Al-Risala · May 2000

اک تبسم ہزار شکووں کا کتنا پیارا جواب ہو تا ہے

Al-Risala, May 2000, pp. 30–41

By Maulana Wahiduddin Khan

محبوب نگر میں سب سے پہلے ہمارا قیام محمد عبد القادر صاحب کے مکان پر تھا۔ کے ساتھ رات کا کھانا کھایا۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ ہم لوگوں کو جسمانی غذا سے زیادہ روحانی غذا کی فکر کرنی چاہئے۔ آج کل لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اس لئے کماتے ہیں کہ دنیا کے لذیذ کھانوں کو اپنے دستر خوان پر جمع کر سکیں اور اس کو کھا کر اور کھلا کر خوش ہوں۔ خدا نے اپنی دنیا میں دو قسم کی غذائیں پیدا کی ہیں۔ جسمانی غذا اور روحانی غذا۔ صرف جسمانی غذا کی لذتوں سے آشنا ہیں۔ اس سے ہزاروں گنا بڑی لذت وہ ہے جو ٹھیک اسی دنیا میں ہمارے خدا نے ہمارے لئے فراہم کی ہے۔ کم تر غذا پر ٹوٹنا اور برتر غذا کو نظر انداز کرنا، میرے نزدیک خدا کی تخلیق کی ناقدری ہے۔ جسمانی غذا صرف ہمارے مادی وجود کے بقا کے لئے ہے جب کہ روحانی غذا ہماری ابدی حیات کا سرمایہ ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ ہم کو کھانے کا شوق نہیں بلکہ کھلانے کا شوق ہے۔ میں نے جواب

دیا کہ یہ شوق اچھا ہے مگر آپ کو چاہئے کہ مادی کھانا کھلانے کے بجائے لوگوں کو روحانی کھانا مثلاً لوگوں کو اسلام کالٹر یچر پڑھانا۔ لوگوں تک اسلام کا بابرکت پیغام پہنچانا، لوگوں کو بے شعوری کے اندھیرے سے نکال کر شعور کے اجالے میں لانا، وغیرہ۔

محبوب نگر میں جناب عبد الحکیم صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ پندرہ سال سے الر سالہ کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ میں نے ان کا تاثر پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے مطالعہ سے یہ سمجھا ہے کہ اس دنیا کا ہر معاملہ پر امن کوشش یا بات چیت کے ذریعہ حل ہو سکتا تشدد کا طریقہ صرف مسائل میں اضافہ کرتا ہے، وہ مسائل کو حل نہیں کرتا۔ مجھے الر سالہ کے اس نظریہ سے پورا اتفاق ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر موجودہ زمانہ کے مسلمان صرف اس ایک اصول کو پکڑ لیں تو ان کے تمام مسائل حل ہو جائیں۔ ترقی کی دوڑ میں وہ بھی دوسری قوموں کی طرح آگے بڑھ جائیں۔

۷ فروری کی شام کو محبوب نگر میں الفرقان ایجوکیشنل سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک الفرقان ایجوکیشنل سوسائٹی یہاں کے کچھ تعمیر پسند لوگوں نے قائم کی ہے۔ کہا کہ ایجوکیشن بلاشبہ ایک بنیادی کام ہے۔ مسلمانوں کو اس میدان میں زیادہ سے زیادہ سرگرم میں نے مزید کہا کہ ایجوکیشنل کام کے دو شعبے ہیں۔ ایک ہے لوگوں کی تعلیم کا اور دوسرا کام ہے لوگوں کے اندر صحیح فکر و شعور پیدا کرنا۔ اور یہ دونوں ہی کام یکساں طور پر اہم ہیں۔

اس اجتماع میں محبوب نگر کے تعلیم یافتہ افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس میں مجھے خطاب کرنے کا موقعہ ملا۔ اس خطاب کا موضوع تھا: اسلام دورِ جدید میں۔ اس موضوع کی نسبت سے ایک تفصیلی تقریر کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ نئے دور کا مطلب ہے بدلا ہوا دور۔ ہر بار جب حالات بدلتے ہیں تو وہ کسی نظریہ کے لئے ایک امتحان (ٹسٹ) ہوتا ہے۔ یعنی یہ سوال کے بدلے ہوئے حالات اس کی حقانیت کی تصدیق کرتے ہیں یا تردید۔

میں نے مختلف مثالوں کے ذریعہ بتایا کہ اسلام اس ٹسٹ پر مکمل طور پر پورا اترتا ہے۔ بدلا ہو اور دور اسلام کی صداقت کو از سر نو ثابت شدہ بنا رہا ہے۔ اس بات کو مختلف علمی اور تاریخی مثالوں کے ذریعہ واضح کیا۔

محبوب نگر میں پہلے جامعہ سراج العلوم کے نام سے لڑکوں کی دینی تعلیم کا ایک مدرسہ یہ خدا کے فضل سے کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ اب اس کے ذمہ دار مولانا امیر اللہ خاں قاسمی اور ان کے ساتھیوں کی کوشش سے لڑکیوں کی دینی تعلیم کا بھی ایک بڑا ادارہ قائم ہو گیا ہے جس کا نام جامعہ سراج البنات ہے۔ اس کی شاندار عمارت میں نے دیکھی۔ میں نے کہا کہ آج کل مسلم لڑکیوں کی تعلیم کے مدرسے جگہ جگہ قائم ہو رہے ہیں۔ یہ ملت کے لئے نئے روشن مستقبل کی علامت ہے۔ محبوب نگر کے اس جامعہ سراج البنات کے لئے جو زمین خریدی گئی وہ ایک ہندو ان کو جب معلوم ہوا کہ یہ زمین لڑکیوں کی تعلیم کے لئے خریدی جا رہی ہے تو اس ہندو نے مزید تین سو گز زمین بلا قیمت دے دی۔ اس نے کہا کہ یہ ہماری طرف سے آپ کے تعلیمی ادارہ کے لئے عطیہ ہے۔ تعمیری کام میں اتنی کشش ہے کہ لوگ اپنے آپ اس کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔

حیدر آباد اور محبوب نگر کے پروگرام کے آخر میں بھوپال یونیورسٹی کے ڈاکٹر حمید اللہ ندوی نے اپنا آخری تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حیدر آباد کے اس پروگرام میں شرکت کے بعد میرا یہ احساس ہے کہ حیدر آباد میں حلقہ الرسالہ نئی طاقت کے ساتھ ابھرا ہے۔ حلقہ الرسالہ کے افراد نئے عزم و حوصلہ کے ساتھ مشن کو لے کر میدان میں آئے ہیں۔

مولانا سید اکبر الدین قاسمی صاحب نے یہاں کے پروگرام کے بارے میں اپنا تاثر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پروگرام مجموعی اعتبار سے بہت کامیاب، مفید اور موثر ثابت ہوئے۔ طور پر اہل علم اور سنجیدہ حضرات نے بڑے ذوق و شوق سے اس میں حصہ لیا اور خطابات کو دلچسپی کے ساتھ سنا۔

حبیب بھائی نے حیدر آباد کے ان پروگراموں کے بارے میں اپنا تاثر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سارے پروگرام ممتاز (excellent) رہے اور ایسا لگتا ہے کہ آپ کے خلاف جو غلط پروپیگنڈا ہوا تھا وہ ان پروگراموں کے بعد بڑی حد تک دور ہو گیا۔

بھوپال سے ان پروگراموں میں شرکت کے لئے بلال الدین صاحب آئے تھے۔ آباد کے ان پروگراموں کے بارے میں انھوں نے اپنا یہ تاثر بتایا کہ میں شروع سے الرسالہ کو پابندی کے ساتھ پڑھتا ہوں اور آپ کی سب کتابیں بھی پڑھی ہیں مگر یہاں آکر ایسا محسوس ہوا کہ میں پھر سے الرسالہ مشن کا تعارف حاصل کر رہا ہوں۔

۷ فروری کی شام کو انگریزی روزنامہ دکن کرانیکل کے نمائندہ میر ایوب علی خاں صاحب نے تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو حبیب بھائی کی رہائش گاہ پر لیا گیا۔ انٹرویو نے مختلف قسم کے سوالاعملت کئے ۔ میری ذات کے بارے میں اور اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا: موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے لمبی مدت تک ہمالیائی کوششیں کیں، مگر نتیجہ صفر رہا۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان کی یہ کوششیں رد عمل کے تحت وجود میں آئیں۔ کسی مثبت فکر کا نتیجہ نہ تھیں۔ اس دنیا کے لئے خدا کا قانون یہ ہے کہ مثبت فکر کے تحت وجود میں آنے والا نتیجہ خیز ہو اور رد عمل کے تحت وجود میں آنے والا عمل بے نتیجہ ہو کر رہ جائے۔ قانون ہر قوم کے لئے ہے، اس میں کسی کا استثناء نہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ جن لوگوں سے میرا اختلاف ہے وہ شخصی نہیں ہے بلکہ صرف نظریاتی ہے۔ آپ میری تحریروں کو پڑھیں آپ پائیں گے کہ میں کبھی کسی کی شخصی عیب جوئی نہیں کرتا بلکہ صرف اس کے مسلمہ فکر پر تنقید کرتا ہوں۔ شخصی عیب جوئی حرام ہے۔ اور نظریاتی تنقید و تجزیہ عین جائز بلکہ ضروری ہے۔ یہ انٹرویو مفصل طور پر دکن کرانیکل ۱۳ فروری ۲۰۰۰ میں چھپا ہے۔ اس انٹرویو کا کچھ حصہ اخبار سے لے کر اگلے صفحہ پر نقل کیا جا رہا ہے۔

has written numerous books explaining various aspects of Islam to Muslims as well as non- Muslims. MIR AYOOB ALI KHAN met the Maulana during his visit to Hyderabad last week and made him speak his mind. Q. In your discourses and writings you take the support of science to reinforce religious beliefs. Religion and science are two different things. How can science that is based on reason support religion that is a matter of belief? A. The difference of approach between science and religion has disappeared with time. Earlier, science used to say that for an argument to be valid, it should be demonstrative. With the splitting of atom science is no more in a position to say that. It is talking about unseen things. That is what religion has always spoken about. Let us say that science follows the system of developing a hypothesis goes over to observation and comes up with verification. Religion also follows the same methodology to establish a statement. For example, let's say that the Quran is the book of God is a hypothesis. The statement in the Quran that God has saved the body of Pharaoh who lived in the period of Prophet Moses was made 1300 years ago before it was discovered that his body actually had been preserved in a pyramid. This observation verifies that the Quran is the book of God. Q. According to many scholars, Muslims are taking to confrontation because their reconciliatory approach has failed; dawah work has failed. A. Peaceful methods never fail. Why should there be confrontation? Look at the stars in the sky. There are millions of them and they have always co-existed peacefully. Dawah work never fails, it is the violent activism that has failed. Q. There are people who believe that violence is an integral part of Islam. What do you think? A. I would reject this charge outright. Islam is a religion for all time. If it preached violence, no one would be left on this earth. And when there are no people, what would Islam do? One should always remember Islam preaches peace and harmony, not destruction and chaos. Q. What is your stand on the question of Babri Masjid now? A. Before the demolition of Babri Masjid I had advised Muslims to carry out their struggle peacefully; not to take it to the streets. After the demolition I say that the reconstruction of the Babri Masjid would mean destruction of the makeshift Ram Mandir, which is very difficult. Therefore, the Muslims should leave the question of Babri Masjid to the conscience of the nation. The agitation should end. Q. Government has given permission to its employees for attending RSS camps. What is A. The permission will not have any effect. The romantic era of the RSS when people wanted

اجتماعات کے علاوہ یہاں مجلس کی صورت میں کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ لوگوں سے اظہارِ خیال کا موقع ملا۔ یہ سب شہر کے تعلیم یافتہ مسلمان ہوتے اٹھے۔ مگر ایک مجلس میں میں نے کہا کہ جدید حیدر آباد میں مسلمانوں کی تعمیری سرگرمیاں بہت قابلِ قدر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ابن وقت مسلمانوں کا سنگل پوائنٹ فارمولا ایجو کیشن ہے۔ سرسید احمد خاں نے غالباً سب سے پہلے تعلیم کی اہمیت کو محسوس کیا۔ سرسید کا نقطہ نظر ان کے ترجمان الطاف حسین حالی کے اس شعر میں ملتا ہے: بس اب وقت کا حکم ناطق یہی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے تعلیم ہی ہے۔

موجودہ زمانہ میں نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری مسلم دنیا میں سیکڑوں کی تعداد میں بڑے بڑے رہنما تھے۔ مگر سرسید کے سوا شاید کوئی نہیں جس نے حصولِ علم کو اشوبناکر باقاعدہ تحریک چلائی ہو۔ لوگ دوسرے دوسرے عنوانات پر مسلم عوام کو ابھارتے رہے۔ مثلاً سید جمال الدین افغانی نے نو آبادیاتی نظام کے خلاف مہم چلائی۔ محمد علی جوہر نے ترکِ خلافت کے تحفظ کا ہنگامہ کھڑا کیا۔ سید قطب مصری نے سیاسی اقتدار کی تبدیلی کو سب سے بڑا کام سمجھا۔ خمینی نے شاہ ایران کو اپنی تحریک کا نشانہ بنایا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ایوب اور بھٹو کے خلاف تقریر اور تحریر کا غوغا برپا کیا، وغیرہ۔ حتیٰ کہ ان مسلم رہنماؤں نے مسلمانوں کو تعلیم سے روکنے کی کو شش کی۔ مثلاً اکبر الہ آبادی اور سید ابوالاعلیٰ مودودی نے انتہائی بے شعوری کے تحت کالج اور یونیورسٹی کو قتل گاہ بتایا۔ اب مسلمانوں نے تعلیم حاصل کرنا شروع کیا ہے مگر یہ ان کے رہنماؤں کی رہنمائی کی بنا پر نہیں ہے بلکہ وہ نئے حالات کی بنا پر ہے۔

ایک مجلس میں میرے خلاف اس تصویری فتنہ کی بابت سوال کیا گیا جس کی وضاحت ایک سال پہلے الرسالہ کے چند شماروں میں آچکی ہے۔ ہندوستان کے قدیم اور مستند ادارہ دارالعلوم دیو بند نے واضح طور پر میری موافقت میں فتویٰ دیا جو الرسالہ اکتوبر ۱۹۹۹ میں چھپ چکا ہے۔ میں نے کہا اس فتنہ میں الذي تولى كبره (النور) کا کردار ایک نام نہاد اسلامی جماعت نے ادا کیا تھا۔ میرے جوابات اور مذکورہ فتویٰ کی اشاعت کے بعد یہ لوگ چپ ہوگئے۔

اس طرح کے معاملہ میں چپ رہنا بھی جرم ہے۔ ان لوگوں کے اوپر فرض تھا کہ معاملہ کی وضاحت کے بعد وہ اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کرتے۔ جس طرح انھوں نے جھوٹی تصویر کے معاملہ کی اشاعت کی تھی اسی طرح وہ اپنی مجرمانہ غلطی کے اعتراف کی بھی مکمل اشاعت کرتے۔ اس طرح کے معاملہ میں خاموشی بجائے خود ایک جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔

وہ فتنہ یہ تھا کہ ایک بدنام ہندی اخبار ہے جس کا کام مشہور شخصیتوں کا کیریکچر (caricature) بنانا اور اپنے سطحی قارئین کو تماشہ کی چیزیں پڑھنے کے لئے دینا ہے اس اخبار نے میرے بارے میں ایک لغو تصویر چھاپی۔ مذکورہ اسلامی جماعت نے اس بیہودہ تصویر کو لے کر اپنے نام نہاد میڈیا میں چھاپا اور اس کی فوٹو کاپی تیار کر کے نہ صرف ہندوستان میں بلکہ ساری دنیا میں پھیلا دیا۔ پچھلے سال جب بھی میں کسی مشرقی یا مغربی ملک میں گیا وہاں میں نے دیکھا کہ تصویر کا یہ فتنہ مجھ سے پہلے وہاں پہنچا دیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام کی تاریخ میں شاید یہ پہلا انٹرنیشنل کرائم پچھلی صدیوں میں جب کہ تیز رفتار میڈیا موجود نہ تھا، کسی جھوٹ کو عالمی سطح پر پھیلانا بھی ممکن نہ تھا۔ جدید دور کے میڈیا نے پہلی بار اس کو ممکن بنایا ہے کہ کوئی شخص یا جماعت اس قسم کا انٹر نیشنل کرائم کر سکے۔ عجیب بات ہے کہ اس انٹر نیشنل کرائم کا کارنامہ اس جماعت نے انجام دیا جس نے "بر عکس نہب نام زنگی کافور" کے اصول پر اپنا نام اسلامی جماعت رکھا ہے۔ میں نے کہا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ میں اس جھوٹے الزام سے مکمل طور پر بری ہوں۔ جہاں تک مذکورہ اسلامی جماعت کا تعلق ہے وہ مبینہ طور پر ایک سنگین جرم کا ارتکاب کر چکی ہے۔ مذکورہ نام نہاد اسلامی جماعت نے بلا شبہ اپنے اس مکروہ فعل سے اپنے آپ کو اکسپوز کر دیا ہے۔ یہ جماعت بزعم خود "مکمل اسلام" کے نفاذ کی علم بردار ہے۔ مگر اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مکمل اسلام قائم کرنے کے یہ علم بردار بظاہر جزئی اسلام پر بھی قائم نہیں۔ ۷ فروری کی شام کو محبوب نگر سے واپس ہو کر ہم لوگ حیدر آباد میں داخل ہوئے تو رات کے ایک بجے کا وقت ہو چکا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اس وقت سڑکوں کی صفائی ہو رہی ہے۔

جب کہ دہلی کے صفائی کرمچاری صبح کو دیر سے اس وقت صفائی کا کام شروع کرتے ہیں جب لوگوں کی آمد و رفت سڑکوں پر شروع ہو جاتی ہے۔ حیدر آباد میں اس طرح کی بہت سی قابلِ ستائش چیزیں نظر آئیں۔ معلوم ہوا کہ پہلے ایسا نہ تھا۔ یہ نئی گورنمنٹ کے زمانہ میں ہوا ہے۔ جن لوگوں سے ملا سب نے موجودہ ریاستی حکومت کی حسنِ کارکردگی کا اعتراف کیا۔ یہاں کچھ لوگ میری قیام گاہ (بیگم پیٹ)پرآئے اوربتایاکہ وہ احمدی جماعت (قادیانی جماعت) سے تعلق رکھتے ہیں۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے بارہ میں جو دعویٰ کیا اس کی بنیاد دو میں سے کسی ایک ذریعہ علم پر ہو سکتی ہے۔ سائنس یا قرآن۔ میں نے کہا کہ سائنس سرے سے اس کو نہیں مانتی کہ کوئی زندہ خدا ہے جو انسان کے اوپر الہام اس لئے سائنس آپ کے دعوئی کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دعوئی کی بنیاد قرآن ہے۔ میں نے کہا کہ قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے کا اعلان کر چکا اس لئے قرآن کی بنیاد پر اس قسم کے دعوے کی سرے سے گنجائش نہیں۔ انھوں نے قرآن کی کچھ آیتیں (مثلًا تنزل عليهم الملائکہ) پیش کیں۔ میں نے کہا ان آیتوں سے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوے کی تائید نکالنا ایسا ہی ہے جیسے کچھ لوگ قرآن سے لفظ ودّا (مریم ۹۶) لے کر کہتے ہیں کہ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ وید بھی قرآن کی طرح ایک آسمانی کتاب ہے۔ کہا کہ اس قسم کی باتیں استدلال نہیں بلکہ صرف اپنی بے علمی کا اشتہار ہیں۔ کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ سماجی کام کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپ سماجی یا انسانی خدمت کے نام پر ایک کام شروع کریں اور غیر لوگوں سے تعاون کی اپیل دوسری صورت یہ ہے کہ آپ کسی سے کوئی اپیل نہ کریں۔ آپ صرف یہ کریں کہ جو مفید انسانیت کام آپ کے ذہن میں ہے اس کو اللہ کا نام لے کر شروع کر دیں اور اخلاص و دیانت کے ساتھ اس کی تکمیل میں لگ جائیں۔ اس کے بعد یہ یقینی ہے کہ لوگوں کا تعاون آپ کو حاصل ہونے لگے گا۔

ایک کام وہ ہے جس کے اچھا ہونے کا آپ اعلان کریں۔ دوسرا کام وہ ہے جس کا اچھا ہونا خود دوسروں کو دکھائی دیتا ہو۔ پہلی نوعیت کے کام میں بھی اگرچہ دوسروں کا تعاون ملتا ہے مگر دوسری نوعیت کے کام میں جو تعاون ملتا ہے وہ اس سے بھی زیادہ ہے۔

حیدر آباد سے ایک انگریزی میگزین نکلتا ہے جس کا نام بھارتیہ پر جنا (Bharatiya یہ آرایس ایس گروپ کا میگزین ہے۔ یہاں میں نے اس کا شمارہ فروری ۲۰۰۰ اس کے صفحہ ۳۹ پر انڈیا کے بارے میں حقائق (Facts about India) کے عنوان کے تحت کئی باتیں درج تھیں۔ ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ سترہویں صدی عیسوی میں انگریزوں کے حملہ سے پہلے انڈیا دنیا کا سب سے زیادہ امیر ملک تھا:

India was the richest country in the world till the time of the British Invasion in the early 17th century (p.39)

الفاظ کو بدل دیا جائے تو اس بات کو اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ انگریزوں کے حملہ سے پہلے مسلم عہد میں ہندوستان دنیا کا سب سے زیادہ امیر ملک تھا۔

اس سفر نامہ میں اسی قسم کا ایک اور حوالہ میں نے درج کیا ہے جس میں یہ اقرار کیا گیا ہے کہ آزادی سے پہلے برٹش دور میں ہندوستان دنیا کا ایک اعلیٰ ترقی یافتہ ملک تھا۔ مگر آزادی کے بعد پچاس سال تک ملکی حکمرانوں کے ہاتھ میں رہنے کے بعد اب انڈیا کا یہ حال ہے کہ وہ اقتصادی اعتبار سے دنیا کے ملکوں میں ۱۷۷ویں نمبرپر ہے (ملاحظہ ہو زیر نظر رسالہ کا صفحہ ۴۲) جناب عبد الرحمن خاں صاحب (پیدائش ۱۹۵۸) الہ آباد بینک میں منیجر ہیں۔ بچوں کے ساتھ سیاحت کے لئے حیدر آباد گئے۔ ۱۲ فروری ۲۰۰۰ کو وہ حیدر آباد پہنچے اور تین دن میں نے ان سے پوچھا کہ حیدر آباد کے بارہ میں اپنا کچھ تاثر بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے تجربہ میں ایسا محسوس ہوا کہ حیدر آباد کے لوگوں میں نسبتاً انسانی اوصاف زیادہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حیدر آباد ایئر پورٹ پر ہم اترے تو رات ہو چکی تھی۔ میں نے ٹیکسی کی ڈکی میں اپنا سامان رکھا اور پھر ہم لوگ ٹیکسی میں بیٹھ کر شہر کی طرف روانہ ہو گئے۔ ڈرائیور نے ایک

پٹرول پمپ پر ٹیکسی کھڑی کی تو میں نے کہا کہ مجھے ڈکی سے کچھ نکالنا ہے۔ اس وقت میری زبان سے یہ نکلا کہ میں نے غلطی سے اپنا پرس ڈکی میں رکھ دیا ہے۔ اس پر ڈرائیور بولا کہ جناب، یہ حیدر آباد ہے، یہ دہلی نہیں ہے۔ آپ اطمینان سے بیٹھے۔ آپ کا سامان محفوظ ہے۔ اس کے بعد جب میں حیدر آباد پہنچ کر وہاں گھوما اور وہاں کے مختلف طبقات کے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں تو اندازہ ہوا کہ ڈرائیور نے درست کہا تھا۔ یہاں کے لوگوں میں واقعہ استثناء (exception) تو ہر جگہ ہوتا ہے۔ اور یقیناً یہاں بھی ہوگا۔ مگر یہاں کے لوگوں کو میں نے عام طور پر دوسروں سے بہتر پایا۔

حیدر آباد کے مسلمانوں میں تعلیمی سرگرمیاں بھی دوسرے مقامات سے زیادہ نظر آتی یہاں کا مولوی طبقہ اور مسٹر طبقہ دونوں کثرت سے تعلیمی ادارے قائم کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنانے میں مشغول ہیں۔

حیدر آباد میں ایک اور خاص چیز ہے جو شاید ہندوستان کے کسی دوسرے شہر میں موجود یہ صحافت ہے۔ حیدر آباد شہر ہندوستان کا واحد شہر ہے جس کے بارے میں بجاطور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہاں کے مسلمانوں کی ایک باقاعدہ صحافت ہے۔ یہاں کئی اچھے اخبارات نکلتے ہیں جو شہر کے بیشتر مسلم گھروں میں پہنچتے ہیں۔ یہ اخبارات حیدر آباد کے مسلمانوں کے درمیان مسلسل رابطہ کا کام کرتے ہیں۔ ان اخباروں کے ذریعہ یہاں کے مسلمان ہر روز ایک دوسرے کی سرگرمیوں سے واقف ہوتے رہتے ہیں۔ میں نے یہاں کے مختلف اخبارات دیکھے۔ ہر اخبار میں کسی نہ کسی صورت میں یہاں کے مسلمانوں کی دینی اور تعمیری سرگرمیوں کا تذکرہ تھا۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں حیدر آباد میں اردو زبان کا بہت چرچا تھا۔ جامعہ عثمانیہ قائم ہوئی۔ اس کا ذریعہ تعلیم اردو تھا۔ تمام مضامین بشمول سائنس یہاں اردو میں پڑھائے جاتے تھے۔ آج جامعہ عثمانیہ کو دیکھیے تو اس کا منظر بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے۔ کے انقلاب کے بعد یہاں اردو زبان کو تنزل کا شکار ہونا پڑا۔ 1956 میں سنجیواریڈی آندھرا پردیش

کے بعد بھی عملی طور پر اردو کو سرکاری سر پرستی بہت کم حاصل ہوئی۔

مگر یہ ایک واقعہ ہے کہ اردو زبان حیدر آباد میں آج پوری طرح زندہ ہے۔ اردو کو یہ زندگی سرکاری سر پرستی کے ذریعہ نہیں ملی بلکہ یہ خود اہلِ اردو کا کارنامہ ہے جو نامساعد حالات کے باوجود اردو کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

حیدر آباد کی اہمیت کا ایک اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ امریکی صدر بل کلنٹن نے ہندوستان کا ۲۵ مارچ ۲۰۰۰) کیا تو دہلی اور بمبئی کے ساتھ وہ حیدر آباد بھی گئے۔ عجیب بات ہے کہ ۷ فروری کو جب کہ میں حیدر آباد میں تھا اس وقت ہندوستان کی پوری حکومت اور ملک کے دانشوروں کا پورا طبقہ اس کوشش میں لگا ہوا تھا کہ کلنٹن پاکستان نہ جائیں۔ نئی دہلی کی سرکاری شخصیتیں مسلسل واشنگٹن پہنچ رہی تھیں۔ حتی کہ نئی دہلی نے امریکہ کی ایک لابی کرنے والی کمپنی کو بہت بڑی رقم دے کر ہائر کیا تھا کہ وہ کلنٹن کو پاکستان جانے سے روکے۔ اس کوشش میں ہندوستان نے کثیر رقم خرچ کی۔ ۷ فروری کو حیدر آباد میں بعض ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ یہ بالکل نا ممکن ہے کہ امریکی صدر پاکستان نہ جائیں۔ میں جانتا تھا کہ اس قسم کی چیزوں کا تعلق لابینگ سے نہیں ہوتا بلکہ نیشنل انٹرسٹ سے ہوتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ ہندوستان کے لیڈر اور دانشور جو خود بھی ہمیشہ اپنے انٹرسٹ پر چلتے ہیں وہ اس حقیقت سے بالکل بے خبر رہے کہ امریکہ بھی اس معاملہ میں اپنے نیشنل انٹرسٹ کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا اور اپنے دورہ میں پاکستان کو ضرور شامل کرے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، اور بل کلنٹن نے ۲۵ فروری ۲۰۰۰ کو اسلام آباد کا دورہ کیا۔

۸ فروری ۲۰۰۰ کی صبح کو حیدر آباد سے واپس دہلی کے لئے روانگی ہوئی۔ حبیب بھائی کی رہائش گاہ سے روانہ ہو کر ہم لوگ ایئر پورٹ جا رہے تھے۔ حیدر آباد کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے راستہ میں ایک تجربہ گزرا۔ اس کے بعد میں نے کہا کہ اس دنیا میں کسی انسان کی کامیابی کی سب سے بڑی ضمانت یہ ہے کہ اس کا دل دوسروں کے لئے کھلا ہوا ہو۔ لوگوں کے لئے اس کے

دل میں شفقت اور خیر خواہی کا جذبہ ہو۔ وہ فیاضی کے ساتھ لوگوں کے کام آتا ہو۔ انہیں لوگوں کے ساتھ نہیں جن سے اس کو ریٹرن کی امید ہو بلکہ ہر ایک کے ساتھ۔ آدمی اسکوٹر رکشاپر بیٹھے اور ایک کلومیٹر تک جا کر اتر جائے پھر اس کے میٹر پر بحث کئے بغیر اس غریب رکشہ والے کو سو روپیہ کا نوٹ دے دے تو اس قسم کا فیاضانہ سلوک اس کی طرف اسی دنیا میں بہت زیادہ اضافہ کے ساتھ لوٹتا ہے۔ بے غرضی، سادگی، سخاوت، انسانی خیر خواہی، کھلے دل کے ساتھ سلوک، حق سے زیادہ اپنی ڈیوٹی کا احساس، اس قسم کے اوصاف اعلیٰ ترین انسانی اوصاف ہیں اور جس آدمی کے اندر یہ اوصاف ہوں، اس کی کامیابی میں کوئی بھی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

۸ فروری کی صبح کو جہاز حیدر آباد سے آدھ گھنٹہ کی تاخیر کے ساتھ روانہ ہوا۔ اندر پڑھنے کے لئے مختلف اخبارات موجود تھے۔ دکن کرانیکل کا شمارہ ۸ فروری ۲۰۰۰ دیکھا۔ مشہور صنعت کار مسٹروجے پتھ سنگھانیاکے قلم سے ایک مضمون تھا جس کا عنوان یہ تھا__ کامیابی ہندوستان میں غیر مقیم ہے :

Printed page