There will be some delay in landing.
Al-Risala, May 2000, pp. 42–50
By Maulana Wahiduddin Khan
جہاز دہلی کے اوپر گولائی میں تقریبا پینتالیس منٹ تک پرواز کرتا رہا۔ بتایا گیا کہ ایرپورٹ پر گہرے کہر کی وجہ سے رؤیت (visibility) بہت کم ہے۔ اس لئے جہاز وہاں اتر نہیں سکتا۔ کار پائلٹ نے اعلان کیا کہ دہلی میں اس وقت اترنا ممکن نہیں۔ اس لئے اب جہاز یہاں سے بمبئی جا رہا ہے۔ اس وقت جہاز کے چاروں طرف سورج چمک رہا تھا۔ جہاز کے چاروں طرف مکمل اگر آدمی نہ جانے کہ کہر نیچے زمین کی سطح پر ہے اور ہم اس کے اوپر ۳۰ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑ رہے ہیں، تو وہ سمجھے گا کہ پائلٹ غلط بیانی کر رہا ہے۔ کسی معاملہ کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے یہ کافی نہیں کہ آپ اپنی قریبی دنیا کو دیکھ رہے ہوں۔ آپ کو گردو پیش سے باہر کی دنیا کو بھی
جاننا ہو گا جو آپ کے قریب کی دنیا سے بالکل مختلف مگر حقیقی طور پر موجود ہے۔ یہ میرے لئے ایک وحشت خیز تجربہ تھا۔ مگر اس مسئلہ پر سوچتے ہوئے ایک اہم حقیقت میری سمجھ میں آئی۔ میں نے سوچا کہ دہلی ائرپورٹ پر گہرے کہر کی وجہ سے یہ حالت ہے کہ وہاں کے لوگوں کو کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ جبکہ عین اسی وقت اوپر کی فضا میں ہر چیز پوری طرح اسی طرح موجودہ دنیا میں افکار و نظریات کی کثرت نے ایسی حالت پیدا کر دی ہے جس کو ذہنی کہر آلودگی (Befogging of the mind) کہا جا سکتا ہے۔ لوگ دماغ رکھتے ہوئے کچھ نہیں سوچ پاتے۔ ذہنی کہر آلودگی کے اس مسئلہ نے لوگوں کو حقیقت کے معاملہ میں اندھا اور بہرہ بنا دیا ہے۔
اس ”کہر“ سے بچنے کی واحد صورت یہ ہے کہ آدمی اپنی فکری سطح کو بلند کرلے۔ سے اوپر اٹھ کر وہاں پہنچ جائے جہاں ہر چیز روشن ہے۔ اسی کو اسلام میں زہد کہا گیا ہے۔ کو مادیات سے اٹھا کر اس بلند فکری اور روحانی سطح پر پہنچا دیتا ہے جہاں وہ ذہنی کہر آلودگی سے بچ کر بے آمیز روپ میں سوچ سکے۔ اور حقیقتوں کو غیر مشتبہ انداز میں دریافت کرلے۔ جہاز دہلی سے روانہ ہو کر دو گھنٹہ بعد بمبئی پہنچا۔ بمبئی ائرپورٹ پر جہاز تقریباً ایک گھنٹہ تمام مسافر جہاز کے اندر بیٹھے رہے۔ جہاز نے یہاں سے دوبارہ پرواز کی اور پھر دوبارہ دہلی کے لئے روانہ ہوا۔ بمبئی سے دہلی تک کی پرواز دو گھنٹہ میں پوری ہوئی۔ ۸فروری ۲۰۰۰کو شام چار بجے جہاز دہلی پہنچ گیا۔
جہاز کا حیدر آباد سے دہلی پہنچ کر وہاں نہ اتر سکنا، کچھ دیر فضا میں منڈلانے کے بعد اس کا بمبئی آنا اور پھر یہاں سے دوبارہ دہلی جانا، یہ گویا ایک بحران کا واقعہ تھا۔ مجھے ایک قول یاد آیا کہ آدمی کی صلاحیت بحران میں پہچانی جاتی ہے۔
موجودہ زمانہ میں کمیونی کیشن نے بحران سے نمٹنے کے معاملہ کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ ہوائی جہاز کے مسافروں میں سے اکثر کے پاس موبائل ٹیلی فون تھا۔ انھوں نے جہاز کے اندر
سے ٹیلی فون کر کے اپنے گھروں سے ربط قائم کیا۔ اسی قسم کا ایک تاریخی واقعہ ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ کو کراچی ائرپورٹ پرپیش آیا۔ جنرل پرویز مشرف کولمبو سے کراچی آ رہے تھے۔ کے مطابق، پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف نے کراچی ائر پورٹ پراحکام بھیج دئے کہ جہاز وہاں اترنے نہ پائے۔
جنرل پرویز مشرف کے لئے یہ ایک بحران کی حالت تھی۔ مگر موبائل ٹیلی فون ان کے انھوں نے فضا سے موبائل ٹیلی فون کے ذریعہ کراچی کے اعلیٰ فوجی افسر سے ربط قائم کیا۔ رپورٹ کے مطابق، کراچی کے فوجی افسران فوراً حرکت میں آگئے۔ انہوں نے کراچی ائرپورٹ کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ اس کے بعد وہ ائر پورٹ کے کنٹرول روم میں پہنچے۔ جنرل پرویز مشرف کا جہاز فضا میں منڈلا رہا تھا۔ افسروں نے دوبارہ ربط قائم کر کے جہاز کے پائلٹ سے کہا کہ تم اپنا جہاز کراچی کے ائر پورٹ پراتارو۔ ایک ایک طرف کراچی میں یہ ڈرامہ ہوا اور دوسری طرف اسلام آباد میں فوج نے تیزی سے حرکت کر کے وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کو گھیرے میں لے لیا۔ اور نواز شریف کو گرفتار کر کے انہیں نظر بند کر دیا۔ یہ ساری تیز رفتار کارروائی جدید کمیونیکیشن کے ذریعہ ممکن ہوئی۔
۸ فروری ۲۰۰۰ کو میں کسی قدر تاخیر کے ساتھ دہلی پہنچا۔ میں نے سوچا کہ اس سفر میں میرے ساتھ کئی ناموافق واقعات پیش آئے۔ تاہم آخر کار میں سفر سے واپس ہو کر اپنے گھر مگر زندگی کا ایک اور سفر ہے جس میں واپسی ممکن نہیں۔ یہ موت کا سفر ہے۔ سفر کا سب سے زیادہ بھیانک پہلویہ ہے کہ اس میں صرف جاناہے اس میں لوٹنا نہیں ہے۔ عجیب لمحہ ہوگا جب انسان پر یہ کھلے گا کہ اس نے زندگی کے پچھلے دور میں ایسی کوتاہیاں کی ہیں جن کا بھیانک انجام اسے لازمی طور پر زندگی کے اگلے دور میں بھگتنا ہے۔ مگر اب یہ موقع نہیں کہ وہ دوبارہ پچھلی زندگی میں جائے۔ اور مطلوب عمل کر کے آخرت میں پہنچے۔ دنیا میں کسی انسان کے لئے سب سے زیادہ غم کی بات یہ ہوتی ہے کہ ایک موقع اس کے سامنے آیا مگر وہ اس کو
استعمال نہ کر سکا۔ یہی غم زیادہ شدید انداز میں آخرت میں انسان کو لاحق ہو گا۔ مواقع (missed opportunities) کی تلخ یاد موجودہ دنیا میں بھی آدمی سے اس کا سکون چھین لیتی ہے پھر آخرت میں کھوئے ہوئے مواقع کی تلخ تر یاد آدمی کو کتنا زیادہ بے چین کرے گی اس کا اندازہ کرنا آج کے حالات میں ممکن نہیں۔
حیدر آباد سے واپسی کے بعد وہاں کے ایک صاحب نے حیدر آباد کے روزنامہ منصف (۱۱ فروری ۲۰۰۰) میں چھپا ہوا ایک مراسلہ بھیجا۔ اس کے مراسلہ نگار صفدر حسین (اکبر باغ) اس مطبوعہ مراسلہ کا ایک اقتباس یہ ہے۔ "ہمارے خیال میں مولانا وحید الدین جیسا پایہ کا عالم ڈھونڈے سے بھی ہندو پاک میں نہیں ملے گا۔ حال ہی میں مولانا نے حیدر آباد میں ایک خطاب کیا جس کا عنوان یہ تھا: اکیسویں صدی میں اسلام۔ مولانا موصوف نے اپنے فکر انگیز خطبے میں جہاں بہت سی اچھی باتیں بتائیں وہیں سب سے اچھی اور کار گر بات یہ کہی کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو غیر مسلم اکثریت سے نمٹنے کے لئے ”یک طرفہ صبر“ کی پالیسی اختیار کرنا چاہئے۔ کو اگر پھیلائیں تو بات قدم بوسی تک پہنچتی ہے۔ ہمارے شکوک وشبہات کو دور کرنے کے لئے اس یک طرفہ صبر کی وضاحت فرمائیں تو ہم چین کی نیند سو سکیں گے"۔
یہ شک وشبہ تمام تر غلط فہمی کی بنا پر ہے۔ میں نے اپنی تقریر میں جو بات کہی تھی وہ صبر برائے صبر نہیں تھی بلکہ صبر برائے استخدام فُرَص (استعمال مواقع) تھی۔ میں جب صبر کی بات کرتا ہوں تو وہ کسی کے آگے جھکنے کے لئے نہیں بلکہ مواقع دعوت کو استعمال کرنے کے لئے ہوتی آپ کسی بھی امکان کو اس حکمت کے بغیر اپنے حق میں استعمال نہیں کر سکتے۔ مزید یہ کہ دعوتی کام کے لئے صبر کی ضرورت صرف ہندوستان میں نہیں بلکہ تمام ملکوں میں ہے، خواہ وہ مسلم ملک ہو یا غیر مسلم ملک۔ حکیمانہ صبر کے اسی اصول کو استعمال کر کے تبلیغی جماعت اور تمام اسلامی ادارے ترقی کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ہر مسلمان جو اپنے ذاتی معاملات میں کامیاب ہے وہ اسی حکمت صبر کو استعمال کرنے کی وجہ سے کامیاب ہے۔ صبر فطرت کا ایک اصول ہے۔ اس اصول کو
استعمال کئے بغیر اس دنیا میں کوئی بھی کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔
میں نے اپنے خطاب میں غیر مسلموں سے "سننے" کی بات نہیں کہی تھی بلکہ موجود مواقع کو استعمال کرنے کی بات کہی تھی۔ میں اس نظریہ کو بالکل بے بنیاد سمجھتا ہوں کہ ہندوستان یا دوسرے ملکوں کے غیر مسلم لوگ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں اور ہمارے لئے یہ مسئلہ ہے کہ ہم ان کی دشمنی اور سازش سے کس طرح نہیں۔ میرے نزدیک موجودہ دنیا فکر و عمل کی آزادی کی دنیا ہے۔ آج کی دنیا میں ہمیں جس چیلنج کا سامنا ہے وہ اپنی نوعیت میں عملی نہیں ہے بلکہ ہمارے لئے کسی کی طرف سے عملی زیادتی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ فکری چیلنج کا مسئلہ ہے۔ دور سائنس میں پیدا ہونے والے افکار اسلامی عقائد کو چیلنج کر رہے ہیں۔ یہ ایک فکری اور نظریاتی چیلنج ہے اور ہمیں فکری اور نظریاتی سطح پر اس کا جواب دینا ہے۔ میری کتاب مذہب اور جدید چیلنج اسی قسم کی ایک کوشش ہے۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے لئے مختلف مقامات پر غیر مسلم قوموں کی طرف سے جن "زیادتیوں" کا مسئلہ ہے وہ نااہل مسلم لیڈروں کی نادانیوں کی بنا پر پیدا ہوا ہے نہ کہ غیر مسلموں کی طرف سے کسی مفروضہ دشمنی کی بنا پر۔ اگر یہ مسلم لیڈر ملک و مال کے لئے چلائی جانے والی اپنی سطحی سیاست کو چھوڑ دیں اور دعوت کو اپنا میدان عمل بنالیں تو اس قسم کی زیاد تیاں اپنے آپ ختم میں حیدر آباد سے واپس ہو کر دہلی پہنچا تو ڈاک میں جو خطوط ملے ان میں سے ایک خط آندھر اپردیش کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کا تھا۔ اس خط سے معلوم ہوا کہ چندرا بابو نائیڈو میری تحریریں پڑھتے رہے ہیں اور میرے تعمیری مشن کی قدر کرتے ہیں۔ ان کا یہ خط یہاں اگلے صفحہ پر نقل کیا جارہا ہے۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ہندوستان کی مسلم تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔ تک اس ملک میں یہ حال تھا کہ یہاں کے ہندو لوگ مسلم علماء یا مسلم رہنماؤں کے نام سے جن
NARA CHANDRA BABU NAIDU Dear Sri Moulana Waheeduddin Khan ji, I am happy to know that you have been bestowed with the honour of Padma Bhushan on the Republic Day in recognition of your attainment of excellence in your field and services to the society and the nation. I take this opportunity to convey my best wishes and congratulate you on achieving the honour. We, in Andhra Pradesh are striving continuously for excellence in all fields and develop the State as Swarna Andhra Pradesh, a State guided by excellence, powered by knowledge, and driven by wisdom. I am sure you will continue to contribute for the progress and prosperity of the nation.
Maulana Wahiduddin Khan, C-29, Nizamuddin West, New Delhi - 110 013
مسلمانوں کو جانتے تھے ان کی پہچان ان کے نزدیک صرف یہ تھی کہ یہ لوگ مسلمانوں کے وکیل بیس وہ مسلمانوں کے ملی مفادات پر لکھتے اور بولتے ہیں نہ کہ تمام لوگوں کے مفادات پر۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ انہوں نے راقم الحروف کی صورت میں غالباً پہلی بار ایک ایسے مسلم عالم یا مسلم رہنما کو دریافت کیا ہے جس کی پہچان ان کی نظر میں غیر فرقہ وارانہ ہے۔ جس کی سوچ پورے ملک اور پوری انسانیت پر مبنی ہے۔ جوان کے نزدیک ہندوؤں کا بھی اتنا ہی خیر خواہ ہے جتنا کہ مسلمانوں کا۔ میں پچھلے ہیں سال سے برابر حیدر آباد جاتا رہا ہوں۔ اور وہاں کے مختلف پروگراموں میں شرکت کرتا رہا ہوں۔ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ میرے جلسوں میں کچھ پر جوش نوجوان میری باتوں پر اعتراض کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے۔ یا وہاں کے مسلم اخباروں اور رسالوں میں میرے خلاف مراسلے اور مضامین چھپتے تھے۔ مگر موجودہ سفر میں اس قسم کی کوئی منفی مثال سامنے نہیں آئی۔ عام طور پر میرے خیالات کی تائید کی گئی، افراد کی طرف سے بھی اور پریس کی طرف سے بھی۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پہلے میری جو بات لوگوں کو صرف ایک خیالی نظریہ معلوم ہوتی تھی وہ اب ایک عملی واقعہ بن چکی ہے۔ آزادی کے بعد کے زمانے میں ملک کے تمام لکھنے اور بولنے والے مسلمان صرف یہ لکھنا اور بولنا جانتے تھے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے کوئی اسکوپ نہیں۔ جب کہ میں یہ کہتا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے ہر قسم کا اسکوپ مکمل طور پر موجود ہے۔ چنانچہ الفاظ کے جنگل میں اس وقت میری بات لوگوں کو اجنبی معلوم ہوتی تھی۔ مگر اب دو اور دو چار کی طرح لوگوں کو دکھائی دے رہا ہے کہ میں جو بات کہتا تھا وہی درست بات تھی۔ اگر چہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان کے بارے میں یہ بات میں ۱۹۴۷ کے بعد سے ہی کہتا رہا ہوں۔ اگر نااہل رہنماؤں اور دانشوروں کی لفظی غوغا آرائی نے مسلمانوں کو گمراہ نہ کیا ہو تا تو آج وہ اپنی موجودہ حالت سے کئی گنا زیادہ ترقی کر چکے ہوتے۔ معروف صحافی مسٹر سعید سہر وردی کا ایک مضمون حال میں چھپا ہے جس کا عنوان ہے: کھنڈروں کے بیچ چند مینار۔ انھوں نے اپنے اس مضمون میں کئی مثالیں دے کر بتایا ہے کہ ہندوستان
کے مسلمان غیر معمولی ترقی کر رہے ہیں۔ مثلا عظیم ہاشم پریم جی، یوسف خواجہ حمید، ہانیل ایف خورا کی والا، شہناز حسین، ارشاد مرزا، وغیرہ۔ اس کے بعد مسٹر سعید سہروردی اپنے مضمون میں لکھتے ہیں: ”اس تجزیہ سے مولانا وحید الدین کی اس رائے کی تائید ہوتی ہے کہ جو مسلمان ترقی کرنا چاہتے ہیں، تعصب اور امتیاز ان کی راہ کا پتھر نہیں بن سکتے “ (روزنامہ راشٹریہ سہارا، نئی دہلی، ۱۰
یہ چند مسلم نام وہ ہیں جنھوں نے حالیہ برسوں میں امتیازی ترقی کی ہے۔ تاہم جیسا کہ میں بار بار کہتا رہا ہوں یہ اقتصادی انفجار (economic explosion) کا زمانہ ہے۔ آج کی دنیا میں اقتصادی مواقع کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ چنانچہ اپنی کوشش کے بقدر ان ترقیاتی مواقع میں ہر مسلمان اپنا حصہ پا رہا ہے۔ ۱۹۴۷ کی حالت سے تقابل کیا جائے تو آج یہاں کا ہر مسلم خاندان پہلے سے زیادہ ترقی یافتہ نظر آئے گا۔
برصغیر ہند میں سو سال سے بھی زیادہ لمبی مدت سے مسلم رہنما اور دانشور لوگ مسلمانوں کو ایک ہی سبق دے رہے تھے۔ وہ یہ کہ فلاں فلاں رکاوٹ جب تک دور نہ ہو جائے اس وقت تک یہاں کے مسلمانوں کے لئے ترقی کے مواقع نہیں۔ انگریزوں کا سیاسی اقتدار، ہندو اکثریت کا تعصب، آرایس ایس جیسی تنظیموں کی مسلم دشمنی، فرقہ پرستوں کی طرف سے دوسرا آپین بنانے کا منصوبہ، وقت کے ابولہب اور ابو جہل کی تخریبی سازشیں، وغیرہ۔
مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے سو سال سے بھی زیادہ مدت سے مسلمانوں کو یہی سبق دے رہے تھے۔ مگر اب واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ سب بے دانشی اوربے خبری کی حقیقت یہ ہے کہ خدا نے اپنی دنیا میں مواقع اور امکانات اتنے زیادہ رکھے ہیں کہ کوئی دشمن یا غیر دشمن کسی کاراستہ روک نہیں سکتا۔
اس معاملہ کی ایک چشم کشا مثال یہ ہے کہ نہ صرف برصغیر ہند میں بلکہ پوری مسلم دنیا میں آج سب سے زیادہ دولتمند شخص ہندوستان کا ایک مسلمان ہے۔ وہی ہندوستان جس کے بارے
میں ہمارے علماء اور دانشور مسلسل یہ انکشاف کر رہے تھے کہ یہاں مسلم ملت کا وجود مٹانے کی ساز شیں ہو رہی ہیں۔ یہ ہندوستانی مسلمان، ۵۵ سالہ مسٹر عظیم ہاشم پریم جی ہیں۔ ان کے بارے میں میڈیا میں بہت سی رپورٹیں آچکی ہیں۔ نئی دہلی کے انگریزی روز نامہ ٹائمس آف انڈیا (۱۹ فروری ۲۰۰۰) میں ان کے بارے میں ایک رپورٹ چھپی ہے جس کا عنوان ہے دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ دولت مند آدمی : The second richest man in the world اس رپورٹ کے کچھ الفاظ یہ ہیں__ بادشاہ، ملکہ، سلطان، عرب شیخ، سب راستہ سے خوش آمدید، ہاشم پریم جی، دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ امیر آدمی، آدمی،ولیم گیٹ کے بعد، عظیم ہاشم پریم جی اس وقت 35.30 بلین ڈالر کے مالک ہیں۔ Move over, Kings, Queens, Sultans, and Oil Shaykhs. Welcome, Azim Hashim Premji, The second richest man in the world after William Gates. Premji is now worth $ 35.30 billion. عظیم ہاشم پریم جی کی کامیابی کا راز کیا ہے۔ اس کی تفصیل نئی دہلی کے پندرہ روزه انڈیا ٹوڈے (India Today) کے شمارہ ٦ مارچ ۲۰۰۰ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس شمارہ کی ۸ صفحہ کی کور اسٹوری عظیم ہاشم پریم جی کی بارہ میں ہے۔ اس میں ایک مفصل انٹرویو بھی شامل ہے جس میں عظیم ہاشم پریم جی اپنا نقطہ نظر بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ زندگی میں دو چیزیں سب سے زیادہ اہم ہیں : مدبرانہ بصیرت اور اخلاقی اقدار۔
Vision is like a lighthouse which shows the way. If vision gives direction, values set boundaries. یہ سفر نامه (مشاہدات دکن) علیحدہ کتاب کی صورت میں بھی شائع کیا جارہاہے۔ زیادہ تعداد میں خریدنے کی صورت میں خصوصی رعایت تفصیل کے لئے دفتر سے خط و کتابت کریں۔