Al-Risala · June 2000

محرومی پر راضی ہونا

Al-Risala, June 2000, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو ’’پانے‘‘ کو اپنا مقصد بناتے ہیں۔ لوگ وہ ہیں جو اس حوصلہ کا ثبوت دیتے ہیں کہ وہ ’’دینے‘‘ کو اپنا مقصد بنائیں گے۔ پہلی قسم کے لوگ اپنی ذات کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور دوسری قسم کے لوگ دنیا میں انقلاب لاتے ہیں، وہ نئی تاریخ پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ تاریخ انسانی میں اس قربانی کا سب بڑا نمونہ وہ گروہ ہے جس کو انصار کہا جاتا ہے۔ یعنی قدیم مدینہ کے وہ لوگ جنھوں نے ہجرت کے بعد رسول اور اصحاب رسول کا ساتھ دے کر خدا کے دین کو دعوت کے مرحلہ سے نکال کر انقلاب کے مرحلہ میں پہنچادیا۔ انصاریت کیا ہے۔ انصاریت دینے پر راضی ہونا ہے۔ مکہ کے مسلمان جب ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو انصار اس پر راضی ہوئے کہ وہ اپنے گھروں کو اوراپنی جائدادوں کو تقسیم کر ان کا آدھا حصہ خود لیں، اور بقیہ آدھا مہاجرین کو دینے پر راضی ہو جائیں۔ یکطرفہ تقسیم پر راضی ہوئے۔ غزوہ حنین میں بہت بڑی مقدار میں غنائم حاصل ہوئے۔ انصار اس پر راضی ہوئے کہ غنائم سب کے سب مکہ کے لوگوں کو دے دئے جائیں اور انصار کا ان غنائم میں کوئی حصہ نہ ہو۔

رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد جب خلیفہ مقرر کرنے کا سوال ہوا تو انصار اس پر راضی ہوئے کہ خلافت پورے طور پر قریش کو دے دی جائے۔ اور انصار کا کوئی آدمی خلیفہ نہ بنایا جائے۔ انصار اس پر راضی ہو گئے کہ خلافت قریش کے لئے ہوگی۔ ان کا کوئی حصہ خلافت میں نہ ہوگا۔ اس دنیا میں لوگ پانے کی بنیاد پر راضی ہوتے ہیں۔ انصار وہ لوگ تھے جو نہ پانے کی بنیاد پر یہ قربانی کی اعلیٰ ترین قسم ہے۔ یہ لڑنے مرنے کی قربانی سے ہزاروں گنا زیادہ بڑی یہ قربانی وہ ہے جو تاریخ بناتی ہے۔ تاریخ سازی کا منصوبہ صرف اس وقت کامیاب ہوتا ہے جب کہ کچھ لوگ اس عظیم قربانی کو دینے پر راضی ہوجائیں۔

Printed page