Al-Risala · May 2000

Success is non-resident in India.

Al-Risala, May 2000, pp. 41–42

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مضمون میں چند مثالوں کے ذریعہ دکھایا گیا تھا کہ ایک ہندوستانی ہندوستان میں ناکام رہتا ہے اور وہی ہندوستانی باہر کے ملک میں جاکر بڑی بڑی کامیابی حاصل کرتا ہے۔ اس کا سبب مضمون میں یہ بتایا گیا تھا کہ آزادی کے بعد ہندوستان میں بے شمار سوشلسٹ قوانین بنائے گئے۔ قوانین کے ذریعہ ایسی مصنوعی پابندیاں ملک میں رائج کی گئیں جو حوصلہ مند ہندوستانیوں کے لئے پاؤں کی زنجیر بن گئیں۔

اس معاملہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے مضمون نگار نے لکھا تھا کہ آزادی کے وقت ہندوستان تمام نو آبادیاتی ملکوں میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک تھا۔ اور اس کا مستقبل بہت روشن تھا۔ یہ حالت ہے کہ جی این پی کے اعتبار سے ہندوستان دنیا کے ۲۰۹ ملکوں میں ۷۷ ویں نمبر پر ہے۔ At Independence, India was among the most advanced of all the

colonies with brilliant prospects for the future. Today with a GNP per head of US $370, it occupies a lowly 177th position among 209 countries of the world. اس پچھڑنے پن کا واحد سبب یہ ہے کہ آزادی کے بعد جن لیڈروں کے ہاتھ میں انڈیا کی قسمت آئی انھوں نے اس کو غلط رخ پر چلا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ہندوستانی لیڈر اگر کچھ نہ کرتے اور آزادی سے پہلے والے نظام کو بدستور ملک میں باقی رکھتے تو یقینی ہے کہ ملک کا حال آج اس سے بہت بہتر ہوتا جو اس وقت نظر آ رہا ہے۔

ڈکن کرانیکل کے اسی شمارہ (۸ فروری) میں لیٹرس کے کالم میں ایک ہندو کا ایک خط Outmoded Religion کے عنوان سے چھپا تھا۔ یہ خط یہاں بلا تبصرہ نقل کیا جاتا ہے: This is with reference to Mohan Guruswamy's article "Who will bell the Hindu cat?" I agree with the writer that Hinduism is en- trapped in meaningless rituals and is divorced from the needs of modern day living. Unless we have the courage to weed out these outmoded practices, India will not be able to progress. (A B Prakash, Hyderabad)

دو گھنٹہ کی پرواز کے بعد جہاز جب دہلی کے اوپر پہنچا تو کمانڈر نے اعلان کیا کہ جہاز کے اترنے میں کچھ دیر لگے گی:

Printed page