل سے گزر کر کوئی گہری رائے قائم کرے ۔ صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ بے سوچے سمجھے اقدام سے بچے اور منصوبہ بند عمل کا طریقہ اختیار کرے۔ جو لوگ مسلمانوں کو مثبت رول ادا کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں ان پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ مسلمانوں کے اندر صابرانہ مزاج پیدا کریں ۔
وہ ان کو جذباتیت کے بجائے حقیقت پسندی کی تعلیم دیں۔
کوئی بھی کام کرنے کے لئے اس کے مطابق بنیاد (base) درکار ہوتی ہے۔ اس ملک میں جو رول ادا کرنا ہے اس کے لئے بھی یہی ضروری تیاری درکار ہے۔ بنیاد تعلیم اور کردار ہے۔ جو لوگ یہ درد رکھتے ہیں کہ مسلمان اس ملک میں اپنا مطلوب تعمیری کردار ادا کریں انھیں مہم کے انداز میں یہ کوشش شروع کردینا چاہئے کہ مسلمان صد فی صد تعلیم یافتہ بن جائیں۔ اس تعلیمی نشانہ کو پورا کئے بغیر آگے کا کام نہیں ہوسکتا۔ ساتھ انھیں دوسری مہم یہ جاری کرنا ہے کہ مسلمان اعلیٰ کردار کے حامل بنیں ۔ مدرسہ سے لے کر اخبارات و رسائل تک ہر ذریعہ کو اس مقصد کے لئے پوری طرح استعمال کیا جانا چاہئے۔ تعلیم آدمی کو باشعور بناتی ہے۔ اور اخلاق وکردار کے ذریعہ آدمی اس کا اہل بنتا ہے کہ وہ قابل اعتماد طور پر دنیا کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکے۔ آزادی کے بعد ملک میں جو سماج بنا وہ نفرت اور تشدد کا سماج تھا۔ اس منفی فضا میں ملکی تعمیر کا کام نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لئے مہاتما گاندھی نے آزادی (۱۹۴۷) کے وقت کہا تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو مل کر امن اور ہم آہنگی کے ساتھ رہنا ہوگا۔ ورنہ میں اسی کوشش میں اپنی جان دے دوں گا:
Hindus and Muslims should learn to live together in peace and amity otherwise I will die in the attempt. بدقسمتی سے ابھی تک نفرت اور کشیدگی کی یہ فضا ختم نہ ہوسکی۔ یہ فضا ہندوؤں اور مسلمانوں کے لئے اور پورے ملک کے لئے سخت مہلک ہے۔ اس کی موجودگی میں ملک کے اندر کسی تعمیری منصوبہ کی تکمیل ممکن نہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہر ممکن کوشش کرکے اس کو ختم کیا ملک میں قومی یک جہتی اور برادرانہ محبت کا ماحول پیدا کیا جائے ۔ اس کے بعد ہی یہاں کوئی حقیقی ترقیاتی کام کیا جا سکتا ہے۔
ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اس وقت جو تلخی پائی جاتی ہے اس کا بڑا سبب وہ غلط
فہمیاں ہیں جو مذہب کی نسبت سے پیدا ہوتی ہیں۔ ان غلط فہمیوں کو دور کرنا لازمی طور پر اس مقصد کے لئے ضرورت ہے کہ وسیع پیمانہ پر اسلام کے صحیح تعارف کی مہم جاری کی جائے۔ مختلف زبانوں میں اسلام کے مختلف موضوعات پر مثبت انداز کی کتابیں لکھ کر انہیں بڑے پیمانہ پر غیر مسلموں کے درمیان پھیلایاجائے۔
کوئی قوم صحیح رول صرف اس وقت ادا کر سکتی ہے جب کہ اس کو صحیح قیادت حاصل ہو جائے مگر صحیح قیادت کا تعلق خود قیادت سے زیادہ قبولیت قیادت کی صلاحیت سے ہے۔ اندر یہ مزاج ہونا چاہئے کہ وہ تعمیری قیادت اور استحصالی قیادت کے فرق کو سمجھ سکے۔ حقیقت پسندانہ کلام اور جذباتی کلام کو پہچانے۔ جس قوم میں یہ استعداد نہ ہو وہ ہمیشہ استحصالی قیادت کا شکار ہو کر رہ جاتی ہے۔ مسلم عوام میں یہ مزاج پیدا کرنا بھی بہت ضروری اس کے بغیر کسی گہرے منصوبہ کے لئے مسلمانوں کو متحرک نہیں کیاجاسکتا۔ سیاست کے میدان میں مسلمانوں کا رول اب تک منفی رائے دہندگی (negative voting) کی حد تک رہا ہے۔ یعنی کسی بنا پر جس سے انہیں ناراضگی ہو جائے اس کے خلاف ووٹ دے کر اپنے دل کی بھڑاس نکالنا۔ اس قسم کی منفی سیاست نہ مسلمانوں کے لئے مفید ہے اور نہ ملک کے لئے۔ جمہوریت دراصل طاقت میں اشتراک (power sharing) کی سیاست کا نام ہے۔ ہندوستان میں مسلمان مرکزی پارلیمنٹ کی تقریباً ۱۰۰ سیٹوں پر فیصلہ کن بن سکتے ہیں۔ اس اعتبار سے اگر وہ اپنے ووٹ کو درست طور پر استعمال کریں تو ملک کے سیاسی نظام میں وہ فیصلہ کن تعمیری رول ادا کر سکتے ہیں۔ مگر ابھی تک یہ ممکن نہ ہو سکا۔ ضرورت ہے کہ ان کے اندر صحیح سیاسی شعور پیدا کیا جائے تاکہ وہ جذباتی سیاست کے بجائے تعمیری سیاست کا طریقہ اختیار کر سکیں اور یہاں کے سیاسی مواقع کو مفید طور پر استعمال کرنے کے قابل ہوجائیں ۱۰۔
مسلمانوں کو اس ملک میں مثبت سیاست کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے ۔ حالات کے اعتبار
سے اس کی ایک ابتدائی تدبیر یہ ہوسکتی ہے کہ وہ ملک کے سنجیدہ افراد اور صالح عناصر کو لے کر ایک تعمیری محاذ بنانے کی کوشش کریں ۔ اس محاذ کا مقصد اپنے حقوق کا حصول نہیں ہوگا بلکہ یہ ہوگا کہ وہ ملک کی عمومی تعمیر میں اپنا مثبت رول زیادہ مضبوط اور مستحکم طور پر ادا اگر حقیقی معنوں میں اس قسم کا تعمیری محاذ بن جائے تو اس میں مختلف فرقوں کے سنجیدہ عناصر شامل ہو جائیں گے ۔ حتیٰ کہ ایک وقت آ سکتا ہے جب کہ یہ محاذ تعمیر نو کے بارے میں پورے ملک کی امیدوں کی علامت بن جائے ۔ یہ کام اگر خالص تعمیری انداز میں کیا جائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ کسی وقت یہ محاذ ملک میں وہ خلا پر کرنے کے قابل ہو جائے جس کو صالح قیادت کا خلا کہا جاتا ہے۔