Al-Risala · June 2000

عالم کون

Al-Risala, June 2000, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

فارسی کا ایک قطعہ ہے کہ ــــــ وہ شخص جو نہیں جانتا مگر جانتا ہے کہ وہ جانتا ہے وہ ہمیشہ جہل مرکب میں مبتلا رہتا ہے۔ اور جو شخص جانتا ہے مگر جانتا ہے کہ وہ نہیں جانتا وہ ایک لنگڑ اگدھا ہے جو منزل پر پہنچ جائے گا :

آن کس که نداند و بداند که بداند در جهل مرکب ابدالدھر بماند و آن کس که بداند و بداند که نه داند او نیز خر لنگ به منزل برساند عالم ہونے کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ آدمی کو اپنی بے علمی کا احساس ہونے لگے۔ علم یا معلومات کا دائرہ اتنا زیادہ وسیع ہے کہ کوئی بھی شخص اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ اس لئے ایک بے علم یا جاہل آدمی تو سمجھ سکتا ہے کہ میں سب کچھ جانتا ہوں۔ مگر جو آدمی علم کے سمندر میں داخل ہو وہ وہاں سے صرف یہ احساس حاصل کرے گا کہ میں تو کچھ نہیں جانتا۔ اس کا ہر علمی اضافہ صرف اس کے احساس بے علمی کو بڑھائے گا۔

علم کی اسی نوعیت کی بنا پر یہاں ایسا ہوتا ہے کہ جو آدمی علم کی وسیع دنیا سے بے خبر ہو وہ اپنی بے خبری کی بنا پر اس بے بنیاد احساس میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ ”میں سب کچھ جانتا ہوں۔ آدمی ہمیشہ جہل مرکب میں مبتلا رہتا ہے۔ وہ بے خبر جیتا ہے اور بے خبر ہی مر جاتا ہے۔ حقائق کی دنیا نا قابل بیان حد تک وسیع ہے۔ قیامت تک لوگ اس کو دریافت کرتے رہیں گے مگر کبھی بھی یہ حقائق ختم نہ ہوں گے۔ ایسی حالت میں جو آدمی یہ سمجھ لے کہ میں عالم ہو گیا اس نے گویا اپنے لئے نئی معلومات کا دروازہ بند کر لیا۔ اس کے برعکس جس کا احساس یہ ہو کہ ابھی میں نے نہیں جانا وہ ہر دن اپنے علم میں اضافہ کر تا رہے گا۔ اس کا بے علمی کا احساس اس بات کی ضمانت بن جائے گا کہ اس کی دریافتوں کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو۔ ہر روز نئی حقیقتوں سے وہ اپنے علمی خزانہ میں اضافہ کر تا رہے۔

Printed page